اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کے لیے خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکٹ پر دیے جانے والے عہدوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ کی جانب سے باقاعدہ آفس میمورنڈم بھی جاری کردیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق نئی پالیسی میں کنٹریکچوئل عہدوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ اس طرح ایم پی ایس، پی پی ایس اور ایس پی پی ایس کے علاوہ کنٹریکٹ پر مقرر کیے جانے والے عہدے بھی خصوصی پے اسکیلز سے متعلق پالیسی کے دائرے میں آئیں گے۔
میمورنڈم کے تحت اوپن مسابقتی عمل کے ذریعے منتخب ہونے والے سرکاری افسران کو متعلقہ عہدوں پر تعیناتی کی اجازت ہوگی۔ ایسے سول سرونٹس کو ڈیپوٹیشن پر تعینات تصور کیا جائے گا، جبکہ ان پر ڈیپوٹیشن سے متعلق مروجہ پالیسی کے قواعد و ضوابط نافذ ہوں گے۔
نئی پالیسی میں ایسے اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں حکومت کی اکثریتی ملکیت کے ساتھ انتظامی اختیارات بھی موجود ہوں۔ دستاویز کے مطابق سرکاری ملکیت سے مراد ایسے ادارے ہیں جہاں حکومت کے پاس اکثریتی حصص اور انتظامی کنٹرول موجود ہو۔
پالیسی میں حکومت کی تعریف کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں دونوں شامل ہوں گی۔ اس طرح سرکاری اداروں میں خصوصی پے اسکیلز یا کنٹریکچوئل عہدوں پر تعیناتی کے حوالے سے نئے قواعد کا اطلاق وسیع دائرے میں ہوگا۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق نئی شرائط وفاقی حکومت کے سول سرونٹس پر لاگو ہوں گی۔ ان قواعد کے تحت وفاقی سول سرونٹس خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکچوئل عہدوں پر وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے ماتحت اداروں میں بھی خدمات انجام دے سکیں گے۔



















































