پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

دیمک سے لکڑی بچانے کے گھریلو طریقے، یہ آسان نسخے آزمائیں

datetime 17  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک )  دیمک لکڑی کو اوپر سے معمولی نقصان پہنچانے کے بجائے اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں فرنیچر، دروازے، کھڑکیاں، چوکھٹیں اور لکڑی سے بنی دیگر اشیا کمزور ہوسکتی ہیں۔ چونکہ دیمک عموماً گروہوں کی شکل میں رہتی ہے اور لکڑی اس کی بنیادی خوراک ہے، اس لیے گھر میں اس کی موجودگی کو بروقت ختم کرنا ضروری ہے۔

گھر میں دیمک کی موجودگی کا اندازہ مختلف علامات سے لگایا جاسکتا ہے۔ لکڑی کا غیر معمولی طور پر پھول جانا، فرنیچر کے قریب مٹی یا مٹی جیسی تہہ بننا اور لکڑی پر دستک دینے سے کھوکھلی آواز آنا دیمک کے حملے کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ یہ کیڑے کسی ایک موسم تک محدود نہیں ہوتے اور سال کے مختلف اوقات میں لکڑی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اگر دیمک کا حملہ زیادہ ہو تو بہتر ہے کہ کسی ماہر سے رابطہ کرکے مناسب ٹریٹمنٹ یا کیڑوں کے خاتمے کا پیشہ ورانہ طریقہ اختیار کیا جائے۔ تاہم معمولی اور ابتدائی حملے کی صورت میں بعض گھریلو تدابیر بھی آزمائی جاسکتی ہیں۔

نمک اور پانی کا محلول

دیمک سے متاثرہ لکڑی کے لیے نمک کے محلول کو ایک روایتی گھریلو طریقے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ نمک کو نیم گرم پانی میں اچھی طرح حل کرکے محلول تیار کریں اور اسے متاثرہ لکڑی کے حصوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس عمل کو کچھ دن تک دہرایا جاسکتا ہے۔ البتہ شدید حملے کی صورت میں اس طریقے سے دیمک کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

دھوپ میں رکھنا

متاثرہ لکڑی کے فرنیچر کو براہِ راست دھوپ میں رکھنا بھی ایک ممکنہ تدبیر ہے۔ سورج کی تیز حرارت دیمک کے لیے ناموافق ماحول پیدا کرسکتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو متاثرہ فرنیچر کو چند دن ایسی جگہ رکھیں جہاں اسے مسلسل براہِ راست دھوپ مل سکے۔

نیم کا تیل

نیم کا تیل بھی دیمک سے متاثرہ لکڑی پر استعمال کیا جاتا ہے۔ روئی یا کپڑے کی مدد سے نیم کا تیل متاثرہ حصوں پر لگایا جاسکتا ہے۔ اسے دروازوں، کھڑکیوں، فرنیچر اور لکڑی کے دیگر متاثرہ مقامات پر استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کا اثر فوری طور پر ظاہر ہونا ضروری نہیں۔

سفید سرکے کا محلول

محدود سطح پر موجود دیمک کے لیے سفید سرکے کا محلول بھی آزمایا جاسکتا ہے۔ سفید سرکے میں لیموں کا رس شامل کرکے اسپرے بوتل میں ڈالیں اور متاثرہ حصے پر استعمال کریں۔ تاہم پہلے لکڑی کے کسی چھوٹے اور غیر نمایاں حصے پر آزما لینا بہتر ہے تاکہ لکڑی کی سطح کو نقصان نہ پہنچے۔

آخر میں یہ بات اہم ہے کہ گھریلو طریقے صرف ابتدائی یا محدود دیمک کے حملے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ اگر دیمک بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہو یا لکڑی کی ساخت کو نقصان پہنچ رہا ہو تو گھریلو نسخوں پر انحصار کرنے کے بجائے ماہرین سے پیشہ ورانہ معائنہ اور ٹریٹمنٹ کروانا زیادہ مناسب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…