اتوار‬‮ ، 08 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

تیسری پینٹنگ

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2026

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘اس گرو پ میں جاوید چودھری صاحب بھی شامل ہیں‘ آپ جاوید چودھری صاحب سے کالم سے متعلق سوال بھی کر سکتے ہیں‘ وہ خود آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے‘ آپ اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر   5362221  92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم  5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔

تیسری پینٹنگ

بادشاہ نے تین مصور بلائے اور انہیں سکون (پیس) کی پینٹنگ بنانے کا حکم دے دیا‘ مصور کام میں جت گئے‘ تین دن بعد تینوں پینٹنگز تیار تھیں‘ پہلے مصور نے برف پوش پہاڑ بنائے جن کے نیچے دریا بہہ رہا تھا اور ان کے دائیں بائیں جنگل تھا اور اس میں ہرن گھوم پھر رہے تھے‘ آسمان پر بادل تیر رہے تھے‘ تصویر بہت خوب صورت تھی‘ بادشاہ نے وہ پسند کی اور اس کے بعد اگلی تصویر کا گھونگھٹ اٹھا دیا‘

وہ تصویر پہلی تصویر سے زیادہ خوب صورت تھی‘ اس میں ایک وادی تھی جس میں دور دور تک پھول کھلے تھے‘ آسمان پر سورج چمک رہا تھا اور پھولوں پر تتلیاں منڈلا رہی تھیں‘ وہ ایک ست رنگی تصویر تھی جس میں رنگ ہی رنگ تھے‘ بادشاہ کو یہ پہلی تصویر سے زیادہ اچھی لگی‘ اس نے کھل کر مصور کی تعریف کی اور تیسری تصویر کا پردہ اٹھا دیا‘وہ تصویر دیکھتے ہی اس کے منہ سے اف کی آواز نکل گئی‘ وہ ایک بدصورت اور خوف ناک تصویر تھی‘ مصور نے کینوس پر ایک ایسی سیاہ رات پینٹ کی تھی جس میں بجلیاں کڑک رہی تھیں‘ خوف ناک بارش ہو رہی تھی اور وادی میں سیلاب اور دلدلیں تھیں‘تصویر کے منظر پر جس طرف بھی نظر جاتی تھی وہاں طوفان‘ بربادی اور بحران تھا‘ پینٹر نے سکون کی جگہ فساد اور بربادی پینٹ کر دی تھی‘ بادشاہ اسے دیکھ کر ناراض ہو گیا لیکن پھر اچانک اس کی نظر تصویر کے کونے پر پڑی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی‘ پینٹر نے کونے میں چڑیا کا گھونسلا پینٹ کیا تھا جس میں چڑیا نے انڈے دے رکھے تھے اور وہ باہر کے بحران سے لاتعلق ہو کر اپنے انڈوں پر بیٹھی تھی‘ بادشاہ نے یہ دیکھ کر پینٹر کو تھپکی دی اور کہا ’’تم نے کمال کر دیا‘‘ وہ اس کے بعد دربار کی طرف مڑا‘ انگلی سے تصویر کی طرف اشارہ کیا اور کہا ’’سکون باہر نہیں ہوتا‘ انسان کے اندر ہوتا ہے‘ پہلی تصویر میں پہاڑ‘ دریا اور جنگل کے خوب صورت مناظر ہیں لیکن اگر آپ کا دل بجھا ہوا ہو تو یہ منظر آپ کے لیے بے معانی ہو گا‘ یہ آپ کو خوشی اور سکون نہیں دے سکے گا‘ دوسرا منظر بھی ویسا ہی ہے‘ خوب صورت وادی میں ہزاروں رنگ کے پھول ہیں اور ان پر تتلیاں اور سورج کی کرنیں رقص کر رہی ہیں لیکن اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں‘ آپ زندگی سے اکتائے ہوئے ہیں تو آپ کو یہ منظر بھی خوشی‘ راحت اور سکون نہیں دے سکے گا لیکن یہ تیسری تصویر سکون کی اصل علامت ہے‘ اس میں چڑیا باہر کے تمام طوفانوں‘ بربادیوں اور بحرانوں سے لاتعلق ہو کر صرف اپنے انڈوں پر فوکس کر کے بیٹھی ہے‘ تمام تباہیاں مل کر بھی چڑیا کا حوصلہ اور امید نہیں توڑ سکیں اور یہ بربادی اور تباہی میں بھی اپنی اگلی نسل کے بارے میں سوچ رہی ہے‘ اسے جنم بھی دے رہی ہے اور اس کی پرورش کی پلاننگ بھی کر رہی ہے‘ اصل سکون یہ ہوتا ہے یعنی تباہیوں اور بربادیوں میں بھی اپنے آپ اور اپنی امیدوں کو قائم رکھنا‘ یہ یاد رکھو انسان کے باہر کچھ نہیں ہوتا‘ سب کچھ ہمارے اندر ہوتا ہے‘‘ بادشاہ خاموش ہو گیااور یوں تیسری پینٹنگ جیت گئی۔

مجھ سے چند سال قبل ایک ایکسیڈنٹ ہو گیا‘ میں رات کے وقت گاڑی چلا رہا تھا‘ اچانک فون بجا‘ میری نظر فون کی سکرین کی طرف گئی اور گاڑی چند سیکنڈز میں اگلی گاڑی سے ٹکرا گئی‘ غلطی میری تھی لیکن دوسرے پاکستانیوں کی طرح میں بھی اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا لہٰذا میں نے سکینڈز میں دوسرے شخص کو غلط اور جھوٹا ثابت کرنے کے لیے دلائل سوچنا شروع کر دیے‘ میرا خیال تھا گاڑی میں سوار شخص یا لوگ ابھی نکلیں گے اور مجھ پر چڑھائی شروع کر دیں گے لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا‘ اگلی گاڑی سے جینز اور جیکٹ میں ملبوس درمیانی عمر کا ایک شخص نکلا‘ میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور بولا ’’آپ خیریت سے ہیں‘ آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟‘‘ میں نے کمر پر ہاتھ رکھ کر چوٹ کا بہانہ کیا‘ اس نے میرے ساتھ ہمدردی کی اور مجھے مشورہ دیا آپ فٹ پاتھ پر تھوڑی دیر واک کر لیں‘ اس سے آپ کا درد کم ہو جائے گا۔میں نے اس کا مشورہ مسترد کر دیا اور اس سے شکوے شروع کر دیے‘ آپ سڑک کے درمیان میں ڈرائیو کر رہے تھے‘ آپ کو پیچھے والی گاڑیوں کا بھی خیال کرنا چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ‘ وہ شخص اچھی طرح جانتا تھا وہ نہیں بلکہ میں غلط تھا لیکن وہ اس کے باوجود پرسکون رہا اور مسکرا کر بولا ’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہوں گے‘

میں نے ڈرائیونگ کے دوران توجہ نہیں دی‘ آپ اگر چاہتے ہیں تو میں آپ کا نقصان پورا کرنے کے لیے تیار ہوں‘‘ میں یہ سن کر شرمندہ ہو گیا اور میں نے شرمندگی کے عالم میں اس سے کہا ’’میں پولیس کو کال کر لیتا ہوں اور ہم اپنا فیصلہ پولیس پر چھوڑ دیتے ہیں‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’آپ کو جیسا اچھا لگے‘ میں حاضر ہوں‘‘ وہ اس کے بعد گاڑی کے اندر گیا‘ کتاب نکالی اور فٹ پاتھ پر سٹریٹ لائیٹ کے نیچے بیٹھ کر کتاب پڑھنے لگا‘ اس کے اعتماد اور سکون نے مجھے ہلا کر رکھ دیا‘ میں اس کے پاس گیا‘ اس سے ہاتھ جوڑ کر معذرت کی اور اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا‘ وہ ہنس کر بولا ’’سر یہ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے‘ گاڑیاں جب سڑک پر چلتی ہیں تو یہ کسی نہ کسی سے ٹکراتی رہتی ہیں‘ دوسرا یہ عین ممکن ہے واقعی میری غلطی ہو لہٰذا اس میں گھبرانے یا ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟ نقصان ہونا تھا بس ہو گیا‘ ہمیں لڑ کر اس میں اضافہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’آپ کیا کرتے ہیں؟‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’میں بس نقصان کے بعد فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتا ہوں‘ یہ میرا کام ہے‘‘ میں نے دل کھول کر قہقہہ لگایا‘ وہ شخص اٹھا‘ اپنا فون نمبر دیا اور کہا ’’آپ کو اگر کسی بھی وقت یہ محسوس ہو آپ کا نقصان مجھے پورا کرنا چاہیے تو میں حاضر ہوں‘ باقی رہ گیا میرا نقصان تو میری گاڑی انشورڈ ہے‘ مجھے آپ کی طرف سے کچھ نہیں چاہیے‘‘ وہ اس کے بعد اٹھا‘ اپنی پشت جھاڑی‘ میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور چلا گیا‘ میں نے اس کے بعد دو تین مرتبہ اس سے رابطہ کیا لیکن دوسری طرف سے صرف اتنا جواب آیا ’’آپ اگر کوئی پے منٹ لینا چاہتے ہیں تو پلیز مجھے رقم اور بینک کی تفصیل بھیج دیں‘ میں ٹرانسفر کر دوں گا‘‘ میں مزید شرمندہ ہو گیا۔

مجھے 2017ء میں شام جانے کا اتفاق ہوا‘ شام میں اس وقت خانہ جنگی جاری تھی‘ میری موجودگی میں بی بی زینبؓ کے روضہ مبارک پر میزائل کا حملہ ہوگیا‘ پورے ملک میں افراتفری‘ قتل وغارت گری اور دہشت تھی‘ لوگ ملک سے بھاگ رہے تھے‘ پورے یورپ میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپ بنے تھے‘ اس عالم میں مجھے جامع امیہ کی دائیں سائیڈ کی قدیم گلی میں احمد قلم کار سے ملنے کا اتفاق ہوا‘ وہ پیشے کے لحاظ سے خطاط تھا‘ گائیڈ نے مجھے احمد قلم کار کا عجیب تعارف کرایا‘ اس کا کہنا تھا‘ افراتفری کے اس عالم میں جب پورا ملک یورپ کی طرف بھاگ رہا ہے یہ شخص جرمنی سے واپس دمشق آ گیا اور یہاں مزے سے زندگی گزار رہا ہے‘ یہ بات واقعی دل چسپ تھی اور میں دل چسپی کا دھاگا پکڑ کر اس سے ملنے چلا گیا‘ وہ مجھ سے چھ سال بڑا تھا‘ وہ اس وقت اپنے پشتینی گھر کی دہلیز پر قہوے کی چینک رکھ کر بیٹھا تھا‘ ہم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے‘ گلی میں اس وقت اچھی خاصی رونق تھی‘ میں نے احمد سے پوچھا ’’کیا آپ واقعی جرمنی سے واپس آ گئے‘‘ اس نے ہنس کر ہاں میں سر ہلایا اور بولا ’’میری صرف تین بیٹیاں ہیں‘ شام میں جب خانہ جنگی شروع ہوئی تو میں بیوی کے دبائو میں آ کر خاندان سمیت جرمنی چلا گیا‘ ہمیں وہاں رفیوجی کیمپ میں ڈال دیا گیا‘ ہم بڑے ہال میں زمین پر گدے ڈال کر سوتے تھے اور قطار میں لگ کر کھانا لیتے تھے‘ میں نے وہاں دو ماہ گزارے‘ میں اس دوران روز اپنے آپ سے پوچھتا تھا‘ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا کیا کیا نہیں تھا‘ میرے پاس گھر تھا‘ رزق تھا‘ عزت تھی‘ اولاد تھی اور اپنی زبان سمجھنے والے لوگ تھے لیکن میں موت کے خوف سے ان سب کو ٹھڈا مار کر کیوں ایک ایسی جگہ آ گیا جہاں مجھے بات کرنے کے لیے ترجمان کی ضرورت ہے‘مجھے جہاں قطار میں کھڑے ہو کر خیراتی کھانا لینا پڑتا ہے اور جہاں میری کوئی عزت نہیں‘ میرا گھر میرا نہیں لہٰذا مجھ سے بڑا بے وقوف کون ہو گا؟ میں دو ماہ یہ سوچتا رہا اور جس دن مجھ سے کیمپ کی انتظامیہ نے پوچھا ’’آپ اگر جرمنی میں رہنا چاہتے ہیں تو کیاآپ اس کے قوانین کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟‘‘ میں نے فوراً انکار میں سر ہلایا اور واپس جانے کا اعلان کر دیا‘ میری بیوی اور بیٹیوں نے بھی میرے فیصلے کی تائید کی اور یوں ہم واپس آ گئے‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ کیا آپ کو فیصلے پر پچھتاوا ہے؟‘‘ اس نے فوراً جواب دیا ’’ہرگز نہیں‘ میں یہاں اپنے لوگوں میں ہوں اور میرے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے‘ میں کیوں پچھتائوں گا‘ کیوں پریشان ہوں گا؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’لیکن یہاں آپ کی جان محفوظ نہیں‘‘ اس نے مسکرا کر الٹا سوال کیا ’’آپ مجھے دنیا کا کوئی ایسا ملک یا جگہ بتائیں جہاں انسان کی جان کو خطرہ نہ ہو؟‘‘ وہ رکا اور ہنس کر بولا ’’موت برحق ہے‘ یہ آ کر رہتی ہے‘ میں جرمنی میں ہوں یا دمشق میں مجھے مرنا بہرحال پڑے گا لہٰذا پھر میں اپنے ملک میں اپنے لوگوں کے درمیان کیوں نہ مروں! مجھے جرمنی میں غیروں کے سامنے مرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ‘‘ میں لاجواب ہو گیا۔

مجھے احمداور ایکسیڈنٹ کا شکار وہ اجنبی شخص دونوں تیسری پینٹنگ محسوس ہوئے‘ بحران‘ کنفیوژن اور بربادی کے درمیان گھونسلے میں بیٹھی شاداں چڑیاں‘ مجھے یہ بھی محسوس ہوا دنیا میں باہر کچھ نہیں ہوتا‘ سب کچھ انسان کے اندر ہوتا ہے‘ سکون بھی‘ اطمینان بھی اور خوشی بھی اور اگر انسان کا وجود ان نعمتوں سے خالی ہو تو پھر باہر خواہ کچھ بھی ہو جائے‘ باہر سکون‘ فراوانی اور نعمتوں کے خواہ کتنے ہی دریا بہنے لگیں انسان کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آتی چناں چہ ہمیشہ تیسری پینٹنگ بنیں‘ باہر کی بجائے اندر پر توجہ دیں‘ آپ کے مقدر کا خزانہ باہر نہیں اندر ہے‘ خوشی اور سکون آپ کو اندر ملے گی باہر نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تیسری پینٹنگ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

قید بھی نعمت ہوتی ہے

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

سٹوڈنٹ لسٹ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…