ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

لاہور کے چڑیا گھر میں ٹک ٹاکر نے ’شیر‘ کے پنجرے میں چھلانگ لگادی

datetime 29  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک) لاہور کے چڑیا گھر میں ایک ٹک ٹاکر کی جانب سے شیر کے پنجرے میں چھلانگ لگانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد چڑیا گھر کے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ شخص بار بار شیر کے باڑے کے قریب موجود ممنوعہ حصے میں داخل ہونے اور پنجرے کے اندر جانے کی کوشش کرتا ہے۔ واقعے کے دوران چڑیا گھر میں تعینات سیکیورٹی اہلکار اسے روکنے میں مبینہ طور پر ناکام رہے۔ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد شہریوں کی جانب سے چڑیا گھر میں جانوروں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد چڑیا گھر آنے والے افراد اور جانوروں دونوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے لیے خطرناک حرکات کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔

ماضی میں بھی ویڈیوز بنانے کے دوران مختلف حادثات پیش آچکے ہیں، جن میں بعض افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پیش آیا تھا، جہاں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران پستول چلنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔مقتول نوجوان کی شناخت 26 سالہ ابوبکر کے نام سے ہوئی، جو شاہین آباد، سیدو شریف کا رہائشی تھا۔رپورٹس کے مطابق ابوبکر ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا کہ اسی دوران پستول اچانک چل گئی اور گولی لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور نوجوان کی لاش کو ضروری کارروائی کے لیے سینٹرل اسپتال سیدو شریف منتقل کردیا گیا۔یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر منفرد اور وائرل مواد بنانے کی کوشش میں خطرناک حرکات بعض اوقات انتہائی افسوسناک نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…