بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

Cognitive Manipulation

datetime 23  جولائی  2026
کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد میں زیادہ تھیں اور ان میں اتحاد بھی تھا‘ وہاں ایک نیولہ بھی رہتا تھا‘ وہ مرغیوں کو روز دیکھتا تھا اور ہونٹوں پر زبان پھیرتا تھا‘ اسے ان میں بریک فاسٹ‘ لنچ اور ڈنر نظر آتا تھا لیکن مرغیاں زیادہ تھیں اور وہ تگڑی بھی تھیں چناں چہ وہ انہیںکھا نہیں پا رہا تھا‘ اس کے ذہن میں پھر اچانک ایک آئیڈیا آیا‘ اس نے مرغیوں کے ٹھکانے کے قریب ایک بورڈ لگا دیا جس پر لکھا تھا ’’کمفرٹ زون سے باہر آئو‘ یہ گندے ڈربے تمہارا ٹھکانہ نہیں ہیں‘ تم شاہین ہو بسیرا کرو چٹانوں پر‘‘ بورڈ پڑھنے کے بعد مرغیوں کو پہلی مرتبہ پتا چلا ہم مرغیاں نہیں ہیں‘ ہم شاہین ہیں اور ہمارا بسیرا ڈربوں کی بجائے چٹانیں ہیں اور ہمیں ان تک پہنچنے کے لیے اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا ہو گا‘ نیولہ بھی انہیں موٹی ویٹ کرنے لگا چناں چہ وہ ایک ایک کر کے کمفرٹ زون سے نکلنے اور شاہین بننے لگیں‘ وہ نیولے کی قیادت میں جب پہاڑی کے آخری سرے پر پہنچتی تھیں تو وہاں ایک اور بورڈ نظر آتا تھا جس پر لکھا تھا ’’تم جب تک کودو گے نہیں تمہیں اس وقت تک اپنے پوٹینشل کا پتا نہیں چلے گا‘‘ نیولہ مرغیوں کو وہ بورڈ دکھاتا اور اونچی آواز میں کہتا ’’دیکھو یہ دنیا کے سب سے کام یاب شخص اور موٹی ویٹر برین ٹریسی نے کہا تھا اور صرف اس ایک فقرے نے کروڑوں لوگوں (مرغیوں) کا مقدر بدل دیا‘ تم بھی کودو اور پھر دیکھو قدرت نے تمہیں کتنی شان دار صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے‘‘ مرغیاں اس کے جھانسے میں آ جاتیں‘ وہ چٹان سے کود جاتیں اور زخمی ہو جاتیں‘ نیولہ دوڑ کر نیچے جاتا اور شاہین بننے کے عمل سے گزرتی مرغیوں کو ہڑپ کر جاتا‘ مرغیاں آہستہ آہستہ شاہین بنتی گئیں اور نیولہ انہیں کھاتا گیا یہاں تک کہ پہاڑی پر مرغیوں کے پر اور گندے ڈربوں کے سوا کچھ نہ بچا۔ نفسیات میں نیولے کی اس تکنیک کو ’’کاگنیٹو مینو پولیشن‘‘ جب کہ اردو میں ذہنی ہیرا پھیری یا چال بازی کہتے ہیں‘ اس تکنیک کے ذریعے چال باز لوگ نیولے کی طرح دوسرے لوگوں کو ’’موٹی ویٹ‘‘ کرتے ہیں اور پھر ان کی بربادی کو انجوائے کرتے ہیں‘ میں اکثر لوگوں سے عرض کرتا ہوں دنیا کی تمام موٹی ویشنل سٹوریز آپ کے لیے نہیں ہیں‘ آپ کہانیوں سے متاثر ہونے سے پہلے اپنے
حالات کا جائزہ ضرور لے لیا کریں‘ یہ عین ممکن ہے آپ کو موٹی ویٹ کرنے والا شخص نیولہ ہو اور وہ برین ٹریسی کی مثال دے کر آپ کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو‘ دوسرا کمفرٹ زون برا نہیں ہوتا‘ آپ اگر کونے میں بیٹھ کر مزے سے زندگی گزار سکتے ہیں‘ آپ کی ساری ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں تو پھر خود کو دھوپ میں جلانے یا شاہین بننے کی کوشش میں چٹان سے چھلانگ لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ انسان کو اس وقت اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا چاہیے جب اس کے بغیر اس کا گزارہ نہ ہو رہا ہو‘ وہ جب اس کے بغیر زندگی یا اچھی زندگی نہ گزار پا رہا ہو‘ آپ کو اگر اللہ تعالیٰ نے سب کچھ عنایت کر دیا ہے تو پھر نقل مکانی اور مشقت کی کیا ضرورت ہے‘ آپ اپنی مرضی سے اٹھیں‘ مرضی سے دن گزاریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور آرام دہ زندگی گزار کر چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور یہ جان لیں آپ بل گیٹس‘ ایلون مسک یا جیک ما نہیں ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اللہ دتہ بنایا ہے جس نے مزے سے دہی کے ساتھ روٹی کھا کر دنیا سے رخصت ہو جانا ہے‘ اللہ نے اگر آپ کو ایلون مسک بنانا ہوتا تو وہ آپ کو امریکا میں ایلون مسک جیسے حالات کے ساتھ پیدا کرتا‘ دوسرا ایلون مسک نے دنیا میں کیا اکھاڑ لیا‘ یہ بس دنیا کا پہلا ٹریلینئر ہے اور اس کی ساری دولت بھی نیویارک سٹاک ایکس چینج میں لگی ہوئی ہے یا امریکی بینکوں میں پڑی ہوئی ہے‘ جس دن سٹاک ایکس چینج کو جھٹکا لگ گیا یا کسی امریکی صدر کا دماغ گھوم گیا اس دن ایلون مسک جیل ہو گا یا پھر فٹ پاتھ پر اور یہ اگر اس سے بچ بھی گیا تو مسلسل سٹریس میں رہنے کی وجہ سے اسے کینسر ہو جائے گا اور یہ ہسپتال میں بیس ڈاکٹروں اور چالیس نرسوں کی موجودگی میں اللہ کو پیارا ہو جائے گا اور اس کی دولت کسی فائونڈیشن کے اکائونٹ میں چلی جائے گی اور اس کو وہ نیولے انجوائے کریں گے جو پوری زندگی ایلون مسک کو ’’پتر تو کر سکتا ہے‘‘ کہہ کہہ کر چٹان کے کنارے لے آئے تھے‘ یہ حقیقت ہے موٹی ویشن کا نشانہ بننے والی مرغیاں ہمیشہ نیولوں کا رزق بنتی ہیں۔ ہماری زندگی کا شان دار ترین کردار ٹیپو سلطان تھا‘ ہم سب ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ پڑھ پڑھ کر جوان ہوئے ہیں‘ ہم سب ٹیپو سلطان کی وہ عظیم تلوار بھی تلاش کرتے رہے جو مرنے کے بعد بھی اس کے ہاتھ میں تھی اور اس سے گھبرا کر کوئی اس لاش کے قریب نہیں جا رہا تھا‘ ہم سب پوری زندگی شیر کی ایک دن کی زندگی پر ہزاروں گیدڑوں کے سو سال قربان کرتے رہے لیکن ہم یہ اندازہ نہ کر سکے بے چارہ ٹیپو سلطان بھی ’’کاگنیٹو مینو پولیشن‘‘ کا شکار ہوگیا تھا‘ یہ سر کیمپبل (Campbell) اور جان کیناوے (Kennaway) جیسے نیولے تھے جو اسے روز بتاتے تھے تم شیر ہو اور ہم سب گیدڑ ہیں‘ بے شک ہم سو سال جئیں گے لیکن تمہارے لیے ایک دن کی زندگی کافی ہے‘ تم وہ گزارو اور رخصت ہو جائو اور اپنا ملک ہم نیولوں اور گیدڑوں کے حوالے کر جائو‘ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زرخرید گماشتے بھی روز سلطان کو شیر بناتے تھے یہاں تک کہ ٹیپو سلطان ’’کاگنیٹو مینوپولیشن‘‘ کا شکار ہو گیا‘ وہ بہادری سے لڑا مگر بہادر خواہ کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ اکیلا ہو گا اور دشمنوں میں گھرا ہو گا تو وہ بے چارہ مارا جائے گا۔ ٹیپو سلطان بھی 4 مئی 1799ء کو مارا گیاجس کے بعد دنیا نے اسے بہادری کا ایوارڈ دے دیا‘ اسے شیر بھی قرار دے دیا گیا مگر ہندوستان کی سب سے بڑی اور مضبوط ریاست ختم ہوگئی اور گورے گیدڑ پچاس برسوں میں دہلی تک پہنچ گئے‘ ہندوستان کی آخری مسلم ریاست ختم ہوئی اور ہندوستانیوں کو گوروں کو نکالنے کے لیے 144سال جدوجہد کرنا پڑ گئی اور یہ بھی حقیقت ہے اگر دو عالمی جنگیں نہ ہوتیں تو برطانیہ کم زور نہ ہوتا اور یہ آج بھی ہندوستان پر قابض ہوتا‘ یہ ہٹلر کی مہربانی تھی جس نے برطانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس کے نتیجے میں ہمیں آزادی مل گئی ورنہ ہم آج بھی ٹیپو سلطان کی تلوار لے کر پھر رہے ہوتے‘ آپ اب ذرا تاریخ کو ’’ریوائینڈ‘‘ کر کے دیکھیں‘ ٹیپو سلطان خود کو شیر سمجھنے کی بجائے ریاست پر توجہ دیتا‘ وہ فوج کو مزید مضبوط کرتا‘ عوام کو خوش حال اور طاقتور بناتا‘ اندرونی تقسیم ختم کرتا اور ہندوستانی ریاستوں کو اپنے ساتھ ملا لیتا تو کیا مٹھی بھر انگریز ہندوستان پر قابض ہو پاتے؟ ہرگز نہیں لیکن گیدڑوں نے کیوں کہ اسے شیر (دی لائین آف میسور) کہنا شروع کر دیا تھا چناں چہ وہ خود کو شیر ثابت کرتا کرتا جان سے گیا اور اگلے ہی دن ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست ختم ہو گئی۔ میں اگر جان کی امان پائوں تو عرض کروں‘ ہم مسلمانوں کے پاس پورا ہندوستان تھا‘ہم بنگال سے گوادر تک پورے ملک کے مالک تھے لیکن ہم شیر بنتے بنتے پہلے پورے ہندوستان سے محروم ہوئے اور پھر ڈیڑھ سو سال کی جدوجہد کے بعد چھوٹا سا پاکستان بنانے میں کام یاب ہوئے اور یہ بھی پچھلے 80 برسوں سے ’’شیر کی ایک دن کی زندگی‘‘ میں مبتلا ہے‘ ہم روز کہتے ہیں یہ ملک اللہ تعالیٰ نے بنایا‘ اللہ ہمارا محافظ ہے اور پاکستان پر اللہ کا سایہ ہے لیکن سوال یہ ہے کیا انڈیا اللہ نے نہیں بنایا تھا‘ کیا اسے شیطان نے جنم دیا تھا اور کیا دنیا کے باقی ملک اللہ کی مرضی کے بغیر بن گئے تھے‘ یہ دنیا قدرت کا کارخانہ ہے‘ اس کا ہر پرزہ اس کی اجازت کا محتاج ہے‘ ہم بھی اور ہمارے دشمن بھی‘اس میں کسی کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں‘ دوسرا کیا مشرقی پاکستان اللہ کی اجازت کے بغیر پاکستان کا حصہ تھا اور کیا وہ اللہ کی حفاظت اور سائے سے محروم تھا؟ جی نہیں‘ بنگالی جب تک ہمارے ساتھ کمفرٹیبل تھے اور ہم جب تک دفاعی لحاظ سے مضبوط تھے مشرقی پاکستان ہمارا حصہ رہا لیکن ہم جس دن کم زور ہو گئے اور بنگالیوں نے ہمارے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا ملک اس دن ٹوٹ گیا‘ باقی ملک بھی اس وقت تک قائم رہے گا جب تک ہم متحد اور مضبوط رہیں گے جس دن ہم زیادہ کم زور اور زیادہ منقسم ہو گئے اس دن ٹیپو سلطان کی تلوار بھی اسے نہیں بچا سکے گی‘ حقائق کی دنیا بہت خوف ناک ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء میں سے صرف حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کو نبوت کے ساتھ بادشاہت سے نوازہ‘ انہیں سلطنت دی لیکن وہ سلطنت بھی حضرت سلیمان ؑ کی آنکھ بند ہوتے ہی ختم ہو گئی اور لادین بخت نصر نے 586قبل مسیح میں فلسطین پر حملہ کر کے حضرت سلیمان ؑ کی وہ عبادت گاہ (فرسٹ ٹیمپل) توڑ کر زمین پر بکھیر دی تھی جسے جنوں نے انسانوں کے ساتھ مل کر بنایا تھا‘ اس واقعے کو آج دو ہزارچھ سو بارہ سال ہو چکے ہیں لیکن حضرت سلیمان ؑ کی سلطنت واپس نہیں آئی‘ اسرائیلی آج بھی گریٹر اسرائیل (حضرت سلیمان ؑ کی سلطنت) تلاش کر رہے ہیں‘ اسرائیلیوں کو بھی یہی غلط فہمی تھی ہماری سلطنت اللہ نے بنائی‘ یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ؑ اور سلیمان ؑ کو عنایت کی تھی اور وہی اس کی حفاظت کرے گا لیکن یہ نہیں ہوا‘ ایران بھی اب اس خوش فہمی کا شکار ہے‘ اسے بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے ساتھی ’’کاگنیٹو مینوپولیشن‘‘ کے ذریعے دنیا کی قدیم اور مضبوط ترین سولائزیشن کا یقین دلا رہے ہیں‘ امریکا جان بوجھ کر خود کو ہارا ہوا اور کم زور ثابت کر رہا ہے‘ یہ نیولوں کے ذریعے روز یہ خبریں پھیلاتا ہے ہمارے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ہے‘ دنیا میں کوئی قوم ہمارا ساتھ نہیں دے رہی‘ کانگریس ہمارے خلاف ہے اور امریکی عوام جنگ کے مخالف ہیں وغیرہ وغیرہ‘ یہ سب بکواس اور مینوپولیشن ہے اور اس کا مقصد ایرانیوں کو ٹیپو سلطان اور شیر بنانا ہے تاکہ یہ جنگ سے پیچھے نہ ہٹیں اور امریکا ایران کو تین حصوں میں تقسیم کر کے تیل اور گیس پر قابض ہو جائے بالکل عراق کی طرح‘ عراق میں بھی صدام حسین کو ’’کاگنیٹو مینوپولیشن‘‘ کے ذریعے ہیرو اور ناقابل تسخیر بنا کر تیل پر قبضہ کیا گیا تھا اور اب ایران کے ساتھ بھی یہی کھیل ہو رہا ہے‘ اسے شہادت کے پیچھے لگا کر تباہ کیا جا رہا ہے‘ کاش ایران کی آنکھیں کھل جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری بھی۔ ہم ’’اللہ کی سلطنت ‘‘کی غلط فہمی سے نکل کر اس ملک کو واقعی ملک بنا دیں تاکہ یہ قائم بھی رہ سکے اور چل بھی سکے ورنہ یہ کسی دن ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’کاگنیٹو مینوپولیشن‘‘ پاکستان از اے گریٹ کنٹری‘ آئی لو فیلڈ مارشل اینڈ پرائم منسٹر اس ملک کو لے کر بیٹھ جائے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…