پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

یوٹیوب کے بعد ‘بلی بلی’ کمائی کا نیا ذریعہ، عالمی کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے مواقع

datetime 31  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)یوٹیوب کے متبادل کے طور پر مقبول چین کے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ‘بلی بلی’ نے عالمی سطح پر اپنی موجودگی بڑھانے اور دنیا بھر کے کانٹینٹ کریئیٹرز کو متوجہ کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں،

جس کے بعد تخلیق کاروں کے لیے آن لائن کمائی کا ایک نیا راستہ سامنے آنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔رپورٹس کے مطابق بلی بلی کی جانب سے تخلیق کاروں کو ہر ایک ہزار ویوز پر تقریباً 0.70 امریکی ڈالر ادا کرنے کی پیشکش کی جارہی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 194 روپے بنتے ہیں۔ تاہم ادائیگی کی اس شرح اور موجودہ کمائی کے ماڈل کی بلی بلی کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے اسے حتمی معاوضہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔چینی میڈیا کے مطابق بلی بلی نے اپنے بین الاقوامی ورڑن میں متعدد تبدیلیاں کی ہیں تاکہ غیر ملکی صارفین اور تخلیق کاروں کے لیے پلیٹ فارم کا استعمال آسان بنایا جاسکے۔ نئے ورڑن میں رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے، لازمی شناختی تصدیق ختم کرنے، مقامی صارفین کے مطابق تجربہ فراہم کرنے اور بیرون ملک صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی سہولیات متعارف کرانے پر توجہ دی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق پلیٹ فارم عالمی تخلیق کاروں کو اپنی جانب راغب کرنے اور یوٹیوب کے مقابلے میں بہتر مالی مواقع فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بلی بلی اگرچہ حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر زیادہ زیر بحث آئی ہے، تاہم یہ کوئی نیا پلیٹ فارم نہیں۔ کمپنی نے 2009 میں کام شروع کیا تھا اور وقت کے ساتھ چین میں نوجوان صارفین کے درمیان خاصی مقبولیت حاصل کرلی۔بلی بلی کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 350 ملین سے زائد بتائی جاتی ہے، جبکہ بعض حالیہ دعووں کے مطابق یہ تعداد 370 ملین سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔

پلیٹ فارم پر غیر چینی تخلیق کاروں کی موجودگی بھی اس کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔ معروف یوٹیوبر اور کانٹینٹ کریئیٹر مسٹر بیسٹ نے 2024 میں بلی بلی پر مواد پوسٹ کرنا شروع کیا تھا اور اطلاعات کے مطابق پلیٹ فارم پر ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 8.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق بلی بلی کے لیے یوٹیوب کا حقیقی عالمی حریف بننا آسان نہیں ہوگا۔ یوٹیوب کئی برسوں سے دنیا بھر میں تخلیق کاروں، ناظرین اور مشتہرین کا وسیع نیٹ ورک قائم کرچکا ہے، جبکہ بلی بلی کا عالمی اشتہاری نظام اور تخلیق کاروں کے لیے مالی معاونت کا ڈھانچہ ابھی نسبتاً محدود ہے۔بلی بلی کی خاص پہچان اینیمیشن، گیمنگ، مصنوعی ذہانت اور دیگر مخصوص دلچسپیوں سے متعلق مواد کے گرد قائم مضبوط کمیونٹیز بھی ہیں۔ اس وجہ سے ان شعبوں میں کام کرنے والے عالمی تخلیق کاروں کو یوٹیوب کے علاوہ ایک نئی اور بڑی ناظرین کی برادری تک رسائی کا موقع مل سکتا ہے۔پلیٹ فارم کی ایک منفرد خصوصیت ‘ڈان مو’ یا بلٹ کمنٹس ہیں، جن میں ناظرین کے تبصرے ویڈیو چلنے کے دوران اسی وقت اسکرین پر ظاہر ہوتے ہیں۔ رنگین تبصرے اور مخصوص موضوعات کے گرد قائم کمیونٹیز صارفین کو محض ویڈیو دیکھنے کے بجائے اس کے مباحثے اور ماحول کا حصہ بننے کا احساس فراہم کرتی ہیں۔

اگر بلی بلی مغربی اور دیگر عالمی مارکیٹوں میں اپنے صارفین اور تخلیق کاروں کی تعداد بڑھانے میں کامیاب ہوگئی تو آن لائن ویڈیو کے شعبے میں مسابقت مزید بڑھ سکتی ہے اور عالمی کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے یوٹیوب کے علاوہ کمائی اور ناظرین تک رسائی کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…