نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 0310 5366774 موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
بلوچستان میں انگریز کے آنے تک چار بڑی ریاستیں تھیں‘ قلات سب سے بڑی اور پرائمری سٹیٹ تھی‘ اس کے بعد خاران‘ لسبیلہ اور مکران تھی‘ بلوچ اور بروہی قبائل ان چاروں میں تقسیم تھے‘ 1857ء کی جنگ کے بعد ملکہ برطانیہ نے ہندوستان کو اپنی سلطنت قرار دے دیا اور انتظام چلانے کے لیے وائسرائے بھجوانا شروع کر دیے‘ اس زمانے میں رابرٹ سنڈیمن نام کا ایک کردار سامنے آیا‘ وہ سکاٹ لینڈ کے شہر پرتھ میں پیدا ہوا تھا‘ اس کا والد جنرل تھا‘ وہ 1856ء میں ملٹری آفیسر بن کر ہندوستان آیا اور انفنٹری کی 33 بنگال رجمنٹ جوائن کرلی‘ رابرٹ سنڈیمن کا آخری کارنامہ لکھنؤ پر قبضہ تھا‘ وہ اس کے بعد کمشنر بنا کر پنجاب بھجوا دیا گیا اور وہ بعدازاں ڈیرہ غازی خان کا ڈسٹرکٹ آفیسر بن گیا‘ اس نے ڈی جی خان میں بیٹھ کر بلوچ سرداروں سے ملاقاتیں شروع کیں اور آخر میں ’’ٹرائبل پیسی فکیشن (Tribal Pacification) کے نام سے ایک پراجیکٹ بنایا‘ یہ پراجیکٹ وائسرائے نے منظور کر لیا اور یوں بلوچستان میں ان حالات کی کاشت کاری شروع ہو گئی جس کی فصل آج پاکستان کاٹ رہا ہے۔
رابرٹ سنڈیمن کے پراجیکٹ کو سینڈیمنائزیشن (Sandemanization) بھی کہا جاتا ہے‘ اس پراجیکٹ کے تین حصے تھے‘ سنڈیمن نے بلوچستان کے تین حصے کر دیے‘ کوہ سلیمان کی شمالی سائیڈ کو پشتون بیلٹ قرار دے دیا گیا‘ اس بیلٹ میں ڈی آئی خان‘ ٹانک‘ وزیرستان اور شیرانی کے علاقے آ گئے‘ پہاڑ کی جنوبی سائیڈ کو بلوچ قبائل کی حدود مان لیا گیا جب کہ ڈی جی خان‘ روجھان اور راجن پور کے علاقوں کو پنجاب میں شامل کر دیا گیا جس کے نتیجے میں گورچانی‘ لنڈ‘ قیصرانی‘ لغاری‘ کھوسہ‘ مزاری اور ملغانی قبائل لاہور کے ساتھ جڑتے اور پنجابی ہوتے چلے گئے‘ چوتھی سائیڈ سندھ کے ساتھ لگتی تھی‘ سنڈیمن نے تالپور‘ چانڈیو‘ جتوئی‘ کھوسو‘ زرداری‘ کلماتی اور آدھے سے زائد رند قبائل کو سندھ میں شامل کر دیا اور یہ سندھی ہوتے چلے گئے یوں بلوچوں کی طاقت چار حصوں میں تقسیم ہو گئی‘ دوسرا سنڈیمن نے ژوب کی وادی فتح کر کے وہاں قلعہ اور انگریزی چھائونی بنا دی‘ یہ علاقہ 1976ء تک فورٹ سنڈیمن کہلاتا تھا‘ حکومت پاکستان نے 1976ء میں اسے دوبارہ ژوب کا نام دے دیا‘ یہ آج کل ژوب کہلاتا ہے‘ سنڈیمن نے اس کے بعد اپنے دوست اور مزاری قبیلے کے سردار نواب عمران بخش مزاری کے ذریعے خان آف قلات سے معاہدہ کیا‘ 1883ء میں قلات سے درہ بولان کرائے پرلیا اور 1886ء میں ریلوے لائین بچھا کر اسے سنٹرل انڈیا سے جوڑ دیا‘ اس نے اس کے بعد خان آف قلات سے کوئٹہ کا علاقہ لیز پر لیا اور مٹی کے کچے گھروں کو گرا کر شال نام کے اس گائوں کو بلوچستان کا سب سے بڑا کنٹونمنٹ ایریا بنا دیا‘
یہ ایک ماڈرن شہر تھا جسے ’’لٹل لندن‘‘ کہا جاتا تھا کیوں کہ اس میں انگریزوں کے لیے وہ تمام سہولتیں موجود تھیں جنہیں یہ لندن میں انجوائے کرتے تھے‘کوئٹہ بلوچستان میں انگریزوں کی سب سے بڑی چھائونی تھی‘ اسے لاہور‘ ملتان‘ جیکب آباد اور کراچی کی چھائونیاں کور دیتی تھیں‘ان چاروں چھائونیوں سے کوئٹہ تک ریلوے لائین تھی تاکہ کسی بھی ایمرجنسی یا حملے کی صورت میں فوجی دستے فوراًکوئٹہ پہنچ سکیں‘سنڈیمن کا لیز ایریا بعدازاں بڑھتے بڑھتے نوشکی اور نصیر آباد تک پھیل گیایوں انگریز افغانستان اور ایران کی سرحد تک پہنچ گیا‘ اس زمانے میں مری‘ بگٹی اور مزاری قبائل جنگجو ہوتے تھے‘ سنڈیمن نے ان کو دوست بنا لیا اور مری اور بگٹی قبائل کو ’’لیز ایریا‘‘ میں شامل کر لیا ‘ سنڈیمن کا تیسرا کام بلوچستان کے سرداروں کو پرائیویٹ آرمی رکھنے کی اجازت تھا‘ سنڈیمن نے بلوچستان کی عوام پر براہ راست حکومت کی بجائے درمیان میں سرداروں‘ نوابوں اور تمن داروں کی بفر بنا دی‘ انگریز نے سرداروں کو سالانہ تنخواہ اور اعزازات دینا شروع کر دیے اور اس کے عوض یہ علاقے میں امن و امان کے ذمہ دار بن گئے‘ سردار اپنی پرائیویٹ آرمی رکھتے تھے جسے انگریز نے ’’لیوی‘‘ کا نام دیا‘ سنڈیمن کی مہربانی سے بلوچستان اس زمانے میں اے اور بی دو ایریاز میں تقسیم ہو گیا‘ اے ایریا ژوب‘ کوئٹہ اور زیارت سے لے کر نوشکی اور نصیر آباد تک پھیلا ہوا تھا‘یہ علاقہ براہ راست انگریز کے زیر اثر تھا اوروہاں پولیس اور سول انتظامیہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح کام کرتی تھی جب کہ بی ایریا سرداروں کے پاس تھا اور وہاں ان کی پرائیویٹ آرمی ’’لیوی‘‘ امن و امان اور انصاف کا بندوبست کرتی تھی‘ بی ایریا 90 فیصد جب کہ اے دس فیصد تھا‘ پاکستانی حکومت کی بلوچستان کے انضمام کے بعد سب سے بڑی غلطی اس لیویز سسٹم کا تسلسل تھا‘ حکومت اگر یہ سسٹم ختم کر کے پورے بلوچستان کو اے ایریا قرار دے دیتی تو آج بلوچستان کے حالات مختلف ہوتے‘ پاکستان کی بدقسمتی تھی یہ شروع میں سکندر مرزا جیسے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو انگریزوں کے نظام کی پیداوار تھے اور ان لوگوں نے سسٹم کو جوں کا توں چلنے دیا اور اس کے نتیجے میں ہم آج وہاں آ کر کھڑے ہو گئے جہاں آگے اور پیچھے دونوں طرف کھائیاں ہیں بہرحال قصہ مختصر رابرٹ سنڈیمن 1892ء میں لسبیلہ کے وزٹ پر تھا‘ وہ بیمار ہوا اور فوت ہو گیا‘ حاجی علی خان سوم اس وقت جام آف لسبیلہ تھے‘ وہ سنڈیمن کے دوست تھے‘ انہوں نے فیملی کی اجازت سے سنڈیمن کو لسبیلہ میں دفن کر دیایوں وہ دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن اس کے پراجیکٹ کے اثرات آج تک جاری ہیں۔
ہندوستان کی تقسیم کے وقت ملک میں 565 نیم آزاد ریاستیں تھیں‘ انگریز انہیں جوں کا توں چھوڑ کر جانا چاہتا تھا لیکن جواہر لال نہرو نے وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کو سمجھایا یہ ریاستیں ایک دوسرے کی خون کی پیاسی ہیں‘ ان کے پاس اپنی اپنی فوجیں بھی ہیں‘ آپ اگر انہیں بے مہار چھوڑ گئے تویہ ہندوستان میں خون کی ندیاں بہادیں گی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ مارے جائیں گے لہٰذا آپ انہیں بھارت اور پاکستان میں ضم کر جائیں‘ وائسرائے کو نہرو کا مشورہ پسند آیا لہٰذا اس نے برصغیر کی تمام ریاستوں کو آپشن دے دیا‘ یہ اپنی مرضی سے بھارت میں شامل ہو جائیں یا پھر پاکستان کا حصہ بن جائیں۔ بلوچستان اس وقت تک پانچ ریاستوں میں تقسیم تھا‘ برٹش بلوچستان‘ اس میں کوئٹہ‘ کوہلو‘ ڈیرہ بگٹی‘ لورا لائی‘ پشین اور ژوب کے علاقے شامل تھے‘ نوے فیصد پشتون علاقے اور تفتان بارڈر تک کا علاقہ بھی برٹش بلوچستان تھا‘ دوسری ریاست قلات تھی‘ یہ سب سے بڑی ریاست تھی‘اس کے پاس بلوچستان کا 20 فیصد رقبہ تھا‘ تیسری ریاست خاران تھی‘اس کے حکمران نواب عبدالرحمن نوشیروانی تھے‘ چوتھی ریاست لسبیلہ تھی جس کے رولر جام غلام قادر تھے جب کہ پانچویں ریاست کا نام مکران تھا‘ یہ گوادر‘ پنج گور اور کیچ (تربت) کے علاقوں پر مشتمل تھی‘ یہ ساحلی ریاست تھی‘ اس کے ساتھ سمندر کا 650 کلومیٹر لمبا ساحل تھا‘ نواب بھائی خان گچکی اس کے حکمران تھے‘ پاکستان کے ساتھ الحاق کا آغاز کوئٹہ سے ہوا‘ انگریز نے برٹش بلوچستان کا انتظام چلانے کے لیے کوئٹہ میونسپلٹی کے نام سے ایک باڈی بنا رکھی تھی‘ اس میں اس دور کے کوئٹہ کے نامور اور برٹش بلوچستان قبائل کے سردار شامل تھے‘ اس کے 54 مسلمان ارکان تھے جن میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے والد قاضی محمد عیسیٰ اور نواب اکبر خان بگٹی بھی شامل تھے‘ 30 جون 1947ء کو میونسپلٹی اور شاہی جرگہ کی میٹنگ ہوئی‘ غیر مسلم ارکان اس میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے جب کہ تمام 54 ارکان نے پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا یوں بلوچستان کے پاکستان میں انضمام کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم نے چاروں بلوچ ریاستوں کے حکمرانوں سے رابطہ کیا‘ مکران کے حکمران بھائی خان گچکی پہلے سردار تھے جنہوں نے پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کیا‘ خاران دوسری اور لسبیلہ تیسری ریاست تھی‘ بلوچستان کی سب سے بڑی ریاست قلات پیچھے رہ گئی‘
میر احمد یار خان احمد زئی اس وقت خان آف قلات تھے‘ وہ سال بھر سوچ بچار کرتے رہے لیکن پھر ایک رات انہیں محسوس ہوا ہندوستان میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست بن رہی ہے اور وہ اس کے راستے میں رکاوٹ بن کر گناہ گار ہو رہے ہیں لہٰذا انہوں نے مارچ 1948ء میں کراچی جا کر قائداعظم سے ملاقات اور انضمام کی دستاویزات پر دستخط کا فیصلہ کیا‘ قلات کی ریاست اس وقت دو حصوں میں تقسیم تھی‘ یہ تقسیم سترہویں صدی میں میرناصر خان کے زمانے سے چلی آ رہی تھی‘ ریاست کا شمالی علاقہ بالائی اور ساراوان کہلاتا تھا‘ اس میں مستونگ اور قلات کا شہر آتا تھا‘ اس کا بندوبست بلوچ قبیلے رئیسانی کے پاس تھا‘رئیسانی نواب چیف آف ساراوان کہلاتا تھا‘ نواب اسلم رئیسانی اس وقت چیف اور رئیسانی سردار ہیں جب کہ شاہوانی‘ بینگلزئی ‘ کرد‘ لانگو‘ سرپرا‘ لہاری‘ محمد شاہی اور ستاگزئی قبائل بھی ساراوان میں شامل تھے‘ یہ قبائل شمالی قلات کے مختلف علاقوں میں آباد تھے‘ دوسرا علاقہ جنوبی اور زیریں تھا‘ یہ جھلاوان کہلاتا تھا‘ اس میں خضدار کا علاقہ آتا تھا‘ اس کا بندوبست بروہی قبائل کے پاس تھا‘ان میں مینگل‘ زاہری‘ بزنجو‘ محمد حسنی‘ ساسولی‘ قمبرانی‘ نچاری‘ پندرانی اور ہرونی قبائل شامل تھے‘ جھلاوان کی قیادت زاہری سردار کے پاس ہوتی تھی اور یہ چیف آف جھلاوان کہلاتا تھا‘ ثناء اللہ زاہری اس وقت ہزاری قبیلے کے سردار اور چیف آف جھلاوان ہیں‘ خان آف قلات نے یہ بندوبست فوجی‘ معاشی اور سفارتی وجہ سے کیا تھا‘ جنگوں کے دوران ساراوان کی فوج دائیں جب کہ جھلاوان کی فوج بائیں جانب سے دشمن پر حملہ آور ہوتی تھی‘ ساراوان اور جھلاوان کے چیفس خان آف قلات کی گورننگ کونسل میں شامل تھے‘ ریاست کے تمام فیصلے یہ لوگ مل کر کرتے تھے‘ خان آف قلات نے جب قائداعظم سے ملاقات اور انضمام کا فیصلہ کیا تو سب کی متفقہ رائے تھی ساراوان اور جھلاوان کے عمائدین بھی خان کے ساتھ کراچی جائیں گے‘ قائداعظم سے ملاقات کریں گے اور سب مل کر انضمام کا اعلان کریں گے لیکن اس زمانے میں نقل و حمل کے ذرائع اچھے نہیں تھے لہٰذا خان آف قلات اکیلے کراچی چلے گئے اور قائداعظم سے ملاقات کے بعد27 مارچ 1948ء کو انضمام کے کاغذات پر دستخط کر دیے‘
یہ خبر جب ساراوان اور جھلاوان کے سرداروں تک پہنچی تووہ ناراض ہو گئے‘ ان کا کہنا تھا خان نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا‘ یہ واقعہ آگے چل کر وفاق اور بلوچستان کے درمیان اختلافات کا پہلا بیج ثابت ہوا اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا چلا گیا‘ اختلاف کا دوسرا بیج مری قبیلے کے سردار خیر بخش مری ثابت ہوئے‘ میں آپ کو یہاں یہ بھی بتاتا جائو مری اور بگٹی دونوں قبائل برٹش بلوچستان میں شامل تھے اور انگریزوں کے حامی اور دوست تھے‘ مری قبیلے کے سردار نواب مہراللہ خان مری قیام پاکستان سے 15 سال قبل وفات پا گئے ‘انکا بیٹا خیر بخش مری اس وقت والدہ کی گود میں تھا‘ انگریز نے انہیں تعلیم کے لیے ایچی سن کالج لاہور بھجوا دیا اور ان کے بالغ ہونے تک قبیلے کے انتظامات سردار دودا خان مری کے حوالے کر دیے‘ دودا خان برٹش حکومت کی طرف سے ’’ریجنٹ‘‘ تھے یعنی وہ نواب خیر بخش مری کے جوان ہونے تک عارضی سردار تھے‘ دودا خان پاکستان کے خلاف تھے‘ انہوں نے برٹش حکومت کو 1947ء میں مری قبیلے کی طرف سے تحریری درخواست دے دی ’’ہم پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہتے‘ ہمیں قلات ریاست میں ضم کر دیا جائے‘‘ قلات ریاست اس وقت تک آزاد تھی‘ انہوں نے برٹش بلوچستان کے ’’شاہی جرگے‘‘ میں بھی پاکستان کی مخالفت کی تھی جب کہ دوسری طرف خیر بخش مری لاہور میں کمیونسٹ ہو گئے اور کامریڈ (شیروف) کہلانے لگے‘ وہ سوویت یونین کا زمانہ تھا اور سوویت یونین پاکستان کے خلاف تھا۔ (جاری ہے)



















































