منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

datetime 8  ستمبر‬‮  2026

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ لائبریریاں تھیں‘ سرکاری لائبریری میونسپل کمیٹی کے تحت چل رہی تھی‘ وہ جی ٹی روڈ کے ساتھ تھی‘

اس میں ملک کے تمام اخبارات‘ رسائل اور جرائد آتے تھے اور کتابیں ملتی تھیں‘ ان میں سے بعض کتابیں قیام پاکستان سے قبل شائع ہوئی تھیں‘ کتابوں کے آخر میں پین سے ان لوگوں کے نام لکھے جاتے تھے جنہوں نے وہ کتاب ایشو کرائی اور پڑھی‘ مجھے چند ایسی کتابیں دیکھنے کا موقع ملا جو ریلوے کے انگریز اہلکاروں نے عطیہ کی تھیں یا وہ ان کے زیر مطالعہ رہی تھیں‘ ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم بھی لالہ موسیٰ میں رہتی تھیں‘ ان کے خاوند چودھری احمد خان پولیس آفیسر تھے‘ وہ مضافاتی گائوں سہنہ کے رہنے والے تھے‘ وہ انہیں کلکتہ سے لالہ موسیٰ لے آئے تھے‘ وہ اپنے دور کی عظیم گلوکارہ تھیں‘ لوگ ان کے پائوں چومتے تھے‘ ملکہ موسیقی نے شہر میں خوب صورت حویلی بنا رکھی تھی‘ حویلی کا گیٹ لوہے کی جالی کا تھا جس کے آر پار دیکھا جا سکتا تھا‘ ہم بچپن میں ان کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اندر جھانکتے رہتے تھے‘ انہیں پودوں اور پرندوں کا شوق تھا‘ ان کے لان سے پرندوں کی آوازیں آتی تھیں اور وہ خود اپنے ہاتھ سے پودوں کو پانی دیتی تھیں‘ہم تقریباً روز انہیں دیکھتے تھے‘ ان کا رنگ پکا اور بدن بھاری تھا لیکن اس کے باوجود ان میں بلا کی کشش تھی‘ مقامی لوگ انہیں ’’بنگالن‘‘ کہتے تھے‘ وہ کتابیں پڑھنے کی بھی شوقین تھیں‘ مجھے اس زمانے میں ایسی متعدد کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا جن کے آخر میں روشن آراء کا نام لکھا تھا‘ وہ کتابیں انہوں نے جاری کرائی تھیں جن میں ہیگرڈ کا ناول ’’شی‘‘ بھی شامل تھا‘ وہ لائبریری بعدازاں نئی عمارت کے نام پر گرا دی گئی‘

کتابیں عارضی طور پر میونسپل کمیٹی شفٹ کر دی گئیں لیکن وہ عمارت اس کے بعد دوبارہ کبھی نہیں بن سکی‘ مجھے قوی امید ہے لائبریری کی جگہ پر اب قبضہ ہو چکا ہو گا اور وہ کسی طاقتور شخص کی حرص کا رزق بن چکی ہوگی‘ کتابیں بھی میونسپل کمیٹی کے گوداموں میں پڑی پڑی ضائع ہو گئیں‘ پبلک لائبریری کے علاوہ شہر میں تین پرائیویٹ لائبریریاں تھیں‘ ہم اس زمانے میں انہیں آنا لائبریری کہتے تھے‘ مالکان ہر ماہ نئی کتابیں اور رسائل خریدتے تھے اور انہیں ایک آنا فی دن کے حساب سے کرائے پر دیتے تھے‘ ہمارے پاس مالیاتی وسائل کم ہوتے تھے چناں چہ ہم نے وہ کتاب ایک ہی دن میں مکمل کرنی ہوتی تھی‘ مجھے بچپن میں کتابوں کی لت پڑ گئی لہٰذا میں تینوں لائبریریاں چاٹ گیا‘ اس زمانے میں روسی ادب اردو میں ترجمہ ہو کر آتا تھا‘ وہ کتابیں اردو میں ٹائپ شدہ ہوتی تھیں‘ انہیں پڑھنا ذرا مشکل ہوتا تھا جب کہ پاکستانی کتابیں کتابت کے بعد شائع ہوتی تھیں یعنی قلم سے لکھ کرچھاپی جاتی تھیں‘ اس زمانے میں پورے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں کاتب تھے‘ وہ بچے جو تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پاتے تھے وہ کتابت سیکھ کر گھر کا خرچ چلا لیتے تھے‘ ہمارے بے شمار کلاس فیلوز کاتب بنے اور آرام سے زندگی گزارنے لگے لیکن پھر کمپیوٹر آیا اور کاتبوں کا پورا شعبہ ختم ہو گیا‘ لاکھوں لوگ ایک ٹیکنالوجی نے بے روزگار کر دیے۔

میں میٹرک سے پہلے پوشکن‘ چیخوف‘ ٹالسٹائی اور دوستوفسکی پڑھ چکا تھا‘ اس زمانے میں انگریزی ادب بھی ترجمہ ہو کر شائع ہوتا تھا چناں چہ میں نے اوہنری‘ شیکسپیئر‘ چارلس ڈکن‘ سڈنی شیلٹن‘ کافکا‘ موپساں اور ارنسٹ ہیمنگ وے بھی پڑھ لیا‘ ہمارے زمانے میں نسیم حجازی کے ناول بہت مشہور تھے‘ لوگ ان کے ہر نئے ناول کا ایڑیاں اٹھا کر انتظار کرتے تھے‘ میں ان کی بھی ساری کتابیں پڑھ گیا‘ داستان امیر حمزہ مستقل سلسلہ تھا‘ ہر ہفتے اور پھر ہر مہینے اس سلسلے کا نیا ناول آتا تھا‘ ہم یہ بھی پڑھتے تھے‘ پھر ابن صفی کے جاسوسی ناول آنے لگے‘ مظہر کلیم اور اظہر کلیم کے ناول بھی آتے تھے‘‘ اشتیاق احمد کے جاسوسی ناول بھی ہر ہفتے اور ہر مہینے آتے تھے‘ کراچی سے سیارہ ڈائجسٹ‘ جاسوسی ڈائجسٹ‘ سسپنس ڈائجسٹ‘آداب عرض‘ جواب عرض‘ عورت ڈائجسٹ اور سرگزشت ڈائجسٹ کے نام سے ڈائجسٹ شائع ہوتے تھے‘ ان میں شکیل عادل زادہ صاحب‘ محی الدین نواب‘ اقبال احمد‘ الیاس سیتا پوری اور جون ایلیا لکھتے تھے اور کمال کر دیتے تھے‘میں ان سب کا مستقل قاری تھا‘ اے حمید کے ناول بھی آتے تھے‘ میں وہ بھی سارے پڑھ گیا‘ اخبارات کے میگزین‘ ادبی اور بچوں کے صفحے بہت تگڑے تھے‘ ان میں لکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی‘ وہ لوگ ایک سے بڑھ کر ایک تھے‘ ہمارے شہر میں قریشی نیوز ایجنسی تھی‘ وہ ڈاک خانے کے قریب کچی دکان تھی‘ اسے دو بھائی چلاتے تھے‘ وہ صبح کے وقت لوگوں کے گھروں میں اخبارات پھینکتے تھے لہٰذا وہ دوپہر کے وقت تھک جاتے تھے‘ میں اور میرا ایک دوست شاہد دوپہر کے بعد ان کے فری ورکرز بن جاتے تھے‘ ہم ان کی دکان پر بیٹھ جاتے تھے اور شام تک رسالے اور ڈائجسٹ پڑھتے رہتے تھے جب کہ دکان کے مالکان آرام کے لیے گھر چلے جاتے تھے‘ ہم اس دوران اخبارات اور ڈائجسٹ بیچتے رہتے تھے اور نہایت ایمان داری سے ان کی رقم انہیں دے دیتے تھے‘ اس سے ان کا بھی کام چل رہا تھا اور ہمارا بھی‘ میں آج سوچتا ہوں اگر قریشی نیوز ایجنسی نہ ہوتی یا قریشی برادرز ہم پر اعتماد نہ کرتے تو شاید میں آج صحافی نہ ہوتا اور مجھے مطالعے کا چسکا بھی نہ پڑتا۔ بہرحال قصہ مختصر میں تینوں لائبریریوں کا مستقل ممبر تھا‘ مجھے کتابوں کا کرایہ پورا کرنے کے لیے والدہ کے پیسے بھی چوری کرنا پڑتے تھے اور گھر کے ٹین ڈبے اور سوکھی روٹیاں بھی بیچنی پڑتی تھیں‘ میرے والد اور چچائوں کو کسی نے بتا دیا یہ کتابیں خراب ہوتی ہیں اور آپ کا لڑکا خراب ہو چکا ہے چناں چہ والد نے میرے ایک چچا کو ’’خراب کتابوں‘‘ کو تلف کرنے پر لگا دیا‘ چچا بہت سخت اور ظالم تھا‘ وہ میرے بستے اور سرہانے کے نیچے سے کتابیں نکال کر جلا دیتا تھا‘ اس ’’ظلم‘‘ کی زد میں اکثر اوقات میری درسی کتب بھی آ جاتی تھیں‘ میں نے کتابوں اور رسالوں کے چکر میں بچپن میں بہت مار کھائی لیکن اس کے باوجود ڈٹا رہا چناں چہ میں کہہ سکتا ہوں میرا بچپن اچھا نہیں گزرا‘ برسوں بعد جب میرے والد کو اس ظلم اور زیادتی کا اندازہ ہوا تو بہت شرمندہ ہوئے لیکن ظاہر ہے وہ میرا بچپن مجھے واپس نہیں لوٹا سکتے تھے‘ انہیں آخر تک اس کا افسوس رہا۔

میرے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے کتابوں کا دور ختم ہوگیا اور اس کی جگہ مذہب بلکہ فرقہ پرستی‘ ویڈیو گیمز اور ہیروئن نے لے لی‘ لائبریری کی جگہ ویڈیو گیمز کی دکانیں بن گئیں اور بچے کتابوں کی جگہ ویڈیو گیم کھیلنے لگے‘ ویڈیو گیمز شروع میں بلیک اینڈ وائیٹ اور اے ٹی ایم مشین جیسی ہوتی تھیں‘ ہم دکان دار کو رقم دے کر اس سے لوہے کا سکہ لیتے تھے‘ وہ مشین میں ڈالا جاتا تھا جس کے بعد ٹیں کی آواز آتی تھی اور مشین چل پڑتی تھی‘ گیم کے مختلف لیول ہوتے تھے جن کے دوران سکہ ختم ہو جاتا تھا اور مزید سکے ڈالنے پڑتے تھے‘ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے محلوں میں سنوکر آیا اور جگہ جگہ اس کے میز بھی لگ گئے لیکن پھر ویڈیو گیمز گھروں میں شفٹ ہوتی چلی گئیں‘ آج یہ موبائل فون میں آ چکی ہیں‘ اس دوران پرائیویٹ لائبریریوں کا کلچر مکمل طور پر ختم ہو گیا‘ پبلک لائبریریاں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان میں بھی کوئی شخص داخل نہیں ہوتا‘ رسائل‘ ڈائجسٹ اور اخبارات کا زمانہ بھی ختم ہو چکا ہے‘ میرے گھر میں کبھی چودہ اخبارات آتے تھے‘ اب یہ چار میں تبدیل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی پڑھنے لائق کوئی چیز نہیں ہوتی‘ اسلام آباد میں مسٹر بکس کے نام سے کتابوں کی واحد دوکان ہوتی تھی‘وہ چھوٹی بھی تھی اور ٹیڑھی بھی‘ جنرل پرویزمشرف کے زمانے میں 2004ء میں اٹل بہاری واجپائی پاکستان کے دورے پر آئے‘ وزیر خزانہ شوکت عزیز ان کے وزیر مہمان داری تھے‘ واجپائی نے انہیں کسی بک شاپ پر لے جانے کا کہا‘ واجپائی یہاں سے کتابیں خریدنا چاہتے تھے‘ اس وقت پتا چلا اسلام آباد میں کوئی ایسی بک شاپ موجود نہیں جہاں واجپائی کو لے جایا جا سکے چناں چہ شوکت عزیز نے وزیراعظم بننے کے بعد جناح سپر مارکیٹ میں ایک بک سیلر کو کمرشل پلاٹ دیا اور اس نے سعید بک ڈپو کے نام سے کتابوں کی اچھی دکان بنائی لیکن چھوٹے شہروں میں یہ سہولت سرے سے موجود نہیں‘ مجھے پچھلے دنوں کسی نے بتایا سعید بک ڈپو بھی بند ہو رہا ہے‘ اسے پلازے کے اربوں روپے مل رہے ہیں لہٰذا یہ بھی بلڈنگ بیچ کر موج کرنا چاہتا ہے۔

ہمارے زمانے میں ہر دفتر میں ٹائپسٹ اور شارٹ ہینڈ کی پوسٹ ہوتی تھی‘ آفیسر اپنے سیکرٹری کو شارٹ ہینڈ میسج لکھواتا تھا اور وہ ٹائپسٹ سے اسے ٹائپ کرا دیتا تھا چناں چہ شہر میں بے شمار ایسے سنٹر تھے جہاں نوجوانوں کو ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ کے کورس کرائے جاتے تھے‘ میں نے بھی یہ کورس کیے لیکن ان میں مہارت حاصل نہ کر سکا‘ یہ شعبہ بھی دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو گیا‘ کمپیوٹر میرے سامنے آیا‘ یہ سب سے پہلے بینکوں میں آیا تھا‘ ہم لوگ اسے ’’کم پوٹر‘‘ کہتے تھے‘ یہ بلیک اینڈ وائیٹ ہوتا تھا‘ سکرین چھوٹی لیکن اس کا ڈبا بڑا ہوتا تھا‘ اس کے ساتھ پرنٹر ہوتا تھا لیکن وہ سطریں ٹائپ کرتا تھا اور اس سے چرڑ چرڑ کی آوازیں آتی تھیں‘ 1990ء کی دہائی کے شروع میں نواز شریف کے دور میں کمپیوٹر عام ہوا جس کے بعد لوگوں نے ’’پی سی‘‘ خریدنے شروع کر دیے‘ لیرز پرنٹر بھی اسی زمانے میں آیا‘ اردو کے فونٹ بھی میرے سامنے آئے جن کے بعد کاتبوں کی پوری صنعت ختم ہو گئی‘ میرے بچپن کے کیمرے بھی دل چسپ ہوتے تھے‘ ان میں ریل ڈالی جاتی تھی اور تصویر کھینچنے کے بعد اسے ڈویلپ اور پرنٹ کیا جاتا تھا‘

شہر کے مختلف حصوں میں فوٹو سٹوڈیو ہوتے تھے جن کے پیچھے ڈویلپنگ اور پرنٹنگ کا کمرہ ہوتا تھا‘ اسے ڈارک روم کہا جاتا تھا‘ اس میں صرف سرخ رنگ کا زیرو کا بلب جلایا جا سکتا تھا‘ تصویر کھینچنے کے لیے سامنے بیٹھے شخص کو سانس روک کر چار پانچ منٹ ساکت بیٹھنا پڑتا تھا جس کے بعد ٹھس کی آواز آتی تھی اور تصویر کھینچ لے جاتی تھی‘ آپ آج ماضی کے جس بھی شخص کی پرانی تصویر دیکھیں گے اس میں وہ اکڑ کر بیٹھا ہو گا‘ یہ اس زمانے کی مجبوری تھی اگر تصویر کھینچوانے والا سانس روک کر اکڑ کر نہیں بیٹھتا تھا تو تصویر ’’بلر‘‘ ہو جاتی تھی جسے فوٹو گرافر ہلی ہوئی تصویر کہتے تھے‘ سٹوڈیو میں دیوار پر پہاڑی سینریاں ہوتی تھی جن کے ایک کونے میں کبوتر یا باز کی پینٹنگ ہوتی تھی‘ زیادہ تر لوگ اس سینری کے سامنے تصویریں بنواتے تھے‘ کوٹ اور ٹائیاں فوٹوگرافر کی ہوتی تھیں‘ وہ عموماً لنڈے کے ہوتے تھے اور ان میں جوئیں پڑی ہوتی تھیں لہٰذا تصویر بنوانے والا ہفتوں سر کھجاتا رہتا تھا‘ سڑکوں کے کنارے بھی فوٹو گرافر ہوتے تھے تاہم ان کے کیمروں کے پیچھے سیاہ رنگ کا برقعہ ہوتا تھا‘ فوٹو گرافر اس میں گھس کر تصویر کھینچتا تھا‘باہر صرف اس کی ٹانگیں نظر آتی تھیں‘ ہم اسے ’’برقعہ کیمرہ‘‘ کہتے تھے‘ فوٹو گرافر تصویر کھینچتے وقت ریڈی ‘ون‘ ٹو‘ تھری ضرور کہتا تھا‘ وہ بھی انگریزوں کے دور کے روایت تھی‘ میرے بچپن میں شراب پر پابندی نہیں تھی‘ ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی۔ (جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…