جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ، باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت،ٹارگٹ کلر کی بیٹی بھی زیر حراست، تفتیش میں اہم انکشافات

datetime 15  اگست‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی) لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ اور باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت کے معاملے کی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آگئے

جبکہ ٹارگٹ کلر فیاض کی بیٹی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق 2سال کے دوران ایک ہی خاندان کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کو کیس اسٹڈی قرار دے دیا گیا، باپ اور دو بیٹوں کی جانب سے پولیس کو ٹارگٹ کرنے کے پس پردہ عناصر کی نشاندہی کرلی گئی، ٹارگٹ کلر فیاض کی بیٹی کو بھی حراست میں لے لیا گیا اور تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔21سالہ ماہ نور شہزادی بھی اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہی جہاں ٹارگٹ کلر فیضان پڑھتا رہا۔پولیس ذرائع نے کہا کہ ٹارگٹ کلر فیاض بٹ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، ماہ نور کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکائونٹس کا فرانزک کروایا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹارگٹ کلرز کے گینگ کی نشاندہی ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑی کے ٹریکر سے کی گئی، ملزمان نے ٹریکر کا علم ہونے پر مریدکے کے قریب سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔پولیس نے کہا کہ راوی ریان کے علاقے میں ٹارگٹ کلرز نے ایک گھر میں پناہ لی، مصری شاہ میں ٹارگٹ کلر ریحان بٹ کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ بھی برآمد ہوگئے، ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلرز سے رابطے میں رہنے والے پولیس اہلکاروں سے تفتیش جاری ہے، پولیس اہلکاروں کے موبائل فونز کا ریکارڈ اور سوشل میڈیا اکائونٹس کی جانچ شروع کردی گئی، ٹارگٹ کلر ریحان بٹ، فیاض اور طارق نے سب انسپکٹر عدیل اور کانسٹیبل اسد پر فائرنگ کے بعد موبائل فون بند کردیئے۔ملزمان نے لوکیشن ٹریس ہونے سے بچنے کے لیے موبائل فون بند کیے، پولیس نے کہا کہ ملزمان کے فرار ہونے والے ساتھی طارق کی تلاش جاری ہے۔اس کے علاوہ ٹارگٹ کلرز کی سہولت کاری کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ، زیر حراست افراد میں مناواں کا رہائشی رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہے۔شبہ ہے کہ رکشہ ڈرائیور نے ٹارگٹ کلرز کو حملے کے دوسرے مقام تک پہنچایا، پولیس نے کہا کہ رکشہ ڈرائیور پہلے حملے کے وقت بادامی باغ میں موجود تھا۔پولیس حکام نے کہا کہ زیر حراست افراد کی نشاندہی پر مزید کارروائیاں جاری ہیں، ٹارگٹ کلنگ کے پس پشت نیٹ ورک کے قریب پہنچ چکے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…