اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)عیدالاضحیٰ کے تیسرے روز معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
حکیم بابر کے مطابق انہیں صفدر عرف “سیکو” نامی شخص نے اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور بتایا کہ اہلِ خانہ اور بچے ان کے ساتھ تصاویر بنوانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ گاؤں تشریف لائے ہوئے ہیں۔حکیم بابر اپنے بھانجے ثاقب کے ہمراہ میزبان کے گھر پہنچے، جہاں ابتدا میں ان کی تواضع چائے سے کی گئی۔ بعد ازاں بجلی بند ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے انہیں قریبی گھر لے جایا گیا، جہاں انہیں جوس پیش کیا گیا۔ٹک ٹاکر کا کہنا ہے کہ جوس پینے کے چند لمحوں بعد ہی ان کی طبیعت اچانک خراب ہونا شروع ہوگئی۔ انہیں شدید چکر آنے لگے اور جسمانی کمزوری کے باعث وہ گر پڑے۔ صورتحال بگڑنے پر انہوں نے فوری طور پر اہلِ خانہ کو ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے بتایا کہ پہلے ایک نجی ہسپتال سے رجوع کیا گیا، تاہم وہاں کیس لینے سے انکار کر دیا گیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سمبڑیال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے فوری طبی امداد فراہم کی اور معدے کی صفائی (واش) کر کے ان کی جان بچائی۔حکیم بابر کے مطابق ان کی اہلیہ عنبر بھی اس موقع پر موجود تھیں، لیکن انہوں نے احتیاطاً انہیں جوس پینے سے منع کر دیا تھا اور جلد وہاں سے نکل جانے کا کہا، جس کے باعث وہ محفوظ رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھانجے نے بھی جوس پیا تھا، تاہم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا، جبکہ ان کی اپنی طبیعت غیر معمولی طور پر متاثر ہوئی۔علاج کے دوران حکیم بابر نے ہسپتال کے طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ہسپتال انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بروقت طبی امداد کی بدولت ان کی جان بچ سکی۔



















































