میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں سے کھاریاں شفٹ ہو گئے‘
یہ اس وقت چھوٹا سا قصبہ تھا‘ ایوب خان کے دور میں امریکا نے کھاریاں میں جدید ترین چھائونی بنائی تھی‘ ہم 1971ء میں کھاریاں شفٹ ہوئے‘ چھائونی کو مکمل ہوئے 15 سال ہو چکے تھے لیکن اس کے باوجود یہ پوری طرح آپریشنل نہیں تھی‘ بجلی کا کام بھی ادھورا تھا اور گیس وہاں پہنچی نہیں تھی چناں چہ چھائونی کی زیادہ تر یونٹس میں لکڑی کا کوئلہ جلایا جاتا تھا‘ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہوتی تھی چناں چہ کھاریاں شہر اور چھائونی میں لالٹین‘ کروسین آئل اور گیس پر چلنے والے لیمپ جلائے جاتے تھے‘ کھانا لکڑیوں اور کوئلوں پر پکایا جاتا تھا‘ میرے والد نے چھائونی میں کوئلہ سپلائی کرنا شروع کر دیا‘ یہ منافع بخش کاروبار تھا اور والد نے اس میں لاکھوں روپے کمائے تھے‘ ان کے پاس بڑے بڑے گودام تھے جن میں کوئلوں کی بوریاں بھری رہتی تھیں‘ چھائونی سے جیپیں آتی تھیں اور کوئلے کی بوریاں لے کر چلی جاتی تھیں‘ سپلائی کے ذمہ دار ایک میجر صاحب تھے‘ وہ ’’آل ان آل‘‘ تھے‘ وہ کھڑے کھڑے لاکھ دو لاکھ روپے کا آرڈر دے سکتے تھے اور یہ رقم اس زمانے میں 10 کروڑ روپے کے برابر تھی‘ وہ جب آتے تھے تو میرے والد اور ان کے بھائی نہا دھو کر‘ کپڑے پہن کر یعنی تیار ہو کر ان سے ملتے تھے‘
اس دن دکان اور گوداموں کی صفائی بھی کی جاتی تھی‘ اس زمانے میں کوکا کولا اور پیپسی کا سرے سے وجود نہیں تھا‘ مشروبات کے نام پر تین ورائٹیز دستیاب تھیں‘ امریکا سے رائل کرائون کولا آتا تھا‘ یہ آر سی کولا کے نام سے مشہور تھا‘ پنجاب میں اس کے گنے چنے ڈسٹری بیوٹرز تھے اور ان سے بھی ایڈوانس پے منٹ پر آرسی کولا کی بوتلیں خریدی جاتی تھیں‘ ملک میں جب کوکا کولا اور پیپسی آئی تو یہ برینڈ ختم ہو گیا‘ دوسرا شیزان کمپنی نے نیا نیا مینگو جوس لانچ کیا تھا‘ یہ بھی شیشے کی بوتل میں آتا تھا اور بہت مزے دار ہوتا تھا‘ لوگ کمپنی کے نام کی وجہ سے اسے بھی شیزان کہتے تھے‘ یہ بھی بڑی مشکل سے ملتا تھا‘ میرے والد میجر صاحب کو خوش کرنے کے لیے آرسی کولا اور شیزان راولپنڈی سے منگواتے تھے اور انہیں چوری سے بچانے کے لیے کوئلے کی بوریوں میں چھپا دیتے تھے اور اس کا لوہے کا ڈھکن اتارنے والی چابی (اوپنر) جیب میں رکھ کر پھرتے رہتے تھے‘ اوپنرز (چابی) بھی اس زمانے میں باہر سے آتے تھے اور لوگ مہمانوں کو بھگتانے کے لیے اوپنرز باقاعدہ ایک دوسرے سے ادھار لیتے تھے اور تیسرا مشروب دیسی تھا‘ وہ بنٹے والی بوتل کہلاتی تھی اور عام غریب آدمی کا مشروب تھی‘ یہ شیشے کی بوتلیں ہوتی تھیں جن کے منہ پر شیشے کی گولی یعنی کنچا لگا ہوتا تھا‘ ہم اسے بنٹا کہتے تھے‘ یہ بوتلیں برف کی سلوں میں رکھی جاتی تھیں‘ ہم دکان دار کو ایک آنا دیتے تھے‘
وہ برف کی سل میں دبی بوتل نکالتا تھا‘ شہادت کی انگلی بوتل کے منہ میں دے کر اسے دباتا تھا‘ ٹھاہ کی آواز آتی تھی اور وہ بوتل گاہک کو پکڑا دیتا تھا‘ وہ ایک بدذائقہ سا مشروب تھا لیکن لوگ ٹھاہ کی آواز سننے کے لیے اسے خریدتے اور پیتے رہتے تھے‘ دکان دار اس کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے اس میں لیموں کا پانی اور کالا نمک ڈال دیتے تھے‘ اسے دودھ میں ڈال کر دودھ سوڈا بھی بنایا جاتا تھا‘ دودھ سوڈا اس زمانے کا کامن سافٹ ڈرنک تھا اور زیادہ تر لوگ اسے خود بھی پیتے تھے اور مہمانوں کو بھی پلاتے تھے‘ اس زمانے میں روح افزاء حکیموں کی دکانوں سے ملتا تھا‘ یہ دوائی سمجھا جاتا تھا اور حکیم معدے کے مریضوں کو نسخے میں تجویز کرتے تھے‘ لوگ معدے کی خرابی کو ’’اندر کی گرمی‘‘ کہتے تھے‘ نہ جانے کس مہربان نے روح افزاء کو دودھ سوڈے میں ڈال دیا جس کے بعد یہ بھی اس کا حصہ بن گیا اور یوں دودھ‘ بنٹے والی بوتل‘ روح افزاء اور برف چاروں کا کمبی نیشن بن گیا اور لوگ اسے خاطرداری کے لیے استعمال کرنے لگے‘ہمدرد کو بعدازاں روح افزاء کو دودھ سوڈے سے الگ کرنے اور نارمل ڈرنک ثابت کرنے کے لیے بھاری کمپیئن کرنا پڑ گئی۔ ہم گائوں سے آئے تھے لہٰذا لسی ابھی تک ہمارے گھر کا حصہ تھی‘ والد نے شہر میں بھی بھینس رکھی ہوئی تھی‘ وہ گائوں سے اس کی خدمت کے لیے کمی بھی لے آئے تھے لہٰذا ہمیں تازہ دودھ مل جاتا تھا جس کے نتیجے میں والدہ کو شہر آ کر بھی گائوں جیسی ذمہ داریاں اٹھانا پڑ گئیں‘ والد دودھ سوڈا‘ شربت اور بوتلوں (سافٹ ڈرنکس) کو پسند نہیں کرتے تھے چناں چہ مجھے بچپن میں یہ ’’نعمتیں‘‘ حاصل نہیں ہو سکیں تاہم وہ میجر صاحب کی خدمت کے لیے بوتلوں کا بندوبست ضرور کرتے تھے‘ اس زمانے میں فریج نہیں تھا‘ شہروں میں برف خانے تھے جن میں بڑی بڑی سلوں کی شکل میں برف بنتی تھی‘ برف کی ڈسٹری بیوشن کا پراپر نیٹ ورک ہوتا تھا‘ بازاروں میں برف کے تھڑے تھے‘ برف فروش برف خانے سے برف کے بلاک خریدتے تھے‘ انہیں کھوتی ریڑھی پر رکھ کر تھڑے پر لاتے تھے اور پھر لمبے ’’سوے‘‘ سے اس کے ٹکڑے کر کے بیچتے تھے‘ برف توڑنے والا ’’سوا‘‘ ہتھیار بھی تھا‘ لوگ لڑائی کے دوران اس سے لوگوں کو قتل بھی کر دیتے تھے‘یہ سوا بھی بہرحال برف کے کلچر کے ساتھ ختم ہوگیا۔
میجر صاحب جس دن ہماری دکان پر آتے تھے‘میرے والد صاحب اس دن صبح سویرے تیار ہو کر بیٹھ جاتے تھے‘ وہ لوہے کے ٹب میں برف ڈال کر اس میں آرسی کولا اور شیزان کی بوتلیں دفن کر دیتے تھے اور بوتلوں اور ٹب کی حفاظت کے لیے اپنا ایک ملازم وہاں بٹھا دیتے تھے‘ وہ بے چارہ زمین پر بیٹھ کر حسرت سے ٹب دیکھتا رہتا تھا‘ مجھے شیزان بہت پسند تھی چناں چہ میں ٹب کا طواف کرتا رہتا تھا جب کہ والد صاحب چابی (اوپنر) جیب میں ڈال کر دائیں بائیں ہو جاتے تھے‘ میں بوتلوں کی زیارت کے لیے ٹب میں ہاتھ ڈال کر انہیں باہر نکالتا تھا اور جی بھر کر ان کی زیارت کرتا تھا‘ اس دوران ملازم مجھے منع کرتا رہتا تھا لیکن میں اپنے آپ کو روک نہیں پاتا تھا‘ میری والدہ کو مجھ سے بڑی ہمدردی ہوتی چناں چہ وہ اس دن والد سے ضرور جھگڑا کرتی تھیں‘ ان کا کہنا تھا ’’آج آپ پھر میرے بچے کو ترساتے رہیں گے اور وہ مچھڑ ساری بوتلیں پی جائے گا‘‘ لیکن والد چپ چاپ گھر سے نکل جاتے تھے‘
میجر صاحب کی لمبی اور گھنی مونچھیں تھیں‘ والدہ اس نسبت سے اسے مچھڑ (مچھل) کہتی تھیں‘ وہ مچھڑ بھی کمال تھا‘ وہ بڑی آسانی سے چھ سات بوتلیں پی جاتا تھا‘ وہ ہر بوتل کے بعد ڈکار مارتا تھا جس کے آخر میں لمبی سی یا ٹھس کی آواز آتی تھی اور وہ اس کے ساتھ ہی جھک کر ٹب سے نئی بوتل نکال لیتا تھا اور میرے والد فوراً اپنے ہاتھ میں پکڑی چابی سے بوتل کھول دیتے تھے اور وہ غٹ غٹ کر کے اسے بھی پی جاتا تھا‘ میں آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں میجر صاحب آخر اتنی بوتلیں پی کیسے جاتے تھے؟ شاید اس زمانے میں شوگر کا مرض نہیں تھا یا پھر وہ اپنے بچپن کی کوئی محرومی دور کرتے تھے بہرحال میں اس دوران دور سے انہیں دیکھتا رہتاتھا اور ان کی خالی بوتلیں گنتا رہتا تھا‘ میں دور کیوں بیٹھتا تھا؟ اس کی وجہ بھی دل چسپ تھی‘ میجر صاحب کی جیپ دیکھتے ہی والد صاحب مجھے اپنے ملازم کے حوالے کر دیتے تھے اور وہ مجھے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر دور تھڑے پر بیٹھ جاتا تھا‘ اس کا نام فتح محمد تھا لیکن سب اسے ’’پھتو‘‘ کہتے تھے‘ میجر صاحب کی ’’بوتل بربادی‘‘ کے دوران میں اسے بار بار کہتا رہتا تھا ’’پھتو مینوں چھڈ دے‘ مچھڑ آخری بوتل وی پی جاوے دا‘‘ لیکن ہر بار پھتو کی گرفت مزید مضبوط ہو جاتی تھی‘ وہ بعض اوقات اپنے کھردرے اور کوئلے کی وجہ سے سیاہ کالے ہاتھ میرے منہ پر بھی رکھ دیتا تھا تاکہ میری آواز مچھڑ تک نہ جا سکے‘ میجر صاحب باکمال آدمی تھے‘
وہ بوتلیں چڑھاتے وقت میرے والد اور میرے چچا کی طرف نہیں دیکھتے تھے‘ میجر صاحب بوتلوں کے معاملے میں بہت حریص تھے‘ وہ ’’بوتل نوشی‘‘ کی جنگی کارروائی کے دوران بھول کر بھی کسی کو ’’صلح‘‘ نہیں مارتے تھے تاہم والد صاحب بھی بہت چالاک تھے‘ وہ ٹب کے کسی کونے کھدرے میں ایک دو بوتلیں چھپا دیتے تھے‘ میجرصاحب آخر میں برف میں ہاتھ پھیر کر اچھی طرح تسلی کرتے تھے لیکن وہ ایک دو بوتلیں ان سے محفوظ رہ جاتی تھیں لہٰذا وہ جوں ہی باہر نکلتے اور اپنی جیپ میں بیٹھتے تھے‘ میں تیر کی طرح ٹب پر جا گرتا تھا اور یخ ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈال دیتا تھا‘ پھتو بے چارہ مجھے روکتا ہی رہ جاتا تھا‘ والد صاحب میجر صاحب کو رخصت کرنے کے لیے جیپ کے پاس کھڑے ہوتے تھے‘ بوتل کھولنے کی چابی اس وقت بھی ان کی جیب میں ہوتی تھی‘ میں دل ہی دل میں دعا کرتا رہتا تھا‘ اللہ کرے مچھڑ جلدی چلا جائے جب کہ مچھڑ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر والد کو کوئلے کا نیا آرڈردیتا رہتا تھا‘ بہرحال قصہ مختصر والد واپس آتے تھے‘
چابی سے شیزان کی بوتل کھولتے تھے اور مجھے دے دیتے تھے اور میں صدیوں کے بھوکوں کی طرح اسے غٹ غٹ پینا شروع کر دیتا تھا اور والد پیار سے کہتے رہتے تھے ’’او کھوتے دے پتر ہولی پی‘ گوتا (غوطہ) لگ جاوے دا‘‘ لیکن اس لمحے مجھے اگر کوئی فائرنگ سکواڈ کے سامنے بھی کھڑا کر دیتا تو مجھے کوئی پرواہ نہ ہوتی‘والد اس دوران مجھے پیار سے دیکھتے رہتے جب کہ پھتو پیچھے بیٹھ کر آہستہ آہستہ کہتا رہتا ’’جیدے اک گھٹ (گھونٹ) مینوں وی دے دے‘‘ مگر مجال ہے جو میں نے اس کی عرض سنی ہو یا اس پر مہربانی فرمائی ہو‘ میں آخر میں بوتل کو زبان پر جھٹک جھٹک کر آخری قطرہ تک چاٹ جاتا تھا‘ میری والدہ اس رات مجھے یہ سبق ضرور دیتی تھیں ’’تم جب بڑے ہو جائو گے اور خود کمائو گے تو خبردار جو تم نے اپنے باپ کو شیزان لے کر دی‘‘ میں نے یہ بات پلے باندھ لی اور والد صاحب کو پوری زندگی شیزان نہیں پینے دی‘ انہیں خود بھی اس سے بہت چڑ تھی‘ شاید انہیں بھی یہ دیکھ کر مچھڑ میجر یاد آ جاتا تھا‘ وہ ’’پے منٹس‘‘ کے وقت والد کو بہت پھیرے لگواتا تھا‘ اباجی نے اس کے نخروں اور بوتلوں کی فرمائش سے تنگ آ کر کوئلے کا کاروبار اور کھاریاں دونوں چھوڑ دیے‘ میں جب والد کی آخری عمر میں انہیں یہ واقعات یاد کراتا تھا تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے تھے اور ہنستے ہنستے ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے‘ یہ آنسو خوشی کے ہوتے تھے یا دکھ کے میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا۔
آرسی کولا اور شیزان کی خالی بوتلیں دکان دار کو واپس کی جاتی تھیں‘ اس زمانے میں دکان دار خالی بوتلوں کا زرضمانت رکھا کرتے تھے‘ بوتل لوٹا کر پیسے واپس لیے جاتے تھے‘ یہ کام پھتو کی ذمہ داری ہوتا تھا‘ وہ مجھے بھی ساتھ لے جاتا تھا اور میں مرونڈے کے چکر اس کے ساتھ چلا جاتا تھا (جاری ہے)۔



















































