نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘اس گرو پ میں جاوید چودھری صاحب بھی شامل ہیں‘ آپ جاوید چودھری صاحب سے کالم سے متعلق سوال بھی کر سکتے ہیں‘ وہ خود آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے‘ آپ اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر 5362221 92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
بارہ منٹ کا کھیل
ملتان کے چند مخیر حضرات نے خودی کے نام سے ماڈل ٹائون میں چھوٹا سا یتیم خانہ بنایا‘ یہ کرائے کی دو عمارتیں ہیں جن میں اس وقت ڈیڑھ سو بچے مقیم ہیں‘
یہ لوگ بچوں کو ابتدائی تعلیم دیتے ہیں اور اس کے بعد انہیں مختلف تعلیمی اداروں میں سیکنڈری اور ہائیر ایجوکیشن کے لیے بھیج دیتے ہیں یا پھر بچوں کو ہنر سکھا دیے جاتے ہیں‘ خودی کے ڈیڑھ سو بچوں میں وسیم عباس بھی شامل تھا‘ یہ مظفر گڑھ کا رہنے والا تھا‘ والد اس کے بچپن میں فوت ہوگیا‘ یہ تین بھائی بہن ہیں‘ یہ تینوں خودی میں رہے‘ بہن نے تعلیم حاصل کی اور سلائی کڑھائی سیکھ کر کام شروع کر دیا‘ وسیم عباس کی عمر پندرہ سال تھی‘ اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا‘ اس کے نانا اور نانی کی خواہش تھی اسے کوئی ہنر سکھا دیا جائے تاکہ یہ فیملی کو کچھ نہ کچھ کما کر دے سکے‘ خودی کا ایک بچہ ٹھیکے دار توقیر کے پاس کام سیکھ رہا تھا‘ یتیم خانے کی انتظامیہ نے وسیم عباس کو بھی ٹھیکے دار توقیر کے پاس بھجوا دیا‘ توقیر مختلف ہائوسنگ سوسائٹیز میں زیر تعمیر گھروں کے بجلی اور پلمبرنگ کے ٹھیکے لیتا تھا‘ اس کے پاس الیکٹریشن تھے لیکن ہر ٹھیکے دار کی طرح اسے نئے لڑکے چاہیے ہوتے تھے چناں چہ اس نے لڑکے کو کام پر رکھ لیا‘ وسیم عباس جیسے لڑکے ’’چھوٹے‘‘ کہلاتے ہیں‘ ان کے تین کام ہوتے ہیں‘ یہ دن رات سینئرز کی جھڑکیاں اور گالیاں کھائیں‘ ان کے لیے کھانا اور چائے بنائیں اور رات کے وقت اپنے استاد کولتاڑیں اور دبائیں‘ دوسرا یہ دن بھر استادوں کو اوزار اور را مٹیریل پکڑاتے رہیں‘ استاد ہمیشہ بھاری‘ مشکل اور گندا کام انہیں سونپ دیتے ہیں اور یہ کام سرانجام دینا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے اور تیسرا کام یہ استادوں کی مار کھائیں‘ پاکستان میں دو بیماریاں عام ہیں‘ فرسٹریشن اور غصہ‘ ہم میں سے 99 فیصد لوگ زندگی کی فرسٹریشن کا شکار ہیں‘ اس کی وجہ کام میں روٹین کی کمی‘ غیر متوازن خوراک‘ ایکسرسائز نہ کرنا‘ مالی پریشانیاں‘ گھروں کی چخ چخ اور معاشرے میں پھیلی ابتری اور ڈپریشن ہے‘ ہم ان وجوہات کو بڑھا یا کم کر سکتے ہیں تاہم یہ طے ہے ہمارا معاشرہ فرسٹریشن سے لبالب ہے اور اس کی وجہ سے ہم چڑچڑے اور نیگیٹو ہو چکے ہیں‘ موبائل فون اس معاملے میں سونے پر سہاگہ ثابت ہوا‘ دوسرا ہم سب کی ذات غصے سے بھری ہوئی ہے‘ ہمارا پورا معاشرہ غصے سے ابل رہا ہے‘ آپ مسجد میں بھی بات کریں گے تو لوگ آپ کے گلے پڑ جائیں گے‘ ہم سب دوسروں کی پراپرٹی اور گاڑیاں توڑنا اپنا حق سمجھتے ہیں‘ ہم سب غصیل ہیں‘ اشفاق احمد صاحب نے غصے کے بارے میں کیا خوب فرمایا تھا‘ آپ کا کہنا تھا غصہ بہت چالاک جذبہ ہے‘ یہ کبھی اپنے سے طاقتور‘ مضبوط اور بڑے آدمی پر نہیں نکلتا‘ یہ ہمیشہ کم زور‘ کم تر اور مجبور لوگوں کی تلاش میں رہتا ہے ‘اشفاق صاحب کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہم صرف کم زوروں پر غصہ نکالتے ہیں اور ’’چھوٹوں‘‘ میں غصہ نکالنے کی تینوں خوبیاں موجود ہوتی ہیں‘ یہ مجبور بھی ہوتے ہیں‘ کم تر بھی اور کم زور بھی چناں چہ استاد سے مار کھانا ان کی زندگی کانصاب ہوتا ہے‘ یہ چھوٹے جب مار کھا کھا کر استاد بن جاتے ہیں تو یہ خود بھی ’’چھوٹوں‘‘ کو اسی نصاب کے ذریعے ٹرینڈ کرتے ہیں اور یہ کھیل صدیوں سے برصغیر میں جاری اور ساری ہے۔
میں واپس وسیم عباس کی طرف آتا ہوں‘ ٹھیکے دار توقیر بھی غصے سے لبالب بھرا تھا‘ وہ اپنے ملازمین اور وسیم عباس جیسے چھوٹوں کو گالیاں بھی دیتا تھا اور مارتا بھی تھا‘ دنیا کے ماہر نفسیات دان یونگ نے انسان کی شخصیت کو 16 حصوں میں تقسیم کیا تھا‘ یہ سائنس ایم بی ٹی آئی (مائیرز برگز ٹائپ انڈی کیٹر) کہلاتی ہے‘ یونگ کے مطابق ہم سب 16 اقسام میں سے کسی ایک شخصیت کے مالک ہوتے ہیں‘ وسیم عباس کی شخصیت میں دوسروں کی اتھارٹی ماننا‘ گالیاں اور توہین برداشت کرنا شامل نہیں تھا‘ ایسے لوگ باغی ہوتے ہیں‘ آپ ان سے صرف پیار اور عزت کے ساتھ کام لے سکتے ہیں‘ یہ زبردستی کام نہیں کرتے‘ دوسری طرف توقیر کی شخصیت میں زبردستی‘ دھونس اور طاقت تھی چناں چہ دونوں کا ٹکرائو لازم تھا‘ وسیم عباس کو توقیر کے پاس صرف ہفتہ گزرا تھا اور 19 اکتوبر کا دن آ گیا‘ توقیر نے اس کی بے عزتی کی‘ وسیم عباس نے اس کا جواب دیا‘ توقیر کو غصہ آ گیا‘ وہ اسے مارنے کے لیے اٹھا اور وسیم عباس وہاں سے بھاگ گیا‘ توقیر کی انا پر زد پڑی اور وہ اس کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا‘ اس کا کزن امجد بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا‘ یہ دونوں وسیم عباس کے پیچھے بھاگے لیکن وسیم دوڑ میں زیادہ تگڑا نکلا‘ وہ گلیوں میں غائب ہو گیا‘یہ توقیر کی انا کی مکمل توہین تھی‘ اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔وہ اپنے کزن امجد کے ساتھ سائیٹ پر واپس آیا‘ گاڑی نکالی اور وہ دونوں وسیم کو تلاش کرنے لگے‘ وسیم بھی اس دوران اپنے لیے کوئی ٹھکانہ تلاش کر رہا تھا‘ توقیر کو اس دوران گلی کے موڑ پر وسیم نظر آ گیا‘ اس نے گاڑی اس کے پیچھے دوڑا دی‘ لڑکا جوں جوں دوڑتا گیا توقیر کے غصے میں توں توں اضافہ ہوتا گیا‘ یہ غصہ ساتھ ساتھ ریس میں بھی تبدیل ہو تا گیا یہاں تک کہ بچہ پناہ کے لیے ایک گھرکے گیٹ سے لپٹ گیا‘ توقیر کی گاڑی آئی اور اس نے بچے کو گیٹ کے ساتھ پیس دیا‘ وسیم عباس کا جبڑا اور ناک اندر دھنس گئی اور کھوپڑی ٹوٹ گئی‘ وہ وہیں فوت ہو گیا‘ توقیر کے کزن امجد نے نیچے اتر کر بچے کو کھینچ کر نکالا اور زمین پر پٹخ دیا‘
گھر پر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے لہٰذا یہ سارا منظر ریکارڈ ہو گیا‘ گلی میں اس وقت لوگ بھی موجود تھے‘ لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے توقیر اور امجد کو گھیر لیا‘ پولیس کو فون کیا گیا‘ پولیس آئی لیکن اس وقت تک امجد فرار ہو چکا تھا‘ وہ فیصل آباد بھاگ گیا‘ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلی اور رات تک وائرل ہو گئی‘ سوشل میڈیا اور اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے ایشو کوا ٹھا لیا یوں یہ ایشو بڑی خبر بن گئی‘ پولیس نے تفتیش کی تو پتا چلا یہ غصے کا کارنامہ تھا‘ توقیر اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکا تھا بہرحال ملزم کو اگلے دن عدالت میں پیش کر دیا گیااور وکلاء نے اسے پولیس کے ہاتھوں سے چھین کر پھینٹا لگا دیا‘ پولیس نے بڑی مشکل سے اس کی جان بچائی‘ آج صبح ملزم کو سی سی ڈی کے حوالے کر دیا گیا اوراس نے اسے بہاولپور کے قریب پولیس مقابلے میں مار دیا یوں دو دن کے وقفے سے پندرہ سال کا وسیم عباس اور 33 برس کا توقیر دونوں دنیا سے رخصت ہو گئے‘ پولیس اس وقت امجد کو بھی تلاش کر رہی ہے‘ اس کا انجام بھی یہی ہوگا۔
یہ دونوں مر گئے‘ ایک مظلوم اور دوسرا قاتل اور ظالم کے ٹائٹل کے ساتھ لیکن یہ دونوں جاتے جاتے معاشرے کے لیے چند سوال چھوڑ گئے‘میرا خیال ہے ہم اگر ان سوالوں کے جواب تلاش کر لیں تو ہمارا اگلا معاشرتی سفر آسان ہو جائے گا‘ پہلا سوال‘ ملک میں وسیم عباس جیسے کتنے بچے ہیں‘ ان کا مستقبل کیا ہے اور کیا ریاست ان کے وجود سے واقف ہے اگر یہ انہیں نہیں جانتی تو پھر کیا ریاست کو ریاست کہنا چاہیے؟ ریاست اگر واقعی ماں ہوتی ہے تو پھر وسیم عباس جیسے لوگ بھی اس کے بچے ہونے چاہییں‘ ریاست کو انہیں بھی ماننا اور جاننا چاہیے لیکن اگر یہ انہیں نہیں جانتی تو کیا پھر یہ ماں کی بجائے سوتیلی ماں نہیں ہوئی؟ دوسرا سوال اگر گلی میں اس وقت لوگ اور کیمرے نہ ہوتے یا یہ ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو کیا پھر بھی ریاست کا ردعمل یہی ہوتا؟ کیا یہ ملک میں اس نوعیت کا پہلا کیس ہے‘ کیا ماضی میں ایسے واقعات نہیں ہوئے اور کیا آج نہیں ہو رہے اور کیا یہ کل نہیں ہوں گے؟ اس کا جواب بھی اگر ہاں ہے تو پھر حکومت ایسے واقعات کے سدباب کے لیے کیا کر رہی ہے‘ ہمارے قانون ساز ادارے ان کے مکمل خاتمے کے لیے کب قانون بنائیں گے اور تیسرا سوال اگر ملزم توقیر کا تعلق کسی بڑے خاندان کے ساتھ ہوتا‘ یہ کوئی بااثر شخص ہوتا تو کیا اسے پھر بھی عدالت میں وکلاء سے مار پڑتی اور کیا یہ آخر میں اسی طرح ایک دن میں انجام تک پہنچتا؟میں ریاست نہیں ہوں‘
میں ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکوں گا تاہم میں وسیم عباس‘ توقیر اور امجد جیسے لوگوں کو ایک مشورہ ضرور دے سکتا ہوں‘ ہم سب انسان اپنے جسم میں پیدا ہونے والے سات کیمیکلز (ہارمونز) کے غلام ہوتے ہیں‘ یہ جب بھی اپنی انتہا کو چھوتے ہیں ہماری عقل سلیم(لاجیکل برین) جواب دے جاتی ہے اور عقل سلیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ وہ جوہر ہے جس کی وجہ سے انسان کو اشرف المخلوقات کا خطاب دیا گیا‘ ہم چوبیس گھنٹوں میں زیادہ تر وقت عقل سلیم کے کنٹرول میں رہتے ہیں لیکن جب جسم کا کوئی کیمیکل اچانک بڑھ جاتا ہے تو وہ ’’عقل سلیم‘‘ کو ’’شٹ ڈائون‘‘ کر دیتا ہے اور انسان چند سیکنڈ میں انسانیت سے حیوانیت کے لیول تک آ جاتا ہے‘ یہ لمحہ بہت خطرناک ہوتا ہے‘ میں اسے وہ ’’ڈارک نیس‘‘ یا وہ جھٹکا کہتا ہوں جو عموماً بجلی کے جانے اور جنریٹر کے آن ہونے کے درمیان آتا ہے‘ یہ وقفہ بعض لوگوں میں کم اور بعض میں زیادہ ہوتا ہے تاہم اس کا دورانیہ بارہ سیکنڈ سے بارہ منٹ ہوتا ہے‘ ہم میں سے ننانوے فیصد لوگ اس وقفے میں وہ کر جاتے ہیں جو توقیر نے وسیم عباس کے ساتھ کیا اور پھر اس کے نتیجے میں خود بھی کہانی بن گیا‘ کاش یہ دونوں یا تینوں اپنی اس جسمانی خامی سے واقف ہوتے تو یہ شاید آج بھی زندہ ہوتے‘ ہم غصے سے بچ نہیں سکتے‘کیوں؟ کیوں کہ ہم اپنے جسم سے غصے کے کیمیکلز نہیں نکال سکتے لیکن ہم اگر اسے صرف بارہ منٹ برداشت کر لیں تو ہم تباہی سے بچ سکتے ہیں‘ ہمیں چاہیے ہم غصے میں بارہ منٹ کا چپ کا روزہ رکھ لیں اور اپنی پوزیشن بدل لیں‘ ہم اگر کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں اور اگر بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیں تو ہماری جان بھی بچ جائے گی اور ہم نقصان سے بھی محفوظ رہیں گے‘ ہم نے بس 12 منٹ صبر کرنا ہے‘ ہماری عقل سلیم بارہ منٹ کے دوران ہماری حیوانیت پر غالب آ جائے گی اور ہم اور ہمارے سامنے موجود لوگ دونوں بچ جائیں گے‘ کاش یہ فارمولا ان دونوں کو معلوم ہوتا تو یہ شاید آج بھی زندہ ہوتے لیکن آپ کوشش کریں آپ بارہ منٹ کے ضبط سے خود کو بچا لیں ورنہ آپ اور توقیر میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔



















































