بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

datetime 23  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے تھے‘ یہ لیٹرین کہلاتے تھے جو لاطینی لفظ لاواٹرینا (Lavatrina)کی بگڑی ہوئی صورت تھی‘ لیٹرین میں ڈیڑھ سے دو فٹ اونچے اینٹوں کے چولہے بنے ہوتے تھے‘ لیٹرین کے باہر پانی کا لوہے کا پرانا اور بدصورت کولر اور سلور (المونیم) کا لوٹا ہوتا تھا‘… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

datetime 20  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام یابی میں ماسٹروں کے ڈنڈوں‘ چھتروں ا ور ’’مرغ بانی‘‘ کا بہت ہاتھ تھا‘ استاد کے ہاتھ میں ڈنڈا انگریز نے پکڑایا تھا‘ اس کے دو مقصد تھے‘ پہلا مقصد بچوں کے دل میں شروع دن سے حکومت یا سرکار کا خوف بٹھانا تھا‘… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

datetime 18  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی میں قیام پاکستان سے پہلے ہندو اور سکھ رہتے تھے‘ یہ بنیادی طور پر چار گلیاں تھیں اور چاروں ہندوئوں اور سکھوں کی ملکیت تھیں‘ ان کے درمیان غلہ منڈی تھی‘ وہ لوگ غلے کے بیوپاری ہوتے تھے‘ وہ ہندوستان چلے گئے تو ان کے… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

datetime 16  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا تھا‘ سائرن بجتے تھے اور پورے شہر میں اندھیرا ہو جاتا تھا‘ حکومت نے تمام گھروں کے شیشے تک کالے کرا دیے تھے‘ کھڑکیوں پر پردے لازم تھے‘ رات کے وقت کھڑکیوں کے سامنے پردے تاننا لازم تھا‘ سائرن کے فوراً بعد شہر کی… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

datetime 13  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو گئی‘ میری عمر اس وقت تین برس تھی‘ ہم گلیانہ روڈ پر رہتے تھے‘ یہ ایک سائیڈ سے چھائونی اور دوسری طرف سے جی ٹی روڈ سے منسلک تھی‘ میں نے زندگی میں پہلی بار ٹینک دیکھے‘ یہ اپنی پٹڑی پر آہستہ آہستہ آگے… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

datetime 11  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘ مرونڈا‘ گگو گھوڑے‘ پینگ اور دھوبن‘ مرونڈاپھولے ہوئے چاولوں میں گڑ ڈال کر بنایا جاتا تھا‘ یہ کیک پیس جیسا ہوتا تھا اور بہت خستہ اور لذیذ تھا‘ اس زمانے کے تمام بچے اور بعض اوقات بزرگ بھی اسے انجوائے کرتے تھے‘ سردیوں میں تلوں… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

datetime 9  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں سے کھاریاں شفٹ ہو گئے‘ یہ اس وقت چھوٹا سا قصبہ تھا‘ ایوب خان کے دور میں امریکا نے کھاریاں میں جدید ترین چھائونی بنائی تھی‘ ہم 1971ء میں کھاریاں شفٹ ہوئے‘ چھائونی کو مکمل ہوئے 15 سال ہو چکے تھے لیکن اس کے… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

datetime 6  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی یادیں اب تک تحت الشعور میں موجود ہیں‘ گندم کی کٹائی کے لیے پورا گائوں اکٹھا ہوتا تھا‘ دوسرے گائوں سے بھی عزیز رشتے دار اور کمی بلائے جاتے تھے‘ اس کو ’’وانگ‘‘ کہا جاتا تھا‘ لوگ مل کر گندم کاٹتے تھے‘ اس کے… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

datetime 4  اگست‬‮  2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے کی ہوتی تھیں‘ لوگ مٹی میں گندم کا بھوسا ملاتے تھے اور پھر اس میں کھڑے ہو کر اسے ننگے پائوں مسلتے (مکس) تھے‘ پنجابی زبان میں اسے ’’کہانی کرنا‘‘ کہتے تھے‘ وہ ایک تکلیف دہ ٹاسک ہوتا تھاجو عموماً سخت گرمیوں میں مون سون سے… Continue 23reading پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

1 2 3 4 5 6 9