1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل میں آمنے سامنے آ گئے‘ برسر اقتدار وزیراعظم سرکاری دورے پر تھے‘
یہ چین سے واپسی پر شاپنگ کے لیے ہانگ کانگ رکے تھے جب کہ سابق وزیراعظم کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے‘ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے دونوں وزراء اعظم کے ساتھ کام کیا تھا اور یہ ایمان داری‘ ایکسپوژر‘ ان تھک محنت‘ فوکس اور کلیرٹی کی وجہ سے سابق وزیراعظم کے بہت بڑے فین تھے‘ ان کا کہنا تھا میری ساری زندگی کی سروس کی لرننگ ایک طرف اور اس عارضی وزیراعظم کے ساتھ گزارے تین ماہ ایک طرف۔ وزیراعظم ہمیشہ بیوروکریٹس سے سیکھتے ہیں لیکن ان سے ہم سب نے سیکھا تھا چناں چہ پرنسپل سیکرٹری فوراً ان کے پاس گئے‘ دونوں کی ملاقات ہوئی‘ پرانے زمانے کی یادیں تازہ ہوئیں اور آخر میں سابق وزیراعظم نے موجودہ وزیراعظم سے چائے کی پیالی پر ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا‘ پرنسپل سیکرٹری نے فوراً ہامی بھر لی‘ اس کا کہنا تھا آپ آج کی شام خالی رکھیں‘ میں آپ کو وقت کی اطلاع کر دوں گا‘ پرنسپل سیکرٹری اس کے بعد بڑے جوش سے موجودہ وزیراعظم کے پاس گئے اور انہیں اطلاع دی قریشی صاحب اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں‘ یہ آپ کے ساتھ چائے کا کپ پینا چاہتے ہیں‘ موجودہ وزیراعظم نے یہ سنا اور حقارت سے ہاتھ ہلا کر کہا ’’چھڈو جی اینوں‘‘ پرنسپل سیکرٹری کو جھٹکا لگا‘ انہیں وزیراعظم سے اس ردعمل کی توقع نہیں تھی لہٰذا انہوں نے عرض کیا ’’سر وہ وزیراعظم رہے ہیں‘ ہمیں اتنی کرٹسی تو دکھانی چاہیے‘‘ برسر اقتدار وزیراعظم کاجواب تھا ’’تو کیا میں اب اسے سر پر بٹھالوں‘ چھوڑ دیں اسے میرے پاس وقت نہیں ہے‘‘ اس کے بعد چائے اور ملاقات دونوں ناممکن ہوگئیں۔
ملاقات کا متمنی وزیراعظم معین قریشی تھا‘ انکار کرنے والے میاں نواز شریف تھے جب کہ پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی تھی‘ مجھے یہ واقعہ 2007ء میں معین قریشی صاحب نے خود سنایا تھا‘ میری واشنگٹن میں ان سے ملاقات ہوئی تھی‘ وہ ان دنوں علیل تھے‘ واشنگٹن میں ان کا بہت بڑا بلکہ مہنگا ترین گھر تھا‘ ان کی بیگم امریکن تھیں‘ میں امریکا گیا‘ ان کی سیکرٹری سے رابطہ کیا اور انہوں نے مجھے اگلے دن بلا لیا‘ میری ان سے ان کی سٹڈی میں ملاقات ہوئی تھی‘ میں نے انہیں بتایا میں لندن میں میاں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں‘ میاں صاحب ان دنوں لندن میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے‘ معین قریشی نے اس کے بعد یہ واقعہ سنایا اور ہنس کر کہا ’’میاں صاحب بندے بڑے ہیں لیکن بعض اوقات حرکت بہت چھوٹی کر جاتے ہیں‘ میں نے واپسی پر سعید مہدی صاحب سے اس واقعے کی تصدیق کی‘ مہدی صاحب بہت شان دار انسان ہیں‘ انہوں نے نہ صرف تصدیق کی بلکہ اس واقعے کی مزید تفصیل بھی سنائی۔
میں آگے بڑھنے سے قبل آپ کو معین الدین قریشی کے بارے میں بھی بتاتا چلوں‘ یہ پیدائشی لاہوری تھے‘ والد انگریز دور میں سول سرونٹ تھے لہٰذا انہوں نے بچپن سے گھر میں دولت‘ اختیار اور عزت دیکھی تھی‘ گورنمنٹ کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی‘ فل برائیٹ سکالر شپ لیا اور قیام پاکستان کے شروع میں اکنامکس میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی ریاست انڈیانا چلے گئے‘ انڈیانا یونیورسٹی سے 1955ء میں پی ایچ ڈی کی اور پاکستان واپس آ کر پلاننگ کمیشن میں نوکری کر لی لیکن یہاں سال بھر بھی نہیں ٹک سکے۔ 1956ء میں امریکا واپس گئے‘ آئی ایم ایف میں نوکری کی اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا‘ آئی ایم ایف میں شان دار کیریئر کے بعد انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ بن گئے اور 1981ء میں ورلڈ بینک کے سینئر وائس پریذیڈنٹ ہو گئے‘ یہ 1987ء تک اس پوزیشن کو انجوائے کرتے رہے‘ پوری دنیا میں ان کا ڈنکا بجتا تھا‘ معین قریشی نے 1991ء میں ورلڈ بینک چھوڑ دیا اور اپنا ہیچ فنڈ بنا لیا‘ 1993ء میں پاکستان شدید سیاسی بحران کا شکار تھا‘ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم میاں نواز شریف میں اختلافات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر چلے گئے تھے‘ جنرل عبدالوحید کاکڑ آرمی چیف تھے‘ فوج نے صورت حال کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن جب ناکام ہو گئی تو اس نے صدر اور وزیراعظم دونوں کو فارغ کر دیا‘ معین قریشی اس وقت عالمی سطح پر بڑا نام تھا چناں چہ صدر غلام اسحاق خان‘ میاں نواز شریف‘ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کے اتفاق رائے سے معین قریشی کو 18 جولائی 1993ء کو نگران وزیراعظم بنا دیا گیا جب کہ صدر غلام اسحاق خان کی جگہ وسیم سجاد قائم مقام صدر بن گئے۔
معین قریشی سٹریٹ فارورڈ‘ ایمان دار اور قوت فیصلہ سے بھرپور انسان تھے‘ یہ آئے اور اعلان کیا میں صرف اور صرف صاف اور شفاف الیکشن کرانے آیا ہوں اور میں تین ماہ میں یہ کام کر کے واپس چلا جائوں گا‘ ان کے پاس تین ماہ تھے لیکن یہ شخص تین مہینوں میں دس سال کا کام کر گیا‘ انہوں نے ٹیکس اور لون ڈیفالٹرز کو پکڑ لیا‘ پاکستان میں پہلی مرتبہ ٹیکس دہندگان کی فہرست جاری ہوئی جس سے پتا چلا 13 کروڑ آبادی کے ملک میں صرف چند لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں‘ معین قریشی نے سٹیٹ بینک کو خود مختاری دے دی‘ بیوروکریسی کا سائز کم کر دیا‘ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پاس منظور نظر لوگوں کو پلاٹ‘ رہائشی فلیٹس اور ٹھیکے دینے کے اختیارات تھے‘ معین قریشی نے یہ ختم کر دیا‘ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو خودمختار بنا دیا اور اسلام آباد میں پہلی نیشنل لائبریری کا افتتاح کر دیا‘ یہ انتہائی ایمان دار شخص تھے‘ ان کا کھانا ہوٹل سے آتا تھا جس کا بل وہ خود ادا کرتے تھے اور وزیراعظم ہائوس کا کچن ان کے زمانے میں بند کر دیا گیا تھا۔
1993ء کے الیکشن میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے‘ معین قریشی کا نام بطور نگران وزیراعظم سرتاج عزیز کے مشورے پر میاں نواز شریف نے پیش کیا تھا‘ میاں صاحب کا خیال تھا معین قریشی اس مہربانی کا بدلہ دیں گے‘ یہ ہونا بھی چاہیے تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ آپ خود سوچیے ایک شخص امریکی شہری ہے‘ وہ 1993ء میں سنگاپور میں بیٹھا ہوا ہے‘ اسے ایک فون آتا ہے اور وہ وزیراعظم بن جاتا ہے‘ پاکستان کا پاسپورٹ بھی اسے جہاز میں دیا جاتا ہے اور شیروانی بھی سابق وزیراعظم کی طرف سے پیش کی جاتی ہے تو اسے ممنون ہونا چاہیے تھا لیکن وہ وزیراعظم بننے کے بعد نیوٹرل ہو جاتا ہے اور خود کو صرف اور صرف صاف اور شفاف الیکشن تک محدود کر لیتا ہے اور تین ماہ میں وزراء اعلیٰ اور وزیراعظم کے اختیارات بھی کم کر دیتا ہے‘ سٹیٹ بینک کو خودمختار بھی بنا دیتا ہے اور وہ ٹیکس ڈائریکٹری بھی جاری کر دیتا ہے جس سے سیاست دانوں کے ٹیکس کی معلومات عام ہو جاتی ہیں تو برا تو لگے گا چناں چہ میاں نواز شریف کو برا لگا‘ الیکشن کے نتائج بھی میاں صاحب کی توقع کے برعکس نکلے‘ پیپلز پارٹی نے 89 اور ن لیگ نے 73 سیٹیں حاصل کیں‘ بے نظیر بھٹو نے بعدازاں آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر حکومت بنا لی اور پنجاب بھی ن لیگ سے چھین لیا‘ نواز شریف معین قریشی کو اس کا ذمہ دار سمجھتے تھے جب کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں تھے‘ وہ واقعی نیوٹرل رہے تھے اور یہ اس ملک میں بہت بڑا جرم ہے‘ بہرحال الیکشن ہوئے‘ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں اور معین قریشی اگلے ہی دن واشنگٹن واپس چلے گئے اور پھر دوبارہ کبھی واپس لوٹ کر نہیں آئے‘ 2016ء میں ان کا انتقال ہوگیا‘ واشنگٹن میں ان کا بڑا اور قیمتی گھر 8 ملین ڈالر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ساتھی اور دوست نے خرید لیا اور یوں یہ کہانی ختم ہوگئی۔
سعید مہدی تین ماہ ان کے پرنسپل سیکرٹری رہے تھے‘ میں آج کل ان کی کتاب دی آئی وٹنس (The Eye Witness) پڑھ رہا ہوں‘ سعید مہدی صاحب نے کتاب میں دو وزراء اعظم کو اپنی زندگی کی شان دار ترین شخصیات قرار دیا‘ محمد خان جونیجو اور معین قریشی‘ ان کے بقول یہ لوگ دبنگ بھی تھے‘ ایمان دار بھی اور اپنے کام سے مخلص بھی‘ معین قریشی وزیراعظم بننے تک مہدی صاحب کو نہیں جانتے تھے‘ سعید مہدی بھی معین قریشی سے واقف نہیں تھے لیکن چند دنوں کی رفاقت کے بعد یہ ایک دوسرے کے فین ہو گئے‘ پیپلز پارٹی کی قیادت کو وزیراعظم ہائوس میں سعید مہدی کی موجودگی پر اعتراض تھا‘سعید مہدی نے اپنی کتاب میں لکھا‘ فاروق احمد لغاری نے معین قریشی کو فون کر کے سعید مہدی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا لیکن قریشی صاحب نے صاف انکار کر دیا‘ ان کا کہنا تھا وزیراعظم میں ہوں‘ میرا پرنسپل سیکرٹری کون ہوگا یہ فیصلہ میں نے کرنا ہے‘ فاروق احمد لغاری نے اصرار کیا تو معین قریشی نے دھمکی دی آپ نے اگر مجھے مجبور کیا تو میں اگلی فلائیٹ پر واپس چلا جائوں گا‘ یہ سن کر لغاری خاموش ہوگئے اور اس کے بعد سعید مہدی ان کے آخری دن تک ان کے پرنسپل سیکرٹری رہے لیکن آپ سیاست کی تنگ دلی ملاحظہ کیجیے‘ 1999ء میں میاں نواز شریف اس معین قریشی کے ساتھ چائے کا کپ پینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے‘ میرا خیال تھا سعید مہدی اپنی کتاب میں اس واقعے کا تذکرہ کریں گے لیکن مجھے پوری کتاب میں یہ واقعہ نہیں ملا‘ شاید کوئی مصلحت سعید مہدی صاحب کے آڑے آ گئی ہو تاہم میں سمجھتا ہوں اس واقعے کا ذکر ضروری تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ بعض اوقات ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات بڑی بڑی شخصیات کااصل رنگ قوم کے سامنے لے آتے ہیں‘ میں ویسے آج تک حیران ہوں میاں نواز شریف اگر اس دن معین قریشی سے مل لیتے اور چائے کا ایک کپ پی لیتے تو ان کا کیا جاتا؟ لیکن اقتدار کا خمار اور طاقت ور ہونے کا زعم انسان کو اکثر اوقات انسان نہیں رہنے دیتا اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جس کی پکڑ میں انسان آتے ہیں اور عبرت کی نشانی بنتے چلے جاتے ہیں شاید آج میاں نواز شریف بھی مری میں بیٹھ کر ایسے واقعات یاد کرتے ہوں اور پچھتاتے ہوں۔




















































