منگل‬‮ ، 20 اکتوبر‬‮ 2026 

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

datetime 20  اکتوبر‬‮  2026

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘اس گرو پ میں جاوید چودھری صاحب بھی شامل ہیں‘ آپ جاوید چودھری صاحب سے کالم سے متعلق سوال بھی کر سکتے ہیں‘ وہ خود آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے‘ آپ اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر   5362221  92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم  5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

 عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

 

عمران خان کی دو آخری اور بڑی غلطیوں نے پارٹی کو تقریباً دفن کر دیا‘ ان کی پہلی غلطی بشریٰ بی بی کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا تھا اور دوسری علیمہ خان کو فیصلوں کا اختیار دینا تھا‘ بشریٰ بی بی 24 اکتوبر 2024ء کو جیل سے ضمانت پر رہا ہوئیں‘یہ ریاست کی طرف سے زیتون کی شاخ تھی‘

بشریٰ بی بی کو چاہیے تھا یہ بنی گالا میں بیٹھتیں‘ وکلاء سے رابطہ کرتیں اور عمران خان کی باعزت رہائی کا بندوبست کرتیں لیکن انہوں نے گنڈا پور پر دبائو ڈال کر نومبر 2024ء کا لانگ مارچ شروع کرا دیا‘ وہ لانگ مارچ بھرپور تھا‘ پولیس اسے روکنے میں ناکام ہو گئی تھی اور وہ جب سنگ جانی پہنچا تو حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات شروع کر دیے‘ گوہر خان اور اسد قیصر کی محسن نقوی سے میٹنگز ہوئیں اور فیصلہ ہوا لانگ مارچ اگر سنگ جانی سے آگے نہ بڑھے‘ یہ وہاں رک جائے تو حکومت عمران خان کو جیل میں رعایتیں دینے کے لیے تیار ہے‘ عمران خان کو بنی گالا شفٹ کرنے کا فیصلہ بھی ہو گیا تھا‘ گوہر خان یہ تجویز لے کر جب لانگ مارچ میں پہنچے تو پارٹی نے کہا‘ ہمیں جب تک عمران خان نہیں کہیں گے ہم اس وقت تک یہ فیصلہ نہیں مانیں گے‘ محسن نقوی اس وقت خود اڈیالہ جیل میں بیٹھے تھے‘

انہوں نے سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے عمران خان کی گنڈا پور سے بات کرائی اور گنڈا پور نے عمران خان کا حکم کارکنوں تک پہنچا دیا لیکن پھر بشریٰ بی بی نے کہا‘ عمران خان جب تک مجھے نہیں کہے گا ہم اس وقت تک لانگ مارچ نہیں روکیں گے‘ بشریٰ بی بی سے بھی بات کرا دی گئی لیکن پھر پارٹی نے کہا‘ آپ عمران خان کا ویڈیو بیان ریکارڈ کرا کر ہمیں سنائیں ہم پھر فیصلہ کریں گے‘ محسن نقوی اس کے لیے بھی تیار ہو گئے‘ گوہر خان کو اڈیالہ جیل لایا گیا‘ انہوں نے عمران خان کو اعتماد میں لیا اور عمران خان دو شرطوں پر ویڈیو بیان کی ریکارڈنگ پر تیار ہوگئے‘اول یہ ویڈیو گوہر خان کے موبائل فون میں ریکارڈ ہو گی اور دوم میں اپنے سیل میں سلاخوں کے پیچھے کھڑا ہوں گا‘ محسن نقوی اس کے لیے بھی تیار ہو گئے‘ بیرسٹر گوہر کو سیل تک پہنچا دیا گیا لیکن اڑھائی گھنٹے کی ’’تیاری‘‘ کے بعد عمران خان نے کہا ’’آج میرا موڈ نہیں‘ میں کل ریکارڈنگ کرائوں گا‘‘ اور یوں یہ موقع بھی ضائع ہو گیا‘ لانگ مارچ بلیو ایریا پہنچا اور اس کے بعد 26 نومبر2024ء کی رات جو کچھ ہوا وہ آپ کارکنوں سے پوچھ لیں‘ گنڈا پور نے بڑی مشکل سے بشریٰ بی بی کو بچایا اوردھکے کھاتے ہوئے پشاور پہنچے‘ بشریٰ بی بی کو17 جنوری 2025ء کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا‘ بی بی نے جیل پہنچ کر عمران خان کو یقین دلا دیا لانگ مارچ کی ناکامی کا واحد ذمہ دار گنڈا پور ہے‘ یہ جب تک وزیراعلیٰ رہے گا ہم اس وقت تک باہر نہیں آ سکیںگے‘ عمران خان نے شروع میں اس تاثر کی نفی کر دی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ قائل ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ انہوں نے 8 اکتوبر 2025ء کو جیل سے گنڈا پورا کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے کا حکم دے دیا‘ آپ یہاں کمال دیکھیے‘ عمران خان سہیل آفریدی کو نہیں جانتے تھے‘ یہ خالصتاً بشریٰ بی بی کی ’’بشارت‘‘ اور مراد سعید کی ’’دریافت‘‘ تھے‘ ان دونوں کا خیال تھا یہ نوجوان ہے‘ اسٹیبلشمنٹ سے دور ہے اور اس کے خاندان کا کوئی شخص فوج میں نہیں لہٰذا یہ کھل کر لڑے گا اور عمران خان کو رہا کرا لے گا

یوں سہیل آفریدی 15 اکتوبر2025ء کو وزیراعلیٰ بن گیا‘یہ ناتجربہ کار تھا‘ اس نے اپنی کابینہ میں بھی ناتجربہ کار لوگ شامل کر لیے اور پارٹی کی رہی سہی مت بھی مار دی‘ دوسری طرف علیمہ خان نے عمران خان کو کہہ کر محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی اور راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوا دیا‘ پارٹی میں اس پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے‘ اس کی دو وجوہات تھی‘ ایک وزیراعظم کے بعد یہ پارلیمنٹ کا اہم ترین عہدہ ہوتا ہے‘ پارٹی اسے اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی تھی اور یہ پارٹی کا حق بھی تھا‘ علی محمد خان اس کے لیے اہل ترین امیدوار تھا‘ یہ عمران خان کا جینوئن ورکر ہے‘ بولتا بھی بہت خوب صورت‘ مدلل اور بے خوف ہے اور یہ معتدل مزاج بھی ہے‘ یہ بڑی آسانی سے حکومت سے خان کے لیے رعایتیں حاصل کر سکتا تھا لیکن عمران خان کا خیال تھا میں نے اگر کسی اہل شخص کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا تو وہ لیڈر بن جائے گا اور کل میرے سامنے کھڑا ہو جائے گا چناں چہ اس نے دونوں عہدے ’’رینٹ‘‘ پر دے دیے اور دوسرا محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نے 2023ء میں عمران خان کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا‘ پی ڈی ایم مولانا اور اچکزئی نے بنائی تھی اور آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف اس میں شامل ہوئے‘ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو عمران خان کے خلاف اکٹھا کرنے میں بھی ان دونوں نے اہم کردار ادا کیا تھا‘ پارٹی کا خیال تھا جن لوگوں نے ہماری حکومت گرائی ہم ان میں سے ایک کو اپوزیشن لیڈر بنا رہے ہیں اور دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھ رہے ہیں‘ کیا یہ عقل مندی ہے اور یہ لوگ عمران خان کو چھڑا کر اپنے پائوں پر کلہاڑا کیوں ماریں گے لیکن بہرحال جب سیاسی جماعتوں کے سیاسی فیصلے غیرسیاسی خواتین کے ہاتھوں میں چلے جائیں تو ان کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا اسٹیبلشمنٹ‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف یہ تینوں عمران خان کو رعایت دینا چاہتے تھے‘ یہ ملک کے اندر موجود محاذ آرائی کا خاتمہ چاہتے ہیں‘کیوں؟ کیوں کہ پاکستان کی سرحدوں پر خوف ناک جنگیں تیار کھڑی ہیں‘ اس عالم میں اندرونی خلفشار ملک کو برباد کر دے گا مگر ان تینوں کی ایک شرط ہے عمران خان جیل سے باہر آئیں اور یہ پارلیمنٹ کے اندر سیاست کریں ‘ سڑکیں گرم نہ کریں‘ اس سے ملک کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہو جائے گا مگر عمران خان اس کے لیے تیار نہیں تھے اور یہاں سے مسئلہ بڑھتا چلا گیا‘ حکومت ستمبر اور اکتوبر کے مذاکرات میں بھی سیریس تھی‘ یہ حقیقتاً عمران خان کو رعایتیں دینا چاہتی تھی‘ یہ جانتی تھی عمران خان کی طبیعت خراب ہے اور اگر خدانخواستہ جیل میں اس کے ساتھ کچھ ہو گیا‘ اسے فالج کا اٹیک ہو گیا یا پھر اس کی بینائی چلی گئی تو یہ پوری زندگی کے لیے ان کے ماتھے کا کلنک بن جائے گا اور یہ لوگ یہ نہیں چاہتے تھے تاہم یہ اپنی اور ملک کی کاسٹ پر بھی عمران خان کو رہا نہیں کرنا چاہتے چناں چہ یہ مذاکرات کے لیے سیریس ہو گئے‘ اسٹیلشمنٹ نے محسن نقوی کو اتھارٹی دے دی اور وزیراعظم اور صدر بھی مذاکرات کی کام یابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے لیے تیار ہو گئے‘ محسن نقوی کی مذاکرات سے قبل گوہر خان اور اسد قیصر سے درجن بھر ملاقاتیں ہوئیں‘ اسٹیبلشمنٹ کا صرف ایک مطالبہ تھا‘ ہم دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا چاہتے ہیں‘ پی ٹی آئی اس میں ریاست کے ساتھ کھڑی ہو ‘ ٹی ٹی پی اور طالبان کو سپورٹ نہ کرے‘ اس کے بدلے یہ عمران خان سے ملاقاتوں‘ جیل سے ہسپتال میں ٹرانسفر‘ بہنوں اور کارکنوں کی رہائی اورمقدمات کی سماعتوں کے لیے راضی تھی‘ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ مکمل ناکام ہو چکا تھا لیکن حکومت اس کے باوجود مذاکرات کی کام یابی چاہتی ہے‘ اس کی بڑی وجہ ایران امریکا جنگ‘ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے اور طالبان کی شرارتیں تھیں‘

فوج ملک کے اندر ذرا سا بھی انتشار نہیں چاہتی اور اگر انا کی معمولی سی قربانی سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکتا ہے تو اس میں کیا خرابی تھی؟ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم حکومت کے مطالبات مان گئی لیکن محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی ڈٹ گئے‘ ان کا مطالبہ تھا آپ پہلے عمران خان سے ملاقات کرائیں‘ ہم پھر معاہدہ اور لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کریں گے‘ اس فساد کی جڑ تین لوگ تھے‘ افغانستان میں طالبان کی پناہ میں موجود مراد سعید‘ محمود خان اچکزئی جو عین لانگ مارچ اور مذاکرات کے دوران کوئٹہ میں جا کر بیٹھ گیا اور سہیل آفریدی جو یہ سمجھتا تھا ایمرجنسی ایک خالی رائفل ہے جس سے اسٹیبلشمنٹ صرف ہمیں ڈرا رہی ہے‘ یہ لوگ کبھی ایمرجنسی لگانے کی غلطی نہیں کریں گے‘ ان تین لوگوں کی غلطی سے پی ٹی آئی کے ہاتھ سے آخری حکومت بھی نکل گئی اور اب صورت حال یہ ہے ملک کی مقبول ترین جماعت کے لیے اپنی کور کمیٹی کے اجلاس کے لیے پورے ملک میں ایک ہال یا کانفرنس روم بھی دستیاب نہیں‘

یہ لوگ دو ہفتے پہلے تک کم از کم اسلام آباد میں ’’کے پی ہائوس‘‘ میں تو اکٹھے ہو سکتے تھے اور یہ مشکل وقت میں ’’کے پی‘‘ میں پناہ بھی لے سکتے تھے لیکن ان کی حماقتوں کی وجہ سے ان کے پاس اب اقتدار کا اتنا کپڑا بھی نہیں بچا جس سے یہ اپنا کچھا ہی سلوا سکیں‘ اب صورت حال یہ ہے عمران خان کی ملاقاتوں پر مکمل پابندی ہے‘ خان کی تینوں بہنیں جیل میں ہیں اور ان کے باہر آنے بالخصوص علیمہ خان کی رہائی کے چانس بہت کم ہیں‘ سہیل آفریدی‘ جنید اکبر عرف محمود غزنوی آف سومنات اور سپیکر بابر سلیم سواتی حراست میں ہیں اور یہ تینوں وہ وہ معلومات دے رہے ہیں جن کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی کرپشن کی ایسی ایسی کہانیاں سامنے آئیں گی کہ سننے اور دیکھنے والوں کے ہوش اڑ جائیں گے‘ پارٹی محمود خان اچکزئی سے اپوزیشن لیڈر کی سیٹ خالی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن اچکزئی صاحب نے صاف انکار کر دیا ہے اور پیچھے رہ گئے عمران خان کے مقدمات تو ان میں اب اضافہ تو ہو سکتا ہے کمی نہیں ہو سکتی چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں عمران خان ذوالفقار علی بھٹو بن چکے ہیں‘ یہ اب اگر بھٹو کے انجام سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں میانہ روی اختیار کرنا ہو گی‘ انہیں فاسٹ بائولر کے خول سے باہر آنا اور خود کو پرامن سیاست کے لیے تیار کرنا ہوگا ورنہ دوسری صورت میں اڈیالہ جیل یا پھر اسلام آباد میں تعمیر ہونے والی نئی جیل ان کی آخری آرام گاہ ثابت ہو گی۔

یہ انجام بہرحال عمران خان اور ان کی پارٹی نے خود چنا ‘ انسان جیل اور عدالتوں میں ذلیل ہونے کے لیے سیاست میں نہیں آتا‘ یہ اپنے اور اپنے خاندان کو برباد کرنے کے لیے اقتدار میں بھی نہیں آتا‘ اقتدار اور سیاست ملک اور عوام کی حالت بدلنے کے لیے ہوتی ہے‘ یہ 1910ء ہے اور نہ ہی ملک پر انگریز قابض ہیں کہ سیاست دان اور عوام سڑکوں پر عملی جدوجہد شروع کر دیں‘ ہماری سیاسی جماعتوں کو اب یہ حقیقت مان لینی چاہیے‘ یہ ملک فوج کے بغیر بچ سکتا ہے اور نہ جمہوریت کے بغیر چل سکتاہے چناں چہ دونوں کو اکٹھا ہو کر آگے بڑھنا ہوگا اور ہم جتنی جلدی یہ فیصلہ کر لیں گے ہمارے اور ملک دونوں کے لیے اتنا ہی اچھا ہوگا ورنہ حالات ہمیں جہاں لے جا رہے ہیں وہاں سے واپسی معجزے سے کم نہیں ہو گی۔(ختم شد)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…