پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

Pale Blue Dot

datetime 16  جون‬‮  2026
کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری سائنس دان تھا‘ اس نے اپنی پوری زندگی ستاروں کی دنیا کو دے دی‘ وہ ان پر ریسرچ کرتا اور لکھتا رہا‘ 1934ء میں پیدا ہوا‘ خلا کی تعلیم حاصل کی اورہارورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر ہو گیا‘ ناسا میں بھی کام کرتا تھا‘ اس نے 1970ء میں وویاگر۔ون (Voyager-1) کے نام سے ناسا کے لیے حیران کن پراجیکٹ بنایا‘ یہ ایک مصنوعی سیارہ تھا جسے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجنا تھا‘ اس پر کیمرہ لگا تھا اور اس نے سگنلز کے ذریعے زمین سے رابطے میں رہنا تھا لیکن اس سے کبھی واپس نہیں آنا تھا‘ اس کے دو مقصد تھے‘ یہ خلا کے بارے میں دنیا کو نئی معلومات دے اور دوسرا اگر کائنات میں کسی جگہ زندگی موجود ہے تو ان لوگوں کو زمین کے بارے میں اطلاع دی جائے‘ سیگن نے دوسرا مقصد پورا کرنے کے لیے بارہ انچ کی کاپر پلیٹ بنوائی‘ اس پر سونے کا پانی چڑھایا اور اس میں زمین کی تصویریں‘ آوازیں‘ موسیقی اور انسانوں کے بارے میں معلومات سٹور کر دیں‘ وویاگر۔ون نے یہ پلیٹ لے کر خلا میں جانا تھا‘ یہ ایک منفرد اور مشکل منصوبہ تھا‘ ناسا نے بہرحال اس منصوبے کی منظوری دے دی‘ سیگن نے یہ تیار کیا اور پانچ ستمبر 1977ء کو اسے زمین سے رخصت کر دیا‘ اس نے اپنا سفر شروع کیا‘ یہ 1979ء میں مشتری (Jupiter) اور 1980ء میں زحل (Saturn) کے قریب پہنچ گیااور ان کے چاند‘ دائروں اور ماحول کی تصویریں زمین پر بھجوادیں‘ یہ اس کے بعد 1990ء کے شروع میں ہمارے سولر سسٹم کی سرحد پر پہنچ گیا‘ 15 فروری کو اس نے اس سے باہر نکل جانا تھا‘ یہ اس وقت زمین سے چھ ارب کلومیٹر کی دوری پر تھا‘ سیگن اس وقت کینسر میں مبتلا ہو چکا تھا اور اس کی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا‘ اس نے بیماری کے عالم میں ناسا سے رابطہ کیا اور عجیب سی فرمائش کر دی‘ اس کا کہنا تھا وویاگر ہمارے سولر سسٹم سے نکل رہا ہے‘ یہ اس کے بعد کبھی واپس آ سکے گا اور نہ ہم اس کے ذریعے اپنی زمین دیکھ سکیں گے‘ میں ایک مرتبہ اس کارخ موڑ کر سولر سسٹم کی حد سے زمین کی تصویر لینا چاہتا ہوں‘ یہ میری زندگی کی آخری خواہش ہے‘ ناسا کی انتظامیہ نے اس سے اتفاق نہیں کیا‘ ان کا کہنا تھا وویاگر۔ون آگے
دیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے‘ ہم نے اگر ایک مرتبہ اس کا رخ موڑ دیا تو عین ممکن ہے یہ کبھی دوبارہ سیدھا نہ ہو سکے۔ دوسرا یہ سورج کے قریب ہے‘ یہ بھی ممکن ہے اس کا کیمرہ جل جائے اور یوں اربوں ڈالرز کا نقصان ہو جائے‘ سیگن نے انہیں بتایا میں نے وویاگر بناتے وقت اس میں واپس مڑنے کی گنجائش رکھی تھی‘ یہ زمین کی طرف مڑ بھی سکتا ہے اور دوبارہ سیدھا بھی ہو سکتا ہے‘ آپ مہربانی کر کے مجھے ایک کوشش کرنے دیں‘ میں کینسر کا مریض ہوں‘ مجھے زندگی دوبارہ یہ موقع نہیں دے گی‘ اس کے بعد سیگن اور ناسا کی انتظامیہ کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے‘ یہ بحث بالآخر سیگن جیت گیا اور ناسا نے اسے سولر سسٹم کی سرحد سے زمین کی تصویر بنانے کی اجازت دے دی یوں سیگن نے 14 فروری 1990ء کو وویاگر۔ون کو کنٹرول کیا‘ اس کا رخ موڑا‘ زمین کو فوکس کیا اور چھ ارب کلومیٹر کے فاصلے سے اس کی تصویر کھینچ لی‘ یہ اس طویل فاصلے سے زمین کی پہلی تصویر تھی‘ آپ گوگل پر جا کر پیل بلیو ڈاٹ (Pale Blue Dot) لکھ کر یہ تصویر دیکھ سکتے ہیں‘ آپ اسے یوٹیوب پر بھی دیکھ سکتے ہیں‘ ہماری یہ زمین جس پر ہم روز ایک دوسرے پر حملے کرتے ہیں‘ ایک دوسرے کا گلہ کاٹتے ہیں اور ’’تم مجھے جانتے نہیں‘‘ کے نعرے لگا کر جوہری بم پھاڑنے کے منصوبے بناتے ہیں اس کا سائز چھ ارب کلومیٹر کے فاصلے سے صرف صفر اعشاریہ ایک دو (0.12) پکسل ہے یعنی یہ ریت سے بھی چھوٹے ذرے جتنی ہے‘ تصویر کھینچنے کے لمحے میںاس پر سورج کی کرن پڑ رہی تھی اور یہ کائنات کی وسعت میں سمٹا ہوا پریشان سا ذرہ اس کرن میں اپنا پتا پوچھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا اور سیگن نے اسے اس سولر سسٹم میں شوٹ کیا تھا جس میں بمشکل 8سیارے ہیں‘ اس کے بعد ہماری کہکشاں ملکی وے آتی ہے جس میں ساڑھے چار ارب سیارے اور ستارے ہیں اور اس کے بعد کائنات میں ایسی دو ارب کہکشائیں ہیں اور یہ بھی 2018ء کا ڈیٹا ہے‘ ہم اگر اب دوبارہ کہکشائوں کو گننے کی کوشش کریں توعین ممکن ہے یہ دوارب اب چار ارب ہو چکی ہوں کیوں کہ کائنات روزانہ کی بنیاد پر دگنی اور چوگنی ہوتی چلی جا رہی ہے‘ ہم انسان کائنات کے فاصلوں کو لائیٹ ائیرز (نوری سالوں) میں ماپتے ہیں‘لائیٹ ائیر وقت نہیں ہیںیہ فاصلہ ہیں‘ ہم اگر ایک لائیٹ ائیر کے فاصلے کو وقت میں تبدیل کر کے دیکھیں تو ایک نوری سال ایک لاکھ 86 ہزار برسوں کے برابر ہو گا اور ہماری کہکشاں یعنی ملکی وے سے قریب ترین کہکشاں اینڈرومیڈا (Andromeda)ہے اور یہ ہم سے 25 لاکھ نوری سالوں کے فاصلے پر ہے‘ آپ اب ایک لاکھ 86 ہزار سالوں کو 25 لاکھ سے ضرب دے کر دیکھیں آپ کا کیلکولیٹر جواب دے جائے گا لیکن ہماری ہمسایہ کہکشاں کا ہم سے عددی فاصلہ مکمل نہیں ہو گا اور ہم اس کائنات میں سانس لے رہے ہیں۔ میں وویاگر۔ون کی طرف واپس آتا ہوں۔ سیگن نے 1990ء میں ہمارے سولر سسٹم کی حد سے یعنی چھ ارب کلومیٹر سے زمین کی تصویر لی ‘ یہ اس وقت صفر اعشاریہ ایک دو پکسل تھی یعنی ریت کے ذرے سے بھی آدھی‘ وویاگر۔ون نے اس سے 36 برس بعد فروری 2026ء میں پہلے نوری سال کے برابر فاصلہ طے کیا‘ یہ انسان کی بنائی ہوئی پہلی مشین ہے جس نے ایک لائیٹ ائیر (نوری سال) کا فاصلہ طے کیا یعنی یہ ابھی تک اپنی کہکشاں ملکی وے کے اندر ہے اور یہ اگر اس سے نکل کر اینڈرومیڈا تک جانا چاہے تو اسے مزید 25 لاکھ لائیٹ ائیرز درکار ہوں گے‘ ہم یہ کہہ سکتے ہیں وویاگر۔ون نے ایک لائیٹ ائیر کا فاصلہ (1977ء سے 2026ئ) 49 سال میں پورا کیا‘ یہ اگر اسی سپیڈ سے اینڈرومیڈا کی طرف بڑھتا رہے تو اسے وہاں پہنچنے میں کتنے سال لگیں گے؟ آپ 49 سال کو 25لاکھ برسوں سے ضرب دے لیں‘ یہ 12 کروڑ25لاکھ سال بن جائے گا گویا ہماری مشین 12کروڑ 25لاکھ برس بعد دوسری کہکشاں تک پہنچے گی جب کہ کائنات میں دو ارب کہکشائیں ہیں چناں چہ سوال یہ ہے جس کائنات میں زمین کی اپنی حیثیت پیل بلیو ڈاٹ ہے اس میں ہم اور ہماری حیثیت کیا ہو گی؟ آپ یہ بھی جانے دیں‘ آپ انسانی تاریخ کو دیکھ لیں‘ ہمارے پاس صرف پانچ ہزار سال کی ریکارڈڈ ہسٹری ہے‘ ہم اگر اس میں مبالغہ ڈال کر اسے کھینچ لیں تو یہ زیادہ سے زیادہ دس ہزار سال تک چلی جائے گی گویا ہم نے غار سے اے آئی تک کا سفر دس ہزار برس میں طے کیا‘ یہودی کیلنڈر کے مطابق ٹائم کا یہ فیز صرف چھ ہزار سال پر مشتمل ہے‘ حضرت آدم ؑ کو دنیا میں آئے ہوئے صرف پونے چھ ہزار سال ہوئے ہیں جب کہ نوری سال ایک لاکھ 86 ہزار سال کے برابر ہوتا ہے یعنی ہم اگر ایک نوری سال میں زندہ ہوں تو ایک لاکھ 86 ہزار سال کے اس فیز میں ہمارا حصہ صرف چھ سال ہوا اور یہ نوری سال کا0.003فیصد بنتا ہے لہٰذا پھر اکڑ کسی چیز کی؟ انا‘ ضد‘ دوسروں کو شکست دینے کی تمنا‘ میں تم سے بہتر ہوں اور میرا عقیدہ ‘ میرا مذہب‘ میرا وطن اور میری سوچ اس کی کیا حیثیت‘ کیا اہمیت ہے؟ آپ ذرا سوچیں اور اس سوال کا جواب دیں ہم کائنات کے سائزا ور وقت کے لامحدود دائرے میں کہاں کھڑے ہیں؟ہمارا سائز کیا ہے؟ آپ یقین کریں ہماری پوری زندگی کائنات کے سائز میں نینوسیکنڈ کے برابر بھی نہیں بلکہ پوری نسل انسانی کی زندگی نینو سیکنڈ کے برابر نہیں چناں چہ پھر ہماری ضد اور اکڑ کی کیا حیثیت ہے؟ ہمیں یاد رکھنا ہوگا ہم یہاں عارضی طور پر آتے ہیں اور یہ ’’عارضی‘‘ بھی بہت چھوٹا‘ بہت محدود ہوتا ہے‘ ہم میں سے صرف 16 اعشاریہ 8فیصد لوگ 60 سال تک پہنچ پاتے ہیں‘ہم میں سے دس فیصد 65 سال کو ٹچ کرتے ہیں اور ساڑھے تین فیصد 70 سال کراس کرتے ہیں اور ہم اگر وقت کے تیسرے فیز میں چلے بھی جائیں توبھی ہم باقی زندگی چوتھائی توانائی کے ساتھ گزارتے ہیں‘ یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری اوقات‘ ہم جس زمین پر غرور کرتے ہیں وہ کائنات میں ذرے سے بھی چھوٹی ہے‘ ہم جس زندگی پر اتراتے ہیں وہ نوری سال کا 0.003فیصد ہے‘ ہم جس مذہب کی بنیاد پر دوسروں سے نفرت کرتے ہیں ان کے گلے کاٹتے ہیں‘ اس کی تاریخ صرف پانچ ہزار سال ہے‘ہم جس ملک کی بنا پر دوسروں سے لڑرہے ہیں اسے صرف 80 سال ہوئے ہیں اور ہم جس انا‘ جس ضد اور جس جعلی عزت نفس کے گھوڑے پر بیٹھے ہیں اس کی مدت بھی دس بیس سال سے زیادہ نہیں ہوتی‘ ہند میتھالوجی کے مطابق انسان کے سٹیٹس کی معیاد 28 سال ہوتی ہے‘ یہ اس کے بعد مکمل طور پر بدل جاتا ہے‘ ہم اگر غریب ہیں تو 28 سال بعد خوش حال ہو جائیں گے اور ہم اگر خوش حال‘ امیر یا رئیس ہیں تو 28 سال بعد ہم سڑک پر آ جائیں گے‘ انسان کے اقتدار کی مدت بھی چار پانچ سال ہوتی ہے‘ امریکی صدر بھی چار سال بعد ’’نو باڈی‘‘ بن جاتا ہے‘ آرمی چیفس بھی اپنے اقتدار کو جتنا چاہے کھینچ لیں یہ چھ سال سے دس سال سے آگے نہیں جا سکتے‘ چینی صدر شی جن پھنگ تاحیات صدر ہیں‘ یہ ’’تاحیات‘‘ بھی مزید کتنے سال چل جائے گا؟ بھٹو اور شریف فیملی ملک کے خوش نصیب ترین سیاسی خاندان ہیں لیکن اگلے 20 سال بعد یہ کہاں ہوں گے؟ سی ایس ایس ملک کا سب سے بڑا امتحان ہے‘ اس میں کام یاب ہونے والے نوجوان بڑے طرم خان ہوتے ہیں لیکن یہ طرم خانی بھی تیس سال بعد ختم ہو جاتی ہے‘ میں نے زندگی میں بے شمار جرنیلوں کو خدا کے لہجے میں دوسروں کے مقدر کا فیصلہ کرتے دیکھا لیکن پھر انہیں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر رلتے اور ان جنگوں کی کہانیاں سناتے دیکھا جو انہوں نے لڑی ہی نہیں تھیں‘ ہم جوانی کو بہترین عمر کہتے ہیں اور اس عمر میں ایڑی سے دھرتی ہلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کی مدت بھی 20 سال ہے‘ 20 سال بعد یہ بھی رخصت ہو جاتی ہے اور ہم پوری زندگی جس جسم‘ جس دماغ پر اتراتے رہتے ہیں اور جس اختیار کو ہم فرعون کی کرسی سمجھ بیٹھتے ہیں اسے ڈوبتے‘ اسے بھی مٹی میں مٹی بنتے دیر نہیں لگتی لہٰذا ہم اور ہماری اوقات کیا ہے؟ ہم جس گولے پر بیٹھے ہیں کائنات میں جب اس کی کوئی حیثیت نہیں تو پھر ہمارے دس پندرہ مرلوں اور ہماری آٹھ انچ کی انا کی کیا اوقات ہو گی لہٰذا یاد رکھیں ہم صرف یہاں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں‘ یہ کھیل بس اتنا ہے‘ اسے صرف اتنا ہی سیریس لیں اگر یقین نہ آئے تو سولر سسٹم کی سرحد پر بیٹھی زمین کو دیکھ لیں جسے وویاگر۔ون بھی1990ء میں پیل بلیو ڈاٹ ڈکلیئر کر کے آگے نکل گیا تھا۔ نوٹ:وویاگر۔ون کی ویڈیوز اور کہکشائوں کی مزید تفصیلات اس ویڈیولنک میں ملاحظہ کریں۔ https://youtu.be/fdIiFpmo20k?si=qC7yHRKAqdPCwEFu

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…