پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

عید کے موقع پر تصویر بنانے کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائی گئی،شکر ہے میری بیوی نے جوس نہیں پیا،حکیم بابر کا ہسپتال کے بستر سے ویڈیو بیان جاری

datetime 30  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)عیدالاضحیٰ کے تیسرے روز معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

حکیم بابر کے مطابق انہیں صفدر عرف “سیکو” نامی شخص نے اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور بتایا کہ اہلِ خانہ اور بچے ان کے ساتھ تصاویر بنوانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ گاؤں تشریف لائے ہوئے ہیں۔حکیم بابر اپنے بھانجے ثاقب کے ہمراہ میزبان کے گھر پہنچے، جہاں ابتدا میں ان کی تواضع چائے سے کی گئی۔ بعد ازاں بجلی بند ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے انہیں قریبی گھر لے جایا گیا، جہاں انہیں جوس پیش کیا گیا۔ٹک ٹاکر کا کہنا ہے کہ جوس پینے کے چند لمحوں بعد ہی ان کی طبیعت اچانک خراب ہونا شروع ہوگئی۔ انہیں شدید چکر آنے لگے اور جسمانی کمزوری کے باعث وہ گر پڑے۔ صورتحال بگڑنے پر انہوں نے فوری طور پر اہلِ خانہ کو ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے بتایا کہ پہلے ایک نجی ہسپتال سے رجوع کیا گیا، تاہم وہاں کیس لینے سے انکار کر دیا گیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سمبڑیال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے فوری طبی امداد فراہم کی اور معدے کی صفائی (واش) کر کے ان کی جان بچائی۔حکیم بابر کے مطابق ان کی اہلیہ عنبر بھی اس موقع پر موجود تھیں، لیکن انہوں نے احتیاطاً انہیں جوس پینے سے منع کر دیا تھا اور جلد وہاں سے نکل جانے کا کہا، جس کے باعث وہ محفوظ رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھانجے نے بھی جوس پیا تھا، تاہم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا، جبکہ ان کی اپنی طبیعت غیر معمولی طور پر متاثر ہوئی۔علاج کے دوران حکیم بابر نے ہسپتال کے طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ہسپتال انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بروقت طبی امداد کی بدولت ان کی جان بچ سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…