جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا

datetime 28  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی فضائی تاریخ کے پراسرار واقعات میں شامل پی آئی اے کی پرواز PK-404 کو لاپتا ہوئے 37 برس گزر چکے ہیں، تاہم آج تک نہ طیارے کا ملبہ مل سکا اور نہ ہی اس میں سوار مسافروں اور عملے کے افراد کے بارے میں کوئی حتمی سراغ سامنے آیا۔

25 اگست 1989 کو پی آئی اے کا فوکر F27 طیارہ، رجسٹریشن نمبر AP-BBF، گلگت سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا۔ پرواز میں 49 مسافروں سمیت عملے کے 5 ارکان موجود تھے۔ طیارے نے صبح 7 بج کر 36 منٹ پر گلگت ایئرپورٹ سے ٹیک آف کیا اور ابتدائی طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے معمول کے مطابق رابطے میں رہا۔

پرواز کے دوران کسی تکنیکی خرابی یا ہنگامی صورتحال کی اطلاع کنٹرول ٹاور کو نہیں دی گئی۔ پائلٹ کی جانب سے ’’مے ڈے‘‘ کال بھی موصول نہیں ہوئی، جو کسی سنگین ہنگامی صورتحال کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم ٹیک آف کے صرف چند منٹ بعد طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ اچانک منقطع ہوگیا اور اس کے بعد جہاز سے دوبارہ کوئی رابطہ قائم نہ ہوسکا۔

چند منٹ میں رابطہ منقطع

دستیاب معلومات کے مطابق کپتان ایس ایس زبیر نے روانگی سے قبل مسافروں کو آگاہ کیا تھا کہ پرواز گلگت سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو رہی ہے اور موسم بھی سازگار ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ پرواز تقریباً 8 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر سفر کرتے ہوئے ایک گھنٹے کے اندر اسلام آباد پہنچے گی۔

طیارے میں فرسٹ آفیسر احسن بلگرامی، ایئر ہوسٹس خالدہ حبیب اور فلائٹ اسٹیورڈ مقصود بھی موجود تھے۔ تاہم پرواز کے آغاز کے تقریباً 9 منٹ بعد رابطہ ختم ہوگیا اور پھر طیارہ ریڈار سے بھی غائب ہوگیا۔

رابطہ منقطع ہونے کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرول نے طیارے سے دوبارہ رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں کیں، لیکن تمام کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ واقعے کی اطلاع متعلقہ حکام کو دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے طیارے کے لاپتا ہونے کی خبر مسافروں کے اہلخانہ تک پہنچ گئی۔

بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن

حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد پاک فضائیہ، پاک فوج اور مقامی رضاکاروں نے شمالی علاقہ جات میں بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی۔ پہاڑی علاقوں، نانگا پربت اور اس کے گردونواح میں مقامی کوہ پیماؤں اور دیگر ماہرین کی مدد سے سرچ آپریشن کیا گیا۔

کئی روز تک جاری رہنے والی تلاش کے باوجود طیارے کا کوئی حصہ، بلیک باکس، سامان یا مسافروں کی لاشیں برآمد نہ ہوسکیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ تلاش کا دائرہ بھی وسیع کیا گیا، لیکن طیارے کے ممکنہ مقام کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد سراغ سامنے نہیں آیا۔

بھارت پر بھی شبہ ظاہر کیا گیا

طیارے کے اچانک غائب ہونے کے بعد یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ کہیں وہ لائن آف کنٹرول یا مقبوضہ کشمیر کے قریب بھارتی حدود میں داخل ہوکر حادثے کا شکار تو نہیں ہوا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ بھی سامنے آیا کہ ممکنہ طور پر طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہو، تاہم اس مفروضے کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آسکا۔

پاکستان نے اس امکان کے پیش نظر بھارت سے بھی رابطہ کیا اور طیارے کے ممکنہ طور پر بھارتی حدود میں گرنے کے بارے میں معلومات طلب کیں۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی ٹیم کے ذریعے بھی تلاش کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس سے بھی طیارے کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

خراب موسم یا پہاڑی علاقہ؟

سول ایوی ایشن کے سابق چیف ایئر ٹریفک کنٹرولر سعید احمد کے مطابق اس حادثے کی ایک ممکنہ وجہ خراب موسم اور پہاڑی علاقے میں طیارے کا کم بلندی پر پرواز کرنا ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی علاقوں میں موسم بعض اوقات اچانک تبدیل ہوجاتا ہے۔ پہاڑوں سے ٹکرانے والی تیز ہوائیں اور موسمی حالات طیارے کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آیا ہو اور کسی گہری وادی یا گلیشیئر کے علاقے میں جاگرا ہو۔

سعید احمد کے مطابق اس دور میں آج کے مقابلے میں فضائی نگرانی اور رابطے کی ٹیکنالوجی محدود تھی، جبکہ دشوار گزار پہاڑی خطے میں سگنلز کا منقطع ہونا بھی ممکن تھا۔ تاہم ان کے مطابق حادثے کی حتمی وجہ آج تک معلوم نہیں ہوسکی کیونکہ طیارے کا ملبہ یا بلیک باکس سمیت تحقیقات کے لیے کوئی اہم شواہد دستیاب نہیں ہوئے۔

37 برس بعد بھی سوال برقرار

پرواز PK-404 میں سوار تمام 54 افراد کے اہلخانہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس سوال کے جواب کے منتظر ہیں کہ طیارہ آخر کہاں گیا اور اس کے ساتھ کیا ہوا۔ وقت گزرنے کے باوجود نہ کسی مسافر کی لاش مل سکی اور نہ ہی طیارے کے مقام کا تعین ہوسکا۔

ایوی ایشن سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 37 برس کے دوران تلاش اور نگرانی کی ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ جدید آلات اور نظام کی مدد سے اب دشوار گزار پہاڑی اور برفانی علاقوں میں بھی تلاش ممکن ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت دوبارہ اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کرے تو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے طیارے کے ممکنہ مقام کا سراغ لگانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

یوں 25 اگست 1989 کو پیش آنے والا یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی ایوی ایشن تاریخ کے ان واقعات میں شامل ہے جس کا کوئی حتمی جواب سامنے نہیں آسکا۔ 37 سال گزرنے کے باوجود پرواز PK-404 کی گمشدگی کا معمہ بدستور حل طلب ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…