ہفتہ‬‮ ، 09 مئی‬‮‬‮ 2026 

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

datetime 10  مئی‬‮  2026
سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا دیتے تھے‘ کسی نے ان سے پوچھا ’’ہم عموماً دوسروں کو صحت اور کام یابی کی دعا دیتے ہیں لیکن آپ کی دعا صرف گڈ لگ تک پر محدود ہوتی ہے‘ کیا آپ صحت اور کام یابی کو اہم نہیں سمجھتے ؟‘‘ چرچل نے مسکراکر کہا ’’میں بھی کام یابی اور صحت کو بہت اہمیت دیتا تھا‘ میں سمجھتا تھا صحت ہے تو زندگی ہے اور اگر آپ کام یاب نہیں ہیں تو پھر آپ زندہ رہیں یا مر جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پھر میری زندگی میں ٹائی ٹینک آیا اور میرا زاویہ نظر تبدیل ہو گیا‘‘ چرچل کا کہنا تھا ’’ٹائی ٹینک میں اپنے زمانے کے صحت مند اور کام یاب ترین لوگ سوار تھے‘ دنیا کے سب سے بڑے اور مہنگے جہاز کی فرسٹ کلاس میں برطانیہ اور امریکا کے 324کام یاب بزنس مین‘ صنعت کار‘ تاجر اور زمین دار تھے‘وہ لوگ لاکھوں پائونڈز کے مالک اور بڑے بڑے عہدے دار تھے‘ صحت مند بھی تھے لیکن جب جہاز آئس برگ سے ٹکرایاتو وہ کام یاب اور صحت مند لوگ مچھلیوں کی خوراک بن گئے‘ ان کی صحت اور کام یابی انہیں بچا نہیں سکی جب کہ خوش نصیب لوگ ٹکٹ کے باوجود ٹائی ٹینک میں سوار نہیں ہو سکے‘ کسی کے بچے کی ٹانگ ٹوٹ گئی‘ کوئی راستہ بھٹک گیااور کسی کا ٹکٹ چوری ہو گیا حتیٰ کہ ایک مسافر کے کتے نے جہاز کی سیڑھیوں پر پاخانہ کر دیا‘ مالک کو غصہ آ گیا اور وہ کتے کو پورٹ پر چھوڑ کر جہاز میں سوار ہو گیا‘ کتا چیختا رہا لیکن اس کا دل موم نہیں ہوا اور یوں کتا بچ گیا اور مالک ڈوب کر مر گیا چناں چہ میں نے اس سانحے سے سیکھا انسان کو صحت اور کام یابی سے زیادہ خوش نصیبی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کتا مالک سے زیادہ خوش نصیب تھا‘ وہ بچ گیا اور مالک مر گیا لہٰذا جس کو بھی دعا دو خوش نصیبی (گڈ لک) کی دعا دو‘ قسمت کے سامنے صحت اور کام یابی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی‘‘۔سر ونسٹن چرچل نے دریا کو کوزے میں بندکر دیا‘ خوش نصیبی کا واقعی کوئی بدل کوئی توڑ نہیں ہو سکتا‘ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے ایک دن پوچھا ’’یا باری تعالیٰ کیا آپ کو بھی کبھی ہنسی آتی ہے‘ اللہ نے جواب دیا موسیٰ میں دو مواقع پر بہت ہنستا ہوں‘ ایک
جب میں کسی سے کوئی چیز‘ رتبہ یا سہولت چھیننا چاہوں اور پوری دنیا وہ اس کے پاس رکھنا چاہے تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے اور دوسرا جب میں کسی کو کوئی سہولت‘ رتبہ یا چیز دینا چاہوں اوردنیاوہ اس سے چھیننا چاہے تو بھی مجھے بہت ہنسی آتی ہے کیوں کہ چھیننا اور دینا دونوں میری مرضی کے پابند ہوتے ہیں‘یہ فیصلہ میں کرتا ہوں‘ واصف علی واصف صاحب نے کیا خوب فرمایا تھا‘ خوش نصیب وہ ہوتا ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہوتا ہے لیکن میرا خیال ہے اس سے بھی بڑا خوش نصیب وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے نصیب پر بھی خوش ہوتا ہے۔ بنیان المرصوص میں بھی یہی ہوا‘ یہ آپریشن 2019ء میں سٹارٹ ہوا‘ بھارت نے بالاکوٹ پر سرجیکل سٹرائیک کی‘ پاکستان نے اس کا جواب دیا‘ اس جواب کے دوران پتا چل گیا پاکستان کی قیادت آنے والے دنوں کے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتی‘ عمران خان کے بس کی بات نہیں‘ ملک کے چیلنجز اس کے بعد بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ 2022ء میں پاکستان کے سیاسی حالات ابال کا شکار ہو گئے‘ تین لوگ ان حالات کا خصوصی نشانہ تھے‘ میاں شہباز شریف۔ عدالتوں کے ذریعے ان کے خلاف فیصلہ کرایا جا رہا تھا جس کے بعد ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو جانا تھا اور انہوں نے باقی زندگی جیل میں گزارنی تھی‘ جنرل عاصم منیر۔ یہ نئے آرمی چیف کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھے لیکن عمران خان اور جنرل فیض حمید دونوں ان کے انتہائی مخالف تھے‘ جنرل باجوہ بھی انہیں آرمی چیف نہیں بنانا چاہتے تھے‘ ان کا خیال تھا یہ اگر آرمی چیف بنے تو عمران خان کے ساتھ فوج کی لڑائی طویل ہو جائے گی‘ یہ جنرل ساحر شمشاد مرزا کے حق میں تھے‘ عمران خان ہر قیمت پر جنرل عاصم منیر کا راستہ روکنا چاہتے تھے یہاں تک کہ ایوان صدر میں عمران خان کی جنرل باجوہ کے ساتھ دو ملاقاتیں ہوئیں اور یہ جنرل عاصم منیر کے بدلے جنرل باجوہ کو آٹھ ماہ ایکسٹینشن دینے کے لیے بھی تیار ہو گئے‘ عمران خان نے یہ تقرری روکنے کے لیے لانگ مارچ کی کال تک دے دی اور اپنے سوشل میڈیا سکواڈ کو بھی ایکٹو کر دیا‘ جنرل فیض حمید نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا‘ یہ میاں نواز شریف تک بھی پہنچ گئے اور انہیں ’’میاں صاحب آپ حکم کریں آپ کو کیا چاہیے؟‘‘ جیسی آفر تک کر دی‘ جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ میں صرف تین دن بچے تھے‘ یہ اپنا گھر تیار کرا رہے تھے‘ انہیں فون آیا اور دنیا بدل گئی اور ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابر کو بھی نظام کی ساری طاقتیں سروس سے فارغ کرنے میں لگی ہوئی تھیں‘ آخر تک ان کا راستہ روکا جا رہا تھا لیکن جنرل فیض حمید جاتے جاتے ملک پر وہ احسان کر گیا جس کی اس سے کوئی شخص توقع نہیں کر سکتا تھا‘ بہرحال قصہ مختصر اللہ تعالیٰ نے میاں شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابر کے مقدر میں عزت لکھی تھی چناں چہ پورا سسٹم مل کر بھی ان کا راستہ نہ روک سکا‘ یہ تینوں اقتدار میں آئے اور کمال کر دیا۔بھارت کو خوف ناک شکست ہوئی اور اس کے ملبے سے نئے پاکستان نے جنم لے لیا‘ بھارت کی سفارت کاری اور نریندر مودی دونوں پسپا ہو گئے‘ کارنر ہوئے اور آج تک بحال نہیں ہو سکے‘ نریندر مودی سے اس ضمن میں تین غلطیاں ہوئیں‘ ایک ‘یہ پاکستان کے بارے میں غلط اندازہ کر بیٹھا‘ اس کا خیال تھا پاکستان فوجی لحاظ سے کم زور ہے‘ سیاسی اور اقتصادی مسائل کا شکار بھی ہے‘ 1971ء جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں چناں چہ ہمیں حملہ کر کے اسے سری لنکا یا بھوٹان بنا دینا چاہیے جب کہ پاکستان مکمل طور پر اس کے برعکس تھا‘ یہ خاموشی سے جنگ کی تیاری کر رہا تھااور دنیا کو اپنی تیاری کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دی تھی‘ یہ ایک ایسا شیر تھا جو دنیا کو لاغر‘ بوڑھا اور بیمار دکھائی دیتا تھا لیکن یہ اندر سے مضبوط اور خوف ناک تھا‘ مودی کی دوسری غلطی جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے مدد مانگنا تھا‘بھارتی وزیراعظم نے امریکی صدر کو فون کر کے سیز فائر کرانے کی درخواست کی‘ نریندر مودی یہ درخواست کرتے وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی فطرت بھول گیا‘ ڈونلڈ ٹرمپ دوسروں کے راز نہیں رکھتا‘ آپ اگر اس سے ایک بار مدد لے لیں تو یہ پوری دنیا کو بتائے گا‘مودی اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے ترکیہ اور سعودی عرب تک محدود رہتا تو اس کا راز راز رہ جاتا‘ بہرحال غلط وقت پر غلط پتا چل گیا اور اس کا نقصان نریندر مودی آج تک اٹھا رہا ہے اور نریندر مودی کی تیسری غلطی ڈونلڈ ٹرمپ کا احسان نہ ماننا تھا‘ پاکستان نے فوراً سیز فائر کا کریڈٹ ڈونلڈ ٹرمپ کو دے دیا جب کہ نریندر مودی مکر گیا اور یہاں سے اس کا امریکا سے پھڈا شروع ہو گیا‘ بھارت کے خلاف ٹیرف بھی لگا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ہر فورم پر بے عزت بھی کرنا شروع کر دیاجب کہ پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پاکستان بہت زبردست ملک ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اسے ہر طرح سے نواز رکھا ہے بس اس کے چار مسئلے ہیں‘ یہ حل ہو جائیں تو ملک کہیں سے کہیں نکل جائے گا‘ پاکستان میں استحکام نہیں ہے‘ ہم ہر ایک دو سال بعد پورا سسٹم کھول کر بیٹھ جاتے ہیں‘ حکومتیں آتی ہیں لیکن یہ ملک کی خدمت اور نظام بہتر بنانے کی بجائے اپنی نیکر سنبھالتی رہتی ہیں یوں وقت برباد ہو جاتا ہے‘ دوسرا مسئلہ ملک میں پاور کے دو سینٹر ہیں‘ سیاسی حکومت اور عسکری ریاست‘ سیاسی حکومت کے پاس اقتدار ہوتا ہے لیکن اختیار نہیں ہوتاجب کہ عسکری ریاست بے انتہا بااختیار ہوتی ہے مگر اس کے پاس اقتدار نہیں ہوتا لہٰذا یہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں اور یوں وقت اور توانائی ضائع ہو جاتی ہے‘ تیسرا مسئلہ اپنے باس کا تعین ہے‘ آرمی چیف ایکسٹینشن اور اختیارات کے لیے جان بوجھ کر کم زور وزیراعظم لے کر آتا ہے اور وزیراعظم سکھ کا سانس لینے کے لیے کم زور آرمی چیف تلاش کرتا رہتا ہے اور اس کوشش میں ملک کا بیڑا غرق ہوتارہتا ہے اور چوتھا اور بڑا مسئلہ سافٹ سٹیٹ ہے‘ ہم سرحد کے باہر اور اندردونوں جگہوں پر سافٹ ہیں‘پاکستان میں سو لوگوں کے قتل کے بعد بھی ملزم بچ جاتے ہیں‘ سیاسی اور مذہبی جماعتیں بے شک پورا ملک تباہ کر دیں‘ یہ پورا پورا شہر جلا کر راکھ کر دیں لیکن ریاست خاموشی سے تماشا دیکھتی رہتی ہے اور آخر میں انہیں معافی بھی مل جاتی ہے اور یہ اقتدار میں بھی پہنچ جاتے ہیں تاہم یہ رجیم اس لحاظ سے مختلف ہے‘ اس میں پہلی مرتبہ یہ مسئلے حل ہوئے‘ فوج اور سویلین حکومت حقیقتاً ایک صفحے پر آ گئیں‘ سیاسی استحکام بھی آ گیا‘ ایکسٹینشن کا پھڈا بھی ختم ہو گیا اور سٹیٹ بھی ہارڈ ہو گئی‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس خوبی کا اعتراف کرنا ہوگا یہ فیصلہ کرنے کے بعد یوٹرن نہیں لیتے‘ یہ اسے ’’ان ڈو‘‘ کرنے کے چکر میں نہیں پڑتے‘ عمران خان اور پی ٹی آئی کے قائدین جیل گئے تو پھر یہ واپس نہیں آئے‘ اس کے لیے پورا عدالتی سسٹم بدلنا پڑا تو ریاست نے یہ بدلا ‘ اسلام آباد پر ہر دوسرے ہفتے یلغار ہو تی تھی‘ ریاست نے ایک بار ڈنڈا پھیرا اور یہ سلسلہ اس کے بعد بند ہو گیا‘ آپ آج دیکھ لیں مجال ہے کوئی اسلام آباد کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے بھی دیکھتا ہو‘ ایران ہمارا ہمسایہ اور بھائی ہے لیکن 16 جنوری 2024ء کو اس کی طرف سے میزائل داغے گئے‘پاکستان نے اگلے ہی دن جواب دیا اور وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ایران سے صرف تشکر پاکستان کے نعرے آتے ہیں‘ طالبان کو سمجھایا گیا یہ باز نہیں آئے تو ان کا حشر کر دیاگیا‘ ملک میں اس کے بعد دہشت گردی نہیں ہوئی‘ بلوچ علیحدگی پسند روز احتجاج کرتے تھے‘ وہ احتجاج آج کہاں ہے؟ اور بھارت نے مئی 2025ء میں پاکستان پر حملے کی کوشش کی اور اسے ایسا سبق سکھایا گیا جس کے بعد اس نے دوبارہ غلطی نہیں کی‘یہ وہ قدم تھے جن سے پاکستان کی عالمی سطح پر عزت میں اضافہ ہوا‘ ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا میں صرف پاکستان کی عزت کرتا ہے اور ان حالات میں جب برطانوی وزیراعظم‘ فرنچ صدر اور جرمن چانسلر بھی اس کی زبان سے محفوظ نہیں ہیں تو کیا یہ معجزہ نہیں؟۔ ہمیں آج یہ ماننا ہوگا وزیراعظم‘ آرمی چیف اور چیف آف ائیرسٹاف کو یہ عزت اللہ تعالیٰ نے دی‘ یہ ان کا نصیب تھا‘ یہ لوگ واقعی خوش قسمت ہیں اور ان کی خوش قسمتی کا پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے چناں چہ ان کے نصیب پر خوش ہو کر ہم بھی خوش نصیبوں میں شامل ہو سکتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کی خواہش اور منشاء کے خلاف چلنے والوں کو آج تک کچھ ملا اور نہ ملے گا‘ ہمیں قدرت کا یہ راز بہرحال جان لینا چاہیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)


سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…