ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر

datetime 12  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ نے ابتدا میں اپنی رفتار سے توجہ حاصل کی،

تاہم دوسرے روز کھیل آگے بڑھنے کے ساتھ ان کی بولنگ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس نے پاکستانی ٹیم کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے۔

رضا اللہ نے دن کا آغاز 85 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے شارٹ آف لینتھ گیند کے ساتھ کیا، جو ڈین لارنس کے دائیں کندھے کے قریب سے گزری۔ اس کے بعد انہوں نے 87 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائی اور کچھ ہی دیر بعد ان کی رفتار 90 میل فی گھنٹہ تک بھی پہنچ گئی۔

تاہم طویل اسپیل کے دوران رضا اللہ اپنی ابتدائی رفتار برقرار نہ رکھ سکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف ان کی رفتار کم ہوئی بلکہ لائن اور لینتھ میں بھی تسلسل برقرار نہ رہ سکا، جس کا انگلش بلے بازوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

نوجوان فاسٹ بولر نے مجموعی طور پر 23 اوورز کرائے اور 148 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا اکانومی ریٹ 6.43 رہا، جو انگلینڈ میں کم از کم 20 اوورز کرانے والے بولرز میں بدترین اکانومی ریٹ قرار دیا گیا ہے۔

انگلینڈ کے ٹیل اینڈرز نے بھی رضا اللہ کی بولنگ کے خلاف جارحانہ انداز اپنایا اور ان کی گیندوں پر تیزی سے رنز بنائے۔

رضا اللہ کا یہ اسپیل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ صرف غیر معمولی رفتار کا مالک ہونا کافی نہیں، بلکہ طویل اسپیل کے دوران رفتار کے ساتھ لائن، لینتھ اور کنٹرول برقرار رکھنا بھی ایک فاسٹ بولر کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…