میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی یادیں اب تک تحت الشعور میں موجود ہیں‘ گندم کی کٹائی کے لیے پورا گائوں اکٹھا ہوتا تھا‘
دوسرے گائوں سے بھی عزیز رشتے دار اور کمی بلائے جاتے تھے‘ اس کو ’’وانگ‘‘ کہا جاتا تھا‘ لوگ مل کر گندم کاٹتے تھے‘ اس کے ڈھیر لگائے جاتے تھے‘ انہیں ’’پھلے‘‘ کہا جاتا تھا‘ ان سے دانتے نکالنا مشکل کام ہوتا تھا‘ اس میں عورتیں بھی مردوں کا ساتھ دیتی تھیں‘ وانگ کو حلوہ کھلایا جاتا تھا‘ اس حلوے کو ’’کڑھا‘‘ یا کڑاہی کہا جاتا تھا‘ لوگ اس حلوے کے چکر میں گندم کاٹتے رہتے تھے‘ اس کے ساتھ تنور کی روٹیاں اور گوشت کا سالن بھی ہوتا تھا اور لوگ مقابلہ کر کے روٹیاں اور حلوہ کھاتے تھے‘ سردیوں میں کماد کاٹ کر رو نکالی جاتی تھی‘ بیلنے کرائے پر لائے جاتے تھے یا پھر زمین داروں نے اپنے رکھے ہوتے تھے‘ رو کو بڑی بڑی کڑاہیوں میں بھر کر ان کے نیچے کماد کے خشک پتے یا پھوگ جلایا جاتا تھا یوں رو کا پانی سوکھ جاتا تھا اور یہ آہستہ آہستہ گڑ کی شکل اختیار کر جاتی تھی‘ گرم رو میں چھوٹے گنے ڈال کر باہر نکالے جاتے تھے‘ یہ دیسی ’’لالی پاپ‘‘ ہوتا تھا‘ ہم اسے گیدڑ کہتے تھے اور پورے گائوں کے بچے اس لالی پاپ کو انجوائے کرتے تھے‘ کچے چنوں کو بھی پودے سمیت اکھاڑ لیا جاتا تھا‘
انہیں خشک بالن میں رکھ کر آگ لگائی جاتی تھی یوں یہ پھلیوں کے اندر پک جاتے تھے‘ ہم اسے بھی مزے سے کھاتے تھے‘ آب پاشی کنوئوں کے ذریعے ہوتی تھی‘ کنوئیں کی بڑی سی پھرکی گھمانے کے لیے بیل جوتے جاتے تھے‘ یہ گول گھومتے تھے جس سے پھرکی گومتی تھی اور وہ آگے چل کر کنوئیں میں موجود پھرکی کو گھماتی تھی اور یوں پانی باہر گرنے لگتا تھا‘ پانی کے ڈھول کو ’’ٹنڈ‘‘ کہا جاتا تھا‘ ٹنڈوں کے ساتھ لوہے کا چمٹا لگا ہوتا تھا‘ وہ خاص قسم کی آواز نکالتا تھا‘ یہ آواز دور دور تک سنائی دیتی تھی‘ یہ بندوبست بیلوں کو چلانے اورکسانوں کو بیلوں کی چالاکی کی اطلاع دینے کے لیے تھا‘ بیل جوں ہی تھک کر رکتے تھے تو چمٹے کی آواز بند ہو جاتی تھی جس سے کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کو اطلاع ہو جاتی تھی بیل رک گئے ہیں اور وہ دور سے بیلوں کو ماں بہن کی گالیاں دیتا ہوا کنوئیں کی طرف دوڑ لگا دیتا تھا‘ اس کی آواز سنتے ہی ٹنڈوں کا راگ دوبارہ شروع ہو جاتا تھا‘ ٹنڈوں کی آواز پر بے تحاشا پنجابی شعر بھی لکھے گئے‘ بیلوں کے پیچھے لکڑی کی ایک بڑی سی غلیل ہوتی تھی جس کے درمیان بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی‘ اس پر عموماً بچوں کو بٹھایا جاتا تھا‘ یہ ’’گودی‘‘ کہلاتی تھی‘ بچے سارا سارا دن اس پر بیٹھ کر ’’جھوٹے‘‘ لیتے تھے‘ یہ جھوٹوں کے علاوہ بیلوں کو چلانے کے ذمہ دار بھی ہوتے تھے‘ بیلوں کو چھڑی مارنا منع تھا چناں چہ جوں ہی بیل رک جاتے تھے تو چھڑی جسے ہم سوٹی کہتے تھے اس کے ذریعے بیل کے مخصوص حصوں پر خارش کی جاتی تھی اور بیل تڑپ کر چلنے لگتے تھے‘ کنوئیں کے پانی میں عجیب سی خوشبو ہوتی تھی‘ وہ خوشبو آج تک میرے شعور میں موجود ہے‘ مجھے برسوں بعد بہاولپور کے قلعہ دراوڑ کے پرانے کنوئیں میں جھانکنے کا موقع ملا‘ مجھے اس میں بچپن کی خوشبو آئی اور میں نہال ہو گیا‘ یہ خوشبو مجھے اس کے بعد کہیں محسوس نہیں ہوئی۔
میری دادی‘ والدہ اور پھوپھیاں روزانہ چکی پر آٹا پیستی تھیں‘ یہ پتھر کی چکی تھی جس کے دو پاٹوں کے درمیان گندم کے دانے ڈالنے کی جگہ ہوتی تھی جب کہ کونے میں لکڑی کی دستی لگی تھی‘ وہ دستی پکڑ کر ہاتھ کے ذریعے چکی کو گول گھماتی تھی‘ ٹرر ٹرر کی آواز نکلتی تھی اور دانے پائوڈر بن کر نیچے گرنے لگتے تھے‘ آٹا اکٹھا کر کے مٹی کی کنالی میں ڈالا جاتا تھا‘ اس میں پانی ملایا جاتا تھا اور پھر ہاتھ سے گوندا جاتا تھا‘ آٹے کی وہ خوشبو بھی آج تک میرے حافظے میں موجود ہے‘ روٹیاں عموماً تنوروں سے لگوائی جاتی تھیں‘ تنور مصلیوں کی عورتوں کی ملکیت ہوتے تھے‘ وہ پانچ روٹیوں کے بدلے ایک روٹی لے کر روٹیاں پکا دیتی تھیں‘ تنور کی مالکن جو روٹی اپنے پاس رکھتی تھی وہ ’’ٹاپ‘‘ کہلاتی تھی‘ وہ یہ روٹیاں گھر لے جاتی تھی یا آخر میں بیچ دیتی تھی‘ زمین دار یہ روٹی کھانا اپنی توہین سمجھتے تھے اور جو یہ کھاتا تھا اسے وہ ’’ٹاپاں‘‘ کھانے والا کہتے تھے یعنی یہ مسکینی کی علامت تھی‘ تندورچی عورتیں دانے بھی بھون کر دیتی تھیں‘ ہم بچے وہ دانے گڑ کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے اور وہ بہت مزیدار ہوتے تھے‘ میری دادی اور ماں چرخہ بھی کاتتی تھیں‘ یہ کپاس سے روئی الگ کر کے اس کا دھاگہ بناتی تھیں اور پھر اس دھاگے سے کھیس بنائے جاتے تھے اور وہ نسلوں تک چلتے تھے‘ میرے دادا کا کھیس میرے میٹرک تک میرے والد کے پاس رہا اور وہ اسے استعمال بھی کرتے تھے‘ چرخے کے اندر سے کوک کی آواز نکلتی تھی‘ وہ آواز بھی آج تک میرے حافظے میں موجود ہے‘ ہمارے گائوں میں ایک چکی بھی تھی‘ وہ مٹی کے تیل سے چلتی تھی‘ اس میں انجن لگا تھا‘ اس کے ایگزاسٹ سے دھواں اور کڑوں کڑوں کی آوازیں آتی تھیں‘ یہ پورے گائوں میں آتی تھی جس کا مطلب ہوتا تھا چکی چل رہی ہے چناں چہ لوگ گندم کے دانوں کے توڑے اٹھا کر چکی پر چلے جاتے تھے اور وہ دانوں کا ایک پورشن رکھ کر باقی دانے پیس دیتے تھے لوگ چکی کے مالک کو اچھا نہیں سمجھتے تھے‘ اس کی وجہ اس کی بے ایمانی تھی‘ وہ دانے زیادہ رکھتا تھا اور پیستا کم تھا یا آٹے میں ملاوٹ کر دیتا تھا۔ گائوں میں بیوپاری بھی آتے تھے‘ یہ دانے خریدتے تھے‘ ان کے پاس مختلف قسم کے پیمانے ہوتے تھے‘ بڑے پیمانے کو ٹوپا کہتے تھے‘
یہ گول پیالے کی طرح ہوتا تھا اور اس میں ڈیڑھ سے پونے دو کلو گرام دانے آتے تھے‘ اس سے چھوٹا پیمانہ پڑوپی کہلاتا تھا‘ یہ ٹوپے کا چوتھائی ہوتا تھا‘ بیوپاری ٹوپے اور پڑوپی کے ذریعے دانے لیتے تھے اور پیسے دیتے تھے‘ دانے صرف گھر کی عورتیں بیچتی تھیں اور اس رقم سے یہ اپنی ضروریات پوری کرتی تھیں‘ گائوں میں عورتوں کی ضرورت کی چیزیں بیچنے والے آتے تھے‘ یہ ’’پراندے لے لو‘‘ کی آوازیں لگاتے تھے‘ عورتیں انہیں آواز دے کر روک لیتی تھیں‘ ان کے پاس پراندے‘ چوڑیاں (لوگ انہیں ونگاں کہتے تھے) دستی آئینے‘ فیس پائوڈر‘ سرمہ‘ دانتوں کی صفائی اور ہونٹ رنگنے کا سامان ہوتا تھا‘ عورتیں یہ لے لیتی تھیں اور اسے دانے یا پھر دانوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے رقم دے دیتی تھیں‘کپڑے بیچنے والی عورتیں بھی گائوں میں آتی تھیں‘ یہ پٹھان ہوتی تھیں اور کپڑوں کا ’’گٹھا‘‘ سر پر اٹھا کر گھر گھر جاتی تھیں‘ ہم گٹھے کو ’’پنڈ‘‘ کہتے تھے۔ میری دادی اور والدہ صبح سویرے لسی بھی بلوتی تھیں‘ رات کے وقت دودھ کو جاگ لگا کر چھوڑ دیا جاتا تھا‘ صبح اس میں مدھانی ڈال کر دونوں ہاتھوں سے دائیں بائیں کھینچا جاتا تھا‘ اس سے گڑرگڑر کی آواز آتی تھی‘ یہ آواز صبح کے وقت پورے گائوں سے آتی تھی‘ عورتیں لسی سے مکھن نکالتی تھیں‘ ہم یہ رات کی باسی روٹی پر رکھ کر کھاتے تھے اور لسی پیتے تھے‘ یہ ہماری صبح کی خوراک ہوتی تھی‘ لسی گائوں کا مشروب بھی تھی اور ضرورت بھی‘ گائوں اس کے بغیر سروائیو نہیں کر سکتے تھے‘ عورتیں لسی کے بعد پورے گھر کی صفائی کرتی تھیں جب کہ مرد فجر کے وقت جانور لے کر باہر کھیتوں پر چلے جاتے تھے‘ عورتیں لسی سے فارغ ہو کر جانوروں کا بول وبراز صاف کرتی تھیں‘ صحن میں جھاڑو پھیر کر درختوں کے پتے اور گردوغبار صاف کرتی تھیں‘ چارپائیاں اٹھاتی تھیں‘ بستر لپیٹ کر اندر کھتی تھیں اور اس کے بعد مردوں کے لیے روٹی کا چھابہ تیار کرتی تھیں‘ اس میں روٹی یا پراٹھا ہوتا تھا‘ تازہ مکھن ہوتا تھا اور ساتھ لسی کی گڈوی ہوتی تھی‘ عورتیں یہ لے کر کھیتوں کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں‘ مرد اس وقت تک بھوک سے نڈھال ہو چکے ہوتے تھے اور ماتھے پر ہاتھ کا چھجا بنا کر گائوں کی طرف دیکھ رہے ہوتے تھے‘ عورتیں گائوں سے اکٹھی نکلتی تھیں جب کہ دادیاں‘ نانیاں‘ بیوہ عورتیں یا پھر بیمار خواتین گھر پر رہ جاتی تھیں‘ یہ اس کے بعد چرخہ اور چکی رکھ کر بیٹھ جاتی تھیں یا پھر دالوں اور تلوں کی صفائی شروع کر دیتی تھیں‘ یہ سویٹر بھی بننے لگتی تھیں اور کروشیے سے رومالوں پر کڑھائی بھی کرتی تھیں‘ بوڑھی عورتوں کے دن کا آغاز قرآن خوانی سے ہوتا تھا‘ میری بچپن میں روزانہ دادی کی تلاوت سے آنکھ کھلتی تھی‘ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر تلاوت کرتی تھیں‘ میری والدہ اور باقی عورتیں فجر کی نماز پڑھتی تھیں اور اس کے بعد کام پر جت جاتی تھیں‘ میں نے اپنی والدہ اور دادی کو پوری زندگی فارغ بیٹھے نہیں دیکھا‘
یہ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ کر رہی ہوتی تھیں‘ میں آج جب یہ سوچتا ہوں تو میں حیران ہو جاتا ہوں‘ میری دادی سو سال کی عمر تک مسلسل کام کرتی رہیں اور میری والدہ نے پہلے میرے والد کا پورا خاندان پالا‘ پھر ہم آٹھ بہن بھائیوں کی پرورش کی اور پھر درجنوں بھتیجوں‘ بھانجوں اور ان کی بہنوں کی خدمت کی اور اس سارے عرصے میں ان کا کوئی معاون نہیں تھا‘ یہ کپڑے بھی اپنے ہاتھ سے دھوتی تھیں‘ پورے گھر کی صفائی بھی کرتی تھیں‘ کھانا بھی بناتی تھیں‘ ہمارے سویٹر اور جرسیاں بھی بنتی تھیں‘ لسی بھی بناتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کے طعنے بھی سنتی تھیں اور اس سب کے باوجود مسکراتی بھی رہتی تھیں‘ میںبہرحال واپس آتا ہوں‘ عورتیں روٹی لے کر کھیت چلی جاتی تھیں جب کہ بزرگ خواتین چرخہ لے کر بیٹھ جاتی تھیں اور سارے گائوں کی غیبتیںکرتی تھیں‘ بچے مائوں کے ساتھ کھیتوں کی طرف نکل جاتے تھے‘ مرد ایڑھیاں اٹھا کر ان کا انتظار کر رہے ہوتے تھے‘ وہ کنوئیں کے ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھو کر کسی درخت کی چھائوں میں بیٹھ جاتے تھے‘ عورتیں ان کے سامنے روٹی کا چھابہ‘ مکھن اور لسی کی گڈوی رکھ دیتی تھیں‘ مرد کھانا کھاتے جاتے تھے اور بیوی کو طعنے دیتے جاتے تھے‘ وہ بے چاری طعنے سنتی تھی اور ہاتھ کے پنکھے (ہم اسے ’’پکھی‘‘ کہتے تھے) سے مکھیاں اڑاتی جاتی تھی جب کہ بچے تازہ مولیاں‘ گاجریں یا گنا توڑ کر کھاتے تھے یا بیریوں سے بیر اتارتے یا پھر کنویں کے گرد پھیرے لگاتے بیلوں کی گودی پر بیٹھ کر چھڑی سے ان کے ’’مقامات آہ و فغاں‘‘ کو چھیڑتے تھے جس سے ان کی سپیڈ تیز ہو جاتی تھی‘ اس سے ٹینڈوں کے چمٹے کی آواز بڑھ جاتی تھی‘ یہ آواز جب روٹی کھاتے چاچے (ہمارے گائوں میں والد کو چاچا کہا جاتا تھا) تک پہنچتی تھی تو وہ اونچی آواز میں نہایت ہی مفصل گالی دے کر بیٹے کو منع کرتا تھا‘ اس گالی میں کیوں کہ بچے کی والدہ کا ذکر بھی ہوتا تھا چناں چہ ماں پکھی روک کر غصے سے خاوند کو جواب دیتی تھی اور یوں دونوں کی لڑائی شروع ہو جاتی تھی جس کے آخر میں مرد لسی زمین پر گرا دیتا تھا (جاری ہے)۔



















































