اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لونگ عام طور پر کھانوں کا ذائقہ اور خوشبو بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے،
تاہم اس سے تیار ہونے والا لونگ کا تیل جلد اور بالوں کی نگہداشت میں بھی مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
لونگ کے تیل میں موجود یوجینول اہم جزو ہے، جس میں اینٹی آکسیڈینٹ اور جراثیم مخالف خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اسکن کیئر مصنوعات میں اسے مہاسوں سے متعلق فارمولیشنز میں شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم لونگ کا تیل انتہائی مرتکز ہوتا ہے، اس لیے اسے براہِ راست جلد یا سر کی جلد پر لگانے سے جلن، سرخی یا الرجی کا امکان رہتا ہے۔
مہاسوں کے لیے خالص لونگ کا تیل براہِ راست متاثرہ حصے پر لگا کر رات بھر چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اگر اسے استعمال کرنا ہو تو بہت کم مقدار کسی موزوں کیریئر آئل میں شامل کرکے لگانا بہتر ہے، جبکہ پہلی مرتبہ استعمال سے قبل جلد کے ایک چھوٹے حصے پر پیچ ٹیسٹ ضرور کرنا چاہیے۔
لونگ کے تیل کے حوالے سے یہ بات بھی عام طور پر کہی جاتی ہے کہ یہ چہرے کے داغ دھبے اور ایکنی کے نشانات ختم کرسکتا ہے، تاہم ایسے مضبوط شواہد دستیاب نہیں جو یہ ثابت کریں کہ یہ پرانے داغ یا ایکنی اسکارز کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لونگ میں موجود یوجینول کی اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات اسے مختلف کاسمیٹک مصنوعات میں کارآمد جزو بناتی ہیں، لیکن کٹی ہوئی، جلی ہوئی یا کھلی ہوئی جلد پر خالص لونگ کا تیل استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جلن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
بالوں اور اسکیلپ کے لیے لونگ کے تیل کو ناریل یا کسی دوسرے مناسب کیریئر آئل کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مناسب مقدار میں استعمال کرنے سے یہ سر کی جلد کو نمی فراہم کرنے اور بالوں کو نرم محسوس کرانے میں مدد دے سکتا ہے۔
چونکہ لونگ کا تیل ایک ایسنشیئل آئل ہے، اس لیے اسے خالص حالت میں یا بڑی مقدار میں جلد اور سر کی جلد پر لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ پہلی بار استعمال سے پہلے پیچ ٹیسٹ کرنا احتیاطی طور پر بہتر اقدام ہے۔
اگر بال غیر معمولی طور پر جھڑ رہے ہوں، سر کی جلد پر مسلسل خارش یا زخم موجود ہوں یا مہاسے شدید نوعیت اختیار کرچکے ہوں تو صرف گھریلو نسخوں پر انحصار کرنے کے بجائے ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا چاہیے۔



















































