اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ نے ابتدا میں اپنی رفتار سے توجہ حاصل کی،
تاہم دوسرے روز کھیل آگے بڑھنے کے ساتھ ان کی بولنگ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس نے پاکستانی ٹیم کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے۔
رضا اللہ نے دن کا آغاز 85 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے شارٹ آف لینتھ گیند کے ساتھ کیا، جو ڈین لارنس کے دائیں کندھے کے قریب سے گزری۔ اس کے بعد انہوں نے 87 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائی اور کچھ ہی دیر بعد ان کی رفتار 90 میل فی گھنٹہ تک بھی پہنچ گئی۔
تاہم طویل اسپیل کے دوران رضا اللہ اپنی ابتدائی رفتار برقرار نہ رکھ سکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف ان کی رفتار کم ہوئی بلکہ لائن اور لینتھ میں بھی تسلسل برقرار نہ رہ سکا، جس کا انگلش بلے بازوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
نوجوان فاسٹ بولر نے مجموعی طور پر 23 اوورز کرائے اور 148 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا اکانومی ریٹ 6.43 رہا، جو انگلینڈ میں کم از کم 20 اوورز کرانے والے بولرز میں بدترین اکانومی ریٹ قرار دیا گیا ہے۔
انگلینڈ کے ٹیل اینڈرز نے بھی رضا اللہ کی بولنگ کے خلاف جارحانہ انداز اپنایا اور ان کی گیندوں پر تیزی سے رنز بنائے۔
رضا اللہ کا یہ اسپیل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ صرف غیر معمولی رفتار کا مالک ہونا کافی نہیں، بلکہ طویل اسپیل کے دوران رفتار کے ساتھ لائن، لینتھ اور کنٹرول برقرار رکھنا بھی ایک فاسٹ بولر کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔
Razaullah started at 146 km/h but dropped to 140 after 10 overs—he wasn’t ready for a big match. PCB coaches must understand: nets and matches are different. Don’t change his bowling action; make him stronger and match-fit.@MohsinnaqviC42 @TheRealPCBMedia @CoachHesson https://t.co/4N4NIDXWm1
— Sikander Bakht (@Sikanderbakhts) September 10, 2026



















































