اتوار‬‮ ، 18 اکتوبر‬‮ 2026 

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

datetime 18  اکتوبر‬‮  2026

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘اس گرو پ میں جاوید چودھری صاحب بھی شامل ہیں‘ آپ جاوید چودھری صاحب سے کالم سے متعلق سوال بھی کر سکتے ہیں‘ وہ خود آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے‘ آپ اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر   5362221  92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم  5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

 

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

 

عمران خان جیل ٹرائل کے دوران جج کو اردلی کہہ دیتے تھے‘ یہ منہ پر انہیں برا بھلا بھی کہتے تھے‘ جیل کے اندر یہ کرنل کا حوالہ بار بار دیتے رہے‘ عمران خان کی ملاقاتیں جب تک جاری رہیں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو اس وقت تک ملک‘ فوج‘ عدلیہ اور فیلڈ مارشل کے خلاف مواد ملتا رہا‘ ملاقات کے بعد ہر بار جنرل عاصم منیر کو ذہنی مریض قرار دیا جاتا تھا اور خوف ناک انجام کی دھمکیاں دی جاتی تھیں لہٰذا اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ملاقاتیں بند کرنے پر مجبور ہو گئی‘جج بھی ان کے خلاف ہو گئے‘ عمران خان کے اندر اگر ذوالفقار علی بھٹو نہ ہوتا تو کوئی نہ کوئی انہیں سمجھا لیتا‘ کوئی نہ کوئی ان کا ہاتھ اور زبان کنٹرول کر لیتا مگر یہ کرشماتی لیڈر ہیں لہٰذا کوئی ان کے سامنے دم نہیں مار سکا‘

آپ پارٹی میں سے کوئی شخص بتائیں جو انہیں مشورے دے سکتا ہو یا پھر انہیں اچھے یا برے کی تمیز سکھا سکتا ہو؟ کوئی نہیں ہے‘ یہ جب وزیراعظم تھے تو اس وقت بھی یہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتے تھے‘ یہ سعودی شاہ کو انگلی کے اشارے سے سمجھانا شروع کر دیتے تھے اور سعودی کرائون پرنس کے جہاز میں ان کے بارے میں وہ کچھ فرما دیتے تھے جس کے بعد ولی عہد کے حکم پر پائلٹ انہیں دوبارہ واشنگٹن اتار کر طیارہ خالی واپس لے جاتا تھا‘ عمران خان سعودی عرب کے محلات کی ٹاپ سیکرٹ گفتگو طیب اردگان اور مہاتیر محمد تک کو بتا دیتے تھے‘ یہ اس وقت ’’ون پیج‘‘ کے تگڑے وزیراعظم تھے‘ یہ آج عوام کے مقبول ترین لیڈر ہیں لہٰذا انہیں اس وقت کوئی روک سکا اور نہ آج روک سکے گا چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا اوور سائز ہونا اور مقبولیت ہے‘ یہ کسی کو بھی مشورے کے قابل نہیں سمجھتے‘ ان کے پاس جو بھی جاتا ہے ان کا گلوبل ویو‘ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی داستانیں اور اللہ کی نصرت کی نشانیاں سن کر واپس آ جاتا ہے اور یوں ان کے مسائل میں اضافے پر اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے‘ میں یہاں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی مثال دوں گا‘ آصف علی زرداری مختلف ادوار میں گیارہ سال جیل میں رہے‘ یہ جس بھی جیل میں گئے ان کے دوستوں میں بھی اضافہ ہوا اور جج اور اس زمانے کے فیصلہ ساز بھی ان کے گرویدہ ہوتے چلے گئے چناں چہ یہ جیل سے باہر بھی آئے اور دو بار صدر بھی بنے‘ میاں نواز شریف بھی گرفتار ہوئے اور جیل میں بھی رہے‘ اڈیالہ جیل میں ان کی طبیعت خراب ہوئی تو پی آئی ایم ایس کے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم ان کے معائنے کے لیے گئی‘ اس میں دل کے امراض کا ایک پروفیسر بھی شامل تھا‘ وہ عمران خان کے پکے اور پرانے فین تھے‘ پی ٹی آئی کو فنڈ بھی دیتے تھے لیکن وہ صرف ایک ملاقات سے نواز شریف کے فین ہو گئے‘ ان کے بقول میں جب نواز شریف کے سیل میں گیا تو وہاں ایک چارپائی‘ پلاسٹک کا ایک ٹیبل اور ایک چیئر تھی‘ نواز شریف نے علالت میں بھی کھڑے ہو کر میرا استقبال کیا اور جب تک میرے لیے کرسی کا بندوبست نہیں ہو گیا وہ کھڑے رہے‘

معائنے کے دوران بھی انہوں نے کوئی آہ یا اف نہیں کی‘ میں نے ان سے پوچھا ’’میرے لائق کوئی کام؟‘‘ تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا ’’ڈاکٹر صاحب بس میرے لیے دعا کیجیے ‘‘ اور پھر کھڑے ہو کر مجھے سیل کے دروازے تک چھوڑ کر آئے‘ میں ان کے تحمل‘ برداشت اور روایت کا فین ہو گیا‘ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں نے جیل کے دوران زبان پر تالہ لگائے رکھا‘ فوج‘ ججز اور حکومت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا‘ عزت‘ ہمت اور جرات کے ساتھ جیل کاٹی‘ وکیلوں اور ہمدردوں کی بات بھی حوصلے سے سنی اور اس پر عمل بھی کیا لہٰذا ان کا وقت بہت جلد بدل گیا اور یہ دونوں باہر بھی آئے اور اقتدار تک بھی پہنچے‘ عمران خان کے دور میں نومبر 2019ء میں جب میاں نواز شریف کو علاج کے لیے لندن بھجوایا جا رہا تھا تو جنرل فیض حمید کی خواہش تھی میاں صاحب کو سٹریچر پر جہاز تک پہنچایا جائے لیکن نواز شریف اڑ گئے‘ ان کا کہنا تھا میں چل کر جائوں گا اور یہ نہا دھو کر‘ نئے کپڑے پہن کر چل کر جہاز تک گئے اور سیڑھیاں چڑھ کر سیٹ تک پہنچے‘ ان کے سامنے فروٹ کی ٹوکری بھی پڑی تھی‘ یہ تصویر بعدازاں بہت متنازع ہوئی اور عمران خان اور ان کے وزراء وہ تصویر دکھا کر کھلے عام بولنے لگے ’’ہمارے ساتھ دھوکا ہو گیا‘‘ ۔ہم نواز شریف اور آصف علی زرداری کی سیاست پر لاکھ اعتراض کر سکتے ہیں‘ یہ درست ہے یہ دونوں دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے لیکن ہمیں اس کے باوجود زرداری صاحب اور نواز شریف کے حوصلے اور عقل مندی کی داد دینا پڑے گی‘ یہ بھی ویل چیئر یا سٹریچر کا ڈرامہ کر سکتے تھے‘ یہ بھی ججوں کی بے عزتی کر سکتے تھے اور وکلاء کو ڈانٹ کر چپ کرا سکتے تھے لیکن انہوں نے عزت کے ساتھ مشکل وقت گزارا اور اچھے وقت کا انتظار کیا جب کہ ان کے مقابلے میں عمران خان گرفتاری سے بچنے کے لیے تین ماہ ویل چیئر کا سہارا لیتے رہے‘ یہ 9مئی 2023ء کو جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار ہوئے تو یہ اس وقت بھی ویل چیئر پر تھے لیکن جب رینجرز نے کھڑکیاں توڑ کر انہیں باہر نکالا تو یہ بھاگتے ہوئے رینجرز کی گاڑی تک چلے گئے‘ یہ حرکت لیڈروں کو زیب نہیں دیتی‘آپ ایک طرف عدالت سے بچنے کے لیے ویل چیئر کا بہانہ بنا رہے تھے اور دوسری طرف جیل سے ملک کے طاقتور ترین شخص کو ذہنی مریض قرار دے رہے ہیں‘ کیا یہ عقل کی بات ہے؟ لیکن بات پھر وہی ہے عمران خان کو یہ سمجھا کون سکتا ہے؟۔

ہمیں یہاں یہ اعتراف کرنا ہوگا عمران خان بلاشبہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں‘ یہ 2024ء کے الیکشن بھی جیت گئے تھے‘ الیکشنز میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو بے تحاشا مار پڑی‘ یہ حکومت بھی جعلی ہے لیکن سوال یہ ہے عمران خان نے کسی کے لیے گنجائش کہاں چھوڑی تھی؟ آپ کی حکومت 2023ء میں ختم ہو گئی‘ حکومتیں ہوتی ہی ختم ہونے کے لیے ہیں‘ اس کرہ ارض پر حضرت سلیمان ؑ اور حضرت دائود ؑ کی حکومتیں بھی ختم ہو گئی تھیں‘ عثمانیوں نے آدھی سے زائد دنیا پر 8 سو سال حکومت کی لیکن وہ سلطنت اور وہ حکومت بھی ختم ہو گئی۔ سپین اور برطانیہ کے بادشاہوں کی سلطنتوں پر سورج نہیں ڈوبتے تھے اور منگول اور تیموری جہاں سے گزر جاتے تھے وہاں دھرتی دہائیوں تک ماتم کرتی رہتی تھی لیکن وہ حکومتیں اور وہ سلطنتیں بھی ختم ہو گئیں‘ دنیا میں جب مدینہ‘ ویٹی کن اور یروشلم کی حکومتیں نہیں رہیں تو عمران خان کس کھیت کی مولی ہیں‘ یہ اور ان کی حکومت بھی بالآخر ختم ہو جانی تھی‘ ہم انسان جس طرح پیدائش کے بعد روزانہ موت کی طرف بڑھتے ہیں بالکل اسی طرح دنیا کی ہر حکومت کا پہلا دن اس کے اختتام کی شروعات ہوتا ہے‘ دن گزرتے جاتے ہیں اور حکومت خاتمے کے قریب پہنچتی جاتی ہے تاہم اقتدار کے اس ظالمانہ کھیل میں جمہوریت ایک معجزہ ہے‘ یہ ایک ایسا گھوڑا ہے جس پر سوار ہو کر حکمران دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں‘ آپ ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال لے لیجیے‘ یہ 2021ء میں فارغ ہوئے‘ دوسرا الیکشن ہارے لیکن 2025ء میں الیکشن لڑ کر دوسری بار دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر بن گئے‘ میاں نواز شریف تین بار وزیراعظم رہے اور چوتھی مرتبہ ان کے بھائی وزیراعظم‘ بیٹی وزیراعلیٰ‘ سمدھی ڈپٹی وزیراعظم اور بھتیجا وزیراعظم ہائوس چلا رہا ہے‘ کیسے؟ یہ صرف جمہوریت کا کمال ہے لیکن جمہوریت کے لیے برداشت‘ صبر‘ عاجزی اور اپنے وقت کا انتظار ضروری ہوتا ہے اور عمران خان میں یہ عناصر نہیں ہیں‘ یہ دروازے‘ کھڑکیاں اور دیواریں توڑ کر تخت تک پہنچنا چاہتے ہیں‘ یہ امیر تیمور کی طرح کھوپڑیوں کے مینار بنانا چاہتے ہیں اور آج کے زمانے میں یہ ممکن نہیں‘ ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا پاکستان تحریک انصاف خالصتاً اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی ہے‘ یہ بنائی ہی فوج نے تھی‘ اس کے مصور جنرل حمید گل تھے اور اس کے پہلے سیکرٹری جنرل فوج کے ریٹائر جنرل مجیب الرحمن تھے جب کہ اس میں شامل زیادہ لوگ کسی نہ کسی فوجی کے بیٹے‘ بھتیجے اور بھانجے تھے‘ خواتین کا تعلق بھی فوجی گھرانوں سے تھا‘ جنرل عاصم منیر تک عمران خان کے بہت بڑے فین تھے‘خان کو اقتدار میں لانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ تھا‘ جنرل احمد شجاع پاشا‘ جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل فیض حمیدنے انہیں کندھوں پر بٹھائے رکھا اور جنرل باجوہ ان کے سب سے بڑے محسن تھے‘

یہ انہیں اقتدار میں لانے‘ بچانے اور چلانے میں ساری حدیں پار کر گئے تھے‘ یہاں تک کہ ان کے زمانے میں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور اور مریم نواز کو بیڈروم میں داخل ہو کر گرفتار کر لیا گیا تھا اور یہ وہ حرکت تھی جو کسی نے بھی کسی زمانے میں نہیں کی تھی‘ فوج عمران خان کے لیے اس حد تک چلی گئی تھی‘ 2018ء کے الیکشن میں ’’آر ٹی ایس‘‘ تک بٹھا کر عمران خان کو جتوایا گیا تھا‘ فوج 2023ء میں عمران خان کے نیوٹرل اور جانور کے بیانیے کو بھی پی گئی اور 9 مئی کے واقعات کے بعد بھی عمران خان کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوا جو اس سے 98 فیصد کم پر ذوالفقار علی بھٹو‘ الطاف حسین اور فاطمہ جناح کے ساتھ ہوا ‘ ہم اگر حالات اور وقت کا ٹھنڈے دماغ سے تجزیہ کریں تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے فوج کے دل میں آج بھی عمران خان کے لیے محبت موجود ہے ورنہ دوسری صورت میں ان کے لیے سانس لینا بھی ممکن نہ ہوتا لیکن عمران خان ہر روز اس محبت کا دائرہ کم سے کم کرتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ کسی کے لیے بھی گنجائش نہیں چھوڑ رہے‘ آپ خود فیصلہ کیجیے آپ جب طاقتور لوگوں اور سسٹم کے لیے تھریٹ بن جائیں گے تو پھر آپ کے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ آج اگر عمران خان اور ان کی پارٹی دونوں موجود ہیں تو اس کی وجہ فوج ہے‘ یہ پارٹی اور عمران خان کو ختم نہیں کرنا چاہتی ‘ ورنہ مدت پہلے یہ پیک ہو چکے ہوتے مگر یہ بھی حقیقت ہے عمران خان بڑی تیزی سے یہ گنجائش ختم کرتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ دن بہ دن بھٹو بنتے جا رہے ہیں لہٰذا مجھے خطرہ ہے وہ وقت دور نہیں جب اس بوجھ سے مکمل چھٹکارے کا فیصلہ کر لیا جائے گا اور یہ ملک کے لیے بہت برا ہو گا‘ سیاسی پارٹیاں بڑی مشکل سے بنتی ہیں‘ ان سے لوگوں کے جذبات وابستہ ہوتے ہیں لہٰذا انہیں بچنا چاہیے‘ عمران خان داد دیں اسٹیبلشمنٹ کے صبر اورحوصلے کی جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا ’’نو مور پرائم منسٹر‘‘ چناں چہ 1979ء میں بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد کسی وزیراعظم کو سزائے موت نہیں ہوئی‘ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو ملک سے جانے کی اجازت تک دے دی گئی اور یہ بار بار اقتدار میں واپس بھی آتے رہے‘ کاش عمران خان اس سے سبق سیکھ لیتے لیکن آپ جب کسی کی بھی نہیں سنیں گے‘ آپ جب شاہ محمود قریشی کے مشورے کو بھی غداری اور بزدلی قرار دیں گے تو پھر کیا نتیجہ نکلے گا؟۔

میں اب مذاکرات اور کے پی میں سہیل آفریدی کی حکومت کے خاتمے کی طرف آتا ہوں‘ اسٹیبلشمنٹ نے 2024ء کے الیکشنز میں پی ٹی آئی کو صوبے میں تیسری بار حکومت بنانے کا موقع دیا‘ مولانا فضل الرحمن اسی لیے اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہیں‘ یہ چاہتے تھے اسٹیبلشمنٹ صوبہ ان کے حوالے کر دے لیکن فیصلہ ہوا تمام پارٹیوں کو اقتدار میں شامل کیا جائے تاکہ پولرائزیشن میں کمی آ سکے اور ملک آگے بڑھ سکے ‘ عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ بنا دیا‘ اسٹیبلشمنٹ نے یہ بھی قبول کر لیا‘ اس کی دو وجوہات تھیں‘ علی امین گنڈا پور کے والد امین اللہ گنڈا پور فوج میں میجر رہے تھے‘ علی امین کا بچپن مختلف چھائونیوں میں گزرا تھا‘ ان کے بچپن کے بے شمار دوست بھی فوج میں تھے‘ ریاست کا خیال تھا ان سے بات ہو سکے گی‘ یہ مسائل کو سمجھیں گے اور ان کے ذریعے مل جل کر آگے بڑھا جا سکے گا‘ یہ فارمولا کارگر بھی رہا‘ علی امین گنڈا پور کی درخواست پر عمران خان کو جیل میں بے شمار رعایتیں دی گئیں لیکن جب عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو احتجاج پر لگا دیاتو وہاں سے معاملات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے‘ عمران خان اگر ایک سال صبر کر جاتے تو یہ رہا بھی ہو جاتے اور سیاست بھی کر رہے ہوتے لیکن خان صاحب غلطی پر غلطی کرتے چلے گئے یہاں تک کہ انہوںنے ۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…