منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

datetime 18  اگست‬‮  2026

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی میں قیام پاکستان سے پہلے ہندو اور سکھ رہتے تھے‘ یہ بنیادی طور پر چار گلیاں تھیں اور چاروں ہندوئوں اور سکھوں کی ملکیت تھیں‘ ان کے درمیان غلہ منڈی تھی‘

وہ لوگ غلے کے بیوپاری ہوتے تھے‘ وہ ہندوستان چلے گئے تو ان کے مکان اور دکانیں ہندوستان سے پاکستان آنے والے مہاجروں کو الاٹ کر دی گئیں‘ یہ بے بس اور بے چارے لوگ تھے‘ مقامی لوگ انہیں پسند نہیں کرتے تھے اور انہیں طنزاً مہاجر کہتے تھے‘ ہماری گلی کا نام ’’ڈاک خانے والی گلی‘‘ تھا‘ اس کی وجہ شہر کا سب سے بڑا ڈاک خانہ تھا‘ وہ گلی کے شروع میں تھا لہٰذا گلی اس سے منسوب ہو گئی‘ ہمارے شناختی کارڈز اور ب فارم میں مدت تک ڈاک خانے والی گلی بطور پتا لکھی جاتی تھی‘ اس پوری گلی میں مقامی لوگوں کے صرف دو گھر تھے‘ ایک ہمارا اور دوسرا میجر برکت کا‘ میجر برکت فوج کے ریٹائرڈ آفیسر تھے‘ یہ آج کے ائیرچیف ظہیر احمد بابر سدھو کے سگے ماموں تھے‘ ہمارے دائیں بائیں اور آگے پیچھے مہاجر رہتے تھے جب کہ بالکل سامنے انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے پٹھانوں کا گھر تھا‘ وہ لوگ پڑھے لکھے اور کلچرڈ تھے‘ خاندان کے سربراہ کا نام معین خان تھا‘ ان کا ایک بھانجا بہت مشہور ہوا‘ اس کا نام سیف الرحمن تھا‘ وہ میاں نواز شریف کے قریب تھا‘ اس نے اسلام آباد اور قطر میں ریڈکو کے نام سے کمپنی بنائی اور کروڑوں روپے کمائے‘ وہ بعدازاں ن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر اور 1997ء میں احتساب بیورو کا چیئرمین بنا اور ٹھیک ٹھاک بے عزتی کمائی‘ وہ لاہور میں رہتا تھا‘ چھٹیوں میں ماموں کے گھر آتا تھا ‘ ہم اس کے ساتھ اور اس کے بھائی مجیب الرحمن کے ساتھ کرکٹ کھیلتے تھے‘ میری 1998ء میں اس سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور اس نے مجھ سے بچپن کی گستاخی کا ٹھیک ٹھاک حساب لینا شروع کر دیا‘ میں اس زمانے میں جنگ اخبار میں کالم لکھتا تھا‘ میاں شہباز شریف نے مجھے اس سے بچایا ورنہ وہ مجھے پورا نگل جاتا‘ بہرحال قصہ مختصر ہم لالہ موسیٰ آ گئے۔

والد نے غلہ منڈی میں غلے کا بیوپار شروع کر دیا‘یہ کاروبار بھی چل نکلا‘ سکول ہمارے گھر کے بالکل سامنے تھا‘ مجھے اس میں داخل کرا دیا گیا‘ ماسٹر ظالم اور سخت تھے‘ ہم ننگے فرش پر بیٹھ کر پڑھتے تھے‘ گرمیوں میں گزارہ ہو جاتا تھا لیکن سردیاں ناقابل برداشت ہوتی تھیں‘ ہمارے اساتذہ نے اس کا دل چسپ حل نکالا‘ وہ سکول آتے ہی ہماری تشریف چھڑیوں سے سن کر دیتے تھے جس کے بعد ننگی زمین کی ٹھنڈ محسوس نہیں ہوتی تھی‘ مرغا بننا اور تشریف پر ڈنڈے کھانا سلیبس کا حصہ تھا بلکہ سلیبس سٹارٹ ہی اس سے ہوتا تھا‘ مرغے بننے کی ایکسرسائز کو ’’کن پھڑنا‘‘ کہا جاتا تھا‘ استاد وجہ یا بلاوجہ ’’کن پھڑ‘‘ کا حکم دیتے تھے اور طالب علم بے چارہ تشریف اونچی اور سر نیچے کر کے اپنے دونوں ہاتھ ٹانگوں کے درمیان سے نکال کر کان پکڑ لیتا تھا اور ماسٹر جی مختلف نوعیت کی تشریفیں دیکھ کر ان پر ہاتھ پھیرتے تھے یا پھر ڈنڈے برساتے چلے جاتے تھے‘ بزرگ قسم کے استادوں نے اس نیک کام کے لیے بدمعاش قسم کے لڑکے رکھے ہوئے تھے‘ یہ ہمارے کلاس فیلوز یا سینئر تھے‘ استاد کان پکڑاتے اور پھر ان میں سے ایک کو آواز دے کر بلا لیتے اور وہ اپنی پوری ایٹمی طاقت ہماری تشریفوں پر لگا دیتا‘ یہ ہماری ڈیلی کی روٹین تھی‘ سکول شہر میں تھا لیکن اس کے باوجود اس میں بجلی نہیں تھی چناں چہ گرمیوں میں پنکھے کا کوئی بندوبست نہیں تھا‘ ہم پسینے میں بھیگ جاتے تھے جس کی وجہ سے ہر کلاس کے اندر سے ناگوار اور ناقابل برداشت بو آتی تھی‘اس زمانے میں پرفیوم نہیں ہوتے تھے لہٰذا میرا پورا بچپن اس بو کے ساتھ گزرا۔ ہماری تعلیم کے تین ذرائع تھے‘ کتابیں ‘یہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ شائع کرتا تھا اور ہم اپریل کے مہینے میں لائینوں میں لگ کر خریدتے تھے‘ شہر میں ’’اولڈ بک ڈپو‘‘ کے نام سے پرانی کتابوں کی دکانیں بھی تھیں‘ یہ سلیبس کی پرانی کتابیں تول کر خریدتے تھے‘ غریب طالب علم ان سے پرانی کتابیں خرید کر اپنا تعلیمی سفر جاری رکھتے تھے‘ غریب عورتیں امتحانات سے پہلے خوش حال گھروں میں آ کر مائوں سے کہہ دیتی تھیں باجی آپ اپنے بیٹے کی پرانی کتابیں مجھے دے دینا‘ میرا بیٹا ایک کلاس پیچھے ہے‘ یہ پڑھ لے گا‘خوش حال عورتیں عموماً انکار نہیں کرتی تھیں اور امتحان ختم ہوتے ہی کتابیں انہیں دے دیتی تھیں یا وہ آ کر خود لے جاتی تھیں‘ میری والدہ ہر سال میری کتابیں کسی نہ کسی بچے کی ماں کو دے دیتی تھیں‘ مجھے یہ برا لگتا تھا کیوں کہ میں انہیں ردی کی دکانوںپر بیچ کر مٹھائی کھانا چاہتا تھا‘ اس زمانے میں کتابیں بڑی مشکل سے ملتی تھیں‘ ان کے لیے درجنوں بار کتابوں کی دکانوں پر پھیرے لگانے پڑتے تھے چناں چہ طالب علم اپنی کتابوں کی حفاظت کرتے تھے‘ یہ بستوں سے چوری بھی ہو جاتی تھیں جس کی وجہ سے طالب علم اپنا بستہ کسی نہ کسی کو پکڑا یا حفاظت میں دے کر دائیں بائیں جاتے تھے‘ ہماری عمر کے لوگوں میں آج بھی یہ عادت موجود ہے‘ ہم جب بھی کسی ائیرپورٹ یا بس سٹاپ پر واش روم کے لیے جائیں گے تو اپنا بیگ ساتھ بیٹھے شخص کے حوالے کریں گے اور اس سے یہ کہہ کر واش روم جائیں گے پلیز میرے بیگ کا دھیان رکھیے گا میں چند منٹ میں واپس آ رہا ہوں‘ یہ ہم نے بچپن کی پریکٹس سے سیکھا جب کہ آج کے نوجوان اور بچے ایسا نہیں کرتے کیوں کہ ان کا بچپن ہم سے مختلف گزرا ہے‘ کتابوں کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے انہیں باقاعدہ جلد کرایا جاتا تھا‘ ہر شہر میں درجنوں جلد ساز ہوتے تھے‘یہ کتابوں کے دائیں بائیں مضبوط گتے لگا کر انہیں سی دیتے تھے جس سے یہ مضبوط اور دیرپا ہو جاتی تھیں‘ گتوں کے اوپر مختلف رنگوں کے ملائم کاغذ چپکا دیے جاتے تھے جن کے درمیان نام‘ کلاس اور سکول کی خالی لکیریں ہوتی تھیں‘ طالب علم نشانی کے لیے ان پر اپنا نام‘ کلاس اور سکول کا نام لکھ دیتے تھے تاکہ چوری یا گم ہونے کی شکل میں کتاب طالب علم تک پہنچ سکے۔
ہمارے بستے گہرے سبز رنگ کی ترپال سے بنے ہوتے تھے‘ وہ سیاہیوں کے نشانوں سے داغ داغ ہوتے تھے‘ ہر بستے سے پراٹھے اور اچار کی خوشبو بھی آتی تھی‘ مائیں صبح اپنے بچوں کو دیسی گھی کا پراٹھا بنا کر دیتی تھیں‘ اس پر آم یا مرچ کا اچار رکھا ہوتاتھا‘ یہ شروع میں روٹیوں کے رومال میں باندھ کر بستے میں رکھ دیا جاتا تھا‘ بعدازاں ٹن کے لنچ باکس آ گئے تو خوش حال بچے اپنا پراٹھا اس میں رکھ کرسکول لاتے تھے‘ غریب بچوں کے پراٹھے یا خشک باسی روٹی رومال ہی میں آتی تھی‘ ہم اس رومال کو ’’پونا‘‘ کہتے تھے‘روٹیوں کا بڑا رومال ’’دجی‘‘ کہلاتا تھا‘ غریب بچے آدھی چھٹی (لنچ بریک) کے وقت اپنا کھانا دوسروں کی نظروں سے چھپا کر کھاتے تھے جب کہ ہم لوگ دھڑلے سے سب کے سامنے اپنا ’’پونا‘‘ کھولتے تھے‘ میری والدہ مجھے دو تین پراٹھے باندھ کر دیتی تھی تاکہ دوسرے بچے بھی میرے ساتھ کھانا کھا سکیں‘ ان پراٹھوں کی وجہ سے میں کلاس میں بہت پاپولر تھا‘ بچے بہت جلد میرے دوست بن جاتے تھے ‘ استاد بھی پراٹھے‘ اچار اور لسی کے لالچ میں میرے ساتھ خصوصی سلوک کرتے تھے‘ والد نے شہر میں بھی بھینسیں رکھی ہوئی تھیں چناں چہ ہماری دکان پر سارا دن لسی چلتی رہتی تھی‘ سکول کے ٹیچر بھی وہاں سے لسی منگوا لیتے تھے اس وجہ سے میرا نام ’’جیدا لسی والا‘‘ پڑ گیا اور یہ ٹائٹل سکول بدلنے تک موجود رہا‘ والدہ میرے ’’پونے‘‘ میں زیادہ پراٹھے اور اچار باندھتی تھی‘ اس وجہ سے مجھے ’’میزبانی‘‘ کی عادت پڑ گئی‘ اللہ تعالیٰ نے خاص کرم کیا اور مجھے زندگی کے کسی بھی دور میں رزق کی تنگی نہیں ہوئی‘ میرے دشمن اور مخالف بھی میرے دسترخوان اور میزبانی کی تعریف کرتے ہیں‘ آج بھی ہمارے معاونین (ملازمین) ہم سے بہتر کھانا کھاتے ہیں اور کثرت خوراک کی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں۔ تعلیم کا دوسرا سورس تختی تھا‘ یہ سفیدے کی لکڑی کا چھوٹا سے پیس ہوتا تھا جس کے سرے کو تراش کر ’’مٹھ‘‘ بنا دی جاتی تھی تاکہ طالب علم اسے پکڑ سکے‘

تختی کی دونوں سائیڈز پر سفید مٹی کا لیپ کر کے اسے لکھنے کے قابل بنایا جاتا تھا‘ یہ سفید مٹی گاچی یا گاچنی کہلاتی تھی‘ اس کی صابن کے سائز کی ٹکیاں ملتی تھیں‘ ہم یہ بھی کتابوں کی دکانوں سے خریدتے تھے‘ یہ عموماً دکان کے تھڑے پر کریٹوں میں پڑی ہوتی تھیں اور سستی ہوتی تھیں‘ سکول کے اندر تختی دھونے کا حوض تھا‘ اس میں کالا سیاہ پانی ہوتا تھا‘ طالب علم اس پانی سے تختی کو مل مل کر دھوتے تھے پھر اس پر گاچی کا لیپ کرتے تھے اور پھر اسے تلوار کی طرح ہوامیں لہرا لہرا کر سکھاتے تھے‘ تختیاں گرمیوں میں جلدی سوکھ جاتی تھیں لیکن انہیں سردیوں میں سکھانے کے لیے خاصا جتن کرنا پڑتا تھا‘ انہیں دھوپ میں بھی رکھنا پڑتا تھا اور بعض اوقات انہیں اپنی رانوں اور تشریف کے درمیان رکھ کر اکڑوں بھی بیٹھنا پڑتا تھا یوں یہ تشریف کی گرمی سے سوکھ جاتی تھیں‘تختیاں دھونے اور گاچی کے لیپ کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں کی لکیریں کالی ہو جاتی تھیں اور ہمیں خوب مل مل کر ہاتھ دھونا پڑتے تھے‘ تختیوں پر لکھنے کے لیے کانے کی قلمیںآتی تھیں‘ ہم سب کے بستوں میں قلم تراشنے کے لیے چھوٹے چھوٹے چاقوہوتے تھے‘ ہم کانے کو بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اور ہتھیلی کے درمیان پھنسا کر دائیں ہاتھ میں چاقو رکھ کر تراشتے تھے‘ کانوں کو تراشنے کے بعد لکھائی خوب صورت بنانے کے لیے نوک کو درمیان سے کاٹ دیا جاتا تھا‘ اس کٹ کی وجہ سے ج اور ح زیادہ خوب صورت لکھے جاتے تھے‘ہمارے بچپن میں سب کے بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر چاقو کے کٹ ہوتے تھے‘ یہ کٹ یا زخم طالب علمی کی نشانی ہوتے تھے جس کی انگلی صاف ہوتی تھی لوگ اسے دیکھ کر یہ پوچھتے تھے ’’تم سکول نہیں جاتے‘‘ اور وہ بے چارہ شرم سے سر جھکا لیتا تھا یا پھر ’’میں انگریزی سکول جاتا ہوں‘‘ کا جھوٹ بول کر جان چھڑاتا تھا‘ تختی پر لکھنے کے لیے سیاہی کی ’’دوات‘‘ ہوتی تھی‘ یہ دو سے تین انچ گہری اور ایک سے دو انچ موٹی گول ’’شیشی‘‘ ہوتی تھی‘

اس میں ہم پرانے کپڑوں کی چھوٹی سی ’’لیر‘‘ ڈال دیتے تھے‘سیاہی کی ’’پڑیاں‘‘ بازار سے ملتی تھیں‘ سیاہی کا سب سے بڑا برینڈ لالہ موسیٰ میں بنتا تھا‘ اس کا نام چراغ روشنائی ہوتا تھا‘یہ پورے ملک میں ملتی تھی اور اس کی وجہ سے لالہ موسیٰ پورے ملک میں مشہور تھا‘ سیاہی کا یہ کارخانہ انگریز دور میں شروع ہوا تھا‘یہ شروع میں کرشنا کہلاتا تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد اس کا ہندو مالک بھارت چلا گیا اور مسلمان مالک نے اس کا نام چراغ رکھ دیا‘ پڑیوں سے سیاہ رنگ کے چینی کے دانوں کے برابر دانے نکلتے تھے‘ ہم اسے دوات میں ڈال کر اوپر سے تھوڑا سا پانی ڈالتے تھے اور پھر اسے کپڑے کی دھجی کے ساتھ خوب مکس کرتے تھے اور آخر میں خشک تختی کو ران پر رکھ کر اس قلم سے اس پر حرف لکھتے تھے‘ ماسٹر صاحب آخر میں تختی دیکھ کر ہماری سزا کا تعین کرتے تھے‘ وہ کسی کا کان مروڑتے تھے‘ کسی کی تشریف پر ہاتھ پھیرتے تھے اور کسی کی جوتے اور ڈنڈے سے مرمت کرتے تھے‘ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی تختی کے بعد ہمیں مار کیوں پڑتی تھی شاید اس زمانے میں تختی اور مار ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے‘ ہم میں سے اکثر بچے ماسٹر جی کو تختی پکڑا کر چپ چاپ کان پکڑ لیتے تھے اور ماسٹر جی بھی تختی دیکھے بغیر اس کی مرمت شروع کر دیتے تھے‘ کیوں؟ میں آج تک اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر سکا (جاری ہے)۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…