ووزی ناں (Vozinha)
وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال ہو چکا تھا اور یہ حقیقت ہے جن بچوں کے والد نہیں ہوتے وہ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے کم زور ہوتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ انسان جذبات والدہ اور رویے والد سے سیکھتے ہیں اور جن کے والد نہیں ہوتے ان میں زندگی سے لڑنے اور دنیا کو فیس کرنے کی اہلیت کم ہوتی ہے‘ وہ کم زور ہوتے ہیں اور ہمیشہ سہاروں کی تلاش میں رہتے ہیں‘ جوسی مر ڈیاس (Josimar Dias) بھی اسی المیے کا شکار تھا‘ یہ دنیا کو فیس نہیں کرپاتا تھا‘ یہ بچپن میں جب بھی میچ ہارتا تھا یا کھیل میں اس کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی تھی تو یہ ووزی ناں‘ ووزی ناں کہتا ہوا گھر کی طرف دوڑ لگا دیتا تھا اور تھوڑی دیر بعد اس کی نانی ڈنڈا لے کر باہر آ جاتی تھی اور بچے قہقہے لگاتے ہوئے بھاگ جاتے تھے‘
یہ روز کا معمول تھا‘ بچے جانتے تھے یہ ابھی ہارے گا یا اسے کسی کا ٹھڈا یا کہنی لگے گی اور یہ ووزی ناں‘ ووزی ناں کہتا ہوا گھر کی طرف دوڑ لگا دے گا‘ پرتگالی زبان میں ’’ووزی ناں‘‘کا مطلب چھوٹی دادی یاچھوٹی نانی ہوتا ہے‘ جوسی مر کی اس روٹین نے اس کا نام بدل دیا ‘ بچے اسے ووزی ناں کہنے لگے‘ ہمارے پنجاب میں بھی یہ روایت عام ہے جو بچے ہر وقت اماں اماں یا امی جی امی جی کہتے رہتے ہیں لوگ ان کا نام اماں جی یا امی جی رکھ دیتے ہیں‘ ہمارے ایک کلاس فیلو کو اس کی بڑی بہن نے ماں کی طرح پالا تھا‘ وہ اس کی تھوڑی سی تکلیف پر دوڑ کر باہر آ جاتی تھی اور اسے ماں کی طرح اپنی گود میں چھپا لیتی تھی‘ ہم نے اس کا نام باجی رکھ دیا تھا اور وہ بے چارہ بعدازاں مرنے تک باجی رہا‘ ہمارے سابق آرمی چیف جہانگیر کرامت کو بھی کورس میٹ باجی کہتے تھے‘ بہرحال یہ بھی روز بھاگ کر نانی کی گود میں گھس جاتا تھا چناں چہ اس کا نام بھی ووزی ناں پڑ گیا‘ یہ ایک کم زور‘ لاغر اور جذباتی لحاظ سے مایوس انسان تھا لیکن اللہ نے اس کو ایک عجیب خوبی سے نواز رکھا تھا اور وہ تھی ’’مستقل مزاجی‘‘ یہ جس کام میں لگ جاتا تھا‘ یہ اسے مکمل کر کے رہتا تھا‘ اس نے فٹ بال کھیلنا شروع کیا تو یہ روز ہارنے کے باوجود
مسلسل 35 سال کھیلتا رہا اور اس میں ایک دن بھی تعطل نہیں آیا‘ یہ مزاجاً ایگریسو نہیں تھا‘ یہ آگے بڑھ کر حملہ نہیں کر سکتا تھا چناں چہ اس نے خود کو ’’گول کیپنگ‘‘ تک محدود کر لیا اور پوری زندگی گول کیپر رہا‘ فٹ بال اور ہاکی میں سب سے مشکل کام ’’ گول کیپنگ‘‘ ہوتا ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ تمام کھلاڑی گول کرنا چاہتے ہیں‘ گول بچانا نہیں‘دنیا میں صرف گول کرنے والے کھلاڑی زیادہ مشہور اور کام یاب ہوتے ہیں‘ گول بچانے والے کو کوئی نہیں جانتا‘ جوسی مراب گول نہیں کر سکتا تھا لہٰذا اس نے خود کو گول بچانے تک محدود کر لیا اور یہ پورے 35 سال جم کر گول کیپر رہا اور 35 برسوں میں اس نے کوئی کمال نہیں کیا‘ دنیا اس کے نام سے بھی واقف نہیں تھی‘ آپ دنیا کو چھوڑیں اس کا اپنا ملک بھی اس کے بارے میں نہیں جانتا تھا‘ یہ اس میں بھی گم نام تھا۔
جوسی مر کون ہے؟ ہمیں یہ جاننے سے پہلے کیپ وردے کے بارے میں جاننا ہو گا‘ یہ سنٹرل اٹلانٹک اوشن میں ویسٹ افریقہ کا چھوٹا سا ملک ہے‘ اس کا ٹوٹل ایریا چار ہزار مربع کلومیٹر ہے اور اس سے ہر وقت آتش فشانی مادوں کی بو آتی رہتی ہے‘ دنیا کے نوے فیصد لوگ15 جون 2026ء سے پہلے اس کے نام سے بھی واقف نہیں تھے‘ کیپ وردے میں صرف دو چیزیں مشہور ہیں‘ فٹ بال اور آتش فشاں‘ ملک دس آتش فشانی جزیروں پر مشتمل ہے اور پورا ملک فٹ بال کھیلتا ہے اور جوسی مر بھی ان لوگوں میں شامل تھا‘ لوگ اسے طنزاً ووزی ناں کہتے تھے‘ یہ بات عجیب نہیں‘ عجیب بات یہ ہے اس نے بھی خود کو ووزی ناں تسلیم کر لیا تھا‘ ٹیم بیس سال قبل انگولا کے ساتھ میچ کھیل رہی تھی‘ انگولا کی ٹیم میں بھی جوسی مر نام کا کھلاڑی تھا‘ کمنٹیٹر کو پریشانی ہو رہی تھی‘ وہ جوسی مر کا نام لیتے تھے اور تماشائی دونوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے تھے‘ جوسی مر نے اس کا عجیب حل نکالا‘ اس نے خود کو وہ نام دے دیا جس سے اسے بچپن سے چڑانے کی کوشش کی جاتی تھی‘ اس نے اپنی جرسی پر ’’ووزی ناں‘‘ لکھا اور پہن لی اور اس دن کے بعد یہ ’’ووزی ناں‘‘ ہو گیا یعنی ’’چھوٹی نانی‘‘ تماشائی اور کمنٹیٹرز شروع شروع میں ہنسے لیکن پھر انہوں نے بھی اسے ’’چھوٹی نانی‘‘ تسلیم کرلیا‘ یہ چھوٹی نانی اور اس کا چھوٹا سا افریقی ملک 15 جون 2026ء تک غیر معروف رہا لیکن پھر 15 جون کوامریکا کے شہر اٹلانٹا میں فیفا ورلڈ کپ کا میچ ہوا اور کیپ وردے کی قومی ٹیم کا مقابلہ سپینش ٹیم سے ہوا‘ سپین کی ٹیم میں مائیکل اویارزبل‘پیڈرو پورو‘ نائیکوولیمز اور لیمن یمال جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی کھیل رہے تھے ‘ سپین کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ اور چار مرتبہ یورپین چیمپیئن شپ جیت چکی تھی چناں چہ یہ عملاً ہاتھی اور چیونٹی کا میچ تھا‘ پوری دنیا کا خیال تھا سپین یہ میچ کھیلے بغیر جیت چکا ہے بس اعلان باقی ہے۔ ’’ووزی ناں‘‘ چالیس سال کی عمر میں کیپ وردے کی ٹیم کا گول کیپر تھا‘ یہ فیفا ورلڈ کپ 2026ء کا بزرگ ترین کھلاڑی تھا ‘ کیپ وردے کے پاس کوئی دوسرا گول کیپر نہیں تھا چناں چہ کپتان اسے مجبوری میں کھیلا رہا تھا‘ میچ شروع ہوا اور سپین نے کیپ وردے کے گول پوسٹ پر حملے شروع کیے اور پھر دنیا حیران رہ گئی۔ ’’ووزی ناں‘‘ چٹان کی طرح گول پوسٹ پر کھڑا ہو گیا‘ یہ میچ 94منٹ جاری رہا‘ اس دوران سپین نے گول پوسٹ پر 27 حملے کیے اور یہ حملے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں نے کیے لیکن ووزی ناں نے مشکل سے مشکل ہٹ روک کر دنیا کو حیران کر دیا‘ میچ سے قبل انسٹاگرام پر ووزی ناں کے صرف 25 ہزار فالورز تھے لیکن جوں ہی میچ آگے بڑھتا گیا ووزی ناں کے فالورز میں اضافہ ہوتا گیایہاں تک کہ میچ کے آخر میں اس کے فالورز کی تعداد 25 لاکھ کا ہندسہ عبور کر چکی تھی جب کہ اس وقت ان کی تعداد 25 ملین (اڑھائی کروڑ) سے تجاوز کر چکی ہے‘ ووزی ناں نے ہر قسم کا حملہ روک کر سپین کے کھلاڑیوں کے دانتوں تک میں پسینہ پیدا کر دیا‘ سپین کے 27 حملوں میں 7 انتہائی مشکل تھے اور یہ حملے بھی مائیکل اویارزبل‘پیڈرو پورو‘ نائیکوولیمز اور لیمن یمال جیسے کھلاڑیوں نے کیے تھے جن کی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا‘ یہ میچ صفر اور صفر سے ڈرا ہو گیا لیکن یہ فٹ بال کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر گیا‘ میچ کے آخر میں صرف ایک کھلاڑی تھا اور پوری دنیا تھی‘ ہر طرف ووزی ناں‘ ووزی ناں ہو رہی تھی‘ یہ جب آخر میں گرائونڈ کا چکر لگا رہا تھا تو پورا سٹیڈیم کھڑا ہو کر اس کے حق میں نعرے لگا رہا تھا اور کمنٹیٹرز کے گلے پھٹ رہے تھے‘ کمنٹیٹرز کو کسی نے بتایا ووزی ناں کی ماں میچ دیکھنے کے لیے امریکا آنا چاہتی تھی لیکن اس کے پاس ٹکٹ اور ویزے کی بینک گارنٹی کی رقم نہیں تھی‘کمنٹیٹرز نے یہ کہانی ناظرین کو سنا دی‘ یہ سن کر امریکا کے سینکڑوں بزنس مین کھڑے ہو گئے اور انہوں نے ووزی ناں کی والدہ کو نہ صرف ٹکٹ آفر کر دیا بلکہ ویزے کی بینک گارنٹی کی پیش کش بھی کر دی جس کے بعد امریکی سفارت خانے نے خود اس کی ماں سے رابطہ کیا‘ ویزہ جاری کیا‘ ٹکٹ خرید کر دیا اور یہ بیٹے کے پاس میامی آ گئی جہاں اس نے والدہ کے پائوں چھو کر اپنی فتح کا جشن منایا‘ ووزی ناں اس وقت فٹ بال کا سیلی بریٹی بن چکا ہے‘ مختلف کمپنیاں اسے ملین ڈالر کے اشتہارات آفر کر رہی ہیں اور دنیا کے بڑے بڑے کلبزبھاری معاوضے پر اسے شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں‘ اس میں سپین بھی شامل ہے لیکن ووزی ناں نے یہ فیصلہ اپنی والدہ پر چھوڑ دیا ہے۔
ووزی ناں کی کہانی سے تین حقیقتیں ثابت ہوتی ہیں‘ ایک محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی‘ پریکٹس ہمیشہ انسان کو پرفیکٹ بناتی ہے‘ آپ جب کوئی کام مسلسل اور دل جمعی سے کرتے ہیں تو اس کا رزلٹ بہر حال نکل کر رہتا ہے‘ ووزی ناں نے پانچ سال کی عمر میں فٹ بال کھیلنا شروع کیا تھا اور یہ مسلسل 35 سال کھیلتا رہا‘ اس نے خود کو گول کیپنگ تک محدود کر لیا اور پھر ایک دن یہ ’’سیلی بریٹی گول کیپر‘‘ بن گیایعنی اس کی محنت بہرحال رنگ لے آئی‘ دو‘ عمر واقعی محض نمبرز ہیں‘ ووزی ناں نے 40 سال کی عمر میں کام یاب ہو کر یہ حقیقت بھی ثابت کر دی فٹ بال اور ہاکی کی آئیڈیل عمر32سال تک ہے لیکن ووزی ناں نے 40سال کی عمر تک کھیل کر اور پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ لے کر ثابت کر دیا انسان محنت سے عمر کو بھی شکست دے سکتا ہے‘ یہ بڑھاپے میں بھی جوانوں کو ہرا سکتا ہے اور تین انسان اگر ڈٹا رہے‘ یہ اگر ہمت نہ ہارے اور یہ اگر مایوس نہ ہو تو کبھی نہ کبھی اس کا دن بھی ضرور آتا ہے بس ثابت قدمی چاہیے‘ ووزی ناں کی ثابت قدمی نے ثابت کر دیا آپ خواہ کیپ وردے جیسے غیر معروف ملک میں رہتے ہوں‘ آپ کو ٹیم میں صرف اسی لیے کھیلایا جاتا ہو کہ کوئی دوسرا کھلاڑی گول کیپر بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور آپ کو خواہ 35 برس سے چھوٹی نانی کہا جاتا ہو لیکن اگر آپ ثابت قدم رہتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کام یاب ہونے سے نہیں روک سکتی اور بالآخر آپ کام یاب ہو کر رہیں گے‘ میں اکثر اپنے سیشن فیلوز سے عرض کرتا رہتا ہوں کام یابی نوے فیصد کیسوں میں صرف بور کاموں میں ملتی ہے یعنی ایک ایسا کام جسے آپ کا مزاج تسلیم نہیں کر تااور جس میں آپ کو محنت کے باوجود کام یابی حاصل نہیں ہو رہی مگر آپ اس کے باوجود اپنے مزاج پر جبر کر کے کام کررہے ہیں تو پھر ایک دن آتا ہے آپ ووزی ناں بن جاتے ہیں اور پوری دنیا کھڑے ہو کر آپ کا استقبال کرتی ہے لہٰذا ڈٹے رہیں‘ مایوس نہ ہوں‘ کام یابی ایک نہ ایک دن آپ کے دروازے پر ضرور دستک دے گی‘ آپ بھی ایک دن ووزی ناں کی طرح ضرور کام یاب ہوں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
نجی ٹی وی کی اینکر نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی شدید گرمی برقرار، متعدد علاقوں میں بارش کا امکان
-
صرف سرکاری ریٹ پر زمین کا معاوضہ مقرر نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین مبینہ اغواء ، زیادتی کیس کو لاہور پولیس دیکھےگی یا سی سی ڈی ؟ ڈی آئی جی آپریشنز نے...
-
اسلام آباد ؛شاہین چوک پر فائرنگ، بیچ بچاؤ کرانے والے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن شہید





















































