منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا بڑا فیصلہ، 50 فیصد ملازمین گھر سے کام کریں گے

datetime 22  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں فوری طور پر اضافی کفایت شعاری اقدامات نافذ کردیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے 50 فیصد ملازمین دفاتر اور 50 فیصد گھر سے کام کریں گے، ملازمین کیلئے گھر سے کام کے دوران ٹیلی فون،ای میل اور واٹس ایپ پر دستیابی لازمی قرار دے دی گئی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو ضرورت پڑنے پر ایک گھنٹے کے نوٹس پر دفتر پہنچنا ہوگا، گھر سے کام کرنے والے 50 فیصد ملازمین ڈائٹ الانس اور اوورٹائم چارجز کے حقدار نہیں ہوں گے۔اعلامیے کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کردی گئی ہے اور یہ اقدام تین ماہ کے لیے ہوگا جب کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تمام اقسام کی پائیدار اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کی گئی ہے تاہم آئی ٹی سامان خریداری پر پابندی سے مستثنی ہے۔اعلامیے کے مطابق 3 ماہ کے لیے غیر ملکی دوروں اور سرکاری سفری اخراجات پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کی اسکالرشپس، مخصوص تربیتی پروگرام سفری پابندی سے مستثنی ہوں گے جب کہ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے فنڈڈ سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر پابندی لگائی گئی ہے، ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے آڈیٹوریم،کمیٹی رومز اور دیگرسرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اخراجات کم کرنے کے لیے پیپر لیس ورکنگ ماحول اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اضافی کفایت شعاری اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…