منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

datetime 1  ستمبر‬‮  2026

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور اپنے بھائی کے جوتے چمکاتے گزرا‘ یہ چھوٹی سی گول ڈبی ہوتی تھی‘ بازار سے سیاہ بالوں والا شو برش آتا تھا‘ ہم ڈبی کھول کر پالش کی ناہموار سطح پر برش گھسیٹتے تھے اور پھر برش سے پالش جوتوں پر لگا کر رگڑتے رہتے تھے‘

اس زمانے میں پالش کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی تھی چناں چہ ہمارے ہاتھوں اور کپڑوں پر پالش لگ جاتی تھی اور آدھا دن ہاتھوں سے بو آتی رہتی تھی‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے اس زمانے میں جوتے صرف سیاہ رنگ کے آتے تھے‘ یہ باٹا کمپنی کے بنے ہوتے تھے‘ آگے سے چوکور ہوتے تھے اور انہیں روز چمکانا پڑتا تھا‘ ہمارے بچپن میں برائون جوتے آئے اور اس کے ساتھ ہی برائون پالش بھی آ گئی‘ کینوس شوز 1980ء کی دہائی میں آئے‘ یہ بیڈمنٹن اور لان ٹینس کھیلنے کے لیے پہنے جاتے تھے‘ جاگرز 1990ء کی دہائی میں پاپولر ہوئے تھے‘ سروس کمپنی نے ’’چیتے‘‘ کے نام سے جاگرز متعارف کرایاتھا‘ اسے مشہور کرنے میں اس زمانے کے کرکٹ ہیروز جن میں وسیم اکرم زیادہ نمایاں تھے نے اہم کردار ادا کیا‘ ہم برائون شوز گھر اور تقریبات میں پہنتے تھے جب کہ سیاہ بوٹ سکول یونیفارم کا حصہ تھے‘ یہ اگر صاف اور پالشڈ نہیں ہوتے تھے تو سکول سے مار پڑتی تھی چناں چہ ہم انہیں روزچمکاتے تھے‘ پالش میں چمک پیدا کرنے کے لیے بعدازاں ویکس آ گئی‘ یہ بھی ڈبی میں ہوتی تھی‘ اس کا رنگ ہلکا پیلا تھا‘

ہم جوتے پالش کرنے کے بعد اس پر ریشمی کپڑے سے ویکس لگاتے تھے اور پھر اسے دھوپ میں رکھ دیتے تھے اور یوں وہ چمکنے لگتے تھے‘ اس زمانے میں ہر گھر میں راشن کارڈ ہوتا تھا‘ یہ گتے کا ٹکڑا تھا جس پر گھر کے افراد کی تعداد لکھی ہوتی تھی‘ بعدازاں یہ چھوٹی سی بک لیٹ یا ڈائری میں تبدیل ہو گیا‘ شہر میں راشن ڈپو ہوتے تھے‘ لوگ ہر ہفتے راشن کارڈ لے کر وہاں جاتے تھے اور ڈپو والے سے ہفتہ بھر کے لیے آٹا‘ چینی اور چاول لے کر آتے تھے‘ ہم کیوں کہ دیہاتی تھے لہٰذا ہماری خوراک گائوں سے آ جاتی تھی لیکن شہر کے لوگ راشن تک محدود تھے‘اس زمانے میں ڈپو صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدے داروں کو ملتا تھا چناں چہ ذوالفقار علی بھٹو کی تلوار نے بے شمار جیالوں کو نوازا‘ یہ لوگ آٹا‘ چاول اور چینی بازار میں بھی بیچ دیتے تھے جس کی وجہ سے یہ بلیکیے کہلاتے تھے‘ ڈپو کے دو مالکان میرے والد کے دوست تھے‘ وہ بھی راشن بچا کر ہماری دکان پر بیچ دیتے تھے‘ والدہ کو یہ کام اچھا نہیں لگتا تھا لہٰذا انہوں نے جھگڑا کر کے یہ کام بند کرایا اور ڈپو مالکان کو دھمکا کر بھگا دیا‘ اس زمانے میں لوگوں میں غربت اور رواداری دونوں تھیں‘ لوگ ایک دوسرے سے آٹا‘ چینی‘ دودھ‘ پتی اور سالن مانگ لیتے تھے‘ ہمارے گھر روز کوئی نہ کوئی ہمسایہ آٹا مانگنے آتا تھا اور والدہ گندھا ہوا آٹا اسے دے دیتی تھیں‘اس کی وجہ ہمارے گھر میں اناج کی فراوانی تھی‘ ہمارا اناج گائوں سے آتا تھا چناں چہ لوگوں کو ہم سے امید ہوتی تھی‘ والد نے شہر میں دو بھینسیں بھی رکھی ہوئی تھیں‘ ہمارے گھر میں دودھ‘ دہی اور لسی بھی ہوتی تھی‘ لوگ یہ بھی مانگتے تھے اور والدہ بخوشی انہیں یہ دے دیتی تھیں‘ اس زمانے میں فریج نہیں تھا‘ والدہ کا خیال تھا خوراک ضائع ہونے کے بجائے اگر کسی کے کام آ جائے تو زیادہ اچھا ہے۔

ہماری گلی میں روز صبح کے وقت فقیر آتے تھے‘ یہ سروں میں ’’دے جا صدقہ راہ خدا‘‘ کی صدائیں لگاتے تھے‘ وہ فجر کی نماز کے بعد گلیوں میں نکل آتے تھے‘ میری آنکھیں ہمیشہ ان کی آوازوں سے کھلیں‘ والدہ پہلی روٹی اور لسی کا پہلا جگ انہیں دیتی تھیں‘ میں نے اس زمانے میں سیکھا آپ نے اگر کسی سے ’’فیور‘‘ لینی ہو تو اس سے صبح سویرے رابطہ کریں‘ اس وقت اس کا دماغ فریش ہوگا‘ وہ انکار نہیں کرے گا‘ شام تک انسان تھک اور الجھ جاتا ہے لہٰذا وہ جائز مطالبہ بھی مسترد کر دیتا ہے‘ ہمارے زمانے کے بھکاری انسانی نفسیات کی اس باریکی سے واقف تھے چناں چہ وہ صبح سویرے یلغار کرتے تھے‘ شام کے وقت کوئی فقیر شہر نہیں آتا تھا‘ یہ لوگ شہر سے باہر بہاری کالونی کے قریب جھونپڑیاں ڈال کر رہتے تھے‘ بھنگ پینا ان کا مشغلہ ہوتا تھا‘ بہاری کالونی حکومت نے 1971ء کے سانحے کے بعد بنگلہ دیش سے آنے والے پاکستانیوں کے لیے بنائی تھی‘ یہ لوگ بہاری کہلاتے تھے‘ حکومت نے ہر شہر میں کالونیاں بنا کر انہیں آباد کیا‘ لوگ انہیں پسند نہیں کرتے تھے‘ یہ بھی مقامی آبادی کے ساتھ زیادہ کمفرٹیبل نہیں تھے لہٰذا یہ گھر بیچ کر بڑے شہروں میں شفٹ ہوئے اور پھر وہاں تحلیل ہو گئے‘ بہاری کالونی پر سیاست دانوں نے قبضہ کر لیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے صفحہ ہستی سے مٹ گئی‘ ہمارے بچپن میں جی ٹی روڈ پر طوائفوں کے چند گھر بھی تھے‘ ان کی وجہ سے وہ علاقہ کنجر محلہ کہلاتا تھا‘ اس دور میں زاہدہ اور شاہدہ دو طوائفیں بہت مشہور تھیں‘

روز ان کے گھر میں مجرا ہوتا تھا‘ شہر کے لوفر امیر زادے اور دیہاتوں کے بگڑے ہوئے چودھری تانگوں پر وہاں جاتے تھے‘ شہر کے لوگ اس محلے کو پسند نہیں کرتے تھے‘ وہ وہاں سے گزرتے ہوئے منہ پر کپڑا تان لیتے تھے‘ ہمیں بھی بزرگوں نے وہاں سے گزرنے سے منع کر رکھا تھا‘ والدہ کا کہنا تھا کنجروں کے گھروں کی طرف دیکھنا گناہ ہوتا ہے لہٰذا ہمیں اگر وہاں سے گزرنا پڑتا تھا تو ہم آنکھیں بند کر کے اندھوں کی طرح وہاں سے گزرتے تھے‘ زاہدہ اور شاہدہ بعدازاں بوڑھی ہو گئیں اور اپنے گھر بیچ کر کہیں چلی گئیں تاہم ان کا محلہ مدت تک کنجر محلہ رہا۔ ہمارے گائوں کے ہمسائے گائوں کا ایک زمین دار اپنا سب کچھ شاہدہ اور زاہدہ پر لٹا چکا تھا‘ وہ کبھی کبھار حقہ پینے کے لیے ہماری دکان پر آ جاتا تھا‘ میرے والد نے ایک دن اسے سمجھایا ’’تم اپنا سب کچھ کنجروں پر برباد کر چکے ہو‘ تم اب بوڑھے ہو چکے ہو‘ اللہ سے معافی مانگو اور اللہ اللہ کرو تا کہ تمہاری بخشش ہو سکے ‘‘ اس بدبخت نے حقے کا کش لگا کر جواب دیا ’’چودھری جس جنت میں شاہدہ اور زاہدہ نہیں ہوں گی میں نے وہاں امب لینے جانا ہے‘‘ یہ سن کر والد صاحب نے کانوں کو ہاتھ لگایا‘ اس سے حقہ چھینا اور کہا ’’دفع ہو جائو تم ابھی فوراً‘‘ اس نے قہقہہ لگایا‘ اپنی چادر سنبھالی اور چپ چاپ نکل گیا‘ اس بے چارے کا انتقال بعدازاں کنجروں کے محلے میں ہوا اور خاندان نے لاش لینے سے انکار کر دیا‘ اسے کنجروں نے دفن کیا‘ مجھے بڑے ہونے کے بعد پتا چلا اس قسم کے محلے جی ٹی روڈ کے تمام شہروں میں تھے‘ یہ راجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بنائے گئے تھے‘ ان میں مسلمان عورتیں رکھی جاتی تھیں اور یہ محلے سڑک سے گزرنے والے تاجروں اور فوجیوں کو تفریحی سہولتیں فراہم کرتے تھے۔

ہمارے گھروں میں اس زمانے میں بلب لگائے جاتے تھے‘ سب سے بڑا بلب سو واٹ کا ہوتا تھا‘ پچاس اور پچیس واٹ کے بلبوں کی روشنی کم ہوتی تھی جب کہ مختلف رنگوں کے چھوٹے چھوٹے بلب بھی ہوتے تھے‘ وہ ’’زیرو کے بلب‘‘ کہلاتے تھے‘ ہر کمرے بالخصوص لیٹرین میں زیرو کا بلب ضرور ہوتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ کم بجلی خرچ کرتا ہے‘ یہ عموماً دن کے وقت بھی جلتا رہتا تھا‘ سرخ رنگ کے زیرو بلب زیادہ استعمال ہوتے تھے‘ بلبوں کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی تھی‘ یہ بہت جلد فیوز ہو جاتے تھے چنا چہ ہمیں ہر مہینے نئے بلب خریدنے پڑتے تھے‘ فلپس کمپنی اس زمانے میں زیادہ مشہور تھی‘ زیادہ تر بلب اس کے ہوتے تھے‘ میرے سامنے دودھیا کلر کے بلب لانچ ہوئے‘ لوگ انہیں زیادہ پسند کرتے تھے‘ ٹیوب لائیٹس 1980ء کی دہائی میں آئیں اور ہر گھر میں لگیں‘ اس سے بجلی کی بچت ہوتی تھی‘ اس زمانے میں بجلی کی وائرنگ اوپن ہوتی تھی‘ گرے رنگ کے پائپ المونیم کی گریپس کے ساتھ پورے گھر کی دیواروں کے ساتھ لگائے جاتے تھے‘ ان کے اندر سے تاریں گزاری جاتی تھیں‘ سوئچ بورڈز لکڑی کے ہوتے تھے جن پر سیاہ رنگ کے موٹے اور بھدے سوئچ لگتے تھے‘ ان کے اوپر پلاسٹک کا ٹکڑا لگا ہوتا تھا‘ ہم اسے انگلی سے نیچے کر دیتے تھے‘ ٹک کی آواز آتی تھی اور بلب آن ہو جاتا تھا اور اسے اوپر کرتے تھے تو بلب بجھ جاتا تھا‘ اس زمانے میں بجلی صرف لائیٹ کے لیے استعمال ہوتی تھی اور زیادہ سے زیادہ بل دس بارہ روپے ہوتا تھا‘ ہمار بل ایک بار 25 روپے آ گیا‘ والد صاحب نے اس دن ڈنڈا اٹھا لیا‘ محلے کے لوگ بھی پورا ہفتہ ہمارا بل ڈسکس کرتے رہے‘ وہ ہم سے پوچھتے تھے ’’کیا تم لوگ بجلی کی ٹرین چلاتے ہو؟‘‘ والد صاحب اس دن کے بعد میرے ساتھ پورے گھر کی لائیٹس آف کرتے تھے‘ ہمارے لیے دن کے وقت لائیٹ جلانا گناہ کبیرہ تھا‘ میں آج بھی اس معمول پرعمل کر رہا ہوں‘ دن کے وقت کسی کو لائیٹ نہیں جلانے دیتا اور رات کوپورے گھر کی لائیٹس بند کر کے سوتا ہوں‘ والد کی ٹریننگ آج بھی میرے ساتھ ساتھ چل رہی ہے‘ اس زمانے میں بریکر نہیں ہوتے تھے‘ صرف فیوز ہوتے تھے‘ بجلی پر ذرا سے پریشر کے ساتھ فیوز اڑ جاتاتھا‘ ہم فیوز نکال کر اس میں تار کا ٹکڑا لگاتے تھے جس کے بعد بجلی آ جاتی تھی‘ یہ شہر کا معمول تھا چناں چہ ہر گھر میں بڑے سائز کا پیچ کس اور پلاس ضرور ہوتا تھا۔

ہم لوگ جوتے اس وقت تک پہنتے رہتے تھے جب تک وہ مکمل طور پر جواب نہیں دے جاتے تھے‘ شہر میں درجنوں موچی تھے‘ ہم ان سے اپنے جوتے ’’ری پیئر‘‘ کراتے تھے‘ ہماری گلی سے ذرا سے فاصلے پر موچیوں کا پورا محلہ تھا جس میں موچیوں کی درجنوں دکانیں تھیں‘ وہ لوگ کھسے سے لے کر بوٹ تک ہر قسم کا جوتا بناتے تھے‘ وہ پرانے جوتے مرمت بھی کرتے تھے‘ ہمارے سول زیادہ گھستے تھے چناں چہ جوتے پر ایک دو مرتبہ نیا سول لگوانا عام سی بات تھی‘ جوتوں کے اوپر چمڑے کے پیوند بھی لگوائے جاتے تھے‘ زیادہ تر لوگوں نے کپڑوں کے ساتھ ساتھ جوتے بھی دو قسم کے رکھے ہوتے تھے‘ اندر کے جوتے اور باہر کے جوتے‘ باہر کے جوتے عموماً شادی بیاہ پر پہنے جاتے تھے اور وہ نئے ہوتے تھے‘ لوگ شادیوں پر جانے کے لیے ایک دوسرے سے جوتے ادھار بھی لیتے تھے اور وہ جوتا جب تک ’’زندہ سلامت‘‘ واپس نہیں آ جاتا تھا جوتے کا مالک اس وقت تک کروٹیں لیتا رہتا تھا یا گلی میں پھرتا رہتا تھا‘ باٹا کمپنی نے 1980ء میں پہلی بار نرم چمڑے کی مکیشن متعارف کرائی‘ وہ تسموں کے بغیر تھی‘ اس کی ابتدائی قیمت 99روپے اور 99 پیسے تھی‘ یہ اس زمانے کا مہنگا ترین جوتا تھا‘ والد کو باٹا کے شو روم کے منیجر نے یہ خبر دی تو وہ مجھے ساتھ لے کر بازار چلے گئے اور وہ جوتا خرید دیا‘ آپ یقین کریں مجھے خوشی سے دو دن نیند نہیں آئی اور میں اس کے بعد بڑی مدت تک اپنے جوتے ڈبے سمیت سرہانے رکھ کر سوتا تھا‘ میرے سکول فیلوز بھی ایک دوسرے کو کہنی مار کر کہتے تھے ’’جیدے کے پاس سو روپے کی جوتی ہے‘‘اور ساتھ ہی میرا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا تھا (جاری ہے)۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…