اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے ملک بھر میں غم و افسوس کی لہر دوڑا دی۔
غیر محفوظ راستے پر پہنچنے کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں خاندان کے سربراہ علی مرتضیٰ جان کی بازی ہار گئے جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی ہو گئیں۔ خوش قسمتی سے دونوں کمسن بیٹیاں اس حملے میں محفوظ رہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان وزارتِ داخلہ کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کو واقعے کے فوراً بعد امدادی کارروائی کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد زخمی خاتون اور بچوں کو علاج کے لیے کراچی روانہ کر دیا گیا۔ان کے مطابق علی مرتضیٰ اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ہمراہ دو روز کوئٹہ میں قیام کے بعد رات تقریباً ایک بجے کراچی واپسی کے لیے روانہ ہوئے، تاہم گوگل میپس کی رہنمائی پر وہ قومی شاہراہ کے بجائے ایک دیہی سڑک پر چلے گئے جو مستونگ کے مضافاتی علاقے دشت سے گزرتی ہے۔ترجمان کے مطابق رات تقریباً تین بجے جب خاندان اس علاقے سے گزر رہا تھا تو پہاڑی علاقے سے آنے والے دہشت گردوں نے گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے علی مرتضیٰ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ زخمی ہوئیں۔بابر یوسفزئی نے اس حملے کا ذمہ دار بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے عناصر کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے ایک نہتے خاندان کو نشانہ بنایا، جو ان کی بزدلانہ کارروائی اور انسانیت دشمن سوچ کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی خاتون نے واقعے کے تقریباً 25 منٹ بعد پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکار آدھے گھنٹے کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمی خاتون اور دونوں بچیوں کو بحفاظت اسپتال منتقل کیا جبکہ جاں بحق تاجر کی میت بھی ضروری کارروائی کے لیے اسپتال پہنچا دی گئی۔ترجمان وزارتِ داخلہ نے اس موقع پر اعتراف کیا کہ دور افتادہ علاقوں میں حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایسے مقامات پر پولیس چوکیوں کے قیام اور خطرناک راستوں کی نشاندہی کے لیے واضح سائن بورڈز نصب کیے جانے چاہییں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔



















































