ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پنشنرز کیلئے ڈیجیٹل پروف آف لائف اور پنشن ادائیگی کا نظرثانی شدہ طریقہ کار جاری

datetime 12  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے پنشنرز کے لیے ڈیجیٹل پروف آف لائف اور پنشن کی ادائیگی کا نظرثانی شدہ طریقہ کار جاری کرتے ہوئے کمرشل بینکوں کا پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق یا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ (پی او ایل سی)کی توثیق میں کردار ختم کر دیا ہے۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق وفاقی حکومت کے ریٹائرڈ سول سرونٹس، جو وفاقی پنشن قواعد کے تحت پنشن وصول کر رہے ہیں، نئے طریقہ کار کے تحت ڈیجیٹل نظام کے ذریعے زندگی کی تصدیق کرائیں گے۔نظرثانی شدہ ایس او پی کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کو کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس (سی جی اے)اور ملٹری اکائونٹنٹ جنرل (ایم اے جی)کے ساتھ محفوظ اے پی آئی کے ذریعے مربوط کر دیا گیا ہے جس کے تحت پنشنر کی زندگی سے متعلق ڈیجیٹل سگنل براہ راست نادرا سے کنٹرولر جنرل اکائونٹس(سی جی اے)و ملٹری اکائونٹنٹ جنرل(ایم اے جی)کو منتقل ہوگا اور کمرشل بینکنگ چینلز کو اس عمل سے خارج کر دیا گیا ہے۔مراسلے کے مطابق کمرشل بینک صرف پنشن کی ادائیگی کے ادارے کے طور پر کام کریں گے اور معمول کے حالات میں پروف آف لائف سرٹیفکیٹ یا بائیومیٹرک ڈیٹا کی تصدیق، وصولی یا محفوظ رکھنے میں ان کا کوئی انتظامی یا قانونی کردار نہیں ہوگا۔

تاہم نادرا کے مقررہ نظام کے تحت پروف آف لائف سرٹیفکیٹ (پی او ایل سی)کے اجرا کے لیے بینک صرف مجاز آپریشنل ذریعے کے طور پر کام کر سکیں گے۔اس کے علاوہ کسی پنشنر کا پنشن اکاونٹ پنشن کی ادائیگی یا پراسیسنگ کے مقصد سے بینک کی جانب سے ڈارمنٹ نہیں کیا جا سکے گا۔نئے ایس او پی کے تحت کاغذی ڈسبرسرز ہاف کا طریقہ کار بھی ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ وفاقی پنشن کی ادائیگی اب خصوصی طور پر ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم (ڈی سی ایس )کے ذریعے ہوگی۔وزارت خزانہ کے مطابق نظرثانی شدہ طریقہ کار اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اکاونٹس دفاتر، نادرا اور وزارت خزانہ کے بجٹ ونگ سمیت تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد پنشنرز کے لیے آسان طریقہ کار فراہم کرنے کے ساتھ تصدیقی عمل کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا کہ 22اگست 2026کے بعد پنشن اکائونٹس کو ڈارمنٹ قرار نہیں دیا جائیگا اور وفاقی حکومت کے ریسیپٹ اینڈ پیمنٹ رولز 2025کے تحت پنشن اکائونٹس پر بینکوں کی معمول کی ڈارمنسی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔نئے نظام کے تحت پنشنرز کو نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ یا نادرا رجسٹریشن سینٹرز، موبائل یونٹس، ای سہولت فرنچائزز یاصرف نادرا کے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ (پی او ایل سی)مراکز کے طور پر کام کرنے والی بینک برانچز پر مشتمل نادرا کے مجاز ذرائع کے ذریعے پروف آف لائف کی تصدیق کرانا ہوگی۔یہ تصدیق ہر چھ ماہ(یعنی 180دن)میں کم از کم ایک مرتبہ لازمی ہوگی، مارچ اور ستمبر میں لازمی تصدیق کا سابقہ طریقہ کار ختم کر دیا گیا ہے اور پنشنر 180دن کے مقررہ وقفے کے اندر کسی بھی وقت تصدیق کرا سکیں گے۔خاندانی پنشن حاصل کرنے والے ایسے افراد جن کی پنشن ازدواجی حیثیت سے مشروط ہے، انہیں ضرورت کے مطابق فارم 12 کے ذریعے متعلقہ ڈیکلریشن جمع کرانا ہوگا۔اکائونٹ کی منتقلی مقررہ شیڈول بینک کے ذریعے کی جائے گی جبکہ اضافی ادائیگی یا کسی قسم کے فرق کی اطلاع متعلقہ اکاونٹس آفس اور بینک کو براہ راست دینا ہوگی۔22اگست 2026سے قبل غیر فعال قرار دیے گئے پنشن اکائونٹس کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے دو طریقے مقرر کیے گئے ہیں، پنشنر یا تو بینک برانچ میں قائم مجاز نادرا مرکز کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کرا سکتا ہے یا ستمبر 2026سے کنٹرولر جنرل اکائونٹس(سی جی اے)و ملٹری اکائونٹنٹ جنرل(ایم اے جی)کی جانب سے پنشن کی رقم اکاونٹ میں منتقل ہونے کی صورت میں اکاونٹ فعال کیا جا سکے گا۔

نئے طریقہ کار کے تحت کنٹرولر جنرل اکائونٹس(سی جی اے)و ملٹری اکائونٹنٹ جنرل(ایم اے جی)کے پنشن کنٹرولرز کے لیے کاغذی ریکارڈ کے بجائے اے پی آئی کے ذریعے برقرار رکھے جانے والے ڈیجیٹل رجسٹرز ہی سرکاری ریکارڈ ہوں گے۔نادرا سے موصول ہونے والے ڈیجیٹل لائف سگنل، موت کے اندراج اور خاندانی پنشن سے متعلق حیثیت کی تبدیلیوں کو مرکزی نظام خودکار طور پر پراسیس کرے گا۔خاندانی پنشن میں بیوہ یا بیوہ مرد کی وفات یا دوبارہ شادی، غیر شادی شدہ یا مطلقہ بیٹیوں کی ازدواجی حیثیت اور بچوں کی پنشن کے لیے عمر کی اہلیت سے متعلق معلومات بھی نظام کا حصہ ہوں گی۔مراسلے کے مطابق نظام آخری کامیاب تصدیق کے وقت کی بنیاد پر اگلی تصدیق کی تاریخ خودکار طور پر مقرر کرے گا،اگر مسلسل چھ ماہ تک کوئی درست ڈیجیٹل لائف سگنل موصول نہ ہو تو اکاونٹ کو کنٹرولر جنرل اکائونٹس(سی جی اے)و ملٹری اکائونٹنٹ جنرل(ایم اے جی)کے مرکزی لیجر میں سسپنس اسٹیٹس میں منتقل کر دیا جائے گا تاہم اسے غیر فعال قرار نہیں دیا جائے گا۔درست ڈیجیٹل سگنل موصول ہوتے ہی اکائونٹ خودکار طور پر فعال ہو جائے گا اور جمع شدہ بقایا پنشن کی رقم بینک کی منظوری کے بغیر جاری کر دی جائے گی۔پنشن رولز ہر ماہ 24 تاریخ تک تیار اور 26 تاریخ تک تصدیق کیے جائیں گے جس کے بعد راست یا مائیکرو پیمنٹ چینلز کے ذریعے ادائیگی عمل میں لائی جائے گی۔اس نظام کے تحت سہہ ماہی آڈٹ اور نادرا کے لاگز کی ڈیجیٹل ریکارڈ سے مطابقت بھی کی جائے گی۔

بینکوں کے کردار سے متعلق ہدایات میں کہا گیا کہ پنشنرز یا اہل خاندانی پنشنرز کے نام پر صرف انفرادی پی ایل ایس یا کرنٹ اکاونٹس کھولے جائیں گے جبکہ مشترکہ اکاونٹس کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ان معاملات کے جو وفاقی حکومت کے ریسیپٹ اینڈ پیمنٹ رولز 2025 کے رول 35(8) کے تحت واضح طور پر فراہم کیے گئے ہوں۔پنشن اکائونٹس سروس چارجز سے مستثنیٰ ہوں گے بینک معمول کی بینکاری سرگرمی کے دوران پنشن اکائونٹس کیلئے کاغذی لائف سرٹیفکیٹ یا بائیومیٹرک ڈیٹا وصول، محفوظ یا تصدیق نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی پنشنرز کو معمول کے پی او ایل سی کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کی غرض سے بینک آنے پر مجبور کیا جا سکے گا،اگر کوئی پنشنر کاغذی دستاویزات لے کر بینک پہنچتا ہے تو اسے پاک آئی ڈی ایپ یا مقررہ نادرا رجسٹریشن سینٹر کی طرف رہنمائی کی جائے گی اور بینک یہ دستاویزات وصول یا پراسیس نہیں کرے گا،اسی طرح بینک پنشن اکاونٹس کو آئندہ ڈارمنٹ نہیں کریں گے اور پروف آف لائف بینک کو جمع نہ کرانے کی بنیاد پر ڈیبٹ پابندی بھی عائد نہیں کی جائے گی۔22 اگست 2026 سے قبل ڈارمنٹ قرار دیے گئے اکائونٹس کو مجاز نادرا مرکز سے تصدیق یا ستمبر 2026 سے کنٹرولر جنرل اکائونٹس(سی جی اے)و ملٹری اکائونٹنٹ جنرل(ایم اے جی)کی جانب سے پنشن کی رقم موصول ہونے کی تصدیق پر فعال کیا جائے گا۔اگر کنٹرولر جنرل اکائونٹس(سی جی اے)و ملٹری اکائونٹنٹ جنرل(ایم اے جی)کی جانب سے کسی اکاونٹ کو سسپنس اسٹیٹس میں رکھا گیا ہو اور پنشن کی رقم وصول نہ کی گئی ہو تو بینک کنٹرولر جنرل اکائونٹس (سی جی اے)کی جانب سے باضابطہ اطلاع ملنے پر ہی رقم حکومتی رسید کے ہیڈ C02246 میں منتقل کرے گا۔بینک اپنی طرف سے پنشن اکاونٹ کو معطل یا بند نہیں کر سکے گا ایسے پنشنرز جو ڈیجیٹل رسائی نہ ہونے، انتہائی ضعیف عمری یا شدید طبی مسائل کے باعث پاک آئی ڈی موبائل ایپ استعمال کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہوں، یا ایسے خاندانی پنشن کیسز جہاں دوبارہ شادی یا ازدواجی حیثیت سے متعلق تازہ معلومات نادرا کے ریکارڈ میں موجود نہ ہوں وہ متعلقہ ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفس یا پنشن سہولت مرکز سے رجوع کر سکیں گے وہاں فارم 10 کے ذریعے دستی لائف سرٹیفکیٹ یا فارم 12 کے ذریعے دوبارہ شادی یا ازدواجی حیثیت سے متعلق ڈیکلریشن جمع کرایا جا سکے گا۔

مجاز عملہ یہ دستاویزات مرکزی نظام میں براہ راست اپ لوڈ کرے گا جبکہ کمرشل بینک فارم 10 یا فارم 12 براہ راست وصول یا پراسیس نہیں کر سکیں گے۔مراسلے کے مطابق اکاونٹس دفاتر اور بینکوں کے درمیان اے پی آئی لاگز اور ڈیجیٹل لیجرز کی بنیاد پر سہہ ماہی بنیادوں پر ریکنسیلی ایشن کی جائے گی اور کسی بھی تضاد کو چھ ہفتوں کے اندر دور کرنا ہوگا۔22اگست 2026 سے قبل غیر فعال اکاونٹس نادرا کے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ(پی او ایل سی) مرکز سے تصدیق یا ستمبر 2026 سے کنٹرولر جنرل اکاونٹس(سی جی اے و ملٹری اکائونٹنٹ جنرل(ایم اے جی)کی جانب سے براہ راست پنشن کی ادائیگی کے ذریعے دوبارہ فعال کیے جائیں گے جبکہ 22 اگست 2026 کے بعد اکاونٹس کو غیر فعال قرار دینے کا عمل مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق آپریشنل مسائل اسٹیٹ بینک یا سی جی اے کیذریعے وزارت خزانہ کو بھیجے جائیں گے نئے سرکلر جاری ہونے تک مشکلات کا سامنا کرنے والے بینک اپنے ہیڈ آفس سے رجوع کریں گے اور پنشنرز کو کنٹرولر جنرل اکائونٹس(سی جی اے)و ملٹری اکائونٹنٹ جنرل(ایم اے جی)کے سہولت مراکز کی طرف رہنمائی کریں گے جبکہ نظام سے جاری ہونے والی ادائیگی کی ہدایات پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…