اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان میں پولٹری فارمز پر اینٹی بایوٹکس کے غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال کے باعث خطرناک جراثیم میں مزاحمت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسے جراثیم تیزی سے پھیل سکتے ہیں جن پر عام طور پر استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس مؤثر نہیں رہتیں۔ 2023 میں دیہی پنجاب میں کیے گئے ایک سروے کے دوران معلوم ہوا کہ تقریباً 60 فیصد پولٹری فارمز میں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر اینٹی بایوٹکس استعمال کی جا رہی تھیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قریباً نصف پولٹری فارمز میں مرغیوں کی افزائش کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بھی اینٹی بایوٹک ادویات کا استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بعض کمپنیاں موجودہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مرغیوں کی خوراک میں بھی اینٹی بایوٹکس شامل کر رہی ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اینٹی بایوٹکس کا بے تحاشا استعمال ایسے جراثیم کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے جو ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان جراثیم کے زندہ رہنے اور مزید پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔



















































