ہمارا امیرالعظیم
امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی ائیرپورٹ پر ہوئی ‘
میں اسلام آباد سے گیا تھا اور وہ لاہور سے تشریف لائے تھے‘ میں جب جہاز سے باہر نکلا تو سامنے درمیانے قد کے مضبوط کاٹھی کے صاحب کھڑے تھے‘ ان کے چہرے پر شان دار مسکراہٹ تھی‘ وہ آگے بڑھے‘ جاوید صاحب کا نعرہ لگایا اور میرے ساتھ لپٹ گئے‘ میں انہیں جانتا نہیں تھا لہٰذا میں گومگو کے عالم میں انہیں حیرت سے دیکھنے لگا‘ وہ بھانپ گئے اور قہقہہ لگا کر بولے ’’میرا نام امیرالعظیم ہے‘ میں آپ کے استقبال کے لیے یہاں کھڑا ہوا‘ آپ نے میرے ساتھ میر صاحب کے دفتر جانا ہے‘‘ میری حیرت میں اضافہ ہو گیا‘
میں بہرحال ان کے ساتھ باہر آ گیا‘ ائیرپورٹ کے گیٹ پر ڈرائیور موجود تھا‘ اس کے ہاتھ میںہمارے نام کا بورڈ تھا‘ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے‘ میں جنگ اخبار کے مالک میرشکیل الرحمن کی دعوت پر کراچی پہنچا تھا‘ 14مئی 1997ء کی دوپہر تک میں ایک غیر معروف صحافی تھا‘ نوائے وقت میں سب ایڈیٹر تھا‘ وہاں سے ڈیلی پاکستان آ گیا اور 1996ء میں خبریں اخبار میں کالم لکھنا شروع کر دیا‘ میرا کالم کراچی کے اخبار امت میں بھی شائع ہوتا تھا‘ میر شکیل الرحمن کی والدہ امت پڑھتی تھیں‘ ان کی نظر سے میرا کوئی کالم گزرا اور انہوں نے میرشکیل الرحمن سے میرا ذکر کیا‘ خبریں اس زمانے میں بہت طاقتور اخبار تھا‘ ضیاء شاہد مرحوم اور خوشنود علی خان کا طوطی بولتا تھا‘ یہ دونوں جنگ گروپ کو خیرباد کہہ کر آئے تھے‘ میر صاحب کسی صحافتی یا سیاسی مجبوری کے باعث ان سے کنی کتراتے تھے‘ یہ چاہتے تھے میں خبریں سے جنگ میں آ جائوں لیکن یہ خوشنود صاحب اور ضیاء شاہد سے ناراضی مول نہیں لینا چاہتے تھے‘ امیرالعظیم سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے‘ انہوں نے ان سے مشورہ کیا اور امیرالعظیم نے انہیں یقین دلایا آپ ان دونوں کی فکر نہ کریں‘ میں انہیں سنبھال لوں گا اور یوں 14 مئی 1997ء کو مجھے میر شکیل الرحمن کا فون آیا اور انہوں نے مجھے کراچی بلا لیا اور وہاں سے میری شناخت اور کام یابی کا سفر شروع ہو گیا‘ میں اس وقت تک امیرالعظیم اور ان کے کنٹری بیوشن سے واقف نہیں تھا‘ بہرحال کراچی ائیرپورٹ پر ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے گاڑی میں بیٹھ کر سارا قصہ سنایا‘ ان کا کہنا تھا ’’میں آپ کا سودا کر
چکا ہوں‘‘ اس کے بعد وہ دیر تک قہقہے لگاتے رہے‘ ان کا کہنا تھا ’’میں نے میر شکیل الرحمن سے سودا کیا‘ آپ کو دو ٹکٹ بھیجنے پڑیں گے‘ مجھے اور جاوید چودھری کویوں آپ اسلام آباد سے آ گئے اور میں لاہور سے۔ آپ کو نیا سفر مبارک ہو‘‘ اور میں حیرت سے انہیں دیکھنے لگا‘ بہرحال قصہ مختصر وہ مجھے جنگ کے دفتر لے کر گئے‘ ہماری میر شکیل الرحمن صاحب سے ملاقات ہوئی اور میں نے جنگ میں کالم لکھنا شروع کر دیے‘ میں اگر آج صحافی سمجھا جاتا ہوں تو اس میں امیرالعظیم مرحوم کا بہت بڑا کنٹری بیوشن تھا‘ وہ اگر جانے‘ پہچانے اور ملے بغیر میری سپورٹ نہ کرتے تو میں شاید اخبارات کے صفحوں میں دب کر ختم ہو گیا ہوتا یا شاید قلم مزدوری سے آگے نہ بڑھ پاتا‘ یہ بہرحال ان کی مہربانی اور احسان تھا۔
امیرالعظیم صاحب کے ساتھ اس کے بعد دیرینہ تعلقات استوار ہو گئے‘ ہماری بے تحاشا ملاقاتیں ہوئیں لیکن پھر میری بے مقصد مصروفیات کی وجہ سے ان میں تعطل آ گیا تاہم فون پر رابطہ رہا‘ ہم مہینے دو مہینے بعد ایک دوسرے سے رابطہ کر کے خیریت معلوم کر لیا کرتے تھے‘ انہیں میری سکرین پر طنزیہ مسکراہٹ پراعتراض تھا‘ ان کا کہنا تھا آپ ٹھیک ٹھاک سیریس نظر آتے ہیں لیکن پھر اچانک کہیں سے آپ کے چہرے پر پریم چوپڑا جیسی مسکراہٹ آ جاتی ہے اور سارا تاثر غارت ہو جاتا ہے‘ آپ نے جس دن یہ کنٹرول کر لیا اس دن آپ کا نیا جنم ہو گا‘ میں نے ان کی ہدایت پر بہت کوشش کی‘ میں نے ڈونٹ سمائل کی چٹ بھی لکھ کر میز پر لگا لی اور فون کی سکرین پر بھی سمائل ناٹ کا پوسٹر لگا لیا لیکن میں کام یاب نہ ہو سکا‘ میں بنیادی طور پر زیادہ دیر تک سیریس نہیں رہ سکتا‘ یہ میری بہت بڑی خامی ہے اور امیرالعظیم پوری زندگی اس کی نشان دہی کرتے رہے‘ مجھے ایک دن انہوں نے ایک خاتون رپورٹر کے بارے میں دل چسپ بات بتائی‘ ان کا کہنا تھا یہ میرا انٹرویو ریکارڈ کرنے آئی تو اس نے مجھ سے پوچھا سر آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا امیر العظیم‘ اس نے کہا سر یہ تو آپ کا عہدہ ہوا‘ آپ کا نام کیا ہے؟ وہ اس کے بعد ہنسے اور دیر تک ہنستے رہے‘ آخر میں ان کا کہنا تھا‘ یہ بے چاری میرے نام امیرالعظیم کو میرا عہدہ سمجھ رہی تھی‘ میں نے عرض کیا‘ آپ کا نام واقعی منفرد ہے‘ میں نے پوری زندگی دوسرا امیرالعظیم نہیں سنا‘ وہ ہنس کر بولے‘ ہمارے ایک اجتماع میں ایک بار لائوڈ سپیکر پر اعلان ہوا‘ حضرت علی جہاں بھی موجود ہیں وہ فوری طور پر سٹیج پر امیر معاویہ سے رابطہ کریں‘ ان کا کہنا تھا کے پی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا نام حضرت علی تھا اور دوسری طرف ان کے منتظر شخص کا نام امیر معاویہ تھا‘ یہ اعلان سن کر پنڈال میں سنسنی پھیل گئی اور لوگ اسے شرارت سمجھنے لگے لیکن جب عملاً دونوں نوجوان اکھٹے ہو گئے تو معاملہ ٹل گیا‘ ہم اس حسن اتفاق پر دیر تک ہنستے رہے۔
امیرالعظیم ایک گہرے انسان تھے‘ وہ کسی راز کو کسی کے کانوں تک پہنچنے نہیں دیتے تھے مثلاً جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک شروع ہوئی‘ اس میں جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کا ہاتھ تھا‘ پنجاب میں بغاوت شروع ہو گئی‘ بھارتی فوج اور پولیس سے مڈبھیڑ میں خالصتان تحریک کے سکھ نوجوان زخمی ہو جاتے تھے اور یہ بارڈر پار کر کے علاج کے لیے لاہور آ جاتے تھے‘ امیرالعظیم ان کا علاج کراتے تھے‘ ہزاروں ڈاکٹرز اور سرجن جماعت اسلامی سے وابستہ تھے‘ امیرالعظیم انہیں استعمال کرتے تھے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی‘ خالصتان تحریک میں ان کا کیا عمل دخل تھا‘ یہ راز ان کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہو گیا تاہم دنیا بھر میں بکھرے سینکڑوں ہزاروں سکھ خاندان انہیں آج بھی دل سے یاد کرتے ہیں اور انہیں دعائیں دیتے ہیں۔ حکومت نے2019ء میں کرتار پور کوریڈور بنانے کا فیصلہ کیا‘ کمپلیکس کے لیے زمینیں خریدنی تھیں‘ امیرالعظیم نے اس معاملے میں ریاست کی بہت مدد کی‘ انہوں نے سکھ ڈونرز بھی تلاش کر کے دیے اور زمین کے مالکان سے زمینیں بھی خرید کردیں‘ بھارت سے بے شمار سکھ کرتار پور آتے تھے‘ امیرالعظیم ان سے ملاقات کے لیے کرتار پور جاتے تھے اور دونوں زمین پر بیٹھ کر اکٹھے پرشاد کھاتے تھے‘ سکھ انہیں اپنی خاص پگڑی پہنا کر بہت خوش ہوتے تھے اور یہ ان کی ’’پگ‘‘ سر پر باندھتے منٹ نہیں لگاتے تھے‘ بنگلہ دیش میں15 اگست 1975ء کو شیخ مجیب الرحمن فوج کے ہاتھ مارے گئے‘ شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ کے علاوہ شیخ مجیب الرحمن کا پورا خاندان‘ دوستوں اور ملازمین سمیت مارا گیا ‘ یہ آپریشن بنگلہ دیش فوج کے آفیسر لیفٹیننٹ کرنل شریف الحق دالم(Dalim) نے کیا تھا‘ وہ بعدازاں ڈھاکہ سے فرار ہو کر لاہور آ گئے‘ امیرالعظیم ان کے میزبان بھی تھے‘ محافظ بھی اور کوآرڈی نیٹر بھی‘ کرنل دالم ان کے بغیر کسی سے ملاقات نہیں کرتے تھے‘ یہ انہیں لے کرسب سے ملاقات کراتے تھے‘ حکومت اور ریاست کے ادارے بھی ان کے ذریعے کرنل دالم سے رابطہ کرتے تھے‘ یہ شاید آج بھی پاکستان میں ہیں یا پھر عین ممکن ہے یہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ڈھاکہ واپس چلے گئے ہوں اور ان کا خاندان یہاں رہ گیا ہو‘ بہرحال امیرالعظیم پاکستان میں ان کے میزبان تھے ‘ میں یہ انکشاف ان کی زندگی میں نہیں کر سکتا تھا‘ میں نے ایک بار ان سے کرنل دالم اور سکھوں سے دوستی کی وجہ پوچھی تو ان کا جواب تھا بنگلہ دیش پاکستان کے دل پر سیاہ دھبہ ہے جو بھی یہ دھبہ دھوئے گا یا دھونے کی کوشش کرے گا میں اس کا ساتھ دوں گا‘ ان کا خیال تھا خالصتان مشرقی پاکستان کا زبردست جواب ہو سکتا ہے‘ وہ یہ جواب پورا ہوتا دیکھنا چاہتے تھے جب کہ ان کے بقول کرنل دالم نے پاکستان توڑنے والے کو جہنم رسید کیا تھاچناں چہ یہ میرا ہیرا ہے اور میں پوری زندگی اس کی خدمت کرتا رہوں گا اور امیرالعظیم نے یہ کیابھی۔
میری امیر العظیم سے آخری ملاقات اڑھائی سال قبل ہوئی‘ یہ اسلام آباد میرے گھر تشریف لائے اور مجھ سے عجیب فرمائش کی‘ ان کا کہنا تھا ’’آپ کے پاس کینسر کا جتنا بھی مٹیریل ہے آپ وہ مجھے بھجوا دیں‘‘ میں نے ہنس کر کہا ’’آپ نے مجھے کینسر کا ایکسپرٹ سمجھ لیا ہے‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’میرا خیال ہے آپ کے پاس نیل کٹر بنانے سے لے کر سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی تک ہر قسم کا مٹیریل ہو گا‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور پوچھا ’’خیریت ہے‘ آپ کو کیا ضرورت پڑ گئی؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’میرے ایک دوست کو کینسر ہو گیا ہے‘ میں اسے موٹی ویٹ کرنے کے لیے یہ مٹیریل لینا چاہتا ہوں‘‘ میں نے ان سے وعدہ کرلیا اور پھر چند دن بعد انہیں چند کتابیں بھجوا دیں‘ ان کا شکریہ کا فون بھی آیا‘ اس کے بعد ان سے ملاقاتیں ختم ہو گئیں تاہم کبھی کبھار فون پر ان سے بات ہو جاتی تھی‘ پچھلے سال نومبر میں ان کا فون آیا تو ان کی آواز تبدیل تھی اور اس میں نقاہت تھی‘ میں نے وجہ پوچھی تو ان کا جواب تھا ’’میرا ذرا گلہ خراب ہے‘‘ میں نے انہیں ڈسپرین کے غرارے کرنے کا مشورہ دیا‘ ان کا جواب تھا‘ یہ بہت ہی واہیات کام ہے‘ گلے سے غرڑ غرڑ کی آوازیں نکالنا پڑتی ہیں لیکن میں اس کے باوجود یہ روزانہ کرتا ہوں‘ ان کا کہنا تھا آپ اب اپنی ویب سائیٹ پر کالم لکھنا شروع کر دیں‘ میں نے وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھا‘ اخبارات کا دور ختم ہو چکا ہے‘ یہ سال بھر میں بند ہو جائیں گے اور صرف وہی صحافی سروائیو کرے گا جس کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہوں گے‘ آپ نے وقت پر یہ قدم اٹھا کر اچھا کیا‘آپ اب کھل کر لکھ اور بول سکیں گے‘ آپ کی آزادی بھی بڑھ جائے گی اور اطمینان بھی‘آپ یہ جاری رکھیں‘ ہم اس کے بعد میڈیا کے عروج وزوال پر بات کرتے رہے‘ میں نے ان سے وعدہ کیا‘
میں اس مرتبہ لاہور آئوں گا تو ان سے ضرور ملاقات ہو گی لیکن اس ملاقات سے قبل 22 جولائی کو امیرالعظیم کے انتقال کی خبر آ گئی اور میں سکتے میں چلا گیا‘ آج میں یہ سطریں لکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں اگر میں یہ کالم کسی اخبار کے لیے لکھ رہا ہوتا تو کیا میں حضرت علی‘ خالصتان موومنٹ اور کرنل دالم کا ذکر کر سکتا تھا‘ ہرگز نہیں‘ یہ سطریں کسی نہ کسی لطیف چودھری کی نذر ہو چکی ہوتیں چناں امیرالعظیم کا مشورہ درست ثابت ہوا لیکن سوال یہ ہے مجھے اگر اب زندگی میں مزید مشوروںکی ضرورت پڑے گی تو کیا کروں گا‘ ہمارا امیر‘ ہمارا عظیم اب دنیا میں نہیں رہا‘ وہ ہمیں چھوڑ کر جا چکا ہے لہٰذا ہم جیسے بے بس لوگوں کا مشیر اب کون ہو گا؟ اچھے انسان کے بارے میں کہتے ہیں یہ جب آئے تو دنیا کو پتا چلنا چاہیے کوئی آیا ہے اور یہ جب جائے تو بھی پتا چلنا چاہیے کوئی شان دار انسان چلا گیا ہے اور امیرالعظیم ایک ایسا ہی انسان تھا‘ یہ تھا تو دنیا کو اس کے وجود کی حرارت محسوس ہوتی تھی اور یہ اب نہیں ہے تو بھی دنیا کو اس کی کمی کا احساس ہو رہا ہے اور یہ احساس نہ جانے کب تک ہوتا رہے گا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بدھ کو عام تعطیل کا اعلان
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
مبینہ پولیس مقابلے میں بدنام زمانہ ٹک ٹاکر ہلاک
-
رجب بٹ کی دولت کتنی ہے؟ پہلی بار حیران کن انکشافات سامنے آگئے
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان
-
فیفا صدر کا ارجنٹینا فٹبال فیڈریشن کو بھیجا گیا خط لیک ہوگیا
-
سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاری
-
انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کتنی ہو سکتی ہے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
-
طبی ماہرین نے سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے میں مددگار آسان طریقہ دریافت کرلیا
-
محکمہ موسمیات کی ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت
-
آئی فون 18 کی ریلیز سے متعلق ایپل کا بڑا فیصلہ!
-
قائدِاعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک، نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت
-
اورنج ٹرین، سپیڈو اور میٹرو بسوں میں ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم
-
ہمارا امیرالعظیم



















































