منگل‬‮ ، 13 اکتوبر‬‮ 2026 

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

datetime 13  اکتوبر‬‮  2026

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر   5362221  92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم  5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)
بلوچستان نہیں بلکہ پورے پاکستان کے 5 حل ہیں‘ ریاست کو بیک وقت پانچ محاذوں پر کام کرنا ہوگا‘ پہلا حل چینی دانشور سن تزو نے پانچ سو قبل مسیح میں بتا دیا تھا‘ آج کا چین سن تزو کے سات اصولوں پر استوار ہے‘ ان سات میں سے آخری اصول ’’دشمن کو لڑے بغیر فتح کریں‘‘ ہے‘اسی نے کہا تھا آپ دوست اور دشمن بدل سکتے ہیں لیکن ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے‘ ہمیں بھی 80 سال کی جدوجہد‘ مسائل اور لڑائیوں کے بعد اب یہ مان لینا چاہیے ہم بھی اپنے ہمسائے نہیں بدل سکیں گے‘

انڈیا بھی یہیں رہے گا اور افغانستان‘ ایران اور چین بھی‘ ہم انہیں ختم نہیں کر سکیں گے اور اگر یہ ہو بھی گئے تو پاکستان کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہو جائے گا‘ ہمارے ہمسائیوں میں اگر جنگیں‘ فسادات‘ لڑائیاں‘ بیماری اور غربت ہو گی تو ہم اپنے آپ کو ان کے اثرات سے زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رکھ سکیں گے‘ پرامن اور ترقی یافتہ ہمسائے ہمارے فائدے میں ہیں چناں چہ ہمیں بتدریج ہمسایوں سے تعلقات ٹھیک کرنا ہوں گے اور اپنی سرحدیں کھولنا ہوں گی تاکہ ہم ان سے اور یہ ہم سے سیکھ سکیں‘ ہمیں اب یہ بھی مان لینا چاہیے دنیا میں ملک ترقی نہیں کرتے ریجن کرتے ہیں‘ یورپ کے پورے خطے نے ترقی کی‘ مشرق بعید بھی اب پورا ترقی کر رہا ہے اور افریقہ دنیا کے تمام وسائل کے باوجود پورے کا پورا پس ماندہ ہے‘ ہم نے بھی اگر ترقی کرنی ہے تو پھر ہمیں سارک ممالک کے ساتھ چلنا ہو گا‘ اپنی سرحدیں اور تجارتی سرگرمیاں کھولنا ہوں گی‘ ہمارے چار ہمسائے ہیں اور ہماری چاروں کے ساتھ سرحدیں بند ہیں‘ تین کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی منقطع ہیں لہٰذا ہم معاشی طور پر پس ماندہ سے پس ماندہ ہوتے چلے جا رہے ہیں‘ ہم جتنی جلد بھارت‘ افغانستان اور ایران کے ساتھ اپنے تنازعے ختم کر لیں گے ہم اتنی ہی جلدی ترقی کے راستے پر گامزن ہو جائیں گے ورنہ ہمارا بوجھ بڑھتا چلا جائے گا‘ دو‘ ہمیں اپنے عوام کو عزت دینا ہو گی‘ ہم سب ایک ہیں لیکن بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ کا رویہ عام آدمی کے ساتھ سخت بلکہ دشمن نما ہے‘ ریاست جس لہجے میں عام شہری کے ساتھ بات کرتی ہے وہ دل توڑ دیتا ہے‘ مجھے دنیا کے مختلف خطوں میں سفر کا موقع ملا‘ آپ یقین کریں مجھے نامعلوم ہونے کے باوجود جو عزت اور سروسز باہر ملتی ہیں وہ پاکستان میں شناخت کے باوجود نصیب نہیں ہوتیں‘ ہم دشمن نہیں ہیں‘ ہم سب اس ملک کے شہری ہیں‘ ہم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بھی ہیں‘ عوام نہیں ہوں گے تو فوج کہاں سے آئے گی اور اگر فوج نہیں ہو گی تو عوام کیسے بچیں گے چناں چہ عزت اور ایک دوسرے کی سپیس کا خیال رکھنا ضروری ہے‘ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا‘ عوام کے ساتھ اپنی دوریاں کم کرنا ہوں گی اور یہ خوف کی بجائے عزت سے ہو گا‘ ہم نے ماضی میں بنگالیوں کو دشمن سمجھ لیا تھا اور آج ہم تمام بلوچوں کو بھی ایک ہی پلڑے میں رکھ رہے ہیں‘ یہ غلطی اور زیادتی ہے‘ فوجی آپریشن کے دوران اگر ایک بھی معصوم اور بے گناہ شہری مر جاتا ہے تو ہم اللہ کی نظر میں قاتل ہوں گے اور ہمیں اس اور اس دونوں جہانوں میں اس کی سزا بھگتنا پڑے گی‘ ہم جواب دہ ہوں گے اور یہ حقیقت ہے بلوچستان میں کولیٹرل ڈیمج کی شکل میں بے گناہ بھی مر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں نفرت پیدا ہو رہی ہے‘ ریاست کو اسے بھی سمجھنا ہو گا۔

تین ‘بلوچستان اور کے پی میں افغانستان اور ایران کے ذریعے بھارت اور اسرائیل کارفرما ہیں‘ ہم اس وقت سعودی عرب‘ ایران اور امریکا کی مجبوری ہیں‘ ہم موقع کا فائدہ اٹھا کر ان تینوں دوستوں کے ذریعے بھارت اور اسرائیل کے ساتھ اپنے معاملات درست کیوں نہیں کرتے؟ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بات کرنا اس ملک میں گناہ بن چکا ہے‘ میں آج تک اس کی وجہ نہیں سمجھ سکا‘ ملک میں جب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی بات کی جاتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور کیا آپ کو غزہ نظر نہیں آتا؟ یہ جواز اور دلیل سو فیصد درست ہے لیکن سوال یہ ہے غزہ 1967ء تک مصر کا علاقہ تھا‘ مصر کے اسرائیل سے تعلقات غزہ پر قبضے کے باوجود ٹھیک ہیں‘ اس کی سرحدیں بھی اسرائیل کے لیے کھلی ہیں‘ ترکی‘ یو اے ای‘ قطر‘ اردن‘ مراکو اور تیونس میں بھی اسرائیلی سفارت خانے موجود ہیں‘ ایران کی پارلیمنٹ میں بھی یہودی ہیں اور تیس چالیس ہزار یہودی آج بھی ایران کے شہری ہیں اور دوبئی اور عمان سے اسرائیل کے لیے فلائیٹس بھی چلتی ہیں‘ اگر یہ فلسطین اور غزہ کے مظالم کے باوجود اس سے سفارتی تعلقات رکھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ ہم بے شک اسرائیل کو تسلیم نہ کریں‘ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے رہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سے اتنے سفارتی تعلقات ضرور رکھیں کہ ہم اس کی ’’حرکتوں‘‘ پر اس سے احتجاج کر سکیں اور یہ کھل کر بھارت کو سپورٹ نہ کر سکے‘ اس کے پائلٹس یا یا ڈرون ایکسپرٹس انڈیا میں بیٹھ کر پاکستان پر حملے بھی نہ کر سکیں‘ آخر اس میں کیا حرج ہے؟ ہم جب افغان جہاد کے بعد روس‘ ماضی کی بے شمار زیادتیوں کے باوجود امریکا اور طالبان کے کھلے حملوں کے بعد بھی افغانستان سے سفارتی تعلقات رکھ سکتے ہیں تو اسرائیل سے کیوں نہیں؟ کیا ہم سعودی عرب‘ مصر‘ اردن‘ شام‘ ترکیہ‘ یو اے ای‘ قطر‘ عمان‘ ازبکستان‘ مراکش‘ تیونس‘ الجزائر اور ملائیشیا سے زیادہ مسلمان ہیں‘ ہمیں یہ ضد بھی بہرحال چھوڑنی ہو گی‘ ہم جتنی جلد یہ فیصلہ کر لیں گے ہمارا اتنا کم نقصان ہو گا‘ چار‘ بلوچستان کا رقبہ زیادہ ہے‘ ہمیں فوری طور پر وہاں نئے صوبے بنانے چاہییں‘ بلوچستان کو کم از کم چار حصوں میں تقسیم کر دیا جائے‘ سردست کوئٹہ کو سینئر دارالخلافہ‘ وزیر اعلیٰ کو سینئر وزیراعلیٰ اور گورنر کو سینئر گورنر کا درجہ دے کر صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کر دیں یوں گورنر اور وزیراعلیٰ کی ’’شان و شوکت‘‘ بھی قائم رہے گی اور عوام کو معمولی معمولی کاموں کے لیے کوئٹہ کا چھتیس چھتیس گھنٹے کا سفر بھی طے نہیں کرنا پڑے گا‘ صوبوں کی اپنی حکومتیں‘ اپنی پولیس اور اپنی انتظامیہ ہو گی تو علاقے ترقی کر سکیں گے۔دوسرا ملک کے 44فیصد رقبے کے حامل صوبے میں قومی اسمبلی کی صرف 16 سیٹیں ہیں جب کہ پنجاب میں قومی اسمبلی کے ممبرز کی تعداد141ہے‘ اس فرق کی وجہ سے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا فوکس پنجاب ہے اور بلاول بھٹو‘ میاں نواز شریف اور بیرسٹر گوہر خان جیسے لیڈر بلوچستان نہیں جاتے‘ وفاق اگر دس بیس سال کے لیے بلوچستان کے ہر ضلع کو قومی اسمبلی کا ایک حلقہ مان لے تو اس سے بلوچستان کی قومی اسمبلی میں 41 سیٹیں ہو جائیں گی جس کے بعد بلوچستان کے ایم این اے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ناگزیر ہو جائیں گے یوں قومی سیاسی جماعتیں بلوچستان کو توجہ دینے پر مجبور ہو جائیں گی اور بلوچستان سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہو جائے گا‘

سیاسی جماعتیں یہ فیصلہ بھی کر لیں ہم بلوچستان میں سرداروں کی بجائے پڑھی لکھی مڈل کلاس قیادت سامنے لائیں گے‘ نئے لوگوں کو ٹکٹ دیے جائیں تاکہ یہ قومی اسمبلی پہنچ کر اپنے علاقے کا مقدمہ لڑ سکیں‘ بلوچستان کی سرداروں سے جان چھڑانا بھی ضروری ہے‘ ریاست کو اب یہ فیصلہ کر لینا چاہیے ہم آئندہ سرداروں سے بات نہیں کریں گے‘ ان کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے‘ عوام کو سرداروں کے چنگل سے آزاد کرانے کا وقت آ چکا ہے‘ آج دنیا کے کس ملک میں سرداروں کی بادشاہت موجود ہے‘ افریقہ تک کے قبائل بدل چکے ہیں‘ وہاں بھی سردار سرکاری نوکریاں کر رہے ہیں جب کہ بلوچستان میں سردار آج بھی بادشاہی انجوائے کر رہے ہیں‘ سردار کے بعد اس کے بیٹے کے سر پر پگڑی باندھ کر اسے ہزاروں لاکھوں لوگوں کا مالک بنا دیا جاتا ہے‘ یہ کھیل بھی اب ختم ہونا چاہیے‘ اگر سندھ‘ پنجاب اور کے پی کے لوگ آزاد ہیں اگر گلگت بلتستان اور کشمیر میں سرداری نظام ختم ہو چکا ہے اور لوگ وہاں مکمل آزاد ہیں تو پھر بلوچستان میں کیوں نہیں؟ وہاںکیوں سردار ہی صوبائی اور قومی اسمبلی پہنچتا ہے اور سرداروں ہی سے کوئی نہ کوئی سینیٹ میں کیوں پہنچے گا یا وہ ہی وزیراعلیٰ اور گورنرکیوں بنے گا‘ آخر اس کی کیا وجہ ہے‘ ہم اتنے مجبور کیوں ہیں؟ اور بلوچستان کا آخری بڑا مسئلہ نوجوان ہیں‘ یہ بری طرح بھٹک چکے ہیں‘ بھارت اور اسرائیل ان کے ذہنوں میں فتور بھر چکے ہیں‘ ہمیں ان سے رابطے بڑھانا ہوں گے‘ ان کے لیے چند بنیادی پالیسیاں بنانا ہوں گی مثلاً بلوچستان کے تمام نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں‘ سکولوں سے انہیں ہنر سکھانا شروع کریں تاکہ یہ تعلیم کے بعد برسر روز گار ہو سکیں‘ صوبے میں معاشی سرگرمیاں شروع کرائیں‘ زمینیں زرعی کالجوں سے فارغ التحصیل نوجوانوں میں تقسیم کر دیں اور انہیں بلا سود قرضے دیں تاکہ یہ کاشت کاری کر سکیں‘ نوجوانوں سے کوسٹل لائینز آباد کرائیں‘ انہیں قرضے لے کر دیں تاکہ یہ وہاں چھوٹے چھوٹے ریزارٹس بنا سکیں‘ گوادر طویل عرصے سے بند پڑا ہے‘ جنرل مشرف کے دور میں وہاں ہائوسنگ سوسائٹیز بنی تھیں‘

وہ رک گئی ہیں‘ انہیں ایکٹو کریں اور بلوچوں کو اس میں شیئرز دیں‘ بے شک انہیں عربوں کی طرح کفیل بنا دیں تاکہ ان کے گھروں میں رقم آ سکے اور انہیں معاشی خودمختاری کے ذائقے کا علم ہو سکے‘ بلوچستان میں سمگلنگ عام ہے‘ حکومت اسے بزنس کی شکل دے دے‘ نوجوانوں کو اجازت دے دے یہ تھوڑا سا ٹیکس دے کر ڈیزل اور باقی اجناس لیگل طریقے سے امپورٹ کر لیں‘ اس سے لوگوں کو بھی فائدہ ہو گا اور سمگلنگ کے لیے جان جوکھم میں ڈالنے والے بھی اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکیں گے‘بلوچستان کی پولیس اور سول انتظامیہ کی ٹریننگ پنجاب اور سندھ سے کرائیں تاکہ یہ ترقی کی برکات دیکھ سکیں اور ان کی ٹریننگ بھی اچھی ہو سکے‘ پرائیویٹ سیکٹر کو پابند کریں یہ پانچ سے دس فیصد ملازمتیں بلوچوں کو دیں گے‘ اس کے بدلے میں انہیں ٹیکس میں رعایت دیں‘ اس سے بلوچ نوجوانوں کو کنوئیں سے باہر کی دنیا دیکھنے کا موقع ملے گا‘ پنجاب اور سندھ میں ان کی شادیاں ہوں گی اور یوں یہ مرکزی دھارے میں مل سکیں گے اور آخری مشورہ ریاست بلوچستان میں سوشل میڈیا کی سرگرمیوں پر نظر رکھے‘ وہاں کس قسم کا مواد پھیل رہا ہے‘ کون پھیلا رہا ہے اور کون اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ فارمولا سنٹرل ایشیا‘ ایران‘ روس‘ عرب ممالک اور چین میں کام کر رہا ہے تو پھر پاکستان میں کیوں ممکن نہیں؟

میں یہ سمجھتا ہوں بلوچستان میں آپریشن ناگزیر ہے‘ افغانستان سے دہشت گردوں کی سپلائی بند ہونی چاہیے تاہم مسائل کا مستقل حل نکالنا بھی ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں ہمیں ہر سال آپریشن کرنا پڑے گا اور ان آپریشنز کے آخر میں بلوچستان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا چناں چہ پلیز آنکھیں کھولیں‘ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں بچا‘ ہم نے اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو بدقسمتی سے پاکستان صرف پنجاب تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔(ختم شد)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…