جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

datetime 3  ستمبر‬‮  2026

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ آٹھ آنا گھنٹہ ہوتی تھی‘ میں نے کرائے پر سائیکل لے کر چلانا سیکھی‘

ان سائیکلوں پر کیریئر نہیں ہوتے تھے تاکہ کوئی بچہ پیچھے نہ بیٹھ سکے تاہم بڑے لڑکے اپنے کسی بھائی یا بہن کو سائیکل کے ڈنڈے پر بٹھا لیتے تھے‘ میرا قد اس وقت چھوٹا تھا‘ میں سیٹ پر بیٹھ کر سائیکل نہیں چلا سکتا تھا چناں چہ میں نے حسب روایت فریم کے اندر کھڑے ہو کر سائیکل چلانی سیکھی‘ ہم اسے اپنی زبان میں قینچی سائیکل کہتے تھے‘ فن کے اس مظاہرے کے دوران سائیکل سوار گدی (سیٹ) پر نہیں بیٹھتا تھا‘ وہ فریم کے اندر پیڈلز پر دونوں پائوں جما کر ہینڈل ہاتھ میں پکڑتا تھا اور سائیکل کے ساتھ لٹک کر اسے چلاتا جاتا تھا‘ ہم میں سے ننانوے فیصد بچوں نے اسی طریقے سے سائیکل چلانی سیکھی‘ میں جب قینچی سائیکل کا ایکسپرٹ ہو گیا تو چھوٹی سائیکلیں کرائے پر لے کر آدھا آدھا دن شہر میں گھومتا رہتا تھا‘ اس زمانے کا ایک واقعہ میں کبھی نہیں بھول سکا‘ میں گلی میں چھوٹی سائیکل چلا رہا تھا‘ وہ عموماً ڈھلان پر تیز ہو جاتی تھی‘ میں ڈھلوان اتر رہا تھا تو سائیکل تیز اور آئوٹ آف کنٹرول ہو گئی‘ سامنے گلی میں ایک موٹا تازہ شخص دھوتی اور بنیان میں ملبوس مسواک کر رہا تھا‘ میں نے شور مچا کر اسے دائیں بائیں ہونے کا اشارہ کیا لیکن وہ معاملے کی نزاکت نہیں سمجھ سکا اور میں سیدھا سائیکل سمیت اس کی ٹانگوں میں گھس گیا اور اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ٹانگیں کھول دیں جب کہ میں نے آنکھیں بند کر لیں‘ تھوڑی دیر بعد چیخوں کی آواز آئی‘ میں نے آنکھ کھولی تو وہاں عجیب منظر تھا‘ وہ موٹا دونوں ہاتھ ٹانگوں کے درمیان رکھ کر چیخ رہا تھا‘ مسواک اس کے پیروں میں پڑی تھی‘

منہ سے جھاگ نکل رہی تھی جب کہ اس کی دھوتی میری سائیکل کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی اور گلی میں قہقہے گونج رہے تھے‘ اس دن میری شکایت ہو گئی اور والد نے میری ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کی لیکن وہ مجھے مارتے ہوئے ہنستے بھی جا رہے تھے۔
ہم شام کے وقت کھانے سے پہلے گلی میں چھپن چھپائی اور باندر کلہ کھیلتے تھے‘ باندر کلے میں گلی کے درمیان کھونٹا ٹھونک کر اس کے ساتھ رسی باندھی جاتی تھی‘ تمام لڑکے اپنے جوتے کھونٹے کے گرد ڈھیر کردیتے تھے پھر ہم میں سے کوئی لڑکا باندر (بندر) بنتا تھا‘ وہ رسی کا سرا پکڑ کر گول گول گھومتا رہتا تھا‘ باقی لڑکوں نے کھونٹے کے گرد پڑے جوتے اٹھانا ہوتے تھے‘ باندر (بندر) نے اس دوران جوتے اٹھانے والے کسی لڑکے کو ہاتھ لگانا ہوتا تھا‘ اگر باندر کا ہاتھ کسی کو لگ جاتا تھا تو رسی اسے پکڑنی پڑ جاتی تھی جس کے بعد پہلا باندر آزاد ہو جاتا تھا‘ لڑکے اگر سارے جوتے اٹھانے میں کام یاب ہو جاتے تھے تو وہ پھر انہی جوتوں سے آخری باندر کی پٹائی شروع کر دیتے تھے اور وہ بھاگ کر جان بچاتا تھا‘ میں جب عملی زندگی میں آیا تو پتا چلا ملک کے ہر شعبے میں باندر کلے ہیں‘ لوگ جوتے اٹھاتے جاتے ہیں اور باندر کو پھینٹا لگاتے جاتے ہیں‘ مجھے ہر شعبے میں بے شمار باندر نظر آئے‘یہ آتے جاتے رہتے ہیں تاہم کلہ مستقل رہتا ہے‘ کلے کے گرد جوتے بدل جاتے ہیں لیکن پھینٹا سب بندروں کو پڑتا ہے۔

پاکستان میں1980ء میں بڑی سماجی تبدیلی آئی‘ بھٹو صاحب کے دور میں لاکھوں پاکستانی مڈل ایسٹ گئے‘ یہ سعودی عرب‘ یو اے ای اور لیبیا میں مزدوری کرتے تھے‘ عربوں میں تیل کی نئی نئی دولت آئی تھی چناں چہ صحرائوں کو شہروں میں تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ بھٹو صاحب کے اس دور میں عربوں کے ساتھ ویسے ہی تعلقات تھے جو آج فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہیں‘ بھٹو صاحب نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور خلیج کو پاکستانی مزدوروں کے لیے اوپن کرا دیا‘ اس کے نتیجے میں دیہات اور شہروں کے پسے ہوئے طبقوں کے نوجوان لاکھوں کی تعداد میں عرب ملکوں میں پہنچ گئے‘ دیہات سے کمیوں کے سارے جوان عرب چلے گئے جب کہ شہروں سے راج‘ مزدور‘ مکینک‘ الیکٹریشن‘ پلمبر اور ہیلتھ ورکرز باہر چلے گئے‘ ہم آج برین ڈرین پر بہت شور مچاتے ہیں جب کہ اصل ڈرین بلکہ سکلڈ برین ڈرین 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں ہوا تھا‘ پورے ملک سے ماہرین باہر چلے گئے تھے اور پیچھے ایک ایسا خلا رہ گیا جو آج تک پر نہیں ہو سکا‘ ہم آج پلمبرز‘ الیکٹریشنز اور ہیلتھ ورکرز کی ذلالتوں پر روتے ہیں‘صورت حال واقعی رونے کے قابل ہے لیکن ہم اس کی وجہ بھول جاتے ہیں‘ یہ صورت حال اس برین ڈرین کا نتیجہ ہے‘ ملک سے جب ہر شعبے کے اعلیٰ لوگ چلے جائیں گے تو پیچھے نکھٹو رہ جائیں گئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور وہ ہوا‘ یہ ایک ایشو تھا لیکن اصل سماجی مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب وہ لوگ چھٹی پر گھر واپس آنے لگے۔ وہ لوگ خلیجی ممالک سے دھڑا دھڑ ٹیپ ریکارڈز‘ کلر ٹیلی ویژن ‘ ہوم اپلائنسز اور سونے چاندی کے زیورات لے کر آنے لگے‘ اس زمانے میں ہر فلائیٹ سے جو مخلوق باہر نکلتی تھی اس کی کلائی پر گولڈن کلر کی راڈو گھڑی‘ نیشنل اور کیسیو کا ٹیپ ریکارڈ اور جیب میں چاندی یا سونے کے رنگ کا سگریٹ کیس ہوتا تھا‘

وہ لوگ پس ماندہ اور محروم طبقے سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا وہ گائوں میں چودھریوں کو ترسانے اور حسد میں مبتلا کرنے کے لیے صبح سویرے ٹیپ ریکارڈ ہاتھ میں اٹھا کر کھیتوں میں پھرتے رہتے تھے‘ وہ دھڑادھڑ گھر والوں کو ریال بھی بھجوا رہے تھے جس سے ان کے لواحقین اپنے گھر پکے کرا رہے تھے یوں تیزی سے کمیوں کے گھر پکے اور وسیع ہوتے چلے گئے اور چودھری کم زور اور غریب بنتے چلے گئے‘ چودھری کیوں کہ کام نہیں جانتے تھے‘ یہ کمیوں کے ساتھ صحرائوں میں محنت مزدوری کے لیے بھی تیار نہیں تھے چناں چہ یہ باہر نہیں جاتے تھے اور اگر چلے جاتے تھے تو مہارت کی کمی کی وجہ سے جلد واپس آ جاتے تھے یوں کل کے امیر آج کے غریب اور کل کے غریب آج کے امیر ہوتے چلے گئے جس نے بے شمار سماجی مسائل پیدا کر دیے‘ والد صاحب نے میرے دو چچائوں کو بھی لیبیا بھجوایا تھا لیکن وہ سال کے اندر واپس آ گئے‘ ان کا شکوہ تھا ہم جدھر جاتے تھے ہمیں وہاں کمی ہی کمی نظر آتے تھے‘اس زمانے میں شہروں کے اندر بھی ایسی ہی صورت حال تھی‘ غریب تیزی سے امیر ہو گئے اور امیر اس سے کہیں زیادہ تیزی سے غریب بن گئے جس کے نتیجے میں نفسیاتی خرابیاں پیدا ہو گئیں‘ بہرحال قصہ مختصر خلیجی ملکوں کی مہربانی سے ہماری زندگی میں ٹیپ ریکارڈز اور رنگین ٹی وی آ گئے‘ شہر میں کیسٹس کی دکانیں اور میوزک سنٹر بن گئے اور ہر گلی سے پاکستانی اور انڈین گانوں کی آوازیں آنے لگیں‘ لوگ رات کے وقت چھتوں پر بھی ٹیپ چلا دیتے تھے جس سے لوگوں کا آرام بے آرامی میں تبدیل ہو گیا‘ شہروں اور دیہاتوں میں گاڑیاں بھی آنے لگیں‘ اس خوش حالی نے نئے حسب نسب بھی پیدا کر دیے‘ ہمارے سامنے بے شمار لوگ خود کو سید‘ شاہ‘ غوری‘ مرزا‘ مغل‘ منہاس‘ بھٹی اور چودھری لکھنے لگے‘ یہ لقب یا ذاتیں اس سے قبل نہ ہونے کے برابر تھیں‘ ہمارے شہر میں اس سے قبل کوئی رائو نہیں تھا لیکن خوش حالی کے بعد بے شمار رائو اور ملک پیدا ہو گئے‘ اس نے معاشرے میں دکھاوا اور منافقت پیدا کر دی اور یہ آنے والے وقت میں بڑھتی گئی اور لوگ مختلف بلاکس میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔

میرے چچا بھی لیبیا سے راڈو کی گھڑی‘ ٹیپ ریکارڈ‘ جوسر بلینڈر اور ایک سوٹ لے آئے‘ یہ برائون رنگ کا ٹو پیس کوٹ پتلون تھا‘ گھڑی اور کوٹ والد صاحب پہنتے رہے‘ وہ تنگ آ گئے تو کوٹ مجھے دے دیا‘ میں نے اسے منیر درزی سے چھوٹا کرایا اور کالج تک پہنتا رہا‘ لاہور گیا تو اس وقت پتا چلا وہ ’’لیڈی کوٹ‘‘ تھا کیوں کہ اس کی فرنٹ جیب نہیں تھی جس کے بعد میں نے اسے اتار کر بھکاری کو دے دیا‘ والد بڑے عرصے تک یہ سمجھتے رہے میں نے ان کا قیمتی کوٹ بیچ دیا ہو گا‘ نیشنل کا ٹیپ ریکارڈر بڑا عرصہ ہمارے گھر رہا‘ ہمارے پاس دس کیسٹس تھیں‘ ہم ان پر بار بار نئے گانے ریکارڈ کرا لیتے تھے‘ اباجی کو میوزک اچھا نہیں لگتا تھا چناں چہ میں جب کالج گیا تو انہوں نے وہ ٹیپ ریکارڈ بیچ دیا تاہم راڈو کی گھڑی وہ اس وقت تک پہنتے رہے جب تک وہ چوری نہیں ہو گئی‘ میرے چچا ہر شخص کو والد کی کلائی پر بندھی گھڑی دکھا کر بتایا کرتے تھے یہ میں ’’طرابلس‘‘ سے لے کر آیا تھا‘ وہ اس کے بعد لیبیا کی درجنوں جھوٹی سچی کہانیاں بھی سناتے تھے جب کہ جوسر بلینڈر نے ہماری زندگی عذاب کر دی ‘ والد صاحب اس نعمت کو مسلسل استعمال کرنا چاہتے تھے چناں چہ وہ روز پھلوں کا ٹوکرا لے کر آتے تھے‘ پھلوں کے ڈھیر کے درمیان بلینڈر رکھتے تھے‘ جوس بناتے جاتے تھے اور ہمیں زبردستی پلاتے جاتے تھے‘ جوس پی پی کر ہمارے معدے خراب ہو گئے لیکن والد صاحب نہیں رکے‘ وہ’’ مشین‘‘ جب کثرت استعمال سے جل گئی تو ہماری جان چھوٹی اور ہم نے سکھ کا سانس لیا‘ پورے محلے میں کیوں کہ اس وقت صرف ہمارے پاس جوسر بلینڈر تھا لہٰذا والد صاحب اسے روز دکان پر لے جاتے تھے اور نمایاں جگہ پر رکھ دیتے تھے تاکہ لوگ اس ’’عظیم مشین‘‘ کا مشاہدہ کر سکیں اگر کوئی اسے دیکھنے کے بعد ان سے یہ نہیں پوچھتا تھا ’’چودھری صاحب یہ کیا چیز ہے؟‘‘ تو وہ برا مان جاتے تھے اور کھل کر اس کے خاندان کی ’’تعریف‘‘ کرتے تھے‘ تعریف کے آخر میں والد اور ان کے بھائی اس نتیجے پر پہنچتے تھے یہ شخص کمی ہے اور یہ ہم سے حسد میں مبتلا ہو چکا ہے‘ میں نے بچپن میں درجنوں لوگوں کو صرف جوسر بلینڈر کو لفٹ نہ کرانے کے جرم میں ’’کمی کمین‘‘ بنتے دیکھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…