اسلام آباد (نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں نجی شعبے سے وابستہ غیرملکی ملازمین کے لیے ملازمت سے متعلق اہم قواعد سامنے آگئے ہیں،
جن کی بعض خلاف ورزیوں کی صورت میں کارکن کو نیا ورک پرمٹ حاصل کرنے سے 12 ماہ تک روکا جاسکتا ہے۔
اماراتی حکومت کے مطابق وفاقی فرمان قانون نمبر 33 برائے 2021 کے تحت مخصوص حالات میں غیرملکی کارکنوں پر ایک سال تک نئے ورک پرمٹ کے اجرا کی پابندی عائد ہوسکتی ہے۔
قواعد کے مطابق آزمائشی مدت یعنی پروبیشن کے دوران بغیر کسی قابل قبول وجہ کے ملازمت چھوڑنا بھی ایسی صورتحال میں شامل ہے۔ اگر ملازم نے بلاجواز نوکری ترک کی ہو اور آجر نے ملازمت کے معاہدے میں درج اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہوں تو متعلقہ کارکن کو ایک سالہ پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح اجازت یا مناسب وجہ کے بغیر مسلسل کام سے غیرحاضری بھی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر آجر ملازم کے خلاف ملازمت چھوڑنے کی رپورٹ درج کرائے اور متعلقہ حکام اس کی تصدیق کردیں تو متاثرہ شخص کے لیے 12 ماہ تک نیا ورک پرمٹ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
ایک اور اہم صورتحال جعلی یا غیر موجود ادارے کے ورک پرمٹ سے متعلق ہے۔ اگر کسی غیرملکی کے پاس ایسی کمپنی کا ورک پرمٹ ہو جو حقیقت میں موجود نہ ہو یا ادارہ جعلی ثابت ہوجائے اور اسی بنیاد پر پرمٹ منسوخ کردیا جائے تو کارکن پر بھی ایک سال تک نئی ملازمت کا ورک پرمٹ حاصل کرنے کی پابندی لگ سکتی ہے۔
ورک پرمٹ پر اس پابندی کے دوران متاثرہ غیرملکی شہری متحدہ عرب امارات کے نجی شعبے میں نئی باقاعدہ ملازمت کے لیے نیا اجازت نامہ حاصل نہیں کرسکے گا۔
متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرنے والے یا وہاں روزگار کے لیے جانے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمت کا معاہدہ، کمپنی کی قانونی حیثیت اور ورک پرمٹ سے متعلق تمام دستاویزات اچھی طرح جانچ لیں۔ غیرملکی کارکنوں کو خاص طور پر غیر موجود یا جعلی کمپنیوں کے ذریعے ملازمت کی پیشکش اور غیرقانونی روزگار کے معاملات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔



















































