پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

قم میں آدھا دن

datetime 27  جنوری‬‮  2026 |

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے اور اسے اہل تشیع میں خصوصی اہمیت حاصل ہے‘ قم میں حضرت امام رضاؒ کی ہمشیرہ سیدہ معصومہؒ کا روضہ اور اہل تشیع کے قدیم مدارس ہیں‘ شہر کی فضا میں خاص قسم کی پاکیزگی اور روحانیت ہے‘ میں قم دوسری مرتبہ گیا‘ پہلی مرتبہ 2024ء میں ہم قم شہر میں داخلے سے پہلے ایک ریسٹ ایریا میں رکے تھے‘ اس کا نام ’’مہرو ماہ‘‘ تھا‘ وہ ایک جدید اور خوبصورت عمارت تھی جس میں شاپنگ سنٹرز ‘ ریستوران اور کافی شاپس تھیں‘ اس قسم کے ریسٹ ایریاز پورے ایران میں ہیں‘ میرا نیشنل ہائی وے کو مشورہ ہے آپ ایران جائیں اور ریسٹ ایریاز کا ڈیزائن اور سہولتوں کا معیار ان سے لیں‘ہم اس سے اپنے ریسٹ ایریاز کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

سیاح پورا دن مہروماہ میں گزار سکتے ہیں‘ یہ اتنا خوب صورت اور معیاری ہے‘ ہم بہرحال قم میں سیدہ معصومہؒ کے روضہ پر پہنچ گئے‘ روضے میں تقدس اور روحانیت تھی‘ بی بی کی قبر کو سبز پردوں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے تاہم زائرین جالیاں پکڑ کر دعا کر سکتے ہیں اور اس وقت سینکڑوں لوگ دعائیں کر رہے تھے‘ روضے کے دائیں بائیں ماضی کے مختلف آیت اللہ کی قبریں تھیں‘ قم کے مدارس روضے کے ساتھ ہیں‘ طالب علم ظہر کے وقت کلاسز کے بعد روضے پر آ جاتے ہیں اور پھر نماز کے بعد برآمدوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے اختلاف اور بحث کرتے ہیں‘ یہ چھوٹا سا مناظرہ ہوتا ہے لیکن اس میں ایک دوسرے کے جذبات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے‘ ہم نے دیکھا برآمدوں میں نوجوان طالب علم ٹولیوں میں ایک دوسرے سے مناظرہ کر رہے تھے لیکن ان کی آوازیں مدہم اور لہجے مہذب تھے‘ میں پچھلے و زٹ پر روضہ شریف کے بعد آیت اللہ مرعشی نجفی کی لائبریری دیکھنے بھی گیا تھا‘ یہ قم کی سب سے بڑی اور قدیم لائبریری ہے جس میں اڑھائی لاکھ کتابیں اور 25 ہزار قلمی نسخے ہیں‘ مرعشی نجفی اہل تشیع کے واحد آیت اللہ ہیں جنہوں نے حج نہیں کیا تھا‘ وہ کتابوں کے عاشق تھے‘ اپنی ساری کمائی کتابوں پر خرچ کر دیتے تھے چناں چہ ہر سال حج کے وقت ان کے پاس زاد راہ نہیں بچتا تھا‘ ان کا دعویٰ تھا علم حج سے بالاتر ہے‘ علم حاصل کریں‘ علم کی کوئی قضا نہیں ہوتی لہٰذا یہ زندگی میں حج نہیں کر سکے لیکن آپ ان کے مریدوں کا کمال دیکھیے‘ قم کے لوگ زندگی میں دو حج کرتے ہیں‘ ایک حج اپنے لیے اور دوسرا مرعشی نجفی کے لیے چناں چہ ہر سال ان کے نام پر دو لاکھ حج کیے جاتے ہیں‘ مرعشی نجفی اپنی لائبریری میں فوت ہوئے تھے‘ ان کا مزار بھی لائبریری میں بنایا گیا تھا‘ ہم نے لائبریری کی ڈیوڑھی میں ان کا مزار دیکھا اور اس پر فاتحہ پڑھی تاہم ہمیں لائبریری دیکھنے کی اجازت نہیں ملی‘ انتظامیہ کا کہنا تھا لائبریری میں داخلے کے لیے ممبر شپ ضروری ہے اور ہم ظاہر ہے ممبر نہیں تھے لہٰذا ہم لائبریری میں داخل نہیں ہو سکے تاہم عمارت باہر سے وسیع اور خوب صورت تھی۔ہم بدقسمتی سے دوسری باروقت کی قلت کی وجہ سے ان کی لائبریری نہیں جا سکے۔

ہم نے قم کی گلیوں میں سیاہ گائون میں سینکڑوں طالب علم اور اساتذہ دیکھے‘ سیاہ عمامہ اور سیاہ گائون میں ملبوس لوگ سید ہوتے ہیں‘ سید سبزعمامہ بھی پہن سکتے ہیں جب کہ سفید عمامہ اور سفید گائون میں ملبوس نوجوان طالب علم ہوتے ہیں‘ نجیب الطرفین (ماں باپ اور دونوں سائیڈز) سیدوں کو طبا طبائی کہا جاتا ہے‘ یہ لوگ سیاہ گائون کے ساتھ سیاہ دستار باندھتے ہیں چناں چہ جس شخص کے نام کے ساتھ طبا طبائی لکھا ہواور اس نے سیاہ گائون کے ساتھ سیاہ پگڑی باندھ رکھی ہو وہ والد اور والدہ دونوں سائیڈ سے سید زادہ ہو گا۔
ایران میں روایت ہے یہ لوگ نوروز کے پہلے دن بی بی معصومہؒ کے روضے پر حاضری دیتے ہیں لہٰذا نوروز کے دنوں میں قم میں بے انتہا رش ہو جاتا ہے‘ یہ لوگ ہر جمعرات کی شام پورے ایران میں مزارات پر حاضری دیتے ہیں‘ اس دن بھی قم میں بہت اژدھام ہوتا ہے‘ بی بی معصومہ ؒ حضرت امام رضاؒ کی سگی بہن تھیں‘ دونوں بہن بھائی میں بہت محبت تھی‘ یہ مدینہ منورہ میں رہائش پذیر تھے‘ خلیفہ مامون الرشید نے جب انہیں ایران (خراسان) طلب کیا تو امام صاحب نے پوچھا ’’کیا یہ درخواست ہے یا شاہی حکم؟‘‘ آپ کو بتایا گیا ’’یہ شاہی حکم ہے‘ آپ کو اسے ماننا ہی پڑے گا‘‘ یہ سن کر آپ زنان خانہ میں گئے‘ بہن سے ملے اور فرمایا ’’آپ مجھے آخری بار دیکھ لو شاید آج کے بعد ہماری ملاقات نہ ہو سکے‘‘ بہن اور بھائی اس کے بعد دیر تک ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے رہے۔

بہرحال رجب 200ہجری میں حضرت امام رضاؒ مدینہ منورہ سے رخصت ہو کر خراسان آ گئے‘ بہن سے بھائی کی جدائی برداشت نہ ہو سکی لہٰذا یہ 201ء ہجری میں بھائی کی تلاش میں مدینہ منورہ سے نکل کھڑی ہوئیں‘ آپ رسول اللہ ﷺ ‘ بی بی فاطمہ ؓ اور حضرت علیؓ کے نسب سے تھیں چناں چہ راستے میں لوگ شامل ہوتے رہے اور یوں بڑا قافلہ بن گیا‘ بی بی 23ربیع الاول 201 ہجری کو قم کے قریب پہنچیں تو شدید بیمار ہو گئیں‘ بعض روایات کے مطابق آپ کو بھی حضرت امام رضاؒ کی طرح زہر دیا گیا تھا‘ علالت کی وجہ سے آپؒ کو قم میں رکنا پڑ گیا‘ آپؒ 23 ربیع الاول کو قم پہنچی تھیں‘ پورا قم گائوں ہاتھوں میں گلاب لے کر راستے کی دونوں سائیڈز پر کھڑا ہو گیا تھا‘ آپ کا استقبال اس طرح کیا گیا تھا‘ آپ نے 17دن قم میں قیام کیا‘ گائوں کے لوگوں نے آپ کا بے انتہا خیال رکھا لیکن آپ اس کے باوجود جاں بر نہ ہو سکیں اور شدید بخار کی وجہ سے10یا12 ربیع الثانی201ء ہجری کو انتقال فرما گئیں‘ آپ کو وصیت کے مطابق گائوں میں دفن کر دیا گیا‘ آپ کی برکت سے یہ شہر پوری دنیا میں مشہور ہو گیا‘ قم کے لوگ آج بھی ہر سال 23 ربیع الاول کو ہاتھوں میں گلاب لے کر سڑک کے کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں اور 12سو سال پرانی روایت دہراتے ہیں جب ان کے آبائواجداد نے گلابوں کے ساتھ بی بی کا استقبال کیا تھا۔ ہمیں وہاں ایک پاکستانی طالب علم شوکت ملا‘ یہ سکھر سے تعلق رکھتا تھا‘ تعلیم کے لیے قم آیا تھا‘ اسے 15 سال یہاں ہو چکے تھے‘ اس نے بتایا قم میں پی ایچ ڈی کے لیے کم از کم 15 سال تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے‘

شہر میں درجن بھر قدیم مدارس ہیں جن میں جامعۃ الازہرہ (خواتین) اور المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی (مردوں) زیادہ اہم ہے‘ پاکستانی نوجوان بھی تعلیم کے لیے قم آتے ہیں‘ شوکت صاحب نے ہمیں روضہ مبارک کا وزٹ بھی کرایا‘ بی بی معصومہؒ کے روضہ مبارک پر 193 کلوسونا لگایا گیا ہے‘ یہ سورج کی روشنی کے ساتھ چمکتا ہے اور اس سے آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں‘ روضہ مبارک کے دروازے کے سامنے شاہ نشین ہے‘ اس کی چھت پر 19 کلو سونا لگایا گیا اور وہاں پرانے زمانے میں بادشاہ اور ان کے خاندان زیارت کے لیے آتے تھے‘ ہمیں شوکت صاحب اپنے آفس میں بھی لے کر گئے‘ وہ بھی ساڑھے تین سو سال پرانا تھا اور اس کی چھت کی پچی کاری دیکھنے لائق تھی‘ روضہ کے کمپائونڈ میں داخلے کے لیے خواتین اور مردوں کے دروازے مختلف تھے‘ خواتین عبایا کے بغیر اندر داخل نہیں ہو سکتیں‘ یہ گیٹ پر دستیاب ہوتے ہیں‘ خواتین پہنتی ہیں‘ زیارت اور عبادت کرتی ہیں اور عبایا واپس کر کے روضے سے باہر نکل جاتی ہیں‘ تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر کوئی پابندی نہیں‘ گیٹ کے قریب مہمانوں کو قہوہ پیش کیا جاتا ہے‘ ہم نے تبرکاً قہوہ پیا‘ دعا کی اور کاشان کی طرف روانہ ہو گئے‘ وہ کاشان جس کے گلاب پوری دنیا میں مشہور ہیں۔

نوٹ:آپ قم اور ایران کے دیگر تاریخی مقامات کی مکمل ویڈیوز اس لنک پر جا کر دیکھ سکتے ہیں۔https://youtube.com/playlist?list=PLYlIxmOramTt5rSoBu-fubfGTThh-7xgW&si=FwYf1ZXQv9Et-mYV

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…