پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)
یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے گا ہم نے 1947ء میں باہر اور اندر دونوں محاذوں پر جنگ شروع کی اور 80 برسوں میں اسے بند نہیں ہونے دیا‘
ہمارے چار ہمسائے ہیں‘ بھارت‘ چین‘ افغانستان اور ایران‘ ہم تین سے مسلسل الجھ رہے ہیں‘ ہم چین سے نہیں لڑسکے اور اس کی وجہ چین کی برداشت اور صبر ہے ورنہ سنکیانگ کی اسلامی موومنٹ کو لاہور سے مجاہدین کی سپلائی شروع ہو چکی تھی‘ یہ جنرل کاکڑ کی مہربانی تھی انہوں نے یہ سپلائی بند کر دی ورنہ چین کے ساتھ بھی ہمارا پھڈا شروع ہو چکا تھا‘ ہم بھارت کے ساتھ چھوٹی بڑی پانچ جنگیں لڑ چکے ہیں‘ ان کا کیا فائدہ ہوا؟ ہم اگر پانچ مزید لڑ لیں گے تو ان کا کیا فائدہ ہو گا؟ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے فرض کریں ہم اگر انڈیا کو فتح کر لیتے ہیں یا یہ چار پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے تو ہمیں کیا فائدہ ہو گا‘ ہم اگر چار صوبوں کا ملک نہیں چلا پا رہے تو کیا ہم کنیا کماری سے رن آف کچھ تک پھیلے بھارت کا بوجھ اٹھا سکیں گے؟ دوسرا یہ اگر چار پانچ حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے تو کیا ہم مزید پانچ ملکوں سے لڑیں گے کیوں کہ وہ بھی تو ہندو سٹیٹس ہی ہوں گی‘ ہمیں اگر ایک ہندو سٹیٹ سانس نہیںلینے دے رہی تو پانچ ہمارے ساتھ کیا کریں گی؟ دوسرا اگر خالصتان بن جاتا ہے تو کیا سکھ لاہور‘ شیخو پورہ اور سیالکوٹ کا مطالبہ نہیں کریں گے‘
یہ شہر ان کے ویٹی کن ہیں لہٰذا کیا ہمارا ان کے ساتھ پھڈا شروع نہیں ہو گا؟ ہمارے پاس ان سوالوں کے کیا جواب ہیں! ہمیں یہاں ایک اور حقیقت بھی ماننا ہو گی ہمیں 80 برسوں میں کوئی سیاسی جماعت اور کوئی سیاسی لیڈر پسند نہیں آیا‘ بنگالیوں نے آل انڈیا مسلم لیگ بنائی تھی‘ پاکستان بنانے میں ان کا کردار ہم سے زیادہ تھا لیکن ہم نے انہیں غدار قرار دے کر الگ کر دیا‘ ملک کی بانی جماعت مسلم لیگ نے 80 برسوں میں چودہ نئے روپ لیے‘ اس وقت بھی اس کے چارورژن موجود ہیں‘ پاکستان میں کون سا لیڈر ہے جسے ہم نے خود کرسی پر نہ بٹھایا ہو اور پھر اسے کھینچ کر نہ اتارا ہو‘ اسے جیلوں‘ عدالتوں اور سڑکوں پر ذلیل نہ کیا ہو اور آخر میں اسے دوبارہ موقع نہ دیا ہو‘ ذوالفقار علی
بھٹو‘ نواز شریف اور عمران خان کس کی پیداوار تھے‘ الطاف حسین کو کس نے جنم دیا تھا‘ طالبان کس نے پیدا کیے‘ حافظ سعید اور ٹی ایل پی کس نے بنائی تھی اور آخر میں ان کے ساتھ کیا ہوا اور کس نے کیا‘ آج ہم مولانا فضل الرحمن کے خلاف ہیں لیکن مولانا کو یہاں تک کون لے کر آیا اور کے پی‘ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم تحقیق اور سنجیدہ گفتگو کے لیے تیار ہیں‘ کیا ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے ان کی اصلاح کے لیے راضی ہیں اور ہم اگر یہ نہیں کرتے تو کیا ہم ایسی دنیا میں برقرار رہ لیں گے جس میں ایسی غلطیوں کے نتیجے میں سوویت یونین‘ برطانیہ‘ خلافت عثمانیہ اور رومن ایمپائربھی قائم نہیں رہ سکی تھی۔
ہمیں جلد یابدیر یہ ماننا ہو گا ریاست نے 80 برس سے تین محاذ کھول رکھے ہیں‘ ہم سرحدوں پر لڑ رہے ہیں‘ ہماری سیاست دانوں کے ساتھ لڑائی ہے اور ہم عوام کو بھی خوف اور ٹیکس کے ذریعے دبا رہے ہیں چناں چہ باہر سے بھارت اور افغانستان ریاست پر دبائو ڈال رہے ہیں اور اندر سے سیاست دان اور عوام۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کسی بھی سیاسی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ پر اعتبار نہیں‘ یہ لوگ جب تک اقتدار میں رہتے ہیں یہ ایک صفحے پر رہتے ہیں اور اس کے بعد یہ عمران خان‘ نواز شریف اور بھٹو فیملی کی طرح ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے لگتے ہیں اور پیچھے رہ گئے عوام تو آپ ان کی رائے کے پی‘ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں جا کر معلوم کر لیں یا پھر ٹیکسوں میں دبی تیزی سے تحلیل ہوتی مڈل کلاس سے پوچھ لیں لہٰذا سوال پھر وہی ہے ہم نے جب موم بتی کو دونوں سروں کے ساتھ ساتھ درمیان میں بھی آگ لگا دی ہے تو پھر اس کا کیا بنے گا؟۔
ہم اگر واقعی اس ملک کو بچانا اور چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں فوری طور پر تین کام کرنا ہوں گے‘ ہمیں باہر اور اندر دونوں محاذ فوری طور پر بند کرنا ہوں گے‘ ہم بھارت اور افغانستان دونوں کے ساتھ معاملات سیٹل کریں اور یہ فیصلہ بھی کریں اگر مستقبل میں کبھی حالات خراب ہو جاتے ہیں تو بھی ہمارے تجارتی تعلقات خراب نہیں ہوں گے‘ برستے گولوں کے درمیان بھی تجارتی ٹرک اور جہاز چلتے رہیں گے‘ دوسرا ملک کے اندر تین ادارے میرٹ پر بنا دیں‘ الیکشن کمیشن‘ عدلیہ اور بیوروکریسی‘ بلدیاتی ادارے بنائیں اور انہیں آزادی دیں تاکہ اگر صوبائی اور وفاقی حکومتیں بے شک جاپان کی طرح گرتی اور بنتی بھی رہیںلیکن سسٹم چلتا رہے‘ لوگوں کو پریشانی نہ ہو‘ الیکشن کمیشن آزاد اور شفاف الیکشن کرائے اور حکومتیں میرٹ پر بنیں‘ عدلیہ کا کام فوری انصاف دینا ہو لیکن اس کا معیشت اور انڈسٹری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے‘ اس کے اختیارات صرف جرائم تک محدود ہونے چاہییں اور بیوروکریسی (سول اور ملٹری) میں میرٹ کو ایمان کا درجہ دے دیا جائے‘ کسی کو کسی بھی قیمت پر ایکسٹینشن نہیں ملنی چاہیے‘ لوگ پروسیجر کے تحت آئیں اور وقت پر ریٹائر ہو جائیں اور یہ اگر اس کے بعد کام کرنا چاہتے ہیں تو یہ پرائیویٹ سیکٹر میں جا کر ملازمتیں کریں لیکن ملازمت کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ شخص ریٹائر ہو گا‘ آپ اس سلسلے میں فرسٹ‘ سیکنڈ اور تھرڈ ورلڈ کا مطالعہ کریں‘ فرسٹ ورلڈ میں کسی سرکاری ملازم کو ایکسٹینشن نہیں ملتی‘ یہ قواعد کے مطابق آتے ہیں اور وقت پر چپ چاپ چلے جاتے ہیں۔ اس سے دو فائدے ہوتے ہیں‘ حکومت مرضی کے بیوروکریٹ تلاش نہیں کرتی اور بیوروکریٹس ایکسٹینشن اور اچھی پوسٹنگ کے لیے سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کے ذاتی ملازم نہیں بنتے‘ سیکنڈ ورلڈ میں یہ سسٹم ذرا سا ڈھیلا ہے جب کہ تھرڈ ورلڈ میں سرکاری ملازمین حکومتوں کا فیصلہ کرتے ہیں‘
یہ ایسے سیاست دانوں کو اقتدار میں لے آتے ہیں جو انہیں ان کی مرضی کے مطابق ایکسٹینشن یا پوسٹنگ دے سکیں‘ پس ماندہ ملکوں میں صدر یا وزیراعظم اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کم زور آرمی چیف‘ چیف جسٹس اور آئی جی بھی لے کر آتے ہیں اور یہ تینوں بعدازاں مل کر ایک ایسا وزیراعظم یا صدر لے آتے ہیں جو انہیں ایکسٹینشن دے سکیں یا ان کے غلط فیصلوں کی توثیق کر سکیں اور یوں اداروں اور ملکوں کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے اور یہ تھرڈ ورلڈ بن کر رہ جاتے ہیں‘ ہمیں یہ بات اب سیکھ لینی چاہیے ہم میرٹ کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکیں گے‘ یہ ملک ترقی نہیں کر سکے گا اور تین ملک بزنس کے بغیر نہیں چلتے‘ ہمیں اس ملک میں بزنس فرینڈلی ماحول بنانا ہو گا‘ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس میں نیب سرکاری اہلکاروں کی بجائے بزنس مینوں اور صنعت کاروں کو پکڑ لیتی ہے‘ یہ ادارہ سرکاری ملازمین کی کرپشن روکنے کے لیے بننا چاہیے تھا لیکن اس کی تلوار صرف سیاست دانوں اور بزنس مینوں پر چلتی ہے‘ خاندان سے لے کر حکومت تک کوئی ادارہ بزنس فرینڈلی نہیں‘ کاروباری لوگوں کے لیے ڈیٹا نہیں‘ تربیتی ادارے نہیں اور ماحول بھی نہیں لیکن اس کے باوجود بھی اگر کوئی کام یاب ہو جاتا ہے تو پورا سسٹم اسے عبرت کی نشانی بنا دیتا ہے‘ ہم ہمیشہ اعتراض کرتے ہیں بزنس مین بجلی‘ گیس اور ٹیکس چوری کرتا ہے لیکن ہم نے کبھی اس کی وجہ تلاش کی؟ ملک میں جب بجلی اور گیس مہنگی ہو گی اورایف بی آر بزنس مین کا سارا سرمایہ کھا جائے گا تو یہ کیا کرے گا‘ یہ کاروبار بند کر دے گا یا پھر چوری کرے گا‘ ہم بزنس مین کا ٹیکس اور اخراجات کم کیوں نہیں کرتے؟ اس سے پرافٹ مارجن بڑھے گا‘ لوگ ملازمت کی بجائے کاروبار کریں گے جس سے بے روزگاری میں بھی کمی آئے گی اور ایکسپورٹس بھی بڑھیں گی‘ ہم پانچ دس لاکھ روپے کے لیے جب بزنس مین کا سر کاٹ دیں گے تو وہ کام کیسے اور کیوں کرے گا؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا چناں چہ گورنمنٹ بزنس کے لیے لانگ ٹرم پالیسی بنائے اور پھر اسے کم از کم 25 سال کے لیے لاک کر دے‘ کوئی حکومت اسے چھیڑ نہ سکے‘ اس وقت صورت حال یہ ہے ہم جب دنیا سے سرمایہ کاری کی اپیل کرتے ہیں تو یہ ہم سے پوچھتی ہے‘ ہم کس سیکٹر میں سرمایہ کاری کریں اور ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا‘ کیوں؟ کیوں کہ ہمارے پاس دو تین ارب ڈالر جذب کرنے والی کمپنیاں ہی نہیں ہیں لہٰذا پھر دوسرے ملک کہاں سرمایہ کاری کریں گے؟ کیا یہ سعودی عرب کی طرح سٹیٹ بینک میں رقم رکھوا دیں اور پانچ سال بعد سود اصل زر سے بھی زیادہ ہو چکا ہو۔میں یہاں اینگرو کمپنی کی مثال دوں گا‘ اس کمپنی نے 2006ء میں اولپر کے نام سے دودھ کا برینڈ بنایا‘ 2016ء میں نیدر لینڈ کی ڈیری مصنوعات بنانے والی بڑی کمپنی رائل فرائیز لینڈ کیمپینا نے اس میں 450ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر دی‘اینگرو بڑا گروپ تھا‘ یہ ساڑھے چار سو ملین ڈالر جذب کر گیا‘ اب سوال یہ ہے اگر دنیا کی کوئی دوسری بڑی کمپنی ڈیری انڈسٹری میں مزید 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہے گی تو وہ کہاں کرے گی؟ اور یہ صورت حال ہر سیکٹر میں ہے‘ حکومت نے جون2023ء میں ایس آئی ایف سی بنائی لیکن یہ آج تین سال بعد بھی ایک ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں لا سکی‘ کیوں؟ کیوں کہ ملک میں بزنس فرینڈلی ماحول ہی نہیں ہے چناں چہ دنیا بھر کے سرمایہ کار امریکا‘ مشرقی یورپ‘ ملائیشیا‘ ویت نام اور ایسے خلیجی ممالک جہاں ان کا سرمایہ سال میں ڈبل ہو جاتا ہے انہیں چھوڑ کر پاکستان کیوں آئیں؟آپ خود سوچیں اگر آپ سرمایہ کار ہوں گے تو کیا آپ پاکستان جیسے غیریقینی کے شکار ملک میں پیسہ لگائیں گے؟ ہماری حالت یہ ہے دوبئی ان لاکڈ (پراپرٹی لیکس)کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستانی دوبئی میں سرمایہ کاری کرنے والی قومیتوں میں تیسرے نمبر پر ہیں‘ ہمارے 11بلین ڈالر دوبئی میں لگے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی بجائے دوبئی پر زیادہ اعتماد ہے‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے ہمیں بھی پاکستان کی بجائے دوبئی میں اپنا سرمایہ زیادہ محفوظ محسوس ہوتا ہے لہٰذا صورت حال جب یہ ہو گی تو سرمایہ کاری کیسے ہو گی اور بزنس کیسے چلیں گے؟ میری درخواست ہے ہم نے جس دن یہ تین مسئلے حل کر لیے ہم اس دن المیوں سے نکل آئیں گے ورنہ تباہی اور بربادی کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
19، 22، 26 اور 29 جولائی کو کن علاقوں میں بجلی بند رہے گی؟ شیڈول جاری
-
سرکاری ملازمین کیلیے خوشخبری، الاؤنس میں 100 فیصد اضافے کی منظوری
-
200 یونٹس سے زیادہ بجلی کا استعمال اور پروٹیکٹڈ سہولت ہمیشہ کےلیے ختم؟ کے الیکٹرک کی وضاحت آگئی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
ایران کا جے ڈی وینس کو خفیہ پیغام ، ٹرمپ کے داماد سے متعلق سنسنی خیز انکشاف
-
سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال پر برطانوی حکومت متحرک ہوگئی
-
بلاسود 10 لاکھ روپے قرضہ، مریم نواز نے اپلائی کرنیکا طریقہ بتا دیا
-
جان سے مارنے کی دھمکیاں، عامر خان نے اپنی تیسری اہلیہ کا مذہب بتادیا
-
اکاؤنٹ سے 28 لاکھ روپے نکل گئے، شہری کو بینک سے بروقت میسج آیا نہ الرٹ!
-
پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)
-
اے سی چلانے سے روکنے پر بیٹے کی فائرنگ سے والد جاں بحق، ماں اور بہن زخمی
-
نئی گاڑی خریدنے والوں کے لیے اہم تبدیلی
-
اسکول میں ہزار روپے گم ہونے پر خاتون ٹیچر کی طالبات کے کپڑے اتروا کر تلاشی





















































