اتوار‬‮ ، 01 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

Mind The Gape

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2026

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘اس گرو پ میں جاوید چودھری صاحب بھی شامل ہیں‘ آپ جاوید چودھری صاحب سے کالم سے متعلق سوال بھی کر سکتے ہیں‘ وہ خود آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے‘ آپ اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر   5362221  92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم  5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

Mind The Gape

 

وہ روز صبح لندن کے ایمبینک منٹ (Embankment) انڈر گرائونڈ سٹیشن پر آتی تھی‘ روزانہ ٹکٹ خریدتی تھی اور چپ چاپ سٹیشن کے بینچ پر بیٹھ جاتی تھی‘ ٹرینیں آتی تھیں‘ رکتی تھیں‘ مسافر اترتے تھے اور نئے مسافر ان میں سوار ہو جاتے تھے لیکن وہ چپ چاپ بینچ پر بیٹھ کر ٹرینوں کو آتے اور جاتے دیکھتی رہتی تھی‘ وہ گھنٹہ بھر بینچ پر بیٹھی رہتی تھی اور پھر چپ چاپ اٹھ کر واپس چلی جاتی تھی‘ وہ کہیں نہیں جاتی تھی‘ اس نے کہیں جانا بھی نہیں ہوتا تھا‘

وہ بس چپ چاپ ریلوے سٹیشن پر بیٹھ کر ٹرینوں کو آتے اور جاتے دیکھتی رہتی تھی‘ اس کا یہ معمول جولائی 2007ء میں اچانک شروع ہوا اور 2012ء تک مسلسل پانچ سال جاری رہا‘ اس دوران بارشیں ہوئیں‘ برفیں پڑیں‘ آندھیاں اور طوفان بھی آئے‘ ہنگامے بھی ہوئے اور کرفیو بھی لگا لیکن اس کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا‘ وہ مسلسل سٹیشن پر آتی رہی‘ وہ 47 یا 48 سال کی میچور عورت تھی‘ کپڑوں‘ جوتوں اور بیگز سے خوش حال اور کام یاب دکھائی دیتی تھی لیکن وہ اس کے باوجود سٹیشن پر بلاوجہ آتی تھی‘ کیوں آتی تھی؟ سٹیشن کا عملہ یہ سوچ کر شروع میں حیران ہوتا تھا اور پھر پریشان ہونے لگا‘ پولیس نے کئی بار آ کر اس کا ٹکٹ بھی چیک کیا لیکن اس کے پاس ٹکٹ پورے ہوتے تھے‘ وہ قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرتی تھی چناں چہ اسے ریلوے سٹیشن پر آنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا‘ تاہم سٹیشن کی انتظامیہ نے اس پر نظریں رکھنا شروع کر دیں‘ وہ روز سٹیشن کیوں آتی تھی‘ یہ عقدہ پانچ سال بعد 2012ء میں کھلا‘ وہ راز کیا تھا میں اس طرف آنے سے قبل آپ کو ایمبینک منٹ سٹیشن کے بارے میں بتاتا چلوں‘ لندن میں پارلیمنٹ کی بلڈنگ (ویسٹ منسٹر) اور دریائے ٹیمز کے درمیان ایمبینک منٹ انڈر گرائونڈ سٹیشن ہے‘ یہ لندن کا بڑا انٹرچینج ہے جس سے پورے لندن کی انڈر گرائونڈ ٹرینیں ملتی ہیں‘ یہاں سے چاروں لائینز (بیکر لو‘ سرکل‘ ڈسٹرکٹ اور ناردرن لائینز) کی ٹرینیں ملتی ہیں‘ یہ ایک مصروف سٹیشن ہے‘ اس پر روزانہ ہزاروں مسافر آتے اور جاتے ہیں لیکن وہ خاتون ان میں سے واحد مسافر تھی جو صرف سٹیشن پر آتی تھی‘ بینچ پر بیٹھتی تھی‘ ایک یا دوگھنٹے اسی بینچ پر بیٹھی رہتی تھی اور پھر چپ چاپ اٹھ کر چلی جاتی تھی‘ انتظامیہ کیمروں کے ذریعے اس کی نقل و حرکت دیکھتی رہتی تھی‘ انہوں نے نوٹ کیا جب ٹرین آتی تھی تو وہ سیدھی ہو کر بیٹھ جاتی تھی اور اس کے چہرے پر مسرت اور دل چسپی کے ملے جلے تاثرات پیدا ہوتے تھے لیکن ٹرین جانے کے بعد وہ اداس ہو جاتی تھی‘ یہ اداسی اگلی ٹرین آنے تک جاری رہتی تھی‘ انتظامیہ نے یہ بھی نوٹ کیا وہ سٹیشن سے واپس جاتے ہوئے اداس ہو جاتی تھی‘ بعض اوقات اس کی آنکھوں میں آنسو بھی ہوتے تھے۔

یہ سلسلہ نومبر 2012ء تک جاری رہا‘ نومبر کی ایک صبح جب لندن میں تباہ کن سردی پڑ رہی تھی‘ وہ آئی‘ بینچ پر بیٹھی اور تھوڑی دیر بعد اٹھ کر سٹیشن ڈائریکٹر نائیکل ہول نیس کے آفس میں چلی گئی‘ اس کے معمول میں پانچ سال میں یہ پہلی تبدیلی تھی‘ سٹیشن ڈائریکٹر اور عملہ دونوں حیران تھے‘ اس نے سٹیشن ماسٹر کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دیا‘ اس پر ڈاکٹر مارگریٹ میک کولم (Margaret McCollum) لکھا تھا‘ وہ کام یاب ڈاکٹر تھی اور طب کے شعبے میں اس کا ٹھیک ٹھاک نام تھا‘ اس نے اپنا تعارف کرایا اور پھر اداس لہجے میں پوچھا ’’آپ کے سٹیشن پر ٹرین رکنے کے بعد مائینڈ دی گیپ کی انائونسمنٹ ہوتی تھی‘ آج وہ آواز بدل گئی ہے‘ کیوں؟‘‘ سٹیشن ڈائریکٹر نے بتایا’’ وہ ایک پرانی آواز تھی‘ ہم نے اسے ڈیجیٹل میں تبدیل کر دیا ہے‘ آج سے انسان کی بجائے مشین یہ انائونسمنٹ کرے گی‘‘ خاتون کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے ٹشو سے آنکھیں صاف کیں اور ڈائریکٹر سے عرض کیا ’’کیا آپ مجھے پرانی ریکارڈنگ کی کاپی دے سکتے ہیں‘ میں اسے اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتی ہوں‘‘ ڈائریکٹر نے حیرت سے اس کی وجہ پوچھی‘ خاتون نے جواب دیا‘ یہ آواز میرے مرحوم خاوند اوسوالڈ لورینس (Oswald Laurence) کی ہے‘ میں اس کی آواز کی عاشق تھی‘ میری آنکھ روز اس کی آواز سے کھلتی تھی‘ ہم ایک دوسرے کے سچے عاشق تھے‘ میرے خاوند نے 1960ء کی دہائی میں انڈر گرائونڈ ریلوے کے لیے ’’مائینڈ دی گیپ‘‘ کی انائونسمنٹ ریکارڈ کرائی تھی‘ یہ پورے لندن کے ریلوے سٹیشنوں پر ٹرینوں کے دروازے کھلنے پر سنائی جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی آ گئی اور باقی سٹیشنوں پر میرے خاوند کی آواز کی جگہ نئی ڈیجیٹل آوازیں آ گئی‘ صرف یہ سٹیشن بچا جہاں اوریجنل آواز باقی تھی‘ 2007 ء میں میرے خاوند کا انتقال ہو گیا‘ میں شدید غم میں یہاں آ گئی‘ میرے سامنے ٹرین رکی اور اس کے ساتھ ہی پورے ریلوے سٹیشن پر میرے خاوند کی گھمبیر آواز گونجنے لگی ’’مائینڈ دی گیپ‘‘ یہ سن کر میرے غم کی شدت کم ہو گئی اور میں نے ریلیف محسوس کیا‘ ٹرینیں آتی رہیں‘ انائونسمنٹ ہوتی رہی اور میں ہلکا پھلکا محسوس کرتی رہی‘ میں شام کو گھر واپس چلی گئی‘ اس کے بعد میرا معمول ہو گیا‘ میں روز یہاں آتی ہوں اور بینچ پر بیٹھ کر اپنے مرحوم خاوند کی آواز میں ’’مائینڈ دی گیپ‘‘ سنتی ہوں‘

میں پانچ سال سے یہ سن رہی ہوں اور اپنے خاوند کو یاد کر رہی ہوں لیکن آج میرا اپنے خاوند کے ساتھ یہ رشتہ بھی ختم ہوگیا‘ وہ اس کے بعد ہچکیاں لے کر رونے لگی‘ دفتر کی فضا سوگوار ہو گئی‘ سٹیشن ڈائریکٹر اپنی کرسی سے اٹھا‘ لاکر روم میں گیا‘ وہاں سے اوسوالڈ لورینس کی ٹیپ نکالی اور اسے سسٹم میں ’’ری لوڈ‘‘ کر دیا‘ چند منٹ بعد ریلوے سٹیشن پر جو ٹرین بھی آتی تھی اس کے ساتھ اوسوالڈ لورینس کی اصل آواز میں ’’مائینڈ دی گیپ‘‘ کی آواز آنے لگی‘ سٹیشن ڈائریکٹر نے اس کے بعد دو کام کیے‘ اس نے انائونسمنٹ کی کاپی کرا کر ڈاکٹر مارگیٹ کو دے دی اور دوسرا یہ سارا واقعہ لکھ کر ہیڈکوارٹر بھجوا دیا اور درخواست کی ’’مجھے ریلوے سٹیشن پر اوسوالڈ کی اوریجنل انائونسمنٹ مستقل طور پر چلانے کی اجازت دے دی جائے ‘‘ یہ واقعہ اس قدر حیران کن اور دل پذیر تھا کہ انتظامیہ نے فوراً اجازت دے دی جس کے بعد ایمبینک منٹ انڈر گرائونڈ سٹیشن لندن کا واحد سٹیشن بن گیا جہاں آج بھی اوسوالڈ لورینس کی اصل آواز میں ’’مائینڈ دی گیپ‘‘ کی انائونسمنٹ ہوتی ہے اور یہ آواز ہر بار ایک بیوی کی اپنے مرحوم خاوند سے محبت کی یاد تازہ کرتی ہے‘ میں آپ کو یہاں یہ بھی بتاتا چلوں اوسوالڈ لورینس برطانیہ کا ایکٹر تھا‘ اس کی آواز بہت جان دار اور گھمبیر تھی‘ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں لوگ اس کی آواز اور ادائوں کے عاشق تھے‘ ریلوے کی انتظامیہ نے اس کی آواز کے تحکمانہ انداز کی وجہ سے 1960ء کی دہائی کے آخر میں چند سو پائونڈز کے عوض ’’مائینڈ دی گیپ‘‘ کی انائونس منٹ ریکارڈ کرائی تھی‘یہ آواز اگلے 30 برس لندن کے ہر سٹیشن پر حکمرانی کرتی رہی لیکن پھر نئی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی وجہ سے یہ آواز ’’ڈیجیٹل وائس‘‘ سے بدل دی گئی لیکن اس کی بیوی کی محبت نے اسے ایمبینک منٹ سٹیشن پر ہمیشہ کے لیے ’’سگنیچر ٹیون‘‘ بنا دیا۔

ہم سب اپنے اپنے محبت کرنے والوں کی آوازوں کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں‘یہ آوازیں ہمارا اثاثہ ہوتی ہیں‘ میرے پاس بھی والد کی شکل میں یہ اثاثہ تھا‘ میں نے 52 سال اپنے والد کی آواز سنی ‘ وہ بچپن میں مجھے سکول کے لیے اٹھاتے تھے‘ میں گہری نیند میں ہوتا تھا اور پھر اچانک ’’اوئے جاوید تو سکول نہیں جانا‘‘ کی بھاری آواز میری سماعت سے ٹکراتی تھی اور میں بجلی کی تیزی سے اٹھ کر بیٹھ جاتا تھا‘ یہ آواز 52 سال میرے ساتھ رہی بس اس میں سکول کی جگہ کالج‘ لاہور‘ بہاولپور‘ دفتر اور فلائیٹ کے لفظ آتے اور جاتے رہے لیکن آواز کی گھمبیرتا اور میری بجلی کی تیزی اپنی جگہ قائم رہی مگر پھر اچانک ایک دن وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی‘ مجھے 52 سال بعد اس صبح کسی نے نہیں اٹھایا تھا لیکن میں اس کے باوجود اٹھ کر بیٹھ گیا اور دیر تک اپنے والد کو یاد کرتا رہا‘ میں آج بھی ہر صبح اپنے بیڈ پر بیٹھ کر اس آواز کو یاد کرتا ہوں اور پوری زندگی چند لمحوں میں میرے دماغ میں ’’ری وائینڈ‘‘ ہو جاتی ہے‘ وہ آواز میرے لیے کتنی قیمتی تھی‘ اس نے میری زندگی میں کتنا ’’کنٹری بیوٹ‘‘ کیا تھا کوئی شخص یہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا‘ میرے والد نہ ہوتے یا ان کی تحکمانہ آواز نہ ہوتی تو شاید میں آج یہاں نہ ہوتا‘ میں زندگی کا زیادہ تر حصہ چارپائی پر لیٹ کر گزار دیتا‘ میرے والد کی آواز مجھے اٹھاتی رہی اور میں آگے بڑھتا رہا لیکن اس دوران میں نے کبھی یہ نہیں سوچا یہ آواز کبھی نہ کبھی مجھ سے بچھڑ جائے گی‘ کاش میں نے سوچا ہوتا تو میں اپنے والد کو زیادہ وقت دیتا‘ میں ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتا‘ میں نے یہ غلطی کی اور مجھے اس کا شدید پچھتاوا ہے تاہم میری آپ سے درخواست ہے آپ یہ غلطی نہ کریں‘

آپ اپنے محبت کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں ورنہ پھر آپ کو بھی مارگریٹ کی طرح اپنے خاوند‘ بیوی‘ والد یا والدہ کی آوازیں سننے کے لیے دھکے کھانے پڑیں گے لیکن نہیں رکیے اوسوالڈ لورینس خوش قسمت تھا اس کی آواز لندن ریلوے نے ریکارڈ کر لی تھی اور مارگریٹ کو اس کے مرنے کے بعد بھی یہ دستیاب تھی جب کہ ہم اور ہمارے چاہنے والے اتنے خوش نصیب نہیں ہیں‘ ان کی آوازیں کسی سرکاری دفتر میں ریکارڈ نہیں ہیں‘ یہ آوازیں اس وقت تک ہمارے پاس ہیں جب تک یہ ہمارے ساتھ ہیں لہٰذا ان کی قدر کریں‘ یہ چند مہینوں یا برسوں کی امانت ہیں۔ ’’مائینڈ دی گیپ‘‘ آگے موت کا گڑھا ہے جہاں سے کوئی آواز واپس نہیں آتی‘ اس گڑھے سے پہلے پہلے زندگی اور اس کی آوازوں کو انجوائے کرلیں‘ اس کے بعد کچھ نہیں ہو گا‘ نہ یہ اور نہ ہم۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Mind The Gape


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…