اسلام آباد (نیوز ڈیسک)کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں خاتون اور اس کے تین بچوں کے قتل کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،
پولیس نے چاروں افراد کے قتل کے الزام میں مقتولہ کے شوہر دانش کے بہنوئی ہمایوں کو گرفتار کرلیا۔ ملزم کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والا آہنی راڈ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی اور ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ مسرور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہمایوں کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزم نے چاروں افراد کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق ہمایوں تقریباً ڈیڑھ سال قبل دانش کا کرایہ دار تھا اور اسی مکان کی اوپری منزل پر رہائش پذیر تھا، تاہم بعد میں دانش نے اسے گھر سے نکال دیا تھا۔ واقعے کے روز ملزم اس بات سے واقف تھا کہ دانش گھر پر موجود نہیں، اسی لیے وہ دوپہر تقریباً 2 بجے اپنے سالے کے گھر پہنچا۔تفتیش میں سامنے آیا کہ ہمایوں نے گھر پہنچ کر چائے پی، جبکہ مقتولہ مہوش نے اسے بازار سے کپڑوں کی سلائی کے لیے بکرم اور بیل لانے کا کہا۔ ملزم بازار سے مذکورہ سامان لے کر واپس آیا تو اس دوران دونوں بچے مدرسے جاچکے تھے۔پولیس کے مطابق گھر میں مہوش کو شیرخوار بچی کے ہمراہ اکیلا دیکھ کر ملزم نے مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کی، جس پر خاتون نے مزاحمت کی۔ اس دوران ہمایوں نے مبینہ طور پر آہنی راڈ سے مہوش کے سر پر وار کیے، جس سے وہ شدید زخمی ہوکر جان کی بازی ہار گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ماں کو زخمی حالت میں دیکھ کر شیرخوار بچی رونے لگی تو ملزم نے مبینہ طور پر اس کا سر دیوار سے دے مارا، جس کے نتیجے میں بچی بھی جاں بحق ہوگئی۔
بعد ازاں جب ہمایوں واش روم سے ہاتھ دھو کر باہر نکلا تو مدرسے سے دونوں بچے گھر واپس آگئے، جنہیں ملزم نے آہنی راڈ کے وار کرکے قتل کردیا۔واردات کے بعد ملزم مکان سے باہر نکلا تو ایک پڑوسی نے اسے دیکھ لیا۔ پولیس کے مطابق ہمایوں نے پڑوسی کو سلام بھی کیا اور وہاں سے روانہ ہوگیا۔ ملزم آلہ قتل اپنے ہمراہ لے گیا اور راستے میں ایک نالے میں پھینک دیا، جسے پولیس نے اس کی نشاندہی پر برآمد کرلیا۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزم اپنی موٹر سائیکل گھر پر چھوڑ کر اور موبائل فون بند کرکے دانش کے گھر گیا تھا۔ مقتولہ کا موبائل فون بھی ملزم نے اپنے ساتھ نہیں لیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بعد میں ہجوم میں موجود کسی شخص نے موبائل فون اٹھایا، جس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ پولیس کو ابتدا میں جائے وقوعہ سے کوئی واضح شواہد نہیں ملے تھے، تاہم تفتیش کے دوران ملزم تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ پولیس کے مطابق چاروں قتل مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا، جس کے باعث مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔



















































