ہفتہ‬‮ ، 11 جولائی‬‮ 2026 

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

datetime 12  جولائی  2026
بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس کا گانا ’’دل کیا کرے جب کسی کو کسی سے پیار ہو جائے‘‘ اس سال کا موسٹ ہٹ گانا تھا‘ یہ گانا کشور کمار نے گایا تھا اور موسیقی راجیش روشن نے دی تھی‘ یہ1975ء سے 2026ء تک 50 سال سے پاپولرچلا آ رہا ہے‘ مجھ سمیت اسے لاکھوں کروڑوں لوگ آج بھی سنتے ہیں‘ آپ اگر یہ گانا سنیں تو آپ کو اس میں ٹھیک ایک منٹ25 سیکنڈ بعد سیٹی کی آواز آئے گی‘ یہ انسانی سیٹی ہے اور پوری تان کے ساتھ‘ موسیقی کے اتار چڑھائو کے ساتھ بجائی جاتی ہے‘ یہ ہندوستان کی موسیقی کی روایات کی پہلی سیٹی تھی‘ سیٹی کو ہندوستان میں اچھا نہیں جانا جاتا‘ اسے لوفروں اور لفنگوں کی حرکت سمجھا جاتا تھا‘ سیٹی بجانے والوں کو گلیوں اور کوچوں میں پھینٹا بھی پڑ جاتا تھا‘ لوگ آج بھی سیٹی بجانے والوں کو پسند نہیں کرتے‘ ہندوستان میں موسیقی مذہب کا حصہ ہے لہٰذا اس میں سیٹی کی گنجائش نہیں ہو سکتی تھی لیکن راجیش روشن نے یہ ’’متھ‘‘ توڑ دی اور کشور کمار جیسے گائیک کے گانے میں سیٹی بجوا دی اورکشور کمار نے اس کی اجازت بھی دے دی‘ یہ کیسے ہوا اور کیوں ہوا؟ یہ داستان بہت دل چسپ ہے‘ راجیش روشن سیٹی بجانے کی لت میں مبتلا ہیں‘ یہ گھر پر سارا دن سیٹی بجاتے رہتے ہیں‘ یہ دھنیں بھی سیٹی کی آواز پر بناتے ہیں‘ یہ ایک دن کوئی گانا ریکارڈ کرا رہے تھے‘ آرکسٹرا میں موجود ایک وائلن نواز نے وقفے کے دوران سیٹی کے ذریعے دھن بجانی شروع کر دی‘ اس کی سیٹی پرفیکٹ اور دھن کے عین مطابق تھی‘ راجیش روشن وہ سن کر حیران رہ گئے‘ اس کے پاس گئے اور اس سے پوچھا ’’تم نے یہ کہاں سے سیکھا‘‘ نوجوان کا کہنا تھا ’’کسی سے بھی نہیں‘ میں فالتو وقت میں دھنوں کو سیٹی پر کاپی کرتا رہتا ہوں‘‘ راجیش روشن نے اس کی سیٹی پر مختلف دھنیں سنیں اور وہ شخص حیران کن نکلا‘ اس نے راجیش کو بتایا میں یہ کام بچپن سے کر رہا ہوں‘ مجھے یہ اچھا لگتا ہے‘ راجیش روشن کو وہاں سے انوکھا آئیڈیا آیا‘ وہ اس وقت جولی فلم کا میوزک بنا رہے تھے اور ’’دل کیا کرے‘‘ کی دھن تخلیق کر رہے تھے‘ انہوں نے اس آرٹسٹ کو ’’دل کیا کرے‘‘ میں سیٹی بجانے کی پیش کش کر دی‘ آرٹسٹ کو اور کیا چاہیے تھا‘ وہ
خوش ہو گیا تاہم اس نے راجیش روشن سے عجیب فرمائش کر دی‘ اس کا کہنا تھا میں گانے کے نوٹس فالو کروں گا اور دھن کے مطابق کشور کمار کے ساتھ کھڑا ہو کر سیٹی بجائوں گا‘ راجیش روشن پریشان ہو گئے کیوں کہ یہ کشور کمار کی طبیعت سے واقف تھے‘ ان کا خیال تھا کشور کمار نہیں مانے گااور یہ گانا چھوڑ کر چلا جائے گا لیکن آرٹسٹ کا کہنا تھا یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں‘ کشور کمار کو راضی کرنا میری ذمہ داری ہے‘ بہرحال قصہ مختصر کشور کمار سٹوڈیو آئے‘ وائلنسٹ آگے بڑھا‘ کشور کمار کے پائوں چھوئے اور ان سے عرض کیا’’دادا میں نے منہ سے آپ کے اس گانے کی دھن بنائی ہے‘ آپ مہربانی کر کے ایک منٹ کے لیے یہ سن لیں‘ کشور کمار کا موڈ اچھا تھا‘ وہ مان گئے‘ آرٹسٹ نے اس کے بعد سیٹی کے ذریعے پوری دھن سنا دی‘ کشور کمار بھی حیران رہ گئے اور اٹھ کر اسے تھپکی دے دی‘ آرٹسٹ نے اس کے بعد دوبارہ پائوں چھوئے اور عرض کیا‘ میں آپ کے اس گانے میں دس سیکنڈ کے لیے سیٹی بجانا چاہتا ہوں‘ آپ کو اگر یہ اچھی نہ لگی تو آپ اسے بے شک ایڈٹ کرا دیجیے گا‘ کشور کمار کا موڈ اچھا تھا‘ انہوں نے راجیش روشن کی طرف دیکھا‘ انہوں نے ہاں میں سر ہلا دیا اور اس کے بعد انڈین سینما میں پہلی بار کسی بڑے گلوکار کے گانے میں سیٹی بجی‘ یہ فلم 1975ء میں ریلیز ہوئی اور بلاک بسٹر ثابت ہوئی بالخصوص اس کا گانا ’’دل کیا کرے‘‘ ہر گلی‘ ہرگھر میں بجا اور اس میں بجنے والی دس سیکنڈ کی سیٹی ہر ہونٹ تک پہنچی‘ راجیش روشن کو جولی کے میوزک اور ’’دل کیا کرے‘‘ پر بیسٹ میوزک ڈائریکٹر کا فلم فیئر ایوارڈ ملا اور اس کے ساتھ ہی بھارتی گانوں میں سیٹی کا دور شروع ہو گیا لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے 1975ء سے 2026ء تک فلموں میں سیٹی صرف وہی شخص بجا رہا ہے جس نے 1975ء میں پہلی بار دل کیا کرے میں بجائی تھی۔ وہ سیٹی بجانے والا شخص ناگیش سورو (Nagesh Surve) تھا‘ یہ 1975ء تک عام سا وائلنسٹ تھا اور آکسٹرا میں اس کا کوئی نام بھی نہیں جانتا تھا لیکن 1975ء کے بعد اس کی سیٹی اس کی پہچان بھی بن گئی اور رزق کا ذریعہ بھی‘ یہ اب تک 1600 فلموں میں سیٹیاں بجا چکا ہے جن میں تامل‘ملیالم اور ہندی فلمیں شامل ہیں‘ اس نے اس سے کروڑوں روپے کمائے اور شان دار خوش حال زندگی گزاری‘ آپ بھارت کی کوئی ایسی فلم یاد کریں جس میں سیٹی بجی ہو‘ وہ سیٹی آپ کو ناگیش تک لے جائے گی‘ آپ بازی گر سے دھوم ٹو تک کوئی بلاک بسٹر دیکھ لیں آپ کو اس میں سیٹی کی آواز آئے گی اور وہ سیٹی ناگیش نے بجائی ہو گی‘ اسے سیٹیاں بجاتے ہوئے 50 سال ہو گئے ہیں‘ یہ اس وقت 80 سال کا ہو چکا ہے لیکن اس کی سیٹی ابھی تک جوان ہے‘ روپالی سورو اس کی بیٹی ہے‘ ناگیش نے اسے بھی یہ فن سکھا دیا ہے لہٰذا اب دونوں باپ بیٹی فلموں میں سیٹیاں بجاتے ہیں اور مزے سے زندگی گزارتے ہیں۔ مجھے پچھلے دنوں ناگیش کے چند انٹرویوز دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ اس نے بتایا میرے بچپن میں سارے لڑکے سیٹیاں بجاتے تھے‘ کوئی ہونٹ سکیڑ کر بجاتا تھا اور کوئی منہ میں انگلیاں رکھ کر مجھے یہ کام اچھا لگتا تھا چناں چہ میں بھی بجانے لگا‘ میری دادی مجھے روکتی تھی‘ اس کا کہنا تھا سیٹی سانپوں کی آواز ہے اور اس سے ناگ آ جاتے ہیں لیکن میں ڈٹا رہا‘ میں بڑا ہو کر میوزک لائین میں آ گیا‘ شروع میں ستار بجایا اور پھر وائلن بجانے لگا‘ میں وہاں کھڑے کھڑے دھن کو سیٹی میں تبدیل کرتا تھا اور فالتو وقت میں اسے بجاتا رہتا تھا‘ 1973ء میں ہماری ایک ریکارڈنگ کینسل ہو گئی اور ہم آرکسٹرا کے تمام لوگ پکنک پر چلے گئے‘ میرے ساتھیوں نے وہاں مجھ سے سیٹی کی فرمائش کی اور میں ان کے سامنے مختلف دھنوں کی سیٹی بجانے لگا‘ یہ میرے آرٹ کا پہلا تعارف تھا‘ اس کے بعد میری زندگی میں راجیش روشن آئے اور میرا کیریئر سٹارٹ ہو گیا‘ راجیش روشن آج تک مجھ سے سیٹیاں بجوا رہے ہیں‘میں نے ان کی تمام فلموں میں سیٹی بجائی‘ روشن برادرز سیٹی کو اپنی لک سمجھتے ہیں‘ راجیش کا خیال ہے یہ اگر ’’دل کیا کرے‘‘ میں سیٹی نہ بجواتے تو شاید یہ گانا اتنا مشہور نہ ہوتا‘ ناگیش کے مطابق ’’دل کیا کرے‘‘ کے بعد فلموں اور میوزک میں سیٹی کو عزت ملنا شروع ہو ئی چناں چہ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں کبھی بے روز گار نہیں رہا‘ میوزک ڈائریکٹرز اور گلوکار میرے ’’فری ڈیز‘‘ دیکھ کر اپنی ریکارڈنگ کا شیڈول طے کرتے ہیں‘ ناگیش کا کہنا تھا بھگوان کی کرپا سے میں نے جس بھی فلم یا گانے میں سیٹی بجائی وہ کام یاب رہا اور لوگوں کے ہونٹوں تک پہنچا‘ اس کا کہنا تھا’’ میں کیوں کہ میوزک کا طالب علم ہوں چناں چہ میں دھن میں سیٹی بجاتا ہوں اور یہ دھن اور گانے کا حصہ بن جاتی ہے‘ میں نے اپنی بیٹی کو بھی یہ آرٹ سکھا دیا‘ ہم اب دونوں سیٹیاں بجاتے ہیں‘ منہ مانگا معاوضہ لیتے ہیں اور مزے سے زندگی گزارتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا دنیا میں کوئی چیز بے کار نہیں ہوتی بس آپ کو اس کا استعمال آنا چاہیے‘ بس آپ کو اسے عزت دینی چاہیے‘ وہ فن آپ کو نہال کر دے گا۔ ناگیش سورو کی کہانی میں تین چیزیں اہم ہیں‘ پہلی چیز انفرادیت ہے‘ دنیا میں کروڑوں لوگ میوزیکل انسٹرومنٹ بجاتے ہیں‘ یہ سب سر میں بجاتے ہیں‘ ان میں سے کچھ اچھا بجا لیتے ہیں اور کچھ بہت اچھا لیکن یہ سب موسیقار ہیں اور مارکیٹ میں ایک کے بعد دوسرا آسانی سے دستیاب ہے‘ آپ کو اگر ستار نواز یا وائلنسٹ چاہیے ہو گا تو یہ بھی آسانی سے مل جائے گا لیکن ناگیش نے ان سب سے ہٹ کر منفرد آرٹ ڈویلپ کر لیا‘ یہ انفرادیت آگے چل کر اس کی کام یابی اور رزق کا ذریعہ بن گئی‘آپ یہاں یہ یاد رکھیں دنیا میں انفرادیت سب سے بڑی مارکیٹ ہوتی ہے‘ آج تک 90 فیصد کیسز میں صرف وہ فن اور مصنوعات کام یاب ہوئی ہیں جو دوسروں سے منفرد تھیں لہٰذا آپ بھی اگر کام یاب ہونا چاہتے ہیں تو کوئی منفرد چیز تخلیق کریں یا پھر کوئی منفرد آرٹ سیکھ لیں‘آپ بھی ناگیش بن جائیں گے‘ دو‘ پریکٹس کسی بھی فن کے لیے کھاد کی حیثیت رکھتی ہے‘ ناگیش بچپن سے سیٹی کی پریکٹس کرتا آ رہا تھا‘ اس نے اس کے بعد گلی کوچوں میں سیٹیاں بجانے کی بجائے سیٹی کے ردھم پر دھنوں کی پریکٹس شروع کر دی‘ موسیقی اور گانے آج بھی برصغیر کی سب سے بڑی مارکیٹ ہیں‘ ناگیش کی یہ تپسیا بالآخر اس کے کام آئی اور یہ دونوں ہاتھوں سے پیسے کمانے لگا‘ آپ بھی اگر اپنے آرٹ کو کسی چلتی پراڈکٹ یا رجحان کے ساتھ وابستہ کر لیں گے تو آپ کو پائوں پر کھڑا ہوتے دیر نہیں لگے گی‘ میں یہاں آپ کو موبائل فون انڈسٹری کی مثال دیتا ہوں‘ یہ انڈسٹری ڈویلپ ہوئی اور موبائل فون بنانے والی کمپنیوں نے اس سے اربوں ڈالر کمائے لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے فون ایکسیسریز کی انڈسٹری موبائل فون سے بڑی ہے‘ سکرین سیورز اور چارجر بنانے والے بھی ہر سال اربوں روپے کماتے ہیں چناں چہ آپ جب بھی کسی فن کا انتخاب کریں تو مارکیٹ کے رجحان کو سامنے رکھیں‘ آپ کبھی بھوکا نہیں مریں گے اور تیسری چیز ناگیش نے اپنے فن کو عزت دی‘ اس نے کبھی اسے ’’ڈس اون‘‘ نہیں کیا‘یہ سینہ ٹھونک کر کہتا ہے میں فلموں میں وسلر ہوں‘ میں صرف سیٹیاں بجاتا ہوں‘یہ آج بھی عاجز ہے‘ اس نے کبھی کسی پروڈیوسر یا میوزک ڈائریکٹر کے سامنے نخرہ نہیں کیا چناں چہ 51 سال بعد بھی اس کی ڈیمانڈ اور عزت موجود ہے‘ آپ بھی اگر اپنے آرٹ کو عزت دیں گے توجواب میں آرٹ بھی آپ کو عزت دلائے گا‘ آپ ہمیشہ عاجز بھی رہیں‘ عاجزی میں عروج ہی عروج اور عزت ہی عزت ہے‘ انسان ہمیشہ نخرے اور غرور کے ہاتھوں ذلیل ہوتا ہے لہٰذا آپ کچھ بھی ہو جائیں آپ کہیں بھی پہنچ جائیں لیکن غرور نہ کریں‘ نخرہ نہ کریں آپ کبھی بے روزگار نہیں ہوں گے‘ آپ کی عزت کبھی کم نہیں ہو گی اور آخری بات دنیا میں کوئی ہنر فضول نہیں ہوتا بس یہ اہم ہے آپ کس وقت‘ کہاں اور کس کے لیے کام کر رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سیٹی سے رزق کمانے والا انسان


بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…