پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا

datetime 29  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک) کراچی: ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش سے متعلق سامنے آنے والے معاملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

خاتون نے پولیس کے سامنے بیان دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وہ حاملہ نہیں تھیں اور انہوں نے حمل ظاہر کرنے کے لیے جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ تیار کروائی تھی۔پولیس کے مطابق خاتون کی شادی 2024 میں ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں ان کا حمل ضائع ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں اور خود کو حاملہ ظاہر کرتی رہیں۔تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ خاتون متعدد مرتبہ اسپتال جاتی تھیں اور الٹراساؤنڈ بھی کرواتی تھیں، تاہم کسی ڈاکٹر سے باقاعدہ معائنہ نہیں کرواتیں۔ ان کے موبائل فون میں موجود الٹراساؤنڈ رپورٹ اسپتال کے عملے نے دیکھ کر کارروائی آگے بڑھائی، بعد میں تحقیقات کے دوران یہ رپورٹ غیرمستند نکلی۔پولیس کے مطابق طبی معائنے اور میڈیکو لیگل رپورٹ (ایم ایل او) سے بھی خاتون کے حاملہ ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ مزید یہ کہ آپریشن تھیٹر منتقل کرنے سے پہلے اسپتال کے عملے کی جانب سے ضروری طبی معائنہ اور حمل کی تصدیق کے لیے مناسب ٹیسٹ نہیں کیے گئے۔حکام نے اسپتال کے ڈاکٹر اور عملے کی مبینہ غفلت کو بھی تحقیقات کا اہم پہلو قرار دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بغیر مکمل طبی جانچ کے خاتون کا آپریشن کیا جانا سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان کی درخواست پر قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔تفتیشی ٹیم نے خاتون کے تمام طبی ٹیسٹوں، اسپتال کے ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کو بھی تحقیقات میں شامل کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پولیس نے واقعے سے متعلق ڈاکٹر اور اسپتال کے دیگر عملے کے بیانات بھی ریکارڈ کرلیے ہیں۔ ڈاکٹر نے اپنے بیان میں بتایا کہ آپریشن کے دوران خاتون کے پیٹ میں بچہ موجود نہیں تھا۔ڈاکٹر کے مطابق خاتون کو ایمرجنسی میں اسپتال لایا گیا تھا اور وہ اپنا مستقل طبی علاج کسی دوسرے اسپتال سے کروا رہی تھیں۔تحقیقاتی ٹیم نے اس صورتحال پر یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر خاتون حاملہ نہیں تھیں تو آپریشن سے قبل حمل کی تصدیق کیوں نہیں کی گئی اور ایسے ضروری طبی ٹیسٹ کیوں نہیں کروائے گئے جن سے حقیقت واضح ہوسکتی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق سرکاری میڈیکل ٹیم سے طبی رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے، جس کی بنیاد پر ڈاکٹر کے مؤقف اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں خاتون کا حاملہ نہ ہونا ثابت ہوگیا تو اس کے باوجود اسپتال، متعلقہ ڈاکٹر اور دیگر ذمہ دار افراد کی مبینہ غفلت کا جائزہ لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ناظم آباد کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تنازع سامنے آیا تھا۔ خاتون کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ اسپتال انتظامیہ کی غفلت کے باعث بچہ غائب ہوگیا، جبکہ اسپتال کے عملے کا مؤقف تھا کہ خاتون سرے سے حاملہ ہی نہیں تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…