نصیب کی مکھی
ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘ یہ 2025ء میں فیڈکس کپ جیت کر دنیا کا تیسرا بڑا گالفر بنگیا‘ برطانیہ میں پیدا ہوا اور آٹھ مرتبہ یورپین ٹورنامنٹس جیت چکا ہے‘ عمر 35سال ہے‘ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ بہت جلد گالف کی دنیا میں پہلے نمبر پر ہو گا‘ یہ گالف میں تیسرے نمبر پر کیسے پہنچا یہ کہانی بہت دل چسپ ہے‘ ٹومی فلیٹ ووڈ کا مقابلہ دنیا کے نمبرون گالفر سکاٹی شیفلر (Scottie Scheffler) سے تھا‘ فائنل رائونڈ کیو ویلی میں تھا‘ جیتنے والے کھلاڑی کو فیڈکس کی طرف سے 21 لاکھ ڈالر انعام ملنا تھا‘ ٹومی فلیٹ ووڈ نے 26 ہولز کے گالف کورس میں فائنل شارٹ لگائی‘ گیند لڑھکی اور ہول کے کنارے پر پہنچ کر رک گئی‘ گالف کے رولز کے مطابق ہول کے کنارے پر اٹکی گیند کو دس سیکنڈز دیے جاتے ہیں‘ گیند اگر اس دوران ہول میں چلی جائے تو یہ سکور بن جاتی ہے ورنہ دوسری صورت میں شارٹ ضائع ہو جاتی ہے‘ کھلاڑی‘کیمرے اور تماشائی سانس روک کر گیند کو دیکھنے لگے‘ گیند کی ایک کروٹ کی مالیت 21 لاکھ ڈالر تھی‘ آٹھ سیکنڈ گزر گئے‘ گیند کنارے پر رکی رہی‘ ٹومی فلیٹ ووڈ عملاً میچ ہارگیا لیکن پھر عجیب معجزہ ہوا‘ ایک مکھی اڑتی ہوئی آئی اور گیند کے اس کنارے پر بیٹھ گئی جو ہول کی طرف تھا‘ مکھی کے معمولی سے وزن نے گیند کو حرکت دی اور وہ نویں سیکنڈ پر ہول میں گر گئی‘ گالف کورس پر سکتہ طاری ہو گیا‘ مکھی نے ٹومی فلیٹ ووڈ کو کام یاب گالفر بنا دیا‘ 21 لاکھ ڈالر بھی دلا دیے اور گالف کے کھیل کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دل چسپ اور حیران کن کہانی بھی دے دی۔
وہ مکھی کہاں سے آئی اور اس کا ٹومی فلیٹ ووڈ سے کیا رشتہ تھا؟ یہ دونوں مختلف مخلوقات ہیں‘ ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس کے باوجود دونوں میں ایک رشتہ‘ ایک تعلق تھا اور اس تعلق کو مقدر کہتے ہیں‘ یہ نصیب کی مکھی تھی‘ یہ ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب اللہ کسی کو اپنے ہونے کا احساس دلانا چاہتا ہے‘ یہ اس وقت آتی ہے اور ٹومی فلیٹ ووڈ جیسے لوگوں کو یہ پیغام دیتی ہے دنیا میں محنت‘ مہارت‘ کوشش اور جدوجہد سب کچھ نہیں ہوتی‘ کام یابی کے لیے اللہ کا فضل‘ اس کا رحم اوراس کا کرم چاہیے ہوتا ہے‘
تم محنت ضرور کرو‘ کوشش کو بھی تھکنے نہ دو لیکن اللہ سے اس کا کرم‘ رحم اور فضل بھی مانگتے رہو کیوں کہ جب کوشش ہمت ہار جاتی ہے اور محنت مایوس ہو جاتی ہے تو پھر اللہ ابابیل کو کرم‘ ہد ہد کو فضل اور مکھی کو رحم بنا کر بھجوا دیتا ہے اور بیڑے پار ہو جاتے ہیں‘ ٹومی فلیٹ ووڈ کوبے شک گالفر اس کی محنت‘ کوشش اور مہارت نے بنایا‘ یہ اگر روز صبح چار بجے اٹھ کر مسلسل پانچ گھنٹے گالف نہ کھیلتا‘ گالف (سٹک) پر اپنی گرفت مضبوط نہ بناتا‘ اپنی کلائی میں لچک اور جان پیدا نہ کرتا‘ گیند کا ہوا اور سٹک سے تعلق انڈرسٹینڈ نہ کرتا تو یہ کبھی گالفر نہ بنتا لیکن اس کی محنت‘ اس کی کوشش کا اس کی کام یابی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا‘ کام یابی اسے نصیب سے ملی‘ یہ مقدر کا کھیل تھا‘ دنیا میں ہزاروں اس سے زیادہ محنتی اور ماہر گالفر ہیں لیکن دنیا ان کے نام تک سے واقف نہیں جب کہ ٹومی فلیٹ ووڈ کو پوری دنیا جانتی ہے‘ آخر ان گالفرز اور اس میں کیا فرق ہے؟ اس فرق کو مقدر یا نصیب کہتے ہیں‘ اللہ نے باقی ہزاروں گالفرز کو قبولیت نہیں بخشی‘ ان پر اسے رحم نہیں آیا لہٰذا وہ محنت اور کوشش کے باوجود کام یاب نہیں ہو سکے۔
برطانیہ کے مشہور سیاست دان اور وزیراعظم سرونسٹن چرچل کہا کرتے تھے‘ میں لوگوں کو ہمیشہ اچھی صحت اور دولت کی دعا نہیں دیتا‘ میں انہیں اچھی قسمت اور اچھے نصیب کی دعا دیتا ہوں‘ لوگ وجہ پوچھتے تھے تو چرچل ٹائی ٹینک کی مثال دیا کرتے تھے( ٹائی ٹینک 1912ء میں دنیا کا سب سے بڑا اور مضبوط بحری جہاز تھا‘ یہ 14 اپریل 1912ء کو اپنے پہلے سفر کے دوران ہی آئس برگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا اور 1500مسافر ڈوب کر مر گئے) چرچل کا کہنا تھا ٹائی ٹینک میں سوار لوگ امیر بھی تھے اور صحت مند بھی لیکن انہیں ان کی دولت اور اچھی صحت مرنے سے نہیں بچا سکی‘ فرسٹ کلاس کے مسافر سب سے پہلے ڈوبے اور صحت مند لوگ بیماروں سے زیادہ جلدی مر گئے جب کہ خوش نصیب لوگ ٹائی ٹینک میں سوار ہی نہیں ہو سکے تھے یا پھر وہ ٹوٹے ہوئے جہاز کے تختوں پر بیٹھ کر ساحل تک پہنچ گئے اور باقی زندگی اپنے خاندانوں کے ساتھ گزار دی چناں چہ پھر نصیب بڑا ہوا یا پھر دولت اور صحت؟ آپ راجہ رنجیت سنگھ کی مثال بھی لے لیجیے‘ وہ پنجاب کا پہلا سکھ حکمران تھا‘ وہ ایک بدصورت شخص تھا‘ رنگ سیاہ‘ چہرے پر چیچک کے نشان اور ایک آنکھ سے کانا لیکن اس کے باوجود اس نے دنیا میں سکھوں کی پہلی حکومت قائم کی‘ اس کا ملک تبت کے پہاڑوں سے لے کر سندھ کے صحرائوں اور درہ خیبر سے لے کر ستلج دریا کے ڈیلٹا تک پھیلا تھا‘ موراں نام کی ایک طوائف اس کے دربار میں ناچتی تھی‘ وہ اپنے زمانے کی خوب صورت ترین عورت تھی‘ امرتسر کے قریب چھوٹے سے گائوں میں رہتی تھی‘ مسلمان تھی‘ مجھے اس کے گائوں ’’پل کنجری‘‘ جانے کا اتفاق ہو چکا ہے‘ لاہور میں اس نے 1809ء میں اپنے نام سے موراں مسجد بنوائی تھی‘ یہ مسجد 1998ء تک طوائف کی مسجد کہلاتی تھی‘ میاں شہباز شریف کے زمانے میں اس کا نام بدل کر مائی موراں کی مسجد رکھاگیا۔ راجہ رنجیت سنگھ اس کی محبت میں گرفتار تھا‘ اس نے بعدازاں اس سے شادی کر لی اور وہ پنجاب کی طاقتور ترین ملکہ بن گئی‘ راجہ رنجیت سنگھ نے اس کے نام سے سکہ بھی جاری کیا جو موراں سرکار کہلاتا تھا۔ موراں شادی سے پہلے ایک دن مہاراجہ کے دربار میں ناچ رہی تھی‘ ناچتے ناچتے اس کی نظر مہاراجہ کے چہرے پر پڑی اور اس کی ہنسی نکل گئی‘ مہاراجہ نے اسے ہنستے ہوئے دیکھ لیا‘ اس نے اشارہ کیا اور سازندوں نے ساز بجانا اور طوائفوں نے ناچنا بند کر دیا‘ دربار میں سنسنی پھیل گئی‘ مہاراجہ نے ہاتھ کے اشارے سے موراں کو بلایا‘ اپنے پاس کھڑا کیا اور پوچھا تم ناچتے ہوئے مجھے دیکھ کر ہنسی کیوں تھی؟ موراں بے خوف اور بہادر لڑکی تھی‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو ڈر سے محفوظ رکھا تھا‘ اس نے جھک کر سلام کیا‘ مہاراجہ سے جان کی امان طلب کی اور پھر عرض کیا‘ حضور آپ نے مجھے دنیا کی خوب صورت ترین عورت کا خطاب دے رکھا ہے‘ میں خود بھی یہی سمجھتی ہوں‘ آپ کے دربار میں آئینے لگے ہیں‘ میں نے ناچتے ناچتے جب خود کو دیکھا اور پھر میری نظر آپ پر پڑی تو میرے دل میں خیال آیا رب کا نظام بھی عجیب ہے‘ یہ حسن کو بدصورتی کے دربار میں نچا دیتا ہے‘ یہ سوچ کر میری ہنسی نکل گئی‘ مہاراجہ نے اس کے الفاظ غور سے سنے‘ قہقہہ لگایا اور پھر کہا‘ موراں رب نے جب دنیا بنائی تو اس کے سامنے دو قطاریں تھیں‘ ایک قطار میں حسن بانٹا جا رہا تھا جب کہ دوسری میں نصیب‘ لوگوں کے پاس چوائس تھی وہ نصیب کی لائین میں لگیں یا حسن کی قطار میں کھڑے ہوں‘ تم سے غلطی ہو گئی‘ تم حسن کی قطار میں کھڑی ہو گئی اور میں نصیب کی لائین میں لگ گیایوں تمہیں حسن مل گیا اور مجھے نصیب اور یہ حقیقت ہے حسن والوں کو خوش نصیبوں کے دربار میں ناچنا پڑتا ہے اور تم ناچ رہی ہو‘ یہ سن کر موراں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ مہاراجہ نے اسے بلایا‘ تخت پر اپنے ساتھ بٹھایا اور اس سے شادی کر لی‘ موراں کا نصیب بھی بدل گیا‘ سوال یہ ہے کیا یہ نصیب‘ یہ عزت اسے مہاراجہ نے بخشی تھی؟ جی نہیں‘ اللہ کو جب اس پر رحم آیا تو اس نے آئینے کے چھوٹے سے عکس اور ہونٹوں کی چھوٹی سی مسکراہٹ سے اس کا نصیب بدل دیا‘ وہ عکس اور وہ مسکراہٹ بھی ٹومی فلیٹ ووڈ کی بال پر بیٹھی مکھی تھی۔
آپ نے یقینا حضرت سلیمان ؑ اور ملکہ بلقیس کے تخت کا واقعہ پڑھا ہو گا‘ ملکہ بلقیس جب حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں تشریف لارہی تھیں تو آپؑ نے اپنے درباریوں سے کہا’’ تم میں سے کون ہے جو ملکہ کا تخت اس کے آنے سے پہلے میرے پاس لے آئے گا‘‘ جنوں میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا’’میں آپ کے اٹھنے سے پہلے تخت آپ کے پاس لے آئوں گا‘دربار میں اس وقت ایک ایسا شخص بھی موجود تھا جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا‘ وہ بولا’’ میں آپؑ کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت آپ کے پاس لے آئوں گا‘‘حضرت سلیمان ؑ نے اجازت دے دی اور وہ واقعی پلک جھپکنے میں تخت لے آیا‘ وہ شخص کون تھا؟ مفسرین نے اس شخص کا نام آصف بن برخیا بیان کیا‘ وہ حضرت سلیمان ؑ کے وزیر تھے ‘ ان کو اسم اعظم کا علم حاصل تھا اور یہ علم اللہ کا فضل تھا یہ جس پر ہو جائے وہ اگر حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں کھڑا ہو یا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں ناچ رہا ہو یا کیو ویلی کے گالف کورس کے ہول کے پاس کھڑا ہو یاوہ ٹائی ٹینک میں سوار ہو وہ کام یاب ہو جاتا ہے۔
آپ نے نائین الیون دیکھا ہو گا اگر نہیں دیکھا تو آپ نے سنا ضرور ہو گا‘ 11 ستمبر 2001ء کو القاعدہ کے دہشت گردوں نے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دو ٹاورز کے ساتھ دو طیارے ٹکرا دیے‘ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ تھا لیکن اس کی راکھ سے بھی خوش نصیبی کی درجنوں کہانیاں نکلیں‘ درجن بھر لوگ ایسے تھے جن کا الارم اس صبح نہیں بجا‘ وہ وقت پر اٹھ نہ سکنے کی وجہ سے ٹوئن ٹاور کی ڈیوٹی پر نہیں پہنچ سکے اور یوں موت سے بچ گئے‘ اس صبح 21 مسافر ٹریفک اور ائیرٹکٹ گھر پر بھولنے کی وجہ سے ان فلائیٹس میں سوار نہیں ہو سکے جو بعدازاں ٹوئن ٹاورز سے ٹکرا گئی تھیں یوں چھوٹی سی بھول یا رش نے ان کی جان بچا لی‘ ٹوئن ٹاور کا ایک ملازم بچے کو سکول چھوڑتے ہوئے لیٹ ہوگیا‘ وہ جب جاب پر پہنچا تو ٹاور گر چکے تھے‘ ٹوئن ٹاور کے ایک گائیڈ نے اس دن نیا جوتا پہن لیا‘ وہ جوتا ایڑی کے مقام سے اسے چبھ رہا تھا‘ وہ سنی پلاسٹ لینے کے لیے فارمیسی پر رک گیا‘ کائونٹر پر رش تھایوں وہ لیٹ ہو گیا اور اس کی جان بچ گئی اور اسی طرح ٹوئن ٹاور سے تین سٹیشن کے فاصلے پرایک شخص کا کتا کھل گیا اور اس نے راہ چلتی خاتون کی پنڈلی پر کاٹ لیا‘ خاتون پلیٹ فارم پر گر گئی‘ اس کی اس دن عین اس فلور پر میٹنگ تھی جس سے جہاز ٹکرایا تھا‘ وہ میٹنگ اس کے لیے بہت اہم تھی‘ وہ پلیٹ فارم پر لیٹ کر کتے اور اس کے مالک کو بددعائیں دینے لگی لیکن گھنٹے بعد وہی عورت کتے اور اس کے مالک کو تلاش کر رہی تھی‘ ذرا تصور کیجیے اگر وہ کتا نہ کھلتا اور وہ اسے نہ کاٹتا تو وہ کہاں ہوتی چناں چہ بزرگ کہتے ہیں اللہ سے جب بھی مانگیں نصیب مانگیں‘ اس سے اچھا مقدر طلب کریں‘ کام یابی‘ دولت اور صحت چل کر خود آپ کے پاس آ جائے گی مگر اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں آپ محنت یا کوشش نہ کریں‘ اللہ تعالیٰ ذائقہ پھلوں میں پیدا کرتا ہے لیکن اگر آپ نے درخت نہ لگایاہو‘ وقت پر اسے پانی اور کھاد نہ دی ہو تو اس پر پھل نہیں لگے گا اور اگر پھل نہیں ہو گا تو پھر اس میں ذائقہ بھی نہیں ہوگا‘ اس میں کوئی شک نہیں مکھی نے ٹومی فلیٹ ووڈ کی بال پر بیٹھ کر اسے کام یاب بنا دیا لیکن مکھی کے بیٹھنے کے لیے ہول‘ گیند‘ گالف سٹک اور ٹومی فلیٹ ووڈ کی کلائی بھی چاہیے تھی اگر یہ سب نہ ہو تا تو مکھی کہاں بیٹھتی اور اگر یہ بیٹھ بھی جاتی تو کیا فرق پڑتا چناں چہ محنت اللہ تعالیٰ کے فضل کا وہ راستہ ہوتی ہے جس کے آخر میں کام یابی کی مکھی آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہے‘ اس تک پہنچنا ہے تو پہلے ٹومی فلیٹ ووڈ بننا ہو گا اور گیند کو ہول کے کنارے پہنچانا ہوگا‘ نصیب کی مکھی پھر آئے گی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت کا سرکاری ملازمین کو ایڈہاک ریلیف ضم کر کے نیا پے سکیل جاری کرنے کا فیصلہ
-
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ایک اور بڑی خوشخبری سنا دی
-
بہاولپور میں نوجوان سے زیادتی کی کوشش کے الزام میں 2 خواتین گرفتار، حیران کن انکشاف
-
بغیراجازت ذاتی واش روم کا استعمال؛ ایم پی اے کے بیٹے کوGet Lost ” کہنے پر ڈی پی او کا تبادلہ“
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق بڑا فیصلہ
-
حکومت کا تنخواہ دار طبقے کے 4 سلیبس پر ٹیکس میں کمی اور سرچارج ختم کرنے کا اعلان
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری
-
پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو اہم سہولت فراہم کر دی
-
یکم محرم الحرام اور یوم عاشور کب ہوگا؟ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کردی
-
کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنیوالوں کیلئے خوشخبری
-
آم کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کی دوسری لڑکی بھی دم توڑ گئی، واقعے کی تحقیقات جاری
-
لاہور سمیت پنجاب بھر میں آندھی اور بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
سونے کی قیمت میں ہو شربا اضافہ
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی





















































