بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

گریٹ گیم

datetime 16  اپریل‬‮  2026
یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘ قابیل کسان تھا‘ وہ کھیتی باڑی کرتا تھا جب کہ ہابیل چرواہا تھا‘ وہ جانور پالتا تھا‘ ہم آگے بڑھنے سے قبل چرواہے اور کسان کی نفسیات بھی سمجھ لیں‘ کسان کی فطرت میں کینہ ہوتا ہے‘ اس کے مزاج میں حسد اور بخل بھی ہوتا ہے‘ یہ اپنی کھیتی اور فصل کے بارے میں اتنا حساس ہوتا ہے کہ صرف پانی موڑنے یا کھیت میں جانور داخل ہونے پر دوسرے کو قتل تک کر دیتا ہے شاید یہی وجہ ہے کسانوں میں شریکے اور لڑائیاں زیادہ ہوتی ہیں جب کہ چرواہوں کا دل بڑا اور کھلا ہوتا ہے‘ یہ فطرت کی گود میں پلتے ہیں‘ جانوروں کے ہمراہ جنگلوں‘ ویرانوں‘ ندیوں اور نالوں کے ساتھ پھرتے رہتے ہیں لہٰذا ان کے مزاج میں وسعت ہوتی ہے شاید یہی وجہ ہے زیادہ تر انبیاء کرام چرواہے تھے‘ قابیل کسان تھا‘ اس کے مزاج میں شریکا اور حسد تھا جب کہ ہابیل معصوم اور سیدھا سادا شخص تھا‘ مذہبی روایات کے مطابق قابیل (Cain) اور ہابیل (Abel)دونوں ایک ہی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے‘ وہ ابتدائی زمانہ تھا‘ اس دور میں جب دو فریق میں اختلاف ہوتا تھا تووہ اللہ کے حضور قربانی پیش کرتے تھے جس کی قربانی قبول ہو جاتی تھی اس کے حق میں فیصلہ ہو جاتا تھا اور جس کی بھینٹ قبول نہیں ہوتی تھی وہ اپنے دعوے سے پیچھے ہٹ جاتا تھا‘ یہ دونوں بھی اپنی اپنی سوغات لے کر اللہ کے دربار میں پیش ہو گئے‘ ہابیل اپنے گلے کا سب سے اچھا جانور لے کر آیا جب کہ قابیل نے فصل کا چھوٹا سا حصہ پیش کر دیا‘ اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول کرکے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا‘ قابیل کو یہ فیصلہ منظور نہیں تھا‘ وہ حسد کی آگ میں جلنے لگا اور اس نے ایک دن موقع پا کر اپنے بھائی ہابیل کے سر میں پتھر مار کر اسے قتل کر دیا‘ ہابیل گرا اور ہیڈ انجری کی وجہ سے فوت ہوگیا‘مذہبی روایات کے مطابق یہ کرہ ارض پر انسان کے ہاتھوں انسان کا پہلا قتل تھا‘ قابیل بھائی کے قتل کے بعد پچھتانے لگا اور اس کی نعش اٹھا کر پھرنے لگا‘ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اس نعش کا اب کیا کرے؟ روایات کے مطابق کوا آیا‘ اس نے چونچ سے زمین کھودی اور دوسرے کوے کو اس میں دفن کر دیا‘ قابیل کو
میت کو دفنانے کا آئیڈیا مل گیا اور اس نے گڑھا کھود کر ہابیل کو دفن کر دیا۔ دنیا میں قتل کی پہلی کہانی ختم ہو گئی لیکن یہ اپنے پیچھے چند ایسے سوال چھوڑ گئی جن کے جواب آج تک تلاش کیے جا رہے ہیں اور وہ سوال یہ ہیں‘ پہلا سوال کیا انسان ہابیل اور قابیل تک پہنچ کر کھیتی باڑی اور گلہ بانی سیکھ چکا تھا اگر ہاں تو اس کا مطلب ہے اس نے کھیتی باڑی کے آلات بھی ایجاد کر لیے ہوں گے اور یہ مفید اور غیرمفید فصلوں اور جانوروں کے بارے میں بھی ٹھیک ٹھاک جان چکا ہو گا اگر اس کا جواب بھی ہاں ہے تو پھر جنت سے بے دخلی اور دنیا کے پہلے قتل کے درمیان کم از کم ہزار سال کا فاصلہ ہونا چاہیے‘ دوسرا سوال صرف کوے نے انسان کی رہنمائی کیوں کی؟ کیا یہ انسان سے پہلے زمین پر موجود تھا اور یہ جانتا تھا مُردوں کو کیسے دفن کیا جاتا ہے؟ یہ بات درست ہے کوے طویل العمر ہوتے ہیں اور ان کی یادداشت بھی دوسرے جانوروں سے بہتر ہوتی ہے چناں چہ وہ جانتا تھا نعشوں کو کیسے دفن کیا جاتاہے یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کیا انسان سے پہلے بھی زمین پر انسان موجود تھے‘ آج کی ریسرچ بتاتی ہے ہوموسیپئین سے قبل بھی زمین پر انسان نما مخلوقات ہوتی تھیں‘ ہم سے قبل نیندر تھالز (Neanderthals) تھے‘ یہ ہم سے چالیس ہزار سال قبل آئے‘ ان کے سینے چوڑے‘ کھوپڑیاں بڑی اور مسلز مضبوط تھے‘ وہ آگ جلانا‘ بھون کر کھانا اور آلات بنانا جانتے تھے اور مُردوں کو دفن بھی کرتے تھے‘ ترکستان کے شہر شان دار میں ان کی بڑی کالونی دریافت ہوئی‘ اس میں ہزاروں نیندر تھال دفن ہیں‘ اب سوال یہ ہے کیا نیندر تھال سے پہلے بھی زمین پر انسان نما مخلوق تھی؟ اس کا جواب بھی ہاں ہے‘ نیندر تھال سے پہلے زمین پر ہومو ہائیڈل برگینسس (Homo Heidelbergensis) تھے‘ یہ زمین پر دو لاکھ سے سات لاکھ سال قبل موجود تھے‘ یہ بھی سیدھے چلتے تھے‘ آگ جلاتے تھے‘ کھانا پکاتے تھے‘ جانور پالتے تھے اور قبیلوں کی شکل میں رہتے تھے اور ان سے قبل ہومو اینٹسیسر (Homo antecessor) تھے‘ یہ 12لاکھ سال قبل آئے‘ ان سے قبل ہومو اریکٹس (Homo erectus) تھے‘ ان سے قبل ہیبلس (Habilis) تھے اور ان سے قبل ہومو آسٹرالوپی تھکس (Australopithecus) تھے اور یہ انسان نما پہلی مخلوق تھے‘ یہ بن مانسوں سے مختلف تھے‘ ان کا دماغ تھا اور یہ انسانوں کی طرح سیدھے چلتے تھے‘ یہ بھی اپنے مُردے دفن کرتے تھے‘ کھیتی باڑی کرتے تھے‘ مفید اور خطرناک جانوروں کے بارے میں جانتے تھے‘ قبیلوں کی شکل میں رہتے تھے اور ان کے بھی رسم ورواج تھے‘ سائوتھ افریقہ میں 2013ء میں انسانوں سے پہلے کے انسانوں کے غار دریافت ہوئے‘ یہ غار ’’رائزنگ سٹار کیوز‘‘ کہلاتے ہیں‘ ان میں اڑھائی لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ سال قبل کے انسان ہومو نالیدی (Homo Naledi) کی قبریں دریافت ہوئیں‘ اس سے معلوم ہوا انسانوں سے پہلے کے انسان بھی ساڑھے تین لاکھ سال قبل اپنی میتیں دفن کرتے تھے‘ وہ آرٹ بھی جانتے تھے اور آگ جلانا بھی‘ سپین کے شہر سماڈی لاس ہیوسوس (Sima de los Huesos)سے چار لاکھ تیس ہزار سال پرانی انسانی کھوپڑی ملی جس پر کسی اوزار کے دو زخم تھے‘ فرانزک سے ثابت ہوا اسے کسی نے سر پر کاری ضرب لگا کر قتل کیا۔ یہ اب تک کی تاریخ کا پہلا مقتول تھا اور یہ نیندر تھال سے قبل کے انسانوں سے تعلق رکھتا تھا‘ اس طرح کینیا کے شہر ناتروک (Naturuk) سے دس ہزار سال قبل کے قتل عام کے شواہد ملے‘ یہ جنگ میں مارے جانے والے 27 لوگوں کی لاشیں ہیں‘ ان کے جسموں پر ہتھوڑی نما آلوں اور تیروں کے زخم تھے‘ یہ انسانی تاریخ کی پہلی جنگ کا ثبوت ہیں اور اسی طرح آسٹریا سے اوزی (Otzi) نام کے ایک انسان کی لاش بھی ملی‘ یہ 5300 سال پہلے فوت ہوا‘وہ برفانی علاقے کا رہنے والا انسان تھا‘ وہ بھی قتل ہوا اور اس کی نعش گلیشیئر میں دفن ہو گئی‘ یہ 1991ء میں دریافت ہوئی اور اوزی وادی کی وجہ سے اس کا نام اوزی رکھ دیا گیا‘ اب سوال یہ ہے اگر ہابیل اور قابیل لڑنے اور مرنے والے پہلے انسان تھے تو پھر اوزی کون تھا؟ ناتروک میں دس ہزار سال قبل مرنے والے لوگ کون تھے‘ لاس ہیوسوس سے ملنے والا چار لاکھ 30 ہزار سال قدیم مقتول کون تھا اور سٹار کیوز میں ساڑھے تین لاکھ سال قبل مدفون ہونے والے لوگ کون ہیں؟ اگر یہ ہیں تو پھر اس کا مطلب ہے ہابیل اور قابیل سے پہلے بھی زمین پر انسان یا انسان نما مخلوق موجود تھی‘ وہ بھی آگ جلاتی تھی‘ کھیتی باڑی کرتی تھی‘ جانور پالتی تھی‘ غاروں اور بستیوں میں قبیلوں کی شکل میں رہتی تھی‘ بولتی چالتی تھی‘ آرٹ جانتی تھی‘ آلات بناتی تھی‘ جنگ لڑتی تھی اور اپنے مُردے دفن کرتی تھی‘ اب اگلا سوال یہ ہے پھر ہابیل اور قابیل ان سے کیوں مختلف تھے؟ یہ دراصل حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کی اولاد تھے اور ہم آج کے انسان ان کی اولاد ہیں‘ ہم آدمی ہیں لیکن سائنس کے مطابق ہم اس دنیا کے پہلے اور آخری انسان نہیں ہیں‘ ہم سے پہلے بھی لوگ یہاں تھے اور شاید ہم سے بعد بھی یہاں لوگ ہوں گے۔ ہم اب آتے ہیں حضرت آدم ؑ اور حضرت حواء ؑ کی طرف۔ بائبل ہمارے پاس قدیم ترین کتاب ہے‘ اس کتاب کے پہلے باب جینسس میں حضرت آدمؑ اور حضرت حواء ؑ کا قصہ پوری تفصیل سے درج ہے‘ باقی تفاصیل قرآن مجید میں ہیں‘ بائبل بتاتی ہے حضرت آدم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بنایا اور اسے گارڈن آف ایڈن میں رکھا ‘اب یہ گارڈن آف ایڈن (جنت) کہاں تھی اس کے بارے میں بائل کے باب جینسس (بنیاد) میں لکھا ہے یہ وہاں تھی جہاں چار دریا ملتے ہیں‘ یہ دریا دجلہ (Tigris)‘ فرات (Euphrates) پشن (Pishon) اور گیون (Gihon) ہیں‘تورات اور محققین کے مطابق یہ جگہ آج کے عراق میں بصرہ سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی اور یہ اب خلیج فارس میں زیر آب آ چکی ہے‘مجھے وہاں جانے اور اس مقام کو دیکھنے کا موقع مل چکا ہے‘ دنیا کے قدیم ترین دریادجلہ اور فرات ترکی سے نکل کرعراق کے قصبے القرعہ (Al Qurrah) میں پہنچ کر آپس میں مل جاتے ہیں‘ تیسرا دریا ایران سے یہاں آتا تھا اور چوتھا دریا سعودی عرب سے آتا تھا‘ یہ دونوں خشک ہو چکے ہیں‘ یہ جگہ گارڈن آف ایڈن یا جنت یا ارم کہلاتی تھی‘تورات کے مطابق حضرت آدم ؑ یہاں رہتے تھے تاہم اسلامی روایات اس سے مختلف ہیں‘ قرآن مجید نے جب حضرت آدم ؑ کا ذکر کیا تو فرمایا ’’ہم نے انسان( آدم) کوخشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا‘‘(سورۃ الحجرآیت 26) اور جب حضرت حواء ؑ کا ذکر کیا تو فرمایا ’’ہم نے ا سے پیدا کیا‘‘گویا حضرت حواء ؑ حضرت آدم ؑ کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں‘ پسلی سے نکالنے کا مطلب ماڈرن ایج میں بڑا آپریشن (سیزرین) بھی ہو سکتا ہے‘ آج کی ماڈرن سائنس کے بقول یہ عین ممکن ہے(مجھے بحیثیت مسلمان اس تھیوری سے اختلاف ہے) بہرحال قصہ مختصر حضرت آدم ؑ اور حضرت حواء ؑ ایڈن یا جنت میں رہتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا‘ بائبل کے بقول وہ سیب یا سیب نما درخت تھا جب کہ اسلامی روایات کے مطابق وہ گندم تھی‘ وہ گندم تھی یا سیب تھاآج کے محققین کے مطابق وہ زمین کا کوئی ٹکڑا تھا کیوں کہ سیب ہو یا گندم یہ زمین کے درخت یا پھل ہیں‘ مذاہب میں جہاں بھی جنت کا ذکر آیا اس میں ان نعمتوں کا ذکر کیا گیا جو زمین پر موجود ہیں‘مثلاً درخت‘ دودھ‘ شہد‘ محلات‘ انگور‘ انار‘ حوریں (خوب صورت عورتیں) اور چرند پرند یہ سب زمینی نعمتیں ہیں‘ بہرحال قصہ مزید مختصر حضرت آدم ؑ جنت سے نکال دیے گئے اور یہ جگہ بعدازاں غالباً طوفان نوح کی وجہ سے پانی میں گم ہو گئی اور اس کی جگہ خلیج فارس بن گئی‘ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے شہر ’’ار‘‘ سے نکلتے وقت اس مقام کا تعین فرمایا تھا‘ یہ آج بھی بصرہ سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے اور وہاں وہ درخت بھی ایستادہ ہے جس کا پھل کھانے کے بعد حضرت آدم ؑ اور حضرت حواء ؑ جنت سے نکال دیے گئے تھے‘ درخت کے بارے میں دو روایات ہیں‘ یہ حقیقتاً حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ سے منسوب درخت ہے‘ دوسری روایت یہ حضرت ابراہیم ؑ نے بطور نشانی یہاں لگایا تھا بہرحال یہ مقام اور اس کی نشانیاں آج بھی موجود ہیں اور آپ وہاں جا کر اس کی زیارت بھی کر سکتے ہیں۔(مجھے بھی یہ موقع مل چکا ہے‘ میں احتیاطاً اس مقام کی تصویریں نیچے لگا رہا ہوں)۔ ہم اگر یہ دعویٰ تسلیم کرلیں تو پھر نسل آدم نے مڈل ایسٹ میں پرورش پائی تھی اور ہماری زندگی کا سارا کھیل اس خطے سے شروع ہوا تھا جہاں آج زندگی کے خاتمے کی جنگ شروع ہو چکی ہے‘ ہابیل اور قابیل کی لڑائی آج کے شام میں ہوئی تھی جوعراق سے زیادہ دور نہیں‘ حضرت ہابیل ؑ کی قبر دمشق کے مضافات میں قاسیون کی پہاڑی پر ہے جب کہ وہ غار اور وہ پتھر بھی دمشق کے مضافات میں موجود ہے جہاں پہلا انسان قتل ہوا تھا (جاری ہے)۔ نوٹ:اسلامی روایات اس تھیوری سے مختلف ہیں‘ ہم اگلے کالم میں یہ روایات درج کریں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…