بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

ہائوس آف شریف

datetime 26  فروری‬‮  2026 |
جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنوایا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا‘ بھٹو حکومت کی رخصتی ’’آپریشن فیئر پلے‘‘ کے نام سے آئی ایس آئی کا پلان تھا اور جنرل جیلانی اس کے آرکی ٹیکٹ تھے‘ میں اس آپریشن اور جنرل ضیاء الحق کے آرمی چیف بننے کی تفصیل آگے چل کر بیان کروں گا‘ ہم سردست بریگیڈیئر قیوم اور میاں نواز شریف کی سیاست میں انٹری تک محدود رہتے ہیں۔ جنرل جیلانی 1980ء میں پنجاب کے گورنر بنے‘ ان کے ساتھ ہی بریگیڈیئر قیوم نے گورنر ہائوس میں ڈیرے ڈال لیے‘ لاہور میں ان کا ذاتی گھر تھا لیکن وہ رہتے گورنر ہائوس میں تھے‘ گرمیوں میں ایبٹ آباد چلے جاتے تھے اور سردیاں گورنر ہائوس لاہور میں گزارتے تھے‘ وہ بہت زیرک‘ معاملہ فہم اور گہرے انسان تھے‘‘ میاں شریف کے ساتھ ان کا کشمیری کنکشن تھا‘ مارشل لاء کے بعد بریگیڈیئر قیوم نے پنجاب کے پہلے گورنر لیفٹیننٹ جنرل محمد اقبال سے سفارش کر کے شریف فیملی کو اتفاق فائونڈری واپس دلوائی تھی‘ شریف فیملی جرمنی سے مشینری امپورٹ کرتی تھی‘ لاہور میں اس زمانے میں جرمنی کا قونصل خانہ ہوتا تھا‘ جرمن قونصلر جنرل میاں شریف کا دوست تھا‘ وہ ان کی صلاحیت اور بزنس اپروچ سے متاثر تھا لہٰذا اس نے انہیں مشورہ دیا آپ نے اگر مستقبل میں اپنا کاروبار بچانا ہے تو پھر آپ اپنے کسی بیٹے کو سیاست میں داخل کر دیں‘ میاں شریف نے اس کے مشورے پر نواز شریف کو ائیرمارشل اصغر خان کی پارٹی تحریک استقلال میں شامل کر دیا‘ جنرل غلام جیلانی گورنر بنے اور بریگیڈیئر قیوم ان کے اختیارات استعمال کرنے لگے تو میاں شریف نے ان سے نواز شریف کے لیے درخواست کی‘ بریگیڈیئر قیوم نے جنرل جیلانی سے کہا اور جنرل جیلانی نے ڈی سی لاہور سعید مہدی کو نواز شریف کو گورنر ہائوس لانے کا حکم دے دیا اور یہ انہیں لارنس گارڈن سے کٹ میں گورنر ہائوس لے گئے اور جنرل جیلانی نے واک کرتے کرتے انہیں تین پورٹ فولیوز دے دیے‘ آپ جنرل جیلانی کی شہنشاہیت اور نواز شریف کا مقدر دیکھیے‘ گورنر نے اپنے پرانے دوست کی سفارش پر ایک ایسے عام سے نوجوان جسے یہ جانتے تک نہیں تھے کو وزیر خزانہ بنا دیا اور پھر اس شرط پر کہ یہ ڈی سی کو ون نمبر کی پلیٹ دے دے گا ایکسائز کاپورٹ فولیو بھی دے دیا
اور ساتھ ہی کیوں کہ اس نے کرکٹ کی کٹ پہن رکھی ہے اسے سپورٹس بورڈ کی چیئرمین شپ بھی دے دی‘ کیا چھپر پھٹنا اسے نہیں کہتے؟ میاں نواز شریف نے اس چھوٹی سی اپارچیونٹی کو بہت بڑے موقع میں تبدیل کر دیا اور اپنے خاندان کو ہائوس آف شریف بنا دیا‘ یہ ان کا نصیب اور کمال تھا‘پاکستان میں ان سے پہلے سیاست میں درجنوں بڑے اور بااثر خاندان تھے‘ میاں صاحب ان سب کو روند اور توڑ کر آگے نکل گئے‘ کیا یہ کمال نہیں؟ بہرحال بریگیڈیئر قیوم ان کے محسن تھے‘ میاں صاحب نے بعدازاں ان کا بہت خیال رکھا‘ انہیں دو بار سینیٹر بنایا اور ان کے ذاتی مسائل میں ان کا بہت خیال رکھا‘ بریگیڈیئر قیوم کے دو برادر نسبتی (سالے) بہت مشہور ہوئے‘ اعجاز رحیم مشہور بیوروکریٹ تھے‘ یہ کے پی میں چیف سیکرٹری اور وفاق میں کیبنٹ سیکرٹری رہے جب کہ دوسرے برادر نسبتی ڈاکٹر باسط تھے‘ یہ نامور وکیل تھے‘ افتخار محمد چودھری کے زمانے میں بہت مشہور ہوئے تھے‘ بریگیڈیئر قیوم آخری مرتبہ 1998ء میں وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سری لنکا کے دورے پر گئے ‘ وہ اس وقت علیل تھے‘ سری لنکا کی ہوا نے انہیں مزید بیمار کر دیا‘ وہ واپس آئے‘ سی ایم ایچ راولپنڈی میں داخل ہوئے اور پھر جاںبر نہ ہو سکے اور یوں تاریخ کا ایک باب ختم ہوگیا۔ میں اب 1994ء کی اس دوپہر کی طرف واپس آتا ہوں جب میری امیرگلستان جنجوعہ کے ساتھ جنرل جیلانی اور بریگیڈیئر قیوم کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی‘ یہ تینوں ایک دوسرے کو اس وقت کے سیاسی بحران کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے‘ جنرل جیلانی کا کہنا تھا یہ۔۔۔۔ مجھے قیوم نے دیا تھا اور بریگیڈیئر قیوم کا جواب تھا میں نے صرف سفارش کی تھی‘ یہ نہیں کہا تھا تم ریوڑیوں کی طرح وزارتیں اس کی جھولی میں ڈال دو اور میں یہ دیکھ اور سن کر حیران ہو رہا تھا کہ ملک کے مقدر کے فیصلے کس طرح ہوتے ہیں‘ مجھے مدت بعد ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے عمران خان کی لانچنگ کی داستان سننے کا اتفاق ہوا‘ جنرل پاشا کا کہنا تھا میں نے ایک دن جنرل کیانی (آرمی چیف) سے کہا‘ ہم نے ابھی تک عمران خان کو ٹرائی نہیں کیا‘ میرا خیال ہے ہمیں اسے بھی چیک کرنا چاہیے‘ یہ جنرل کیانی کی اجازت سے عمران خان سے زمان پارک کے گھر میں ملے اور اس کے بعد خان صاحب کی لانچنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ ادارے کا فیصلہ تھا لہٰذا جنرل کیانی کے بعد جنرل راحیل شریف اور پھر جنرل باجوہ اس پر عملدرآمد کرتے رہے یہاں تک کہ عمران خان وزیراعظم بن گئے اور اس کے بعد انہوں نے ملک اور فوج کے ساتھ جو کچھ کیا وہ اب تاریخ ہے‘ میں نے ایک دن جنرل باجوہ سے عرض کیا ’’سر عمران خان ایک ایسا گرنیڈ ثابت ہوا جو فوج کے ہاتھوں میں پھٹ گیا‘‘ جنرل باجوہ یہ سن کر دیر تک ہنستے رہے۔ہمیں یہ ماننا ہو گا محمد خان جونیجو ہوں‘ عمران خان ہوں‘ میاں نواز شریف ہوں یا آصف علی زرداری ہوں ان سب کا یہ المیہ ہے یہ حکمران بننے کے بعد بھول جاتے ہیں ہم یہاں تک کیسے پہنچے تھے؟ یہ خود کو حقیقی لیڈر سمجھنے لگتے ہیں چناں چہ فوج کو انہیں بار بار یہ بتانا پڑتا ہے آپ اہم نہیں ہیں ہم اہم ہیں‘ آپ مقبولیت اور مینڈیٹ کے جس گھوڑے پر بیٹھے ہیںیہ ہماری مہربانی ہے‘ ہم جس دن اپنا گھوڑا واپس لے لیں گے آپ اس دن دربدر ہو جائیں گے‘ یہ اگر یہ حقیقت مان جائیں تو ٹھیک ورنہ یہ ذوالفقار علی بھٹو‘ نواز شریف اور عمران خان کی طرح مقبولیت اور مینڈیٹ کے باوجود سیاسی المیہ بن جاتے ہیں‘ بھٹو فیملی اور ہائوس آف شریف طویل خواریوں کے بعد مقبولیت کے خمار سے باہر آ گئے ہیں‘ عمران خان بچے ہیں‘ یہ اب اس عمل سے گزر رہے ہیں‘ میرا خیال ہے یہ بھی 2026ء میں راہ راست پر آ جائیں گے‘انہیں بھی اپنی اوقات سمجھ آ جائے گی۔ میں 1994ء کی طرف واپس آتا ہوں‘ مجھے اس دن پتا چلا جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنوانے میں جنرل جیلانی نے اہم کردار ادا کیا تھا‘ یہ کیریئر کے شروع میں اہم ترین پوزیشنوں پر رہے تھے‘ یہ گورنر جنرل اور ملک کے پہلے صدر سکندر مرزا کے اے ڈی سی رہے تھے‘ ان کے سامنے جنرل ایوب خان کی ایکسٹینشن ہوئی تھی‘ جنرل ایوب خان کے مارشل لاء میں بھی ان کا اہم کردار تھا‘ یہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اے کے نیازی کے چیف آف سٹاف رہے تھے‘ جنرل یحییٰ خان نے انہیں آئی ایس آئی کا چیف بنایا تھا‘ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ذواالفقار علی بھٹو کو صدر بنانے میں بھی ان کا کردار تھا‘ یہ بھٹو صاحب کے بہت قریب تھے‘ یہ اس وجہ سے بھٹو دور میں ڈی جی آئی ایس آئی رہے‘ جنرل ٹکا خان اپنے بعد جنرل محمد اکبر کو آرمی چیف بنوانا چاہتے تھے‘ جنرل جیلانی جنرل اکبر کو پسند نہیں کرتے تھے‘ یہ بھٹو صاحب کے مزاج سے واقف تھے لہٰذا انہوں نے وزیراعظم کو جنرل اکبر کے بارے میں غلط رپورٹنگ شروع کر دی‘ وہ اچھی طرح جانتے تھے بھٹو صاحب کو کس قسم کا آرمی چیف چاہیے‘ جنرل ضیاء کے بڈی تھے‘ انہوں نے 1975ء میں بھٹو صاحب کی ملتان کی وزٹ ڈیزائن کی اور جنرل ضیاء کو وزیراعظم کو متاثر کرنے کا طریقہ بتایا‘ جنرل ضیاء الحق اس زمانے میں کور کمانڈر ملتان تھے‘ ذوالفقار علی بھٹو نواب صادق کی انیکسی میں مقیم تھے‘ نواب صاحب نے یہ انیکسی بھٹو صاحب کے لیے خصوصی طور پر بنوائی تھی اور یہ وائیٹ ہائوس کہلاتی تھی‘ بھٹو صاحب جب بھی اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھتے تھے تو انہیں جنرل ضیاء الحق نظر آتے تھے‘ انہوں نے انہیں بلا کر پوچھا ’’جنرل آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟‘‘ جنرل ضیاء الحق کا جواب تھا سر آپ عالم اسلام کا سرمایہ ہیں‘ آپ کو کچھ ہو گیا تو پورا عالم اسلام ڈوب جائے گا‘ میں آپ کی حفاظت کے لیے یہاں ذاتی طور پر موجود ہوں‘ بھٹو صاحب نے انہیں اس شام گفتگو کے لیے بلا لیا‘ وزیراعظم اس کے بعد جلسے کے لیے چلے گئے اور وہاں لیٹ ہو گئے‘وہ رات گئے واپس آئے تو جنرل ضیاء کو ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیکھا اور حیرت سے پوچھا‘ جنرل آپ ابھی تک یہاں بیٹھے ہیں‘ جنرل ضیاء الحق کے جواب نے بھٹو صاحب کی انا کو آخری سیڑھی تک پہنچا دیا‘ ان کا کہنا تھا ’’سر آپ نے مجھے آنے کا حکم دیا تھا‘ جانے کا نہیں‘‘ اور بھٹو صاحب نے اسی وقت انہیں آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ پورا کھیل سٹیج تھا اور اس کے ڈائریکٹر دو لوگ تھے‘ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جیلانی اور وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری میجر جنرل امتیاز علی‘ جنرل جیلانی‘ جنرل امتیاز اور جنرل ضیاء تینوں ذوالفقار علی بھٹو کی نفسیات کے ساتھ کھیلتے رہے ‘ جنرل جیلانی نے اس کا اعتراف 1994ء میں اس وعدے پر میرے سامنے کیاکہ میں ان تینوں کی حیات میں کسی جگہ یہ بیان کروں گا اور نہ لکھوں گا‘ میں نے ان کی زندگی میں یہ وعدہ نبھایا‘ یہ تینوں باری باری انتقال کر گئے اور میں یہ حقائق اپنی پیشہ وارانہ مصروفیت میں پھنس کر بھول گیا‘ اب ذرا سی فرصت ملی تو پرانی ملاقاتیں اور حقائق یاد آ گئے اور میں نے تاریخ میں اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ میری جنرل امتیاز علی سے بھی ملاقات ہوئی تھی‘ یہ ہمارے علاقے کھاریاں کے رہنے والے تھے‘ آخر میں انہیں سورج سے الرجی ہو گئی تھی‘ وہ اندھیرے میں رہتے تھے‘ میرے سسر کرنل ظفر اقبال کے دوست تھے‘ میں ان کے ساتھ عیادت کے لیے ان کے پاس گیا اور جنرل جیلانی کے دعوے کا حوالہ دیا‘ انہوں نے بھی تصدیق کی 1975ء میں ملتان میں جنرل ضیاء الحق کی بھٹو سے ملاقات اور ان کی عاجزی اور غلامی کی اداکاری سٹیج تھی‘ ہم نے مل کر بھٹو کو ٹریپ کیا تھا اور یہ ہماری بہت بڑی غلطی تھی‘ جنرل امتیاز نے انکشاف کیا بھٹو صاحب پھانسی سے قبل بے نظیر بھٹو کو یہ تمام حقائق بتا گئے تھے‘ میرے سامنے 1994ء میں جنرل جیلانی نے یہ انکشاف بھی کیا ذوالفقار علی بھٹو کو فارغ کرنے کا آپریشن فیئر پلے بھی آئی ایس آئی نے بنایا تھا‘ میں اور جنرل فیض علی چشتی (کور کمانڈر راولپنڈی) اس کے آرکی ٹیکٹ تھے‘ ہم سب شروع میں بھٹو صاحب کے فین تھے لیکن وزیراعظم بنتے ہی ان کے اندر کا جاگیردار باہر آ گیا اور انہوں نے ایسی فضا قائم کر دی جس میں ملک ڈوبتا چلا گیا‘ دوسرا ایران اور افغانستان میں تبدیلیاں آ رہی تھیں‘ ان سے نبٹنے کے لیے ملک میں ’’مضبوط‘‘ حکومت کی ضرورت تھی چناں چہ پانچ جولائی 1977ء آ گیا اور ملک میں مارشل لاء لگ گیا تاہم میں بھٹو کی پھانسی کے خلاف تھا‘ میرا خیال تھا ہمیں اسے سعودی عرب یا لیبیا کے حوالے کر دینا چاہیے لیکن جنرل ضیاء الحق بھٹو صاحب سے ڈرتے تھے‘ ان کا خیال تھا یہ اگر ایک بار باہر آ گیا تو یہ ہم سب کو مال روڈ پر پھانسی دے دے گا‘ مجھے جنرل امتیاز نے بتایا ذوالفقار علی بھٹو کو 1976ء میں قبل از وقت الیکشن کا مشورہ بھی جنرل جیلانی نے دیا تھا‘ اس نے انہیں کہا تھا آپ آج مقبولیت کی انتہا پر ہیں‘ آپ فوراً الیکشن کرا دیں آپ ٹو تھرڈ میجارٹی حاصل کرلیں گے‘ بھٹو صاحب اس ٹریپ میں آ گئے اور 1976ء کے الیکشن بھٹو صاحب کے لیے کفن ثابت ہوئے‘ وہ الیکشن بھی ٹریپ تھا اور آپریشن فیئرپلے کا حصہ تھا‘ یہ حقیقت بھی ذوالفقار علی بھٹو نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بتائی تھی اور ساتھ یہ وصیت کی تھی آپ اگر سیاست میں زندہ رہنا چاہتی ہیں توہمیشہ اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں‘ کسی کی بات پر یقین نہ کریں خواہ وہ آپ کے کتنے ہی قریب کیوںنہ ہو ۔ میں نے سعید مہدی کی کتاب ’’آئی وٹنس‘‘پوری پڑھی‘ میرا خیال تھا اس میں میاں نواز شریف کی سیاست میں انٹری اور بریگیڈیئر قیوم اور جنرل جیلانی کے سیاسی کردار کا ذکر ہوگا لیکن یہ بھی کتاب میں موجود نہیں ہیں شاید مہدی صاحب نے انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی جب کہ یہ تمام واقعات بہت اہم تھے‘ نواز شریف کو سیاست میں لانے میں جنرل جیلانی اور بریگیڈیئر قیوم کے ساتھ ساتھ سعید مہدی صاحب کا بھی ہاتھ تھااگر یہ اس دن نواز شریف کو لارنس گارڈن سے اٹھوا کر گورنر ہائوس نہ لاتے اور اگر جنرل جیلانی مغل بادشاہ کی طرح تین‘ تین پورٹ فولیو نواز شریف کی جھولی میں نہ ڈالتے توشاید آج کی تاریخ مختلف ہوتی‘ آج ہائوس آف شریف کا دور دور تک کوئی ذکر نہ ہوتا‘ آپ قدرت کا کمال دیکھیے‘ یہ کس طرح چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے نتائج حاصل کرتی ہے‘ یہ کس طرح ایک شخص بلکہ ایک خاندان کو نوازتی ہے‘ واہ کیا بات ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…