ہفتہ‬‮ ، 27 جون‬‮ 2026 

دنیا کا سب سے بڑا غار

datetime 28  جون‬‮  2026
چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی مقام ہے‘ یہ زیر زمین غاروں کا وسیع سلسلہ ہے‘ اسے دنیا کا سب سے بڑا ’’انڈر واٹر کیو سسٹم‘‘ کہا جاتا ہے‘ اس کا نام ’’ہونگ لانگ ڈونگ‘‘ ہے اور یہ اواتار مائونٹینز کے قریب واقع ہے‘ دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں سیاح ان کی سیاحت کے لیے آتے ہیں‘ چین کے دوسرے سیاحتی مقامات کی طرح اس کی پارکنگ بھی وسیع اور دور تھی‘ وہاں سینکڑوں گاڑیاں کھڑی تھیں‘ ہم شام چار بجے پہنچے تھے‘ ساڑھے چار بجے آخری ٹیم غاروں میں بھجوائی جاتی ہے‘ ہم آخری سیاح تھے‘ غار کا دروازہ ٹکٹ گھر سے دس منٹ کی واک پر تھا‘ راستے میں دونوں سائیڈز پر لان‘ پارک اور جنگل تھے‘ درمیان میں قدیم پن چکیوں کے ماڈل بھی تھے‘ ان سے پانی بہہ رہا تھا اور ان کے گرد سیاح بیٹھے تھے جب کہ دائیں بائیں سرسبز پہاڑ تھے‘ ہم گیٹ پر پہنچے تو سیاحوں کی آخری ٹیم داخلے کے لیے تیار تھی‘ گائیڈ نے ہمیں سختی سے بتایا غار بہت وسیع اور ’’زگ زیگ‘‘ ہیں‘ آپ نے صرف میرے ساتھ رہنا ہے‘ آپ اگر خدانخواستہ دائیں بائیں ہو گئے تو گم ہونے کے چانسز ہیں اور آپ شاید اس کے بعد کبھی غاروں سے باہر نہ نکل سکیں‘ ہم نے صدق دل سے اسے یقین دلایا ہم پاکستانی ہیں اور ہم نے کبھی کسی گائیڈ کا ساتھ نہیں چھوڑا‘ ہم زبان سے یہ عرض کر رہے تھے لیکن اندر سے جانتے تھے یہ ساتھ صرف چند قدموں کا ہے اور یہ بیچاری اس کے بعد ہمیں ڈھونڈتی ہی رہ جائے گی اوروقت نے بہت جلد یہ سچائی ثابت کر دی‘ ہم اس سے الگ ہوئے اور آخرمیں ا س سے گیٹ پر ملاقات ہوئی‘ گائیڈ نے یہ بھی بتایا ہمیں اندر دو تین ہزار سیڑھیاں چڑھنی اوراترنی پڑیں گی‘ دوسرا اندھیرا بھی ہو گا اور آکسیجن بھی کم ہو گی لہٰذا بزرگ‘ کم زور ٹانگوں والے اور دل کے مریض اندر نہ جائیں‘ ہم نے اسے یقین دلایا ہمارا دل‘ ٹانگیں اور حوصلہ تینوں بلند اور شان دار ہیں اور ہم ابھی بزرگ بھی نہیں ہوئے‘ اسے ہماری باتوں پر یقین نہیں آیا لیکن ہم نے غار میں آدھ گھنٹے میں اس کا شک دور کر دیا۔ وہ غار شروع میں زیادہ دل چسپ نہیں تھے‘ دروازہ چھوٹا تھا‘ راہ داری تنگ تھی اور آدھ کلومیٹر تک وہاں کچھ بھی نہیں تھا لیکن جوں ہی راہ داری
ختم ہوئی‘ ہمارے منہ سے بے اختیار وائو نکل گیا‘غار اندر سے انتہائی وسیع تھا‘ اوپر آسمان کی طرح گول گنبد تھا اور نیچے بڑے سائز کی چٹانیں اور کیلشیم کاربونیٹ کی مختلف سائز کی فارمیشن تھیں‘ گنبد کو مختلف سمتوں سے فلڈ لائیٹس دے کر خوب صورت بنا دیا گیا تھا‘ چھت پر ملٹی میڈیا سے وسیع وعریض ڈریگن بنایا گیا تھا‘ ان غاروں کوییلو ڈریگن کیو بھی کہتے ہیں شاید اس لیے پہلے غار کی چھت پر ڈریگن کی تصویر بنائی گئی تھی‘ وہ تصویر کم و بیش سوڈیڑھ سو میٹر بڑی ہو گی‘ ہمارا خیال تھا غار شاید اس ہال تک محدودہے لیکن جب گائیڈ نے بتایا اس کے اندر اس سے بھی بڑے 13چیمبرز ہیں تو ہماری حیرت میں اضافہ ہو گیا‘ یہ بھی معلوم ہوا آخری غار کی اونچائی 140 میٹر (460فٹ) ہے اور ہمیں اس کے درمیانی پلیٹ فارم پر پہنچنے کے لیے ڈیڑھ ہزار سیڑھیاں چڑھنا پڑیں گی‘ یہ بھی بتایا گیا غاروں کا فلور سائز 1600میٹر(5248فٹ) ہے اور اس کے اندر دو دریا اور تین آب شاریں بہتی ہیں جب کہ کیلشیم کاربونیٹ کے ہزاروں ستون ہیں اور ان کی وجہ سے انہیں ’’سٹون فاریسٹ‘‘ کہا جاتا ہے‘ ہمیں شروع میں یہ سب زیب داستان محسوس ہوا لیکن اس چیمبر سے نکلتے ہی سامنے وسیع آب شار تھی‘ اس کا پانی انتہائی بلندی سے نیچے گر رہا تھا اور اس کی آواز سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی‘ آب شار ایک بڑے پلیٹ فارم کے ساتھ تھی‘ پلیٹ فارم تک پہنچنے کے لیے سوکے قریب سیڑھیاں چڑھنا پڑ گئیں‘ ہم اوپر پہنچے تو سامنے آب شار تھی‘ انتظامیہ نے فلڈ لائیٹس کے ذریعے اس کے پانی کو روشن کر رکھا تھا جس کی وجہ سے ہمارے سامنے سفید موتیوں کی دیوارسی تھی‘ اب صورت حال یہ تھی ہمارے اوپر گنبد تھا‘ اس پر سات رنگوں میں ڈریگن کی تصویر چمک رہی تھی‘ دائیں بائیں بڑے بڑے پتھر تھے‘ ان کے درمیان لکڑی کا پلیٹ فارم تھا‘ اس کے ایک کونے پر آب شار گر رہی تھی اور اس کے قدموں میں سبز رنگ کا دریاتھا‘ پورا غار پانی کے ساز سے گونج رہا تھا‘ وہ منظر منفرد بھی تھا اور خوب صورت بھی‘ گائیڈ ہمیں لے کر پلیٹ فارم کی دوسری سائیڈ پر اتر گئی وہاں ایک اور دل چسپ منظر ہمارا منتظر تھا‘ وہاں سبز رنگ کی جھیل تھی اور اس میں درجنوں موٹر بوٹس کھڑی تھیں‘ وہاں اب اوپر غار کا گنبد تھا‘ نیچے جھیل‘ دائیں بائیں چٹانیں اور درمیان میں موٹر بوٹس یہ قدرت کا شاہ کار تھا‘ ہمیں حفاظتی جیکٹس پہنائی گئیں اور اس کے بعد موٹر بوٹس میں بٹھا دیا گیا‘ غار کے اندر کشتیاں چل رہی تھیں‘ ہر تھوڑی دیر بعد منظر بدل رہا تھا‘ کسی جگہ چھت پر ڈریگن ظاہر ہوتے تھے اور کسی جگہ روشنی کے ذریعے چھت پر ستارے بنائے گئے تھے‘ راستے میں جگنو اور تتلیاں بھی دکھائی دے رہی تھیں‘ یہ بھی لائیٹس کا کمال تھا‘ کسی کسی جگہ اتنا اندھیرا ہو جاتا تھا کہ ہمیں اپنے ہاتھ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے‘ جھیل کی دونوں سائیڈز پر پتھروں کی قدرتی مورتیاں اور کیلشیم کاربونیٹ کے ستون تھے‘ یہ ستون بھی کین کون کے ’’ریو سیکریٹو‘‘ کی طرح غار کے اوپر موجود درختوں کی جڑوں سے رستے قطروں نے کروڑوں سال میں بنائے تھے‘ لائیٹس کے ساتھ ساتھ سائونڈز کا بندوبست بھی تھا‘ آوازیں بادلوں جیسی تھیں اور وہ دل میں ہیبت طاری کر رہی تھیں‘ جھیل سیڑھیوں کے بلند سلسلے کے قریب پہنچ کر ختم ہو گئی‘ ہمارے سامنے پلاسٹک کے کروڑوں گل دستے پڑے تھے‘ غاروں کے اندر مصنوعی پھولوں کے تیز رنگوں نے توجہ کھینچ لی اور ہم مبہوت ہو کر رہ گئے۔ جھیل کی گودی کے ساتھ انتہائی بلند غار تھا‘ چھت ساڑھے چار سو فٹ اونچی تھی‘ غار کا آخری پلیٹ فارم ساڑھے تین سو فٹ بلند تھا اور وہاں تک پہنچنے کے لیے پندرہ سو سیڑھیاں تھیں‘ یہ چٹانوں کے ساتھ ساتھ اوپر جاتی تھیں‘ نیچے سے اوپر انتہائی بلندی تک پل بھی تھا‘ وہ چھت کے اندر دو مہیب چٹانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہا تھا‘ غار کے اندر لائیٹس کا بندوبست تھا‘ چھت کو بھی روشن کیا گیا تھا‘ نیچے جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر غار کی چھت تک دیکھنا ہیبت ناک تھا‘ گائیڈ نے بتایا آپ لوگوں نے یہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانا ہے اور پھر آخر میں یہ سیڑھیاں اترنی بھی ہیں‘ وہ کل تین ہزارسیڑھیاں تھیں‘ سیاحوں کے منہ سے فوری طور پر اف اور ہائے نکل گیا‘ میں نے ڈاکٹر عثمان کی طرف دیکھا اور ڈاکٹر صاحب نے میری طرف‘ ہم نے پھر اللہ کا نام لیا اور اوپر چڑھنا شروع کر دیا‘ سیڑھیاں واقعی مشکل تھیں لیکن اللہ نے ہمت دی اور ہم اس ہمت کا ہاتھ پکڑ کر اوپر چڑھتے چلے گئے‘ دائیں بائیں کے مناظر حیران کن تھے‘ کیلشیم کاربونیٹ کے ستونوں کا جنگل تھا‘ اس پر جب روشنی پڑتی تھی تو وہ ہول ناک بن جاتے تھے‘ بعض جگہوں پر پانی بھی برس رہا تھا‘ دو جگہوں پر آب شاریں بھی نظر آئیں اور چٹانوں کے ساتھ مختلف سائز کے بت اورشکلیں بھی تھیں‘ ہم سانس لینے کے لیے درمیان میں چند لمحوں کے لیے رکے تو ہمیں چٹانوں کے درمیان ایک مہیب چٹان دکھائی دی‘ وہ کھڑے انڈے کی شیپ جیسی تھی جس کا باقاعدہ منہ بھی تھا‘ چینیوں کے مطابق یہ شیطان کا بت ہے‘ چینی روایات کے مطابق زمینوں اور غاروں کے اندر شیطان رہتے ہیں چناں چہ یہ لوگ غاروں اور زمین کے اندر موجود آثار کو شیطانی سمجھتے ہیں‘ ان کے مطابق انڈے نما بت بڑے شیطان کی مورتی ہے‘ شیطان تک جانے کی سیڑھیاں بھی تھیں لیکن انہیں رکاوٹ لگا کر بند کر دیا گیا تھا شاید شیطان کے پجاریوں نے اوپر جا کر شیطان کی پوجا شروع کر دی تھی لہٰذا انتظامیہ کو شیطانی راستہ بند کرنا پڑ گیا بہرحال شیطان فلڈ لائیٹس میں چمک رہا تھا‘ ہم نے اسے دور سے ہیلو کیا اور وہ ہمیں اس لمحے مسکراتا ہوا محسوس ہوا شاید وہ یہ کہنا چاہتا تھا ’’تم بالآخر میرے پاس آ ہی گئے‘‘ شیطان کے بعد مزید چڑھائی تھی‘ میں اور ڈاکٹر عثمان دونوں اللہ کے کرم سے فٹ ہیں‘ ہم پورے گروپ کو پیچھے چھوڑ کر اوپر پہنچ گئے‘ شیطان کے قریب غار کی چھت مزید اونچی ہو گئی‘ میں نے زندگی میں اتنا بڑا قدرتی یا غیرقدرتی گنبد نہیں دیکھا‘ میں نے دنیا دیکھی ہے اور مجھے اس دنیا میں کیا کیا دیکھنا نصیب نہیں ہوا لیکن غاروں کا یہ سلسلہ واقعی منفرد اور حیران کن تھا‘ ہم شیطان کے سامنے سے مزید تین سو سیڑھیاں چڑھ کر آگے آئے تو ہمارے سامنے طویل ستون کھڑا تھا‘ یہ کیلشیم کاربونیٹ کا دنیا کا سب سے بلند ستون تھا‘ اس کی اونچائی 19اعشاریہ دو میٹر تھی‘ یہ ستون بھی غار کی چھت سے پانی کے قطرے گرنے سے بنا ‘ محققین کے مطابق کیلشیم کاربونیٹ کے ستون دس سال میں صرف ایک ملی میٹر بنتے ہیں‘ ایک میٹر میں 100سینٹی میٹرزاور سینٹی میٹر میں 10ملی میٹر ہوتے ہیں گویا اس قسم کی فارمیشن کو ایک میٹر کا سفر طے کرنے کے لیے دس ہزارسال درکار ہوتے ہیں اور وہ 19 اعشاریہ دو میٹر تھا گویا اسے یہاں تک پہنچنے میںایک لاکھ بانوے ہزار سال لگ گئے یہاں ایک اور بات بھی بہت اہم ہے اگر ستون کا ڈایا میٹر تین فٹ ہو تو آپ اس مدت کو400سے ضرب دے لیں جب کہ ہم اپنی 60 سے 70 سال کی زندگی پر اتراتے پھرتے ہیں‘ یہ پورا ستون قدرت نے غار کی چھت سے قطرہ قطرہ پانی گرا کر مکمل کیا‘ ہم بڑی دیر تک اس کے سامنے کھڑے رہے اور قدرت کے اس شاہ کار کی تعریف کرتے رہے‘ اس کے آگے مزید دو سو سیڑھیاں تھیں‘ ہم وہاں پہنچے تو غار کے عین درمیان پتھر کا پلیٹ فارم تھا‘ وہاں آواز گونجتی تھی‘ ہم نے پلیٹ فارم کے درمیان کھڑے ہو کر پاکستان کا نعرہ لگایا‘ پورے غار میں پاکستان‘ پاکستان‘ پاکستان کی گونج سنائی دی‘ وہ جگہ بھی حیران کن تھی‘ میرا آج کل 24 ماہ کا ایک کورس چل رہا ہے‘ ہم ہر ماہ مختلف ایشو سلیکٹ کر کے اس پر بات کرتے ہیں‘ یہ ’’کمیونی کیشن‘‘ کا مہینہ ہے‘ میں نے دنیا کے سب سے بڑے انڈر واٹر کیوسسٹم کے سب سے بلند پلیٹ فارم پر بیٹھ کر کمیونی کیشن کی ویڈیو ریکارڈ کی اور اپنی کلاس کو بھجوا دی‘ اس دوران ہمارا گروپ بھی وہاں پہنچ گیا‘ گورے اور گوریاں وہاں کھڑے ہو کر فرنچ‘ انگریزی اور سپینش زبان میں گانے گانے لگے اور ان کی آوازیں ’’ملٹی پلائی‘‘ ہو کر غار میں گونجنے لگیں‘ وہ بھی کیا تجربہ تھا۔ ہمارا وہاں سے واپسی کا سفر شروع ہو گیا‘ چڑھائی کے بارے میں کہتے ہیں اس پر چڑھنا جتنا مشکل ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ دشوار اترنا ہوتا ہے اور ہم نے پندرہ سو سیڑھیاں اتر کر جانا تھا‘ بہرحال جیسے تیسے ہم نیچے آ گئے‘ واپسی کا راستہ داخلے کے راستے سے مختلف تھا‘ یہ پست قامت غار تھا جسے نیلی لائیٹس سے روشن کیا گیا تھا‘ میں نیلی روشنیوں میں چلتے ہوئے باہر آ گیا‘ باہر کھلی فضا اور سبزہ تھا‘ اس سبزے اور فضا کو دیکھ کر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس سے چند میٹر کے فاصلے پر مہیب غاروں کا سلسلہ ہے اور اس سلسلے میں دریا اور آب شاریں بہتی ہیں اور ان سب کے درمیان گھپ اندھیرے میں شیطان بیٹھ کر اپنے چیلوں کا انتظار کر رہا ہے‘ یہ سب کچھ باہر سے جھوٹ اور مبالغہ محسوس ہوتا تھا لیکن بہرحال حقیقت‘ حقیقت ہے اور وہ ہم سے چند میٹر کے فاصلے پر تھی‘ یہ سفر بھی میری زندگی کا یادگار سفر تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…