نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر 5362221 92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)
بلوچستان کی تاریخ کا آغاز مہرگڑھ سے ہوتا ہے‘ سات ہزار قبل مسیح (نو ہزار سال قبل) میں درہ بولان کے ساتھ کچی کے میدانوں میں ایک تہذیب ہوتی تھی‘ یہ دریائے مہران کی وجہ سے مہر گڑھ کہلاتی ہے‘ وہ آج کے کوئٹہ‘ قلات اور سبی تک پھیلی ہوئی تھی‘ وہ دریائے نیل‘ دریائے فرات اور دریائے دجلہ کی تہذیبوں کا سلسلہ تھی‘ مہر گڑھ کے لوگ بعدازاں دریائے سندھ‘ دریائے گنگا اور جمنا کے کناروں پر آباد ہوئے جن سے موہن جو داڑو‘ ہڑپہ اور ہندو تہذیبوں نے جنم لیا‘ مہرگڑھ کے لوگ گندم اور جو اگاتے تھے‘
جانور پالتے تھے‘ مٹی کو پکا کر اینٹیں اور برتن بناتے تھے اور ان پر باقاعدہ بیل اور بوٹے نقش کرتے تھے‘ وہ تجارت بھی کرتے تھے‘ ان کا سامان ایران‘ ترکیہ‘ عراق اور مصر تک جاتا تھا‘ وہ لوگ غلہ بھی سٹور کرتے تھے اور کھجوریں بھی اگاتے تھے‘وہ ٹوکریاں بناتے‘ پتھر تراشتے‘ جانوروں کی ہڈیوں سے آلات اور موتیوں سے زیورات بناتے تھے اور جانوروں کی قربانی دیتے تھے‘ مہرگڑھ سے عورتوں کی مورتیاں‘ تصویریں اور چوڑیاں تک برآمد ہوئیں‘ وہ لاشوں کو انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے دفن کرتے تھے‘ میتیں شمال سے جنوب کی طرف دفن کی جاتی تھیں جب کہ بچوں کی قبروں سے ہڈیاں نکال کر مرتبانوں میں محفوظ کر لی جاتی تھیں‘ وہ لوگ تانبے کا استعمال بھی جانتے تھے اور دھاتی آلات کے اوپر چربی چڑھا کر انہیں زنگ سے بھی محفوظ کر لیتے تھے‘ ان کی زبان دراوڑی تھی‘ وہ پتھروں پر لکھ بھی لیتے تھے‘ مہر گڑھ کی آبادیاں اور ان سے برآمد ہونے والے 32 ہزار نوادرات آج تک موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے وہ دنیا میں دانت کا علاج کرنے والے پہلے لوگ تھے‘ مہرگڑھ سے دانت کی صفائی اور اسے نکالنے کے آلات بھی ملے ہیں‘ بہرحال قصہ مختصر وقت بدلتا رہا اور سلطنتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں‘
اس دوران ہندوازم بھی آیا‘ سائرس اول بھی آیا اور سکندراعظم بھی ‘ مہر گڑھ کے لوگ اس دوران موجودہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آباد رہے‘ اس دوران سنٹرل ایشیا میں ایران اور ترکیہ دو بڑی ریاستیں قائم ہوئیں اور آدھی دنیا ان کے زیر اثر ہو گئی‘ دسویں صدی عیسوی میں شام کے علاقے حلب میں چند قبیلے رہتے تھے‘ ان کی آوازیں بہت بلند تھیں‘ وہ پہاڑ کی ایک سائیڈ سے آواز لگاتے تھے اور وہ آواز دوسری سائیڈ پر سنی جا سکتی تھی‘ وہ لوگ اپنی بلند آواز کی وجہ سے بلوچ یا بلوچی کہلاتے تھے‘ قدیم عربی میں بلند آہنگ لوگوں کو بلوچ کہا جاتا تھا‘ اس زمانے میں سپہ گری سب سے بڑا پیشہ ہوتا تھا‘ بادشاہ مضبوط اور ہنر مند لوگوں کو اپنے لشکر میں بھرتی کر لیا کرتے تھے‘ بلوچوں کو مختلف ایرانی بادشاہوں نے اپنے لشکروں میں شامل کر لیا‘ یہ لوگ جری اور خطرناک تھے اور یہ جنگ کے دوران اپنے بلند آہنگ (للکار) سے دشمن کو لرزا بھی دیتے تھے چناں چہ یہ بادشاہوں کے قریب ہوتے چلے گئے‘یہ اپنی فوجی مصروفیت اور شام کی خانہ جنگیوں کی وجہ سے کیسپیئن سی اورایرانی پہاڑ کوہ البرزہ میں آباد ہو تے چلے گئے‘ سنٹرل ایشیا میں 1037ء میں سلجوق سلطنت بنی اور سلجوق حکمران طغرل اول نے 1040ء میں ایران فتح کر لیا‘ وہ بلوچیوں کے خلاف تھا‘ اس نے انہیں قتل یا نقل مکانی کا آپشن دے دیا‘ ان لوگوں نے نقل مکانی قبول کر لی اور یوںیہ کیسپیئن سی اور البرز سے نکل کر ہندوستان کی طرف آ گئے۔
بلوچستان کے علاقے اس زمانے میں محفوظ ترین سمجھے جاتے تھے‘ اس کی دو وجوہات تھیں‘ یہ بے آب وگیاہ اور ویران تھے چناں چہ بڑی فوجیں اناج‘ چارے اور پانی کی کمی کی وجہ سے اس طرف رخ نہیں کرتی تھیں‘ دوسرا یہاں کوئی بڑا شہر نہیں تھا جسے فتح کیا جا سکتا چناں چہ یہ علاقہ محفوظ سمجھا جاتا تھا‘ بلوچی قبائل نے اس طرف رخ کر لیا‘ اس زمانے میں موجودہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہندوئوں کی ایک قوم سیوا آباد تھی‘ وہ اس علاقے کے حکمران بھی تھے‘ وہ لوگ مہر گڑھ تہذیب کے قدیم باشندے تھے اور دراوڑی زبان بولتے تھے‘ بلوچ اپنے سردار میر قمر کی معیت میں گیارہویں صدی میں چاغی‘ خاران‘ جھلاوان‘ سوراب اور سیاہ کیپ کے علاقوں میں آباد ہوتے ہوئے آج کے قلات تک پہنچ گئے‘ قلات میں سیوا قوم کا قلعہ تھا‘ بلوچیوں نے اس قلعے کی مناسبت سے اس علاقے کا نام قلات رکھ دیا‘ قلات قلعے سے نکلا ہے تاہم عربی میں پہاڑ کی چوٹی کو بھی قلات کہا جاتا ہے‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی قلات صرف پاکستانی بلوچستان میں نہیں ہے‘ یہ ایرانی سیستان اور افغانستان میں بھی موجود ہیں اوروہاں بھی بلوچی رہتے ہیں‘ سیوا قوم نے بلوچیوں کو قبول کر لیا اور یہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہوتے چلے گئے‘ یہ آج کے ایران کے صوبے سیستان اور افغانستان کے صوبے نیم روز میں بھی آباد ہوئے‘ یہ دونوں علاقے اس زمانے میں آج کے بلوچستان کا حصہ تھے‘ بلوچوں اور سیوا قوم کے ملاپ‘ شادیوں اور تعلقات سے نئی زبان اور ثقافت نے جنم لیا‘ یہ براہوی کہلائی‘ اس سے بروہی قبائل بھی پیدا ہوئے‘ یہ قبائل اور زبان ایرانی اور قدیم دراوڑی زبان کے ملاپ سے بنی‘ منگولوں نے جب سنٹرل ایشیا پر حملے شروع کیے تو وہ ایران اور افغانستان سے ہوتے ہوئے بلوچستان تک پہنچ گئے‘ بلوچ قبائل (بالخصوص میر قمر کی اولاد جو اس وقت تک میروانی بن چکی تھی) نے منگولوں کا ساتھ دیا‘
منگولوں نے بلوچوں کی مدد سے ان کے میزبانوں سیوا قوم کو تباہ کر دیا‘ ان کا اقتدار بھی ختم ہو گیا اور وہ منگولوں کی تلواروں کا نشانہ بن کر صفحہ ہستی سے بھی مٹ گئے‘ منگولوں کے بعد ارغون بلوچستان کے مالک بن گئے اور بلوچ ان کے زیراطاعت زندگی گزارنے لگے‘ اس دوران قلات اس علاقے کی سب سے بڑی اور مضبوط سلطنت بن گئی اور ارغونوں نے اس کی خودمختاری تسلیم کر لی۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس نے آگے چل کر اس خطے کی ہئیت تبدیل کر دی‘ شاہ جہان کے بیٹوں کے درمیان1658ء میں تخت کی جنگ شروع ہو گئی‘ شاہ جہان کے بڑے بیٹے دارالشکوہ کی تیسرے بیٹے اورنگ زیب سے جنگ ہوئی‘ دارالشکوہ ہار گیا اور اس نے 1659ء میں بھاگ کرسبی کے حکمران (سبی اس زمانے میں سیوی کہلاتا تھا) جنید خان کے پاس پناہ لے لی‘ جنید خان باروزئی پٹھان تھا‘ وہ ملک جیون اور جنید خان پاننی بھی کہلاتا تھا‘ دارالشکوہ نے ایک مرتبہ اس کی جان بچائی تھی‘ اس کا خیال تھا وہ اس کے احسان کا بدلہ اتارے گا لیکن جنید خان نے پشتون اور بلوچی روایات کے خلاف اپنے پناہ گزین کو گرفتار کر کے مغل فوج کے حوالے کر دیا اور اورنگ زیب نے اسے دہلی میں پھانسی دے دی۔ اس ’’وفاداری‘‘ کے عوض اورنگ زیب نے جنید خان کو بختیار خان کے خطاب سے نوازا‘ دو لاکھ روپے سالانہ تنخواہ طے کی اور سبی اور کچی کا حکمران بنا دیا‘ یہ قلات کے بعد علاقے کی پہلی باقاعدہ ریاست تھی‘ نواب جنید خان کے بعد اس کا بیٹا مرزا خان پانانی نواب بنا اور اس نے مغلوں کی مدد سے قلات اور سندھ کے علاقے فتح کرنا شروع کر دیے‘ اورنگ زیب نے اسے کراچی کا ساحلی علاقہ بھی دے دیا‘ مرزا خان نے مغلوں کی آشیرباد سے قلات پر حملے شروع کر دیے‘ اس زمانے میں امیر احمد خان قمبرانی قلات کا حکمران تھا‘ مرزا خان اور امیر احمد کے درمیان 18 جنگیں ہوئیں‘ ان جنگوں کے دوران امیر احمد کی بہن مائی بیبو مردانہ لباس میں قلات کی فوج کی طرف سے لڑتی رہی‘ مائی بیبو کی پینٹنگز آج بھی بلوچستان میں بنائی جاتی ہیں اور اس کی بہادری کے قصے سنائے جاتے ہیں‘ بہرحال قصہ مختصر 18 جنگوں کے بعد قلات اور سبی کے درمیان صلح ہو گئی اور خان آف قلات کی صاحب زادی شہزادی مہناز کی مرزا خان کے بھائی سعید خان باروزئی سے شادی ہو گئی اور یوں اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں بلوچستان میں امن ہو گیا‘ مغلوں کے زمانے میں یہ علاقے تخت دہلی کے وفادار رہے۔
احمد شاہ ابدالی نے 1747ء میں تاریخ میں پہلی بار افغانستان کی بنیاد رکھی اور بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا‘ قلات اس وقت تک آزاد ریاست تھی‘ احمد شاہ ابدالی نے قلات کا محاصرہ کر لیا‘ محاصرے کا اختتام 1758ء کے معاہدے کی شکل میں نکلا‘ احمد شاہ ابدالی نے خان آف قلات میر نوری نصیر خان اول کی سلطنت کو خودمختار تسلیم کر لیا‘ خان نے بدلے میں ابدالی کو پانی پت کی تیسری لڑائی کے لیے بلوچ سپاہی اور گھوڑے دیے یوں بلوچوں نے افغانوں کے ساتھ مل کر پانی پت میں مراٹھوں کو شکست دی‘ احمد شاہ ابدالی نے بلوچوں کو بدلے میں مال غنیمت اور مراٹھا عورتیں دیں‘ یہ عورتیں بعدازاں بلوچستان پہنچیں اور ان کے بطن سے پیدا ہونے والے بچوں کے ساتھ مراٹھا لکھا جانے لگا‘ آج بھی بلوچستان میں مراٹھا مری اور مراٹھا بگٹی موجود ہیں‘ ابدالی سلطنت نے وفاداری کے بدلے میں خان آف قلات کو اپنی ریاست ساحل تک پھیلانے کی اجازت دے دی جس کے بعد قلات کی ریاست مکران اور لسبیلا تک پھیل گئی اور خان کے تجارتی جہاز بحیرہ عرب میں سفر کرنے لگے‘ میر نوری نصیر خان کے زمانے میں عمان کا ایک شہزادہ سلطان بن احمد تخت کی جنگ ہار کر جلاوطن ہوا اور1783ء میں خان آف قلات کے پاس پناہ گزین ہو گیا‘ خان نے اسے گزر بسر کے لیے گوادر کا علاقہ تحفے میں دے دیا‘ شہزادہ 9 سال گوادر میں رہا‘ اس نے 1792ء میں جنگ لڑی اور عمان کی سلطنت واپس حاصل کرنے میں کام یاب ہو گیا‘ اسے اس کے بعد اخلاقی طور پر گوادر خان آف قلات کو واپس دے دینا چاہیے تھا لیکن اس نے عمان کا سلطان بننے کے بعد گوادر کو عمانی سلطنت کا حصہ ڈکلیئر کر دیا‘ خان آف قلات کے لیے یہ علاقہ معمولی تھا لہٰذا اس نے عمان سے سفارتی اور تجارتی تعلقا ت برقرار رکھنے کے لیے گوادر کو عمانی حصہ تسلیم کر لیا یوں گوادر 1958ء (قیام پاکستان کے بعد تک) تک عمان کا حصہ رہا‘ وزیراعظم فیروز خان نون نے 175 برس بعد 1958ء میں گوادر عمان سے خرید کر پاکستان کا حصہ بنایا‘
گوادر کی خرید میں دو کرداروں نے اہم کردار ادا کیا تھا‘ پرنس کریم آغا خان چہارم اور فیروز خان نون کی آسٹرین بیگم وکٹوریہ ریکھا (وکٹوریہ نے 1945ء میں فیروز خان نون سے شادی کی‘ اسلام قبول کیا اور یہ بیگم وقار النساء کے نام سے مشہور ہوئیں‘ ان کے نام سے آج بھی پاکستان میں لڑکیوں کے بے شمار سکول اور کالجز موجود ہیں) گوادرپرتقسیم کے بعد بھارت اور امریکا دونوں کی نظر تھی‘ بھارت عمان سے گوادر خریدنا چاہتا تھا‘یہ منصوبہ اگر کام یاب ہو جاتا تو پاکستان کے اندرایک بھارت قائم ہو جاتا جب کہ امریکا برطانیہ کے وزیراعظم ہیرالڈ میک میلن کے ذریعے عمان کے سلطان سعید بن تیمور پر دباء ڈال کر گوادر ایران کے حوالے کرانا چاہتا تھا‘اس کی خواہش تھی یہ گوادر میں سوویت یونین کے خلاف بڑا ملٹری بیس بنا سکے‘ بیگم فیروز خان نون کی برطانیہ کے طاقتور حلقوں تک رسائی تھی‘ انہیں جب یہ خبر ملی تو وہ برطانیہ گئیں اور برطانوی وزیراعظم کو ’’آگ سے پرہیز‘‘ کا مشورہ دیا‘ وہ اس کے بعد عمانی سلطان سے ملیں‘ سلطان طویل ملاقاتوں کے بعد 30 لاکھ پائونڈز (تین ملین) میں گوادر پاکستان کے حوالے کرنے پر رضا مند ہوگیا‘ امریکا اور برطانیہ کا خیال تھا پاکستان کی مالی حالت ٹھیک نہیں‘یہ تین ملین پائونڈز ادا نہیں کر سکے گا یوں ڈیل کینسل ہو جائے گی اور شاہ ایران رقم ادا کر کے گوادر حاصل کر لے گا جس کے بعد امریکا یہاں آ جائے گا
لیکن پھر اچانک پرنس کریم آغا خان سامنے آئے اور ذاتی اکائونٹ سے تین ملین پائونڈز ادا کر دیے اور یوں گوادر پاکستان کو مل گیا‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں ہنزہ کے بعد سب سے زیادہ آغا خانی گوادر میں ہیں‘ پرنس کریم آغا خان نے انہیں وصیت کی تھی تم نے ہنزہ اور گوادر میں ایک انچ زمین فروخت نہیں کرنی‘ ایک وقت آئے گا جب گوادر ہنزہ سے ملے گا اور ان دونوں شہروں کی مٹی سونے کے بھائو بکے گی‘ آغا خانیوں نے یہ وصیت پلے باندھ لی اور انہوں نے آج تک ہنزہ اور گوادر کی ایک انچ زمین فروخت نہیں کی‘ آپ آج دیکھ لیں ’’سی پیک‘‘ بن رہا ہے اور یہ ہنزہ کو گوادر سے جوڑ رہا ہے‘ پاکستان نے گوادر کے بدلے سلطان آف عمان سے معاہدہ کیا تھا اگر گوادر سے تیل یا گیس نکلی تو اس کی آمدنی کا دس فیصد عمان کو دیا جائے گا اور دوم گوادر کے لوگ عمان کی فوج میں بھرتی ہوتے رہیں گے‘ پاکستان انہیں نہیں روکے گا چناں چہ آج عمان کی فوج کا 40 فیصد حصہ بلوچوں پر مشتمل ہے‘ یہ لوگ جنرل کے عہدے تک بھی جاتے ہیں‘ عمان میں دس لاکھ سے زائد گوادری یا بلوچ موجود ہیں‘ یہ لوگ عمان میں بلوچی زبان بولتے ہیں اور ان کے پاس پاکستان اور عمان دونوں ملکوں کی شہریت ہے لیکن یہ سب بعد کی باتیں ہیں‘ ان سے پہلے احمد شاہ ابدالی کے بعد انگریز آئے اور انہوں نے بلوچستان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ (جاری ہے)



















































