جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور کے چڑیا گھر میں ٹک ٹاکر نے ’شیر‘ کے پنجرے میں چھلانگ لگادی

datetime 29  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک) لاہور کے چڑیا گھر میں ایک ٹک ٹاکر کی جانب سے شیر کے پنجرے میں چھلانگ لگانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد چڑیا گھر کے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ شخص بار بار شیر کے باڑے کے قریب موجود ممنوعہ حصے میں داخل ہونے اور پنجرے کے اندر جانے کی کوشش کرتا ہے۔ واقعے کے دوران چڑیا گھر میں تعینات سیکیورٹی اہلکار اسے روکنے میں مبینہ طور پر ناکام رہے۔ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد شہریوں کی جانب سے چڑیا گھر میں جانوروں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد چڑیا گھر آنے والے افراد اور جانوروں دونوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے لیے خطرناک حرکات کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔

ماضی میں بھی ویڈیوز بنانے کے دوران مختلف حادثات پیش آچکے ہیں، جن میں بعض افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پیش آیا تھا، جہاں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران پستول چلنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔مقتول نوجوان کی شناخت 26 سالہ ابوبکر کے نام سے ہوئی، جو شاہین آباد، سیدو شریف کا رہائشی تھا۔رپورٹس کے مطابق ابوبکر ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا کہ اسی دوران پستول اچانک چل گئی اور گولی لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور نوجوان کی لاش کو ضروری کارروائی کے لیے سینٹرل اسپتال سیدو شریف منتقل کردیا گیا۔یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر منفرد اور وائرل مواد بنانے کی کوشش میں خطرناک حرکات بعض اوقات انتہائی افسوسناک نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…