اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) جشنِ آزادی کی تقریب میں آئی جی اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر کی شاہی بگھی میں آمد پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معاملے کی وضاحت کردی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ تقریب میں جو صورتحال پیدا ہوئی، وہ مناسب نہیں تھی، تاہم اس معاملے میں آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔وزیر داخلہ کے مطابق صدر مملکت کی وزیراعظم سے ملاقات کے باعث تقریب کے مہمانِ خصوصی کی آمد میں تاخیر ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری شام 5 بجے سے تقریب میں موجود تھے اور تقریباً 6 بجے یہ اندازہ ہوگیا کہ مہمانِ خصوصی کی آمد میں مزید وقت لگے گا، جس کے بعد عوام کو مزید انتظار سے بچانے کے لیے افسران کو پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔محسن نقوی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ شاہی بگھی خصوصی طور پر مہمانِ خصوصی کی آمد کے لیے تیار کی گئی تھی اور اسے انہی کے ساتھ استعمال کیا جانا تھا، تاہم غیر معمولی صورتحال کے باعث متعلقہ افسران نے بگھی میں تقریب گاہ پہنچنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں افسران نے ابتدا میں مہمانِ خصوصی کی عدم موجودگی میں تقریب شروع کرنے سے گریز کیا، تاہم عوام کو مزید انتظار سے بچانے کے لیے انہیں پروگرام کا آغاز کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے جشنِ آزادی کی تقریب میں شریک اسلام آباد کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی بھرپور شرکت نے 14 اگست کی تقریب کو حقیقی معنوں میں جشنِ آزادی میں تبدیل کردیا۔واضح رہے کہ جشنِ آزادی کے موقع پر آئی جی اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر کی شاہی بگھی میں تقریب میں آمد کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد صارفین کی جانب سے اس اقدام پر شدید ردعمل اور تنقید سامنے آئی تھی۔



















































