جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

سیوریج کیلئے کھدائی کے دوران مزدوروں کو سونا مل گیا

datetime 17  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)بیلجیئم کے شہر ڈینڈرمونڈ میں سیوریج لائن کی تنصیب کے لیے جاری کھدائی کے دوران تعمیراتی کارکنوں کو بڑی مقدار میں سونا مل گیا۔

قیمتی خزانے کی دریافت کے بعد پولیس نے شہریوں اور خزانے کی تلاش کرنے والے افراد کو زیرِ تعمیر مقام سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق یہ حیران کن دریافت مشرقی فلیمش علاقے میں واقع ایک عمارت کی مرمت کے دوران ہوئی۔ کارکن سیوریج نظام کے لیے نئی پائپ لائن بچھانے کی غرض سے کھدائی کر رہے تھے کہ انہیں اچانک سونے کی بڑی مقدار نظر آئی، جس پر انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔پولیس نے سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں تقریباً 50 سونے کی سلاخیں اور متعدد سونے کے سکے دکھائے۔ بیلجیئم کے میڈیا کے مطابق برآمد ہونے والے خزانے کی مالیت تقریباً 90 لاکھ یورو، یعنی 1 کروڑ 4 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔رپورٹس کے مطابق سونے کی سلاخیں اور سکے ایک مقامی فلاحی ادارے CAW East Flanders کی ملکیت عمارت کے تہہ خانے میں دیواروں کے اندر چھپے ہوئے ملے۔ایک تعمیراتی کارکن نے بتایا کہ سونا ملنے پر پورا عملہ حیران رہ گیا۔

اس کے مطابق انہیں پائپ لائن کی تنصیب کے لیے زمین کھودتے ہوئے یہ خزانہ ملا اور کسی نے بھی وہاں اتنی بڑی مقدار میں سونا موجود ہونے کا تصور نہیں کیا تھا۔پولیس نے برآمد ہونے والے سونے کی مکمل فہرست تیار کرنے کے بعد اسے وفاقی حکومت کے متعلقہ محکموں کی ایک محفوظ تجوری میں منتقل کردیا ہے۔دریں اثنا، پولیس نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں خبردار کیا کہ سونے کی خبر سامنے آنے کے بعد ممکنہ طور پر خزانے کے متلاشی افراد اس مقام کا رخ کرسکتے ہیں۔ حکام نے تعمیراتی مقام کے گرد لگائی گئی باڑ کے قریب جانے سے بھی لوگوں کو منع کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قیمتی خزانہ ملنے کے باوجود اس مقام پر پہنچنے کی کوشش کرنا کسی طور فائدہ مند نہیں ہوگا۔ابھی یہ فیصلہ سامنے نہیں آیا کہ قانونی طور پر اس خزانے کا اصل حقدار کون ہوگا اور برآمد ہونے والا سونا کس کے پاس جائے گا۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ اس غیر معمولی خزانے کو قانونی تقاضوں کے مطابق درست اور مجاز ہاتھوں تک پہنچایا جائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…