ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت اور ہمدردی تھی‘ محرم سنی اور شیعہ دونوں مل کر مناتے تھے اور یہ اسلامی دن ہوتا تھا‘
آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے مجھے میٹرک تک شیعہ اور سنی کا فرق معلوم نہیں تھا‘ میں نے میٹرک کے بورڈ کے امتحان کے لیے فارم پر کیا تو اس میں مذہب کے بعد عقیدے کا خانہ تھا‘ ہمارے ایک استاد ہم سے فارم پر کرا رہے تھے‘ میں نے عقید کے سامنے مسلمان لکھ دیا‘ انہوں نے دیکھا اور مجھ سے کہا ’’کھوتے اس میں عقیدہ لکھنا ہے‘ تم نے مذہب کے سامنے اسلام اور عقیدے کے سامنے مسلمان لکھ دیا‘ عقیدہ لکھ عقیدہ‘‘ مجھے اس وقت تک اپنے عقیدے کا علم نہیں تھا‘ میں نے اپنی اس خامی کا اظہار کیا تو استاد نے کہا‘ تم سنی ہو یا شیعہ‘ مجھے دونوں کا پتا نہیں تھا‘ استاد صاحب سنی تھے‘ انہوں نے مسلمان کاٹ کر سنی لکھ دیا یوں میں سنی ہو گیا‘ میں آج جب یہ سوچتا ہوں اگر میرے استاد شیعہ ہوتے تو انہوں نے لازماً مسلمان کی جگہ شیعہ لکھ دینا تھا جس کے بعد میں یقینا شیعہ ہو جاتا‘ میں نے واپسی پر والدہ سے شیعہ کے بارے میں پوچھا‘ میری ان پڑھ ماں کو بھی یہ فرق معلوم نہیں تھا جب کہ یہ روزانہ تلاوت کرتی تھیں اور پانچ وقت نماز بھی پڑھتی تھیں‘ بنیادی طور پر ہمارے گائوں میں کوئی شیعہ اور سنی تھا ہی نہیں‘ ہم سب صرف مسلمان تھے چناں چہ اس کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا‘ شہر میں محرم کے مہینے میں ماتم ہوتا تھا اور تعزیہ نکلتا تھا‘ ایک تعزیہ ہمارے محلے میں بنتا تھا‘ ہماری گلی میں ہمارے گھر سے چند گھروں کے فاصلے پر موچیوں کے دو گھر تھے‘
وہ اپنے گھر کی بیٹھک میں جوتے گانٹھتے تھے‘ انڈیا سے ہجرت کر کے لالہ موسیٰ آئے تھے‘ بڑا بھائی تعزیہ بناتا تھا‘ وہ محرم کے بعد اگلے تعزیے کی تیاری شروع کر دیتا تھا‘ وہ کانوں (سرکنڈوں) کا ڈھانچہ بناتا تھا اور پھر اس پر رنگین کاغذ لگاتا رہتا تھا‘ اس کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ تعزیے کی تیاری پر خرچ ہو جاتا تھا‘ محرم سے دو ماہ قبل ذوالقعدہ کے مہینے میں باقی خاندان بھی تعزیے کی تکمیل میں لگ جاتا تھا یوں تعزیہ مکمل ہو جاتا تھا جس کے بعد وہ اسے محرم کے شروع میں نمائش کے لیے گلی میں رکھ دیتے تھے‘ پوری گلی اس کی زیارت کرتی تھی‘ دسویں محرم کو باقاعدہ جلوس کی شکل میںاس تعزیے کو مرکزی بازار (ہم اسے وڈا بازار کہتے تھے) لے جایا جاتا تھا جہاں دوسرے تعزیے بھی آتے تھے‘ ہماری گلی میں کوئی اہل تشیع نہیں تھا لیکن اس کے باوجود آدھی گلی کے لوگ سیاہ کپڑے پہن کر ہلکا ہلکا ماتم کرتے ہوئے تعزیے کے پیچھے چلتے تھے‘ زیادہ تر گھروں کے سامنے شربت اور دودھ سوڈا کی سبیل ہوتی تھی‘ عزادار شربت پیتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے تھے‘ مجھے مدت بعد پتا چلا تعزیہ بنانے والا موچی بھی شیعہ نہیں تھا‘ وہ لوگ نسلوں سے تعزیہ بناتے چلے آ رہے تھے چناں چہ انہوں نے یہ کام پاکستان میں بھی جاری رکھا‘ وڈے بازار میں ظہر کی نماز کے بعد زنجیرزنی ہوتی تھی‘ بازار کی دو سائیڈز کی چھتیں اس وقت لوگوں سے بھر جاتی تھیں‘ سڑک پر زنجیرزنی ہوتی تھی اور چھتوں پر ماتم‘ اس دن فضا کے اندر ایک سوگواری ہوتی تھی‘ شہر میں بارہ ربیع الاول بھی منایا جاتا تھا لیکن اس کا سٹائل مختلف ہوتا تھا‘ لوگ اپنے گھروں‘ دکانوں اور بازار کے مختلف کونوں میں چھوٹے چھوٹے کارنر بناتے تھے جن میں خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ کے ماڈل رکھے جاتے تھے اور پرانے زمانے کا مکہ اور مدینہ بنایا جاتا تھا جس میں اونٹوں اور عربی لباس میں ملبوس لوگوں کے پلاسٹک کے ڈھانچے ہوتے تھے‘ پورے شہر کے بچے ان کا معائنہ کرتے تھے‘ ہم اسے عید میلاد النبیؐ کہتے تھے اور عید کی طرح مناتے تھے‘ خلیجی ممالک سے جب بچوں کے چابی اور سیلوں کے کھلونے آئے تو وہ بھی ان کارنرز اور سٹالز پر رکھ دیے جاتے تھے‘ ان میں سیلوں سے اڑنے والے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بھی ہوتے تھے‘ بچے یہ کھلونے دیکھنے کے لیے سارا سال عید میلادالنبیؐ کا انتظار کرتے تھے‘ شہر میں امام باڑہ بھی تھا‘ پورا شہر اسے امام باڑہ کہتا تھا‘ وہ بھی محفوظ تھا اور مساجد بھی لیکن پھر جنرل ضیاء الحق کا دور آیا اور میں نے شیعہ اور سنی کو الگ الگ ہوتے اور پھر ایک دوسرے کا دشمن بنتے دیکھا‘ شہر میں پہلی بار سنیوں اور شیعوں کی جماعتیں بنیں‘ نوجوان ان میں شامل ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے‘ مسلمان پہلے شیعہ اور سنی بنے اور پھر سنی آگے بڑھ کر بریلوی‘ دیوبندی اور اہل حدیث میں تقسیم ہو گئے اور دونوں ایک دوسرے سے اتنی ہی نفرت کرنے لگے جتنی یہ شیعہ سے کرتے تھے‘ مسجدوں کے اندر خطبوں کے دوران ایک دوسرے کو گالی دی جاتی تھی۔
میرے چند دوست بریلوی تھے‘ میں ان کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا لہٰذا میں بھی بریلوی ہو گیا‘ کیوں ہو گیا مجھے آج تک علم نہیں ہو سکا‘ میں جب بھی اس کو کھوجنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے یہ صحبت کا اثر تھا‘ میں اگر بچپن میں اہل حدیث میں بیٹھتا تو میں یقینا اہل حدیث ہوتا اور اگر میرا حلقہ احباب شیعہ ہوتا تو میں شیعہ بن چکا ہوتا‘ انسان پر صحبت اس قدر اثر انداز ہوتی ہے‘ اس کا زاویہ نظر ہی بدل جاتا ہے‘ اس زمانے میں اے ٹی آئی (انجمن طلباء اسلام) کے نام سے بریلوی طلباء کی جماعت ہوتی تھی‘ یہ شاید آج بھی ہو‘ میرے دوست اس میں شامل ہو گئے‘ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے وہاں چلا گیا۔ مجھے اس کا فائدہ ہوا‘ مذہبی مطالعے کی عادت پڑی‘ صوفیاء اکرام سے محبت ہوئی اور گفتگو اور اٹھنے بیٹھنے کا طریقہ بھی آ گیا‘ اے ٹی آئی کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے فنکشن ہوتے تھے‘ مجھے ان کے ساتھ لاہور‘ راولپنڈی اور مظفر آباد جانے کا اتفاق ہوا‘ میں اگر ان میں شامل نہ ہوتا تو شاید اتنی جلدی یہ شہر نہ دیکھ پاتا‘ حاجی حنیف طیب اس فورم کے بانی اور سربراہ تھے‘ وہ بہت شان دار اور نستعلیق شخص تھے‘ کراچی کے رہنے والے تھے‘ بے انتہا شائستہ اور مہذب انسان تھے‘ مجھے ان سے سیکھنے کا موقع ملا‘ یہ بعدازاں1985ء میں لیبر‘ مین پاور اینڈ اوورسیز پاکستانیزکے وفاقی وزیر بھی رہے‘میرے سامنے شہر کی مسجدیں تقسیم ہوئیں اور ان میں اسلام کی بجائے فرقوں کی پرورش شروع ہوئی‘ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سنا علماء اکرام صرف مسلکی اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کو سلام کرنے سے انکاری تھے‘ یہ ایک دوسرے کی مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے‘ یہ اپنے بچوں کو دوسرے مسلک کے قاری سے قرآن مجید نہیں پڑھاتے تھے‘
جنازے سے قبل بھی امام صاحب سے ان کا مسلک پوچھا جاتا تھا یوںپورے شہر کی فضا خراب ہو گئی اور لوگ مسلک کی دیواروں میں قید ہوتے چلے گئے‘ میں جب تھوڑا سمجھ دار ہوا تو مجھے لوگوں کے اصل چہرے نظر آنے لگے اور یہ معلوم ہوا یہ سب ایک کاروبار‘ ایک دھندا ہے‘ تاجر جس طرح برتن اور کپڑے بیچتے ہیں بالکل اسی طرح مذہب کا لبادہ اوڑھ کر کچھ لوگ اسلام کی خریدو فروخت کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کے دل مذہب کی محبت سے خالی اور دماغ اسلام کی روشنی سے محروم ہوتے ہیں‘ یہ حقیقت جوں جوں آشکار ہوتی چلی گئی میں توں توں ان جماعتوں سے دور ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ میں جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور گیا تو وہاں طلباء کی تین جماعتیں تھیں‘ اے ٹی آئی‘ جمعیت طلباء اسلام اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) ۔مجھے ان تینوں نے باری باری پھینٹا لگایا‘ میرا جرم صرف کتابیں پڑھنا تھا‘ میں اپنا زیادہ تر وقت لائبریری میں گزارتا تھا‘ اپنی دھن میں مگن رہتا تھا اور یہ انہیں قبول نہیں تھا‘ ان تنظیموں میں شامل طالب علم بعدازاں عملی زندگی میں بری طرح ناکام ہوئے‘ ان میں سے بعض جرائم پیشہ بن گئے اور دو تین پولیس مقابلے میں بھی مارے گئے لہٰذا مذہب کے نام پر کھیلے جانے والے کھیل کا یہ نتیجہ نکلاپوری پوری نسل برباد ہو گئی‘ افسوس یہ کھیل نہ صرف آج تک جاری ہے بلکہ اس کی شدت میں اضافہ بھی ہو چکا ہے۔
میں اس ملک کی اس خوش نصیب نسل میں شامل ہوں جس نے پچاس پچپن سال کی عمر میں پتھر کے زمانے سے اے آئی تک کا سفر طے کیا‘ ہم نے اپنی مائوں کو چکی پر آٹا پیستے دیکھا‘ ایک عورت پورے گھر کی صفائی کرتی تھی‘ ہاتھ سے سب کے کپڑے دھوتی تھی اور پورے گھر کا کھانا بناتی تھی‘ عورتوں کی وہ نسل بھی آخری تھی‘ ہم نمک سے دانت صاف کرنے والے آخری لوگ ہیں‘ ہم بالوں پر تیل لگانے‘ لائف بوائے سے نہانے‘ نلکے کا پانی پینے‘ ایکس چینج پر کال بک کرا کر پورا پورا دن انتظار کرنے‘ بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی کو تھپڑ مار کر چلانے‘ دو دو گھنٹے انٹینا کے ساتھ لٹک کر ’’آیا جے‘‘ کی آوازیں لگانے‘ تھوک سے سلیٹیں صاف کرنے‘ چراغ روشنائی سے تختیاں لکھنے‘ تشریف پر استادوں کے ڈنڈے کھانے‘ صرف عید پر نئے جوتے اور کپڑے خریدنے‘ پی سی او سے فون کرنے‘ پتنگیں لوٹنے‘ پلیٹ فارم کا ٹکٹ خرید کر ٹرین دیکھنے‘بسوں کی چھتوں پر لیٹ کر سفر کرنے‘ خالص دودھ اور گھی کھانے‘ کھیتوں سے تازہ گاجریں اور مولیاں نکال کر چبانے‘ گڑ کے گیدڑ بنانے‘ سبزچنے کے بھاڑ پکانے‘ تندور کی دیسی روٹیاں کھانے‘ قینچی سائیکل چلانے‘ سالم تانگے پر سفر کرنے‘ سینما میں سکرین کے ساتھ بینچ پر بیٹھنے‘ شیعہ اور سنی علماء کے پیچھے نماز پڑھنے‘ آنا لائبریری سے کتابیں لینے‘ وی سی آر پر ایک رات میں تین تین فلمیں دیکھنے‘ تازہ نوٹ سے وی سی آر کا ہیڈ صاف کرنے‘ نہروں میں تربوز ٹھنڈے کرنے‘ بالٹی میں آم ڈال کر کھانے‘ بازار سے برف خریدنے‘ پتنگیں اور ڈور لوٹنے‘ اجتماعی ٹی وی دیکھنے‘ شادیوں پر ویلیں اور سکے لوٹنے‘ ڈھول کی تاپ پر دھمال ڈالنے‘ میلے دیکھنے‘ موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل چلتے دیکھنے اور تھیٹروں کے سامنے کھسروں کا ڈانس دیکھنے والے آخری لوگ ہیں‘ میں اس نسل میں شامل ہوں جس نے اپنی آنکھوں سے پہلے کمپیوٹر کو اے آئی تک کا سفر کرتے دیکھا‘ میں اس ملک کی آخری نسل بھی ہوں جس نے ملک میں امن و امان‘ شانتی اور آشتی دیکھی جس میں لوگ چھتوں پر سوتے تھے اور زیرو بلب میں زندگی گزارتے تھے‘ جس میں لوگ بہنوں اوربیٹیوں کا جہیز مل کر بناتے تھے اور کنوئوں کی ’’گادھی‘‘ پر بیٹھ کر پانی نکالتے اور فصلوں کو پانی دیتے تھے‘ میں نے یہ سفر ایک ہی زندگی میں طے کیا‘
میں سلیٹ اور تختی سے آئی فون‘ آئی پیڈ اور انسٹا گرام تک آیا ہوں‘ میں آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو آپ یقین کریں مجھے یقین نہیں آتا یہ سب کچھ ایک زندگی میں ہوا‘ میں خاک سے محل تک پہنچا اور وہ بھی ایک ہی زندگی میں‘ یہ کیسے ممکن ہے؟ میں آج جب اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں میں خوش نصیب ہوں یا بدنصیب تو میں کنفیوز ہو جاتا ہوں لہٰذا میں یہ فیصلہ آخر میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔(ختم شد)
نوٹ: یہ اٹھارہ اقساط پر مشتمل کالموں کی ایک پوری سیریز تھی‘ اس میں ابھی بہت ساری باتیں تشنہ طلب ہیں‘ میں ان پر کسی وقت ایک اور سیریز لکھوں گا سردست میں اگلے ہفتے سے تازہ ترین ایشوز پر کالم شروع کرنے لگا ہوں۔



















































