اسلام آباد (نیوز ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا ختم یا منسوخ ہونے کی صورت میں نئی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ویزا یا ورک پرمٹ کی مدت مکمل ہونے کے بعد غیر معینہ مدت تک امارات میں قیام قانونی نہیں، تاہم بعض حالات میں افراد کو نئی قانونی حیثیت حاصل کرنے یا ملک سے روانگی کے لیے مخصوص مہلت دی جاتی ہے۔
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پاکستان کے مطابق اماراتی قوانین میں ویزا کی قسم اور کیٹیگری کے لحاظ سے گریس پیریڈ مختلف ہوسکتا ہے۔ دستیاب مہلت عام طور پر 30 دن سے 180 دن تک ہوتی ہے۔ اس دوران متاثرہ افراد نیا روزگار تلاش کرکے نئے ویزا کے ذریعے اپنا قیام قانونی بناسکتے ہیں یا مقررہ تقاضے پورے کرتے ہوئے پاکستان واپس جاسکتے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ درست ورک پرمٹ اور ملازمت کے معاہدے کے بغیر کام کرنا یا مقررہ مہلت گزرنے کے بعد غیر قانونی طور پر امارات میں موجود رہنا سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ، حراست، ملک بدری اور مستقبل میں متحدہ عرب امارات میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ویزا اور ورک پرمٹ منسوخ ہونے کی آخری تاریخ کی تحریری تصدیق ضرور حاصل کریں۔ اس کے ساتھ پاسپورٹ، ایمریٹس آئی ڈی، ملازمت کا معاہدہ اور تنخواہ سے متعلق دستاویزات سمیت تمام اہم ریکارڈ محفوظ رکھیں۔
حکام نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ کسی نئے آجر کے محض زبانی وعدے پر کام شروع نہ کیا جائے بلکہ ملازمت اور ورک پرمٹ سے متعلق قانونی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے۔
زیر کفالت اہلِ خانہ کے ویزوں کی حیثیت بھی بروقت جانچنا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ ویزا ختم ہونے کے بعد اضافی قانونی مشکلات پیدا نہ ہوں۔
شہری اپنی قانونی حیثیت اور دستیاب مہلت کی تفصیلات جاننے کے لیے متحدہ عرب امارات کی وفاقی اتھارٹی فار آئیڈنٹیٹی، سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی کے آن لائن اسمارٹ سروسز پورٹل سے بھی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاسپورٹ کی تفصیلات، ایمریٹس آئی ڈی یا فائل نمبر استعمال کیا جاسکتا ہے۔



















































