اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے
اس کی افادیت پر سوال اٹھا دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہیم رضائی کا کہنا ہے کہ مذکورہ معاہدہ سعودی عرب کو وہ مکمل سکیورٹی ضمانت فراہم نہیں کرسکتا جس کی ریاض کو توقع ہے۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایرانی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سعودی عرب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ کیا گیا معاہدہ اسے مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ان کے مطابق سعودی عرب طویل عرصے تک سکیورٹی کے معاملے میں امریکا پر انحصار کرتا رہا، تاہم اس کے باوجود مملکت کو ہر ممکن خطرے سے مکمل تحفظ حاصل نہیں ہوسکا۔
ابراہیم رضائی نے سعودی قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور مستقبل میں ملکی سلامتی کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنے کے اقدامات کرے۔واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف ہونے والی جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول بھی معاہدے میں شامل ہے۔



















































