جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

سونا سستا، فی تولہ قیمت میں بڑی کمی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

datetime 27  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ ٰیسک)  پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل چار دن اضافے کے بعد آج کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھات کے نرخ گھٹ گئے ہیں۔

آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت 600 روپے کم ہونے کے بعد 4 لاکھ 86 ہزار 536 روپے ہوگئی۔

اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 514 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 17 ہزار 126 روپے مقرر کی گئی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ فی اونس سونا 6 ڈالر سستا ہوکر 4 ہزار 640 ڈالر کی سطح پر آگیا۔

دوسری جانب چاندی کے نرخوں میں بھی کمی ہوئی ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی 100 روپے کمی کے بعد 7 ہزار 279 روپے میں فروخت ہورہی ہے۔

تاہم حالیہ کمی کے باوجود مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں دوبارہ اضافے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق رواں ماہ فی تولہ سونا 5 لاکھ روپے کی حد بھی عبور کرسکتا ہے۔

سونے کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے حالات سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال میں سونے کی طلب بڑھنے سے اس کی قیمتوں کو بھی سہارا ملتا ہے۔

امریکی ڈالر کی قدر میں کمی بھی سونے کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے۔ چونکہ عالمی سطح پر سونے کی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، اس لیے ڈالر کمزور ہونے کی صورت میں دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا نسبتاً سستا پڑتا ہے، جس سے اس کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی شرحِ سود سے متعلق توقعات بھی سونے کے نرخوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اگر سرمایہ کاروں کو شرحِ سود میں کمی یا نرم مالیاتی پالیسی کی توقع ہو تو سونے میں سرمایہ کاری زیادہ پرکشش ہوجاتی ہے، کیونکہ اس پر کوئی سود نہیں ملتا۔

ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک بھی اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں سونے کا حصہ بڑھا رہے ہیں۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مرکزی بینکوں نے مجموعی طور پر 244 ٹن سونا خریدا۔

میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجوہات پر ایک معلوماتی تصویر بھی بنا سکتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…